ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کا نافذ : حکومت نے اعلان پر عمل درآمد کروا ہی دیا
30 اپریل 2024 کے سارے اخبارات نکال کر دیکھ لیں ہر اخبار کی شہ سرخی یہ تھی کہ ملک میں وفاقی حکومت چار سال کے لیے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر رہی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس دن اچانک ساری مصروفیات ترک کر کے ہنگامی بنیادوں پر اس کا اعلان کیا۔ اس سے خوش آئند خبر شاید ہی تین دہائیوں میں کبھی سننے کو ملی ہو کہ حکومت کو ادراک ہو گیا ہے کہ ملک کی پسماندگی اور اس بدترین صورتحال کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہم نے دنیا کی طرح تعلیم پر توجہ نہیں دی۔ اور اس پر اپنے وسائل سب سے کم خرچ کیے۔ جس کی وجہ سے کروڑوں بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ گئے۔ ملک میں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ نوجوانوں کی شدید کمی ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں فی کس آمدنی مسلسل خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم ہو رہی ہے۔ بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کے پاس تعلیم اور ہنر نہ ہونے کی وجہ سے ان کی مانگ نہیں ہے اور خطے کے دیگر ممالک پاکستان کے مقابلے دس گنا زیادہ افرادی قوت ملک سے باہر بھیج رہے ہیں اور یہ افرادی قوت اربوں ڈالرز سالانہ ان کو وہاں سے زرمبادلہ بھیجتی ہے۔
جس سے ان ممالک کی معاشی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ جبکہ اس مد میں پاکستان کی آمدنی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ تعلیم او ر تربیت کے مواقع میسر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی نوجوان نسل میں منشیات کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے، اس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے ملک میں معیار زندگی بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ شہروں کی طرف دیہات سے نوجوانوں کی ہجرت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اس لیے حکومت نے آخر کار اس کا ادراک کر لیا اور اب چند برسوں میں جو یہ تعلیمی ایمرجنسی لگائی گئی ہے اس کے ثمرات ملنا شروع ہوجائیں گے اور ہمارا ملک بھی دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح ترقی کا سفر شروع کرے گا، لوگوں کی روزمرہ زندگی میں بہتری آئے گی۔ لوگوں کی قوت خرید بہتر ہو جائے گی۔ مگر جب وفاقی بجٹ کے حوالے سے حکومت کے عزائم سامنے آنے لگے تو یہ سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔ جس ملک کے وزیر اعظم نے ملک میں چار برس کے لیے تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کیا اور پوری دنیا نے اس کام کو سراہا اور عالمی میڈیا نے اس کی تشہیر کی۔
اسی وزیر اعظم کے وزیر خزانہ نے ملک کی ایک سو پچاس سے زیادہ یونیورسٹیوں کو وفاقی بجٹ میں دی جانے والی امدادی رقم ختم کردی۔ جس کے نتیجے میں یہ ساری یونیورسٹیاں بند ہوجائیں گی۔ ان یونیورسٹیوں میں اس وقت تین ملین کے قریب طلبا زیر تعلیم ہیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ اساتذہ ان جامعات اور ڈگری دینے والے اداروں میں خدمات دے رہے ہیں۔ ڈھائی لاکھ سے زیادہ دیگر عملہ ان اداروں میں برسر روزگار ہے۔ چند دن پہلے وزیر اعظم تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہیں اور پھر تعلیم دینے والے اداروں کی وفاقی فنڈنگ ختم کر دیتے ہیں۔
ان کا اعلان اس حوالے سے درست ہے کہ اس اعلان کے نتیجے میں تمام صوبائی سطح کی جامعات میں بدترین ایمرجنسی پیدا ہو گئی ہے۔ اس لیے کہ وفاق سے ملنے والے 65 ارب روپے جو ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ملتے تھے۔ ان میں سے 19 ارب کے قریب پنجاب، 13 ارب کے قریب سندھ، 9 ارب کے قریب خیبر پختونخوا، 3 ارب بلوچستان، 2 ارب آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان، 6 ارب سے کچھ زیادہ وفاقی میں موجود جامعات، اور 12.6 ارب روپے ہائر ایجوکیشن کمیشن سیکرٹریٹ میں سالانہ خرچ ہوتے تھے۔
ان 65 ارب روپوں سے ملک کی ایک سو ساٹھ سے زیادہ یونیورسٹیوں کو ان کی بجٹ کا چالیس فیصد حصہ مل جاتا تھا جس کی مدد سے وہ اپنے ملازمین کو تنخواہ اور پنشن دے سکتے تھے اور یوٹیلٹی بلز کے پیسے جمع کروا سکتے تھے۔ یہ رقم مشرف دور میں اس سے زیادہ تھی۔ ان کے بعد کے حکمرانوں نے اس میں اضافہ نہیں کیا۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد ہائر ایجوکیشن بھی صوبوں کے پاس جانی تھی مگر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں جاکر اس کو وفاق میں بحال رکھا۔ اس لیے صوبائی حکومتوں نے بھی ان یونیورسٹیوں کو فنڈز دینے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ اب جب وفاق نے بجٹ میں صرف وفاق کی یونیورسٹیوں کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ جس سے وفاق میں موجود یونیورسٹیوں کو اب چھے کی جگہ بارہ ارب روپے ملیں گے۔ مگر چاروں صوبوں اور وفاق سے باہر جو یونیورسٹیاں ہیں ان کو کچھ نہیں ملے گا۔
سندھ کی حکومت نے اپنی یونیورسٹیوں کے لیے بجٹ میں 30 ارب مختص کیے ہیں مگر باقی کسی صوبہ نے ہائر ایجوکیشن یعنی یونیورسٹیوں کے لیے اپنے بجٹ میں کوئی رقم نہیں رکھی۔ جس کی وجہ سے ان صوبوں کی یونیورسٹیوں میں جون کے بعد یکم جولائی سے ایمرجنسی نافذ ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ جن جن اضلاع میں یہ یونیورسٹیاں ہیں وہاں کے ڈپٹی کمشنر فوراً دفعہ 144 بھی نافذ کر دیں۔ ان یونیورسٹیوں کی مالی حیثیت پہلے سے ہی بہت خراب ہے۔ بیشتر یونیورسٹیوں نے ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں کی ہیں۔ اس کے ساتھ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن نہیں دی ہے۔ بجلی اور گیس کے بل نہیں دے پائے ہیں۔ یونیورسٹی کے امتحانوں میں ڈیوٹی دینے والے لوگوں کا معاوضہ نہیں دیا ہے۔
یہ ساری یونیورسٹیاں اس انتظار میں تھیں کہ وفاق اپنے بجٹ میں اس مرتبہ اضافہ کر کے جو ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ان یونیورسٹیوں کے لیے 126 ارب روپے مانگے تھے وہ دے گی تو اس سے گزشتہ بقایا جات بھی ادا کریں گے اور ان یونیورسٹیوں میں تعلیمی و تحقیقی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ بنگلہ دیش نے پاکستانی پیسوں میں 300 ارب سے زیادہ روپے دو یونیورسٹیوں کو سٹارٹ آپس پروگرام کے لیے دیے ہیں۔ یہ پیسے ان کو دی جانے والی بجٹ کے علاوہ ہیں۔
صرف ڈھاکہ یونیورسٹی کو بجٹ میں پاکستان کے گزشتہ برس کے کل مختص شدہ وفاقی بجٹ سے تین گنا زیادہ بجٹ دیا گیا تھا۔ یہ ہیں ہماری ترجیحات۔ تعلیمی ایمرجنسی لگانے پر جو واہ واہ ہوئی تھی اب اس کے مقابلے میں یونیورسٹیوں کو بدترین مالی بحرانوں سے دوچار کرنے پر جو بدنامی عالمی دنیا میں ہوگی اس کا سہرا کس کے سر جائے گا۔ ایک طرف ہم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم بڑھا کر 500 ارب کر رہے ہیں۔ جس کا براہ راست نقصان یہ ہے کہ لاکھوں افراد محنت مزدوری کرنے کے بجائے دس بارہ ہزار کی بھیک کے سہارے معاشرے پر بوجھ بن رہے ہیں۔ اسی طرح کے پروگرام کو بنگلہ دیش نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ اس طرح ان کے ملک میں غربت مزید بڑھے گی۔ بنگلہ دیشی حکومت نے انہی پیسوں سے لوگوں کو روزگار حاصل کرنے کے لیے تربیت کا انتظام کیا جس کے نتیجے میں ڈیڑھ کروڑ لوگ بر سر روزگار ہو گئے اور بنگلہ دیش میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں میں اکیس فیصد کمی واقع ہو گئی ہے۔ انہی پیسوں سے بنگلہ دیشی حکومت نے عورتوں کو برسر روزگار بنانے کا منصوبہ شروع کیا جس کے نتیجے میں ان کی جی ڈی پی میں اب خواتین کا حصہ 30 فیصد ہو گیا ہے۔
ان کے ماہرین اس پر کام کر رہے ہیں کہ اگلے چند برسوں میں مزید کام کر کے خواتین کے حصہ کو پانچ فیصد مزید بڑھایا جائے۔ اس کو کہتے ہیں حقیقی ایمرجنسی کا نفاذ جس پر عمل درآمد نے بنگلہ دیش کے فارن ریزروز کو پینسٹھ بلین ڈالرز سے بھی بڑھا دیا ہے۔ جبکہ دس برس پہلے ہمارے فارن ریزروز بائیس بلین ڈالرز اور بنگلہ دیش کے ریزروز نو بلین ڈالرز تھے۔ اب ہمارے کم ہو کر کبھی سات ہو جاتے ہیں تو ہم آئی ایم ایف، چینیوں، عربوں سے قرض لے لے کر اس کو اسی سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مگر ساتھ ہی ساتھ ہم قرضوں پر قرضے لیے جا رہے ہیں جن کی ادائیگی اور ان پر سود اس قدر بڑھ گیا اور بڑھ رہا ہے کہ شاید اگلے دو تین برس بعد سارا جی ڈی پی بھی اس مد میں ناکافی ہو گا۔ کیا وفاقی حکومت کے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ دو الگ الگ ملکوں میں بیٹھے ہیں۔ کیا حکومت کرنے والے وزیر اعظم ان سے یہ پوچھنے کی زحمت کریں گے کہ مجھ سے تعلیمی ایمرجنسی لگوا کر اور بجٹ کو پانچ فیصد تک لانے کا اعلان کروا کر کیسے ہائر ایجوکیشن کا بجٹ صوبوں کے لیے ختم کروا دیا۔
کیا سپریم کورٹ نے جو فیصلہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے حوالے سے دیا تھا۔ اب اس کی صریحاً خلاف ورزی ہوئی ہے۔ کیا وہ اس پر سوموٹو ایکشن لے گی۔ کیا مشترکہ مفادات کونسل کی کوئی حیثیت اور وقعت باقی رہ گئی ہے کہ جس کے علم میں لائے بغیر صوبوں کی یونیورسٹیوں کو تالا لگانے کا اقدام کیا گیا ہے۔ کل تک وفاق میں جو بجٹ رکھا جا رہا تھا وہ کس مد سے لے کر رکھا جا رہا تھا۔ اگر مد ہی نہیں تھی تو اتنی بڑی رقم گزشتہ حکومتوں نے کیسے مختص کی۔
اگر مد موجود ہے تو کیا وفاق نے وہ پیسے صوبوں کو منتقل کیے ہیں۔ اگر کیے ہیں تو پھر صوبوں نے کیوں اپنے بجٹ میں شامل نہیں کیے۔ کیا کوئی وزیر خزانہ سے یہ دریافت کرے گا کہ ان کے اس اقدام سے ملک میں ایک ہنگامی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ملک کا تعلیمی نظام مکمل برباد ہو سکتا ہے۔ لاکھوں طلبا، لاکھوں ملازمین کا مستقبل داؤ پر لگ سکتا ہے۔ ملک کی ترقی رک سکتی ہے۔ گزشتہ ستر برسوں کی محنت ضائع ہو سکتی ہے۔ ملک کے نوجوانوں میں شدید ترین مایوسی پھیل سکتی ہے۔
صوبوں اور وفاق میں ایک گمبھیر تنازعہ جنم لے سکتا ہے۔ طلبا، اساتذہ اور یونیورسٹیوں کے ملازمین مجبور ہو کر احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل سکتے ہیں جس سے ملکی معیشت جو پہلے سے ہی وینٹی لیٹر پر مزید خراب ہو سکتی ہے۔ اس مسئلہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس اور دیگر اداروں کو جو اربوں روپے خرچ کرنا ہوں گے وہ کہاں سے آئیں گے۔ اس لیے کہ راولپنڈی میں ایک چھوٹے سے دھرنے کے لیے جو اخراجات دکھائے گئے تھے۔
اگر اتنے ہر ضلع میں دھرنے اور جلوسوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اداروں نے مانگ لیے تو پھر حکومت کو بجٹ میں کاٹے گئے پیسوں سے پانچ گنا زیادہ انہیں دینا پڑے گا۔ اور جو نقصان املاک کا ہو گا وہ الگ، خدا نہ کرے ایسی صورتحال میں جانی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ ملک بھر کا پہیہ رُک سکتا ہے۔ ملک کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اور ایک ایسے وقت میں جب یوتھ شدید ترین مایوسی کا شکار ہے۔ اسے مزید بے یقینی سے دوچار کرنا مصیبت کو خود دعوت دینا ہے۔ تعلیمی ایمرجنسی پر ضرور عمل کروائیں۔ لیکن تعلیمی سہولیات بہتر کر کے، زیادہ موقع پیدا کر کے۔
پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا
جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہو گا
حکومت اور انتظام و انصرام حکومت چلانے والے اپنے عیاشیوں سے کچھ پیسے نکال کر اگر تعلیم پر خرچ کریں گے تو اس سے ملک بہتر ہو سکتا ہے۔ صرف اشرافیہ ہر مہینے دس لیٹر پیٹرول کی قربانی دے دیں تو اس سے وفاقی ہائر ایجوکیشن کے بجٹ میں سالانہ سو ارب روپے جمع ہوجائیں گے۔ ایمرجنسی کا اطلاق طلبا کے فائدے کے لیے کریں۔ ان کو کلاس روم میں مصروف رکھیں۔ ان کی تربیت کا بندوبست کریں۔ اگر ایسا نہیں کریں گے تو پھر شاید آپ ان کو سنبھال نہیں پائیں گے۔
یہ ہنر صرف استاد کو آتا ہے۔ استاد کے منہ سے رزق حلال کا نوالہ نہ چھینیں۔ یہ یونیورسٹیاں بہت محنت اور قربانیوں کے بعد بنی ہیں۔ ان کو مزید بہتر کریں، دنیا کے بہتر معیارات کے مطابق ان کو وسائل فراہم کریں۔ ان کو سیاسی اور شخصی مفادات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ اس لیے کہ واپسی اور ترقی کا راستہ انہیں سے ہو کر گزرے گا۔
اس راستے میں جب کوئی سایہ نہ پائے گا
یہ آخری درخت بہت یاد آئے گا


