حرکت کا سائنسی تصور۔ حصہ پنجم


نیوٹن کی قوتوں کی میکانیات کے بعد توانائی کی میکانیات میں لگرانج نے 1762 کے قریب ایک سکیلر مقدار یعنی لگرانجین کو متعارف کروایا جس کی قیمت، توانائی کی دونوں قسموں یعنی حرکی اور پوٹینشل توانائی کے فرق کے برابر ہے۔ پھر اس پر کم سے کم ایکشن کا اصول منطبق کرنے سے حرکت کی نئی مساوات قائم ہوتی ہے جسے اؤلر لگرانج مساوات کہا جاتا ہے۔ لگرانج کی مساوات بھی نیوٹن کی حرکت کی مساوات کی طرح دو درجی ڈیفرینشل مساوات ہے مگر اس میں تمام مقداریں سکیلر ہیں جبکی نیوٹن کی حرکت کی مساوات ویکٹر ہے، اس لئے نیوٹن کے مقابلے میں لگرانج کی مساوات حل کرنا آسان ہے۔ حرکت کی اس نئی مساوات سے بھی مسائل کا وہی حل نکلتا ہے جو نیوٹن کی فورس کی میکانیات سے نکلتا ہے۔

ہملٹن نے 1833 میں لگرانج کی میکانیات کو بڑھاتے ہوئے ایک نئی مقدار یعنی ہملٹونین کو متعارف کروایا جس کی قیمت حرکی توانائی اور پوٹینشل انرجی کے مجموعے کے برابر ہے۔ پھر اس نئی مقدار کے ذریعے وہ دو مساواتیں نکالتا ہے جنہیں ہملٹن کی مساواتیں کہتے ہیں۔ ہملٹن کی مساواتیں، نیوٹن اور لگرانج دونوں کے برعکس یک درجی ڈیفرینشل مساواتیں ہیں اور اس لحاظ سے مزید سادہ ہیں۔ لگرانج کی طرح ہملٹن کی مساواتیں بھی سکیلر مقداروں پر مشتمل ہیں بس فرق یہ ہے کہ لگرانج کی ایک ہی درجی مساوات تھی، ہملٹن کی دو عدد یک درجی مساواتیں ہیں۔

جدید کوانٹم نظریہ، ذراتی طبیعات اور کونیات یا دیگر نظریاتی طبیعات کے مسائل کے حل لئے ہملٹونین بنیادی اہمیت کی مقدار ہے۔ مگر اس سے یہ تاثر نہیں لینا چاہیے کہ اب نیوٹن کی مساواتیں ناکارہ ہو گئی ہیں۔ فزکس کی انڈر گریجویٹ کلاسز میں ان دونوں میکانیات کا موازنہ پڑھایا جاتا ہے جہاں یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ لگرانج اور ہملٹن کی میکانیات کی بنیادوں میں بھی نیوٹن ہی کے اصول حرکت کام کر رہے ہیں۔

میکانیات کے بعد فزکس میں اہم پیشرفت برقی و مقناطیسی قوتوں کی یکجائی کی صورت سامنے آئی۔ کولمب نے 1785 میں تجرباتی نتائج سے الیکٹروسٹیٹکس کے قانون کو اخذ کیا جسے بعد میں پوئساں نے 1812 میں پوٹینشل فنکشن کی مدد سے ریاضیاتی بنیاد فراہم کی۔ پوئساں نے لپلاس اور لگرانج کے پوٹینشل کے تصور کو ادھار لیا اور اس سے برقی قوت کے متعلقہ پوٹینشل کی ڈیفرینشل مساوات لکھی اور بتایا کہ کسی برقی مادے کے گرد پوٹینشل کا گریڈینٹ، برقی قوت پیدا کرتا ہے۔

گاؤز نے بعد ازاں مقناطیسی پوٹینشل کے گریڈینٹ کی مدد سے مقناطیسی قوت پیدا ہونے کی ریاضیاتی وضاحت پیش کی۔ مقناطیسی پوٹینشل بھی پوئساں کی برقی پوٹینشل جیسی مساوات رکھتا ہے بس اس فرق کے ساتھ کہ برقی قوت کا پوٹینشل سکیلر فنکشن ہے جبکہ مقناطیسی قوت کا پوٹینشل ویکٹر ہے کیونکہ مقناطیسی قوت برقی رو کی سمت پر بھی منحصر ہے۔

اورسٹڈ نے 1820 میں ثابت کیا کہ برقی اور مقناطیسی قوتیں دو الگ الگ قوتیں نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ اس وقت اگرچہ زیادہ تر سائنس دانوں کا خیال تھا کہ بجلی اور مقناطیسیت کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے لیکن کچھ مشاہدات ایسے تھے جن سے شبہ ہوتا تھا کہ شاید کوئی تعلق ہو۔ مثال کے طور پر، یہ بہت پہلے سے معلوم تھا کہ ایک مقناطیسی کمپاس کی سوئی پر جب بجلی گرتی ہے تو وہ قطبیت کو الٹا کر دیتی ہے۔ 21 اپریل 1820 کو ایک لیکچر کے دوران اپنا اپریٹس لگاتے ہوئے اورسٹڈ نے دیکھا کہ جب اس نے بیٹری کے دونوں سروں سے تار کو جوڑ کر برقی رو کو آن کیا تو قریب میں رکھی ہوئی ایک مقناطیسی کمپاس کی سوئی شمالی سمت سے ہٹ گئی۔

یاد رہے عام حالات میں زمین کے مقناطیسی میدان کے زیراثر کمپاس کی سوئی ہمیشہ شمال کی طرف رہتی ہے۔ اورسٹڈ کے لیے واضح تھا کہ کچھ اہم ہو رہا ہے۔ اسے فوری طور پر کوئی ریاضیاتی وضاحت نہیں ملی لیکن اس نے اگلے تین مہینوں تک اس پر غور کیا اور پھر تجربہ کرتا رہا۔ جب اس نے کرنٹ کو پلٹا تو اس نے سوئی کو مخالف سمت میں موڑا ہوا پایا۔ اس نے مقناطیسی سوئی اور برقی تار کی مختلف سمتوں کے ساتھ تجربہ کیا۔ اس نے یہ بھی دیکھا کہ کمپاس اور برقی رو کے درمیان لکڑی یا شیشہ رکھ کر بھی یہ اثر موجود رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے اس بات کا یقین ہو گیا کہ برقی رو ایک مقناطیسی میدان پیدا کر سکتی ہے۔

اورسٹڈ کی دریافت کے کچھ ہی وقت کے بعد ایمپئر نے دیکھا کہ اگر دو تاروں میں برقی کرنٹ پیدا کیا جائے تو ان کے درمیان بھی مقناطیسی قوت پیدا ہوتی ہے۔ ایمپئر نے اس کے لئے ایک ریاضیاتی قانون بھی دریافت کیا جو یہ بتاتا ہے کہ کسی تار میں موجود برقی بہاؤ سے کس قدر مقناطیسی میدان پیدا ہوتا ہے۔ لیکن برقی تاروں کے درمیان پیدا ہونے والی مقناطیسی قوت، برقی قوت سے مختلف تھی اس لحاظ سے کہ مقناطیسی قوت ذرات یا ایٹموں کی وجہ سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی برقی تاروں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور اس کی سمت برقی بہاؤ کی سمت پر منحصر ہے۔

1831 میں انگلینڈ میں رائل سوسائٹی کو دیے گئے لیکچرز میں مائیکل فیراڈے نے اپنے تجربات کے نتائج بیان کیے جس میں اس نے عام مقناطیس کے ذریعے برقی رو کی پیداوار کو ثابت کیا۔ اس عمل کو الیکٹرو میگنٹک انڈکشن کہتے ہیں۔ ان تجربات سے ثابت ہو گیا کہ برقی قوت اور مقناطیسی قوت دو الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی قوت کے دو مختلف اظہار ہیں جسے برقناطیسی قوت یا الیکٹرومیگنٹک فورس کہتے ہیں۔ اسے ہی لورینٹز قوت کہا جاتا ہے۔

1848 میں ویبر نے رفتار پر منحصر ایک سکیلر پوٹینشل معلوم کیا جس کا گریڈینٹ برقناطیسی قوت مہیا کرتا ہے۔ گویا برقناطیسیت اور میکانیات، دونوں میں قوت کو پوٹینشل فنکشن کے گریڈینٹ کے طور پر لکھا جا سکتا ہے۔ قوت ایک مادی مقدار ہے۔ تو یہ سوال لازمی بنتا ہے کہ کیا پوٹینشل فنکشن بھی کوئی مادی مقدار ہے یا بس ایک ریاضیاتی تجرید ہے جسے بس قوت معلوم کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے؟

فیراڈے نے خیال پیش کیا کہ دو برقی اجسام کے مابین قوت کا تبادلہ کچھ خطوط کے ذریعے ہوتا ہے جنہیں اس نے لائنز آف فورس یا خطوط قوت کا نام دیا۔ دو اجسام کے درمیان ان خطوط کی تعداد کسی جگہ پر قوت کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس نے یہ تجربہ بھی کیا کہ اگر دو موصولوں کے درمیان کوئی غیر موصل جسم رکھ دیا جائے تو اس میں پہلے دونوں برقی اجسام کی قوت کی سمت میں برابر مگر مخالف برقی قوت پیدا ہوجاتی ہے اور اس جگہ سے گزرنے والی لائنز آف فورسز کی مجموعی تعداد یا قوت کی شدت میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ اس درمیانی جسم کو ’ڈایالیکٹرک‘ کہا جاتا ہے اور اس سے متعلقہ ایک مقدار ڈایالیکٹرک کا مستقل قوت کی شدت میں فرق کی مقدار کو ظاہر کرتا ہے۔ یوں فیراڈے نے یہ بتایا کہ دو اجسام کے مابین برقی قوت کا تبادلہ ایسے ڈایالیکٹرک واسطے یا میڈیم میں سٹریس کی وجہ سے ہوتا ہے۔

مقناطیسی قوت کی لائنز کے معاملے میں ذرا پیچیدگی تھی کیونکہ مقناطیسی قوت اگرچہ دو مقناطیسوں کے درمیان واسطے کی موجودگی سے بدلتی ہے مگر یہاں قوت کی شدت میں کمی کے علاوہ اضافہ بھی ممکن ہے کیونکہ اس لحاظ سے مقناطیسی اجسام دو طرح کے تھے جنہیں ڈایامیگنٹ اور پیرامیگنٹ کہا جاتا ہے۔ اس صورتحال سے نبٹنے کے لئے فیراڈے نے ایک مقناطیسی ٹینشن والے میڈیم کا خیال پیش کیا۔ اس دور میں کچھ لوگوں نے ایتھر نامی ایک ایسے میڈیم کا تصور پیش کیا ہوا تھا مگر فیراڈے ایتھر کی عجیب و غریب خصوصیات فرض کرنے کے باعث قائل نہیں ہوسکا کہ مقناطیسی قوت کے لئے ایتھر کا سہارا لیا جائے۔ وہ خلا اور مادے کو بالکل دو الگ چیزیں سمجھتا تھا اور ایتھر کو غیرحقیقی مانتا تھا۔

فیراڈے کے ان خیالات کو ولیم تھامسن نے ریاضیاتی بنیاد فراہم کی۔ تھامسن، فرانس کے سائنسدان فورئیر سے شدید متاثر تھا اور اس کے ریاضیاتی کام سے خوب واقف تھا۔ اس نے حرحرکیات میں استعمال ہونے والے فورئیر کے سکیلر فنکشن یعنی درجہ حرارت کا پوئساں کے برقی مقناطیسی سکیلر پوٹینشل سے موازنہ کیا۔ مزید تھامسن نے فورئیر کے برعکس حرارت کے ماخذات کو پوائنٹس کی شکل میں فرض کیا جس سے فورئیر کی درجہ حرارت کی مساوات نے پوئساں کی برقی پوٹینشل کی مساوات جیسی شکل اختیار کر لی۔

چونکہ فورئیر نے حرارت کی ایک سے دوسرے جسم میں ترسیل کے لئے مستقل درجہ حرارت کی (آئسوتھرمل) سطحیں متعارف کی تھیں، تو اس بنیاد پر تھامسن نے بھی فرض کیا کہ برقی قوت کا تبادلہ بھی مستقل پوٹینشل (ایکوی پوٹینشل) کی سطحوں سے ہوتا ہے۔ تھامسن نے جب فیراڈے کی لائنز آف فورسز کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ لائنز مستقل پوٹینشل کی سطحوں کے عمودی جانب چلتی ہیں بالکل جیسے اس نے حرارت کی ترسیل میں دیکھا تھا۔ مزید یہ کہ فیراڈے کے ڈایالیکٹرک میڈیم کی طرح حرارت کے راستے میں بھی کسی جسم کی موجودگی سے اس کی لائنز آف فورسز کی تعداد میں فرق آتا ہے۔ یوں تھامسن نے الیکٹرک کنڈکٹوٹی کی طرح تھرمل کنڈکٹوٹی کا تصور متعارف کروایا۔

1853 میں تھامسن نے تعریف کی کہ پوٹینشل وہ مکینکل ورک ہے جو مادی ذرات کو لامتناہی مقام سے کسی دیے گئے مقام تک لانے میں خرچ ہوتا ہے۔ یعنی اگر کسی جگہ پر کوئی مادہ موجود ہے تو اس کی موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ اس کو کسی لامتناہی مقام سے ورک کر کے یہاں اکٹھا کیا گیا ہے اور اس پر ہونے والا یہ ورک، اس کی پوٹینشل توانائی کی شکل میں موجود ہے۔ جیسے اگر کسی جگہ ایک مثبت برقی ذرہ موجود ہو اور اسی جگہ پر ایک اور مثبت برقی ذرے کو لانا ہو تو ہم جانتے ہیں دونوں مثبت ذرے ایک دوسرے کو دفع کریں گے، اس لئے ہمیں اس دفع کی قوت کے خلاف مکینکل ورک کرنا ہو گا۔

یہ ورک پوٹینشل توانائی کی شکل میں جمع ہو گا۔ بالآخر فیراڈے کے دونوں واسطوں یعنی ڈایالیکٹرک اور مقناطیسی ٹینشن والے میڈیم کی پہچان بالترتیب برقی اور مقناطیسی فیلڈ کے طور پر ہوئی۔ کسی ذرے پر لگنے والی قوت اور اس کے برقی بار کی نسبت کو الیکٹرک فیلڈ کہتے ہیں۔ برقی میدان یا الیکٹرک فیلڈ کسی برقی ذرے کے گرد موجود لائنز آف الیکٹرک فورسز کی تعداد سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مقناطیسی میدان یا میگنٹک فیلڈ، کسی کرنٹ ایلیمنٹ کے گرد مقناطیسی فورسز کی لائنز کی تعداد سے معلوم ہوتا ہے۔ 1864 میں میکسول نے برقناطیسی لہروں کی مساوات سے ثابت کیا کہ یہ لہریں خلا میں روشنی کی رفتار سے چلتی ہیں۔ گویا، روشنی بھی ایک برقناطیسی مظہر ہے۔ یوں برقیات اور مقناطیسیت کے ساتھ ساتھ آپٹکس کا مضمون بھی برقناطیسیت میں ضم ہو گیا۔

جرمن مثالیت پسندوں کے ہاں پوٹینشل فنکشن کو ایک تجریدی تصور کے طور پر قبول کرنے میں زیادہ دلچسپی تھی۔ جیسے ہیگل کا آئیڈیا، جو وقت کے ساتھ اپنا اظہار مادے میں کرتا ہے ویسے ہی پوٹینشل کا اظہار مادی قوت میں ہوتا ہے۔ یہ ارسطو کے تصور استعداد یا ملاصدرا کے تصور حرکت جوہری جیسی بات ہے جس میں مابعد لاطبیعی تصورات سے مادی مظاہر کی وضاحت کی ناکام کوشش کی جاتی رہی۔ بہرحال جدید فزکس کے مطابق پوٹینشل فنکشن محض تجریدی تصور نہیں ہے بلکہ یہ ایک مادی مقدار ہے جسے ماپا جا سکتا ہے اور اس پر لیبارٹری میں تجربات کیے جا سکتے ہیں۔

کولمب اور پوئساں کے برقی نظریات پر ایمپئر نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اشیاء کو ایسے مائیکروسکوپک ذرات پر مشتمل سمجھنا جو انسانی آنکھ سے اوجھل ہیں، درست نہیں ہے۔ ایمپئر، کانٹ کی میٹافزکس سے شدید متاثر تھا اور شاید اسی لئے وہ مائیکروسکوپک ذرات کو ’شے فی الذات‘ قرار دیتا تھا جسے ہم کبھی جان نہیں سکتے اور اس لیے مائیکروسکوپک ذرات یا نامینا کے بجائے صرف میکروسکوپک مقداروں سے فینامینا کی وضاحت کرنا چاہتا تھا۔

یہ بھی ایک دلچسپ تاریخی موضوع ہے کہ کیسے ایٹمیات (ایٹم بمعنی جوہر نہیں بلکہ نیوٹن کے مادی ذرات) کے مخالفین جیسے ایمپئر و ماخ وغیرہ کی تنقید اور ہٹ دھرمی نے ایٹموں اور مالیکیولوں کی مدد سے مظاہر فطرت کی وضاحت کرنے میں رکاوٹ پیدا کی۔ ماخ نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر ان دیکھے ایٹموں کی مدد سے ہی فطرت کو سمجھنا ہے تو وہ فزکس کرنا چھوڑ دے گا۔ قدیم یونانیوں جیسے دیموقراطیس وغیرہ اور قرون وسطٰی کے متکلمین جیسے اشعریوں وغیرہ کا ایٹمی نظریہ (ایٹم بمعنی جوہر) فلسفیانہ نوعیت کا تھا۔

جبکہ نیوٹن اور اس کے حامیوں کے ہاں اس کو تجرباتی بنیاد پر قائم کیا گیا اور ان کے مابین قوتوں کی موجودگی کے تصور نے اسے سائنسی حیثیت عطا کی۔ میکسول اور بولٹزمین کا گیسوں کا حرکی نظریہ، جان ڈالٹن کی اٹامک کیمسٹری اور پیرن کے 1908 کے براؤنین حرکت پر تجربات نے ذرات اور ان کے مابین قوتوں کی فزکس میں اہم اضافہ کیا ہے۔

Facebook Comments HS