یونی سیکس اور ایکو فرینڈلی: سرمایہ دار معیشت میں نئے رجحانات


یونی سیکس، ایکو فرینڈلی یہ شبد مریخ کی بولی کے نہیں ہیں، ہاں مگر سرمایہ دارانہ طرز معیشت میں ان کا استعمال عجیب ضرور ہے۔ کیا کبھی سوچا ہے منافع خوری کی ہوس نے کس طرح خریدار کا استعمال کیا؟ مارکیٹنگ کے نام پر کس طرح سادہ لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ فیشن کا پیشن، پنک لڑکی کا رنگ ہے اور بلو لڑکے کا۔ تیس سال کی عورت کے لئے یہ اور چالیس کے لئے وہ، پچاس کے لئے یہ چلے گی۔ یہ کس نے کہا؟

کیوں بھئی، انسان کا بھی کوئی رنگ ہے یا نہیں؟
ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات

ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اب ڈھونڈھنے نہیں پڑتے بلکہ جھیلنے پڑ رہے ہیں۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ فیشن انڈسٹری کتنا پانی ضائع کرتی ہے؟ گارمنٹس انڈسٹری جو پانی کا بے تحاشا استعمال کرتی ہے، جانے کتنے پیاسے انسانوں کو پینے کا پانی مل سکتا ہے۔ فیشن انڈسٹری ان چند صنعتوں میں سے ایک ہے جہاں پانی کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ 2020 کے ایک اندازے کے مطابق فیشن انڈسٹری ہر سال 79 ٹریلین لیٹر پانی استعمال کرتی ہے۔

فیشن انڈسٹری کو ماحولیاتی معمولات کی پاسداری کرنے اور تکنیکیں بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
یونی سیکس فیشن کی افادیت

اگر فیشن انڈسٹری یونی سیکس کپڑوں اور اشیاء کے استعمال پر کام کرے تو پانی کے ساتھ ساتھ بہت سے قدرتی وسائل کا استعمال عقل مندانہ طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ یونی سیکس فیشن نہ صرف پانی کی بچت کر سکتا ہے بلکہ یہ فیشن کی دنیا میں ایک نیا اور مثبت رجحان بھی پیدا کر سکتا ہے۔

فرانس کی قانون سازی

حال ہی میں ایک اچھی خبر نظر سے گزری کہ فرانس نے پرانے کپڑے مرمت کر کے استعمال کرنے والوں کو پیسے دینے کی قانون سازی کی ہے۔ فرانس چونکہ آج بھی فیشن کا مرکز ہے، ایک اور قانون کے ذریعے کپڑے بنانے والوں کو یہ بتانا ہو گا کہ کون سا کیمیکل کتنا استعمال ہوا ہے اور کتنا پانی استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ایک اچھی شروعات ہے۔

یونی سیکس فیشن کی ضرورت

کیا عورت اور مرد کے برتن بھی علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں؟ کیوں نہیں یونی سیکس کپڑے، جوتے بنائے اور اپنائے جاتے؟ یہ سرمایہ دار نظام انسان کو بھی پراڈکٹ سمجھتا ہے۔ ہمیں اس نظام کو چیلنج کرنا ہو گا اور ایکو فرینڈلی اور یونی سیکس فیشن کو فروغ دینا ہو گا تاکہ ہم اپنی زمین اور وسائل کو بچا سکیں آنے والی نسل کے لئے، آنے والے کل کے لئے۔

اور یاد رہے استعمال اور پھر استعمال اور دوبارہ کسی اور شکل میں استعمال۔

یونی سیکس اور ایکو فرینڈلی فیشن نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے لئے اہم ہیں بلکہ یہ سرمایہ دارانہ طرز معیشت کے منفی اثرات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم مستقبل کو بہتر بنا سکیں۔

کیا عورت اور مرد کے برتن بھی علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں؟ کیوں نہیں یونی سیکس کپڑے، جوتے بنائے اور اپنائے جاتے۔

یہ سرمایہ دار نظام انسان کو بھی پراڈکٹ سمجھتا ہے۔ اب سوچ بدلنے اور عمل کرنے کا وقت ہے ورنہ یہ نہ ہو کہ انسان نما پروڈکٹ بھی مستقبل کے کسی میوزیم میں ملے۔

Facebook Comments HS