نواز شریف اور یوم تکبیر


پاکستان کے مختلف سائنس دانوں اور سیاست دانوں کے درمیان پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا کریڈٹ حاصل کرنے کی جنگ جاری رہی ہے 26 سال گزرنے کے بعد بھی نواز شریف اور ڈاکٹر عبدالقدیر کا کریڈٹ چھینے کی کوششیں جا رہی ہیں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا خواب سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے دیکھا تھا ان کو اس کی سزا موت کی صورت میں دی گئی پھر ضیاء الحق نے اس پروگرام کو انتہائی رازداری سے آگے بڑھا یا 1984 ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 95 فیصد یورینیم افزودہ کرنے کے بعد کولڈ ٹیسٹ کر لیا تو ان کی خواہش پر ایک انٹرویو ہوا جس میں انہوں نے پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا انکشاف کیا تو پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی ڈاکٹر خان نے یہ انکشاف جان بوجھ کر کیا اس کا ایک مقصد پاکستان کے ایٹمی قوت بننے بارے میں بھارت کو پیغام دینا تھا دوسرا یہ کہ قبل اس کے کہ کوئی اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا دعویٰ کر دے انہوں نے خود ہی ایٹمی قوت بننے کا اعلان کر دیا جس طرح پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں نواز شریف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اسی طرح پاکستان کو ایٹمی کلب کا رکن بنانے میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کے کلیدی کردار کی نفی نہیں کی جا سکتی۔ جب پاکستان پر ایران اور لیبیا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تو اس وقت کے فوجی حکمران نے سارا ملبہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر ڈال دیا۔ ڈاکٹر خان کا حوصلہ قابل دید تھا۔ انہوں نے پاکستان کو بچانے کے لئے سارا الزام اپنے سر لے لیا۔ جب میں نے ڈاکٹر خان سے ان کی وفات سے چند دن قبل انٹرویو لیا تو انہوں نے میرے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ”وہ ایک سرکاری ملازم تھے وہ کس طرح از خود ایٹمی ٹیکنالوجی کا ایک پرزہ ڈاکٹر اے کیو خان لیبارٹریز سے باہر بھجوا سکتے تھے۔ ڈاکٹر اے کیو خان لیبارٹریز کی حفاظت کا فول پروف سسٹم ہے بھلا وہاں سے ایک سوئی بھی باہر کس طرح بھجوائی جا سکتی کجا سینیٹری فیوج۔

جب پاکستان نے بھارت کے“ جارحانہ عزائم ”کو بھانپا تو روزنامہ مسلم کے ایڈیٹر مشاہد حسین سید کے ذریعے بھارتی صحافی کلدیپ نیر کی ڈاکٹر عبد القدیر خان سے ملاقات کرائی گئی جس میں ڈاکٹر خان نے باتوں باتوں میں کلدیپ نیر کے ذریعے بھارت کے جنگجو حکمرانوں کو یہ پیغام پہنچایا کہ“ اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کی حماقت کی تو پھر اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا جب بھارتی حکمرانوں تک ڈاکٹر خان کا پیغام پہنچا تو وہاں کھلبلی مچ گئی۔ اسی طرح جنرل ضیاالحق نے نئی دہلی جا کر بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو یہ باور کرا دیا تھا کہ اگر ہماری سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان روایتی ہتھیاروں جواب نہیں دے گا۔ ایٹمی پروگرام کامیابی سے ہمکنار کرنے میں سابق صدر غلام اسحق کا بھی بڑا کردار ہے۔ وہ ایٹمی پروگرام سے وابستہ تھے۔ انہوں نے ایٹمی پروگرام کی تکمیل کی راہ میں مطلوبہ فنڈز کو حائل نہیں ہونے دیا۔ کہا جاتا ہے اگر غلام اسحق نہ ہوتے یہ پرا جیکٹ مالی مشکلات کی وجہ سے التوا کا شکار ہو سکتا تھا لیکن یہ پراجیکٹ غلام اسحق کی اولیں ترجیح رہی۔ یوم تکبیر کبھی مسلم لیگ مناتی تھی کبھی اس کی ترجیح تبدیل ہو جاتی تھی اب کی بار پاکستان مسلم لیگ (ن) نے نہ صرف یوم تکبیر کو قومی دن کے طور منایا بلکہ نواز شریف کو 6 سال بعد پارٹی کا صدر منتخب کرنے کے لئے 28 مئی کا انتخاب کیا گیا۔ کم و بیش 16، 17 سال قبل کی بات ہے۔ پرویز مشرف دور میں سرکاری مسلم لیگ (ق) قائم کی گئی بیگم عابدہ حسین مسلم لیگ (ق) کے سیکریٹریٹ میں سیکریٹری اطلاعات کے دفتر میں براجمان تھیں میں نے ان سے پوچھا کہ پاکستان کا ایسا وزیر اعظم بتائیں جس نے امریکی صدر کی پانچ ٹیلی فون کالز کی پروا کیے بغیر پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا ہو۔ انہوں نے اس بات کا برملا اعتراف کیا کہ یہ ”جگرا“ نواز شریف کا ہی تھا جس نے سپر پاور کی ٹیلی فون کالز کی پروا نہیں کی۔ 26 سال قبل جب نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کی کابینہ منقسم تھی۔ انہوں نے جان بوجھ کر ایک تاثر پیدا کیا وہ ایٹمی دھماکے کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں اور وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے۔ در حقیقت انہوں نے آستانہ (قازقستان) سے پاکستان روانہ ہونے سے قبل ہی ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس موضوع پر منعقد ہونے والے اجلاسوں کی آڑ میں ایٹمی دھماکوں کی تیاری مکمل کر لی گئی۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کے دست راست انجینئر فاروق حال ہی میں اپنے ”ناکردہ گناہوں“ کی سزا بھگت کر رہا ہوئے ہیں۔ اگر ایٹمی توانائی حاصل کرنے میں ڈاکٹر عبد القدیر خان اور نواز شریف کا کوئی رول نہیں ہوتا تو نواز شریف اقتدار سے محروم کیے جاتے اور نہ ہی ڈاکٹر خان زیر عتاب رہتے۔ انجینئر فاروق طویل قید نہ بھگتتے۔ نواز شریف نے جلاوطنی اور ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اپنے ہی ملک میں ”قیدی“ کی زندگی بسر کی۔ بے شک ایٹمی قوت بنانے میں مختلف شخصیات کا اپنا اپنا کر دار رہا ہے لیکن دنیا کی کوئی طاقت نواز شریف اور ڈاکٹر خان کو پاکستان کو ایٹمی بننے کے کریڈٹ سے محروم نہیں کر سکتی۔

میں ذاتی طور جانتا ہوں نواز شریف کے دونوں ادوار میں ڈاکٹر خان کی نواز شریف کے ساتھ نہیں بنی۔ اس وجہ سے دونوں کے درمیان فاصلے رہے تاہم ایٹمی پرو گرام کے حوالے سے نواز شریف ڈاکٹر خان کی خدمات کے معترف رہے۔ ڈاکٹر خان نے اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو ایٹمی دھماکے کرنے کے حق میں رائے دی تھی۔ ڈاکٹر خان پرویز مشرف کے ستائے ہوئے تھے لہذا جب کبھی ان کے سامنے پرویز مشرف کا نام لیا جاتا تو ان کے بارے میں شدید رد عمل کا اظہار کرتے کیونکہ پرویز مشرف کا دور حکومت ان پر سخت بھاری رہا۔ ان کی تذلیل کی گئی اور سینٹری فیوج سسٹم کی برآمد کی ذمہ داری ان پر ڈالی گئی۔ ان کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو کسی دشمن کے ساتھ نہیں کیا جاتا۔ ڈاکٹر خان کو ہمیشہ یہ گلہ رہا کہ انہیں ملک کو ایٹمی قوت بنانے کا یہ صلہ دیا گیا کہ ان پر سینیٹری فیوج سسٹم سمگل کرنے کی ذمہ داری ڈال دی گئی۔ ڈاکٹر خان ایک سخت جان سائنسدان تھے جو کم و بیش نصف صدی قبل عیش و عشرت کی زندگی ترک کر کے ملک کو ایٹمی قوت بنانے کے لئے پاکستان واپس آ گئے۔ وہ ایٹمی پروگرام منطقی انجام تک پہنچنے کے بعد بھی قیدی کی زندگی بسر کرتے رہے۔ ان کی خواہش رہی کہ وہ آزاد شہری کے طور پر ایک دن بنی گالہ میں اپنے گھر گزار سکیں۔ اب کی بار یوم تکبیر سرکاری طور منا یا گیا۔ پاکستان میں 13 سال تک سرکاری طور یوم تکبیر نہیں منایا گیا۔ اب جب اس دن کی اہمیت کے پیش نظر نواز شریف کی دوبارہ ”دستار بندی“ کی گئی لیکن کسی نے ایٹمی قوت بنانے کے حوالے سے ڈاکٹر خان کا ذکر کیا اور نہ ہی تصویر جاری کی گئی۔ ایسا دکھائی دیتا ہے ڈاکٹر خان کے کردار کو جان بوجھ کر کم کر کے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے مل کر جو کام کیا اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ عوامی سطح پر جتنی تقریبات منعقد ہوئیں ان میں ڈاکٹر خان ہی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جس طرح ایٹمی پروگرام میں نواز شریف کے کردار کی نفی نہیں کی جا سکتی اسی طرح ڈاکٹر خان کے کردار کو کم نہیں کیا جاسکتا


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments