ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری
ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری کے بانی ڈاکٹر جمیل جالبی ہیں۔ جنھوں نے 14 اگست 2016ء کو ”ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری“ کا سنگِ بنیاد رکھا۔ سنگِ بنیاد کی تنصیب جامعہ کراچی میں محمود حُسین لائبریری کے ساتھ خالی قطعہ اراضی پر ہوئی۔ جمیل جالبی فاؤنڈیشن کے منصوبے نے تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کیے۔ یہ منصوبہ ڈاکٹر خاور جمیل اور خانوادہ جمیل جالبی کے تعاون سے پایۂ تکمیل تک پہنچا۔ (1)
ڈاکٹر جمیل جالبی 12 جون 1929ء کو پیدا ہوئے اور 18؍ اپریل 2019ء کو انتقال ہوا۔ کتاب سے انھیں بچپن سے عشق تھا۔ انھوں نے کتابیں پڑھیں، لکھیں، تدوین و تالیف و ترجمہ ہیں۔ کتابوں کی ذخیرہ اندوزی کی۔ انھیں ترتیب دیا، ان کی فہرستیں مرتب کیں اور کروائیں، وہ کتاب خواں اور کتاب دوست تو تھے ہی ایک سلیقہ مند کتاب دار بھی رہے۔ کتاب لکھنے، تحقیق کرنے اور تصنیفی عمل کو آگے بڑھانے میں پیش پیش رہے۔ (2)
انھوں نے اشاریہ سازی کی، کتابیات، کیٹلاگ سازی کی، سوانحی کتابیات سازی اور نعت نگاری میں نئے سنگِ میل قائم کیے۔ فراہنگ اصطلاحات اور شخصی موضوعات پر سوانحی کتابیات مرتب کروا کر حوالہ جاتی ادب میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ (3)
ڈاکٹر جمیل جالبی کا ذاتی کتب خانہ ان کی سلیقہ مندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تقریباً ایک لاکھ کے قریب اس علمی ذخیرہ میں کتب، رسائل، مخطوطات، نایاب کتب و رسائل، اصل مسودات، اعزازات، تصاویر، خطوط، ڈائریاں، تحقیقی مقالات، کتابوں کے پہلے ایڈیشن دستخط شدہ کتب اور دستاویزی فائلیں نیز خطوط کا ایک بیش بہا خزانہ ہے۔ (4)
جامعہ کراچی سے دلی لگاؤ کے باعث اس علمی و قومی ورثہ کو انھوں نے جامعہ کراچی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا۔ 14؍ اگست 2016ء کو ڈاکٹر محمود حُسین لائبریری کے پہلو میں اپنے ہاتھوں سے اس کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اس کا نام ”ڈاکٹر جمیل جالبی تحقیقی کتب خانہ“ تجویز ہوا۔ (5)
سفید رنگ کی یہ خوب صورت عمارت جامعہ کراچی کے مرکزی کتب خانے ”ڈاکٹر محمود حُسین لائبریری“ کے پہلو میں واقع ہے۔ اس عمارت کے مکمل ہونے میں تین سال لگے یہ عمارت فنِ تعمیر کا ایک مثالی نمونہ ہے۔ (6)
فرشی منزل پر ّْ ”بیگم نسیم شاہین ہال،“ ڈاکٹر جمیل جالبی کی بیگم کے نام پر ہے۔ اس ہال میں ان کی ایک نادر تصویر آویزاں ہے۔ اس ہال میں سو نشستیں ہیں۔ اسٹیج پر گنجائش اس کے علاوہ ہے۔ یہ کھلی ہوئی روشن جگہ ہے جہاں ایک طرف فاؤنڈیشن کے صدر کا دفتر اور ان کے معاون کا کمرہ ہے۔ (7) ہال کی دوسری جانب طہارت خانے اور ایک مختصر سا باورچی خانہ ہے۔ جہاں مہمانوں کی خاطر تواضع کا سامان کیا جاتا ہے۔ اس ہال میں جدید تکنیکی آلات موجود ہیں۔ اب تک یہاں کئی کامیاب پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں۔ ہال کے ساتھ ایک مختصر سا باغیچہ ہے جو خوشنما پودوں سے مرصع ہے۔ (8)
گیٹ سے داخل ہوں تو ایک ڈھلوانی راستہ ہے جس کے اطراف سیڑھیاں بھی بنی ہوئی ہیں۔ دائیں جانب تقاریب کی نگراں کا کمرہ ہے۔ بائیں جانب کمیٹی روم ہے جہاں ملاقاتیں ہوتی ہیں اور اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں۔ یہاں بارہ افراد کی نشستیں ہیں۔ ساتھ ہی مہمانوں اور عملے کے لیے طہارت خانہ ہے۔ گیٹ کے سامنے سرسبز پودوں کی نشست پر کتب خانے کا نام لکھا ہوا ہے اور ایک چبوترا ہے جس پر خاص مواقع پر جھنڈا لہرایا جاتا ہے۔ (9)
نصر اللہ خان لکھتے ہیں کہ جمیل جالبی کا کتب خانہ یکتائے روزگار کتب خانہ ہے۔ کتابوں کو سینت سینت کر رکھنا تو کوئی ان سے سیکھے۔ بقول نصر اللہ خان ”جمیل جالبی ریشم کے کیڑوں کی جگہ کتابوں کے کیڑے پالتے ہیں۔ اگر انھیں ان کی پسند کی کرم کوردہ کتاب نہیں ملتی تو یہ کتاب کی جگہ کتاب کے کیڑے حاصل کرلیتے ہیں اور پھر ان کیڑوں کا پیٹ چاک کر کے اس میں سے اصل کتاب نکال لیتے ہیں۔ (10)
جمیل جالبی ریسرچ لائبریری کچھ خاص مقاصد کے تحت قائم کی گئی ہے۔ لائبریری کے مقاصد درج ذیل ہیں۔
جمیل جالبی کی تحریروں کی حفاظت، ترتیب اور معلومات کی ترسیل، جمیل جالبی کے علمی ورثے کی محققین تک رسائی، اُردو لسان و ادب خصوصاً اور دیگر موضوعات پر معلومات فراہم کرنا۔ اندرونِ کتب خانہ مطالعے کی سہولت فراہم کرنا، محققین کو مطلوبہ سہولیات کی فراہمی، دیگر ممالک اور تحقیقی اداروں سے جمیل جالبی کے بارے میں تحقیقی مواد حاصل کرنا۔ کتابی اور کتب خانوی تقاریب کے انعقاد میں مدد دینا۔ (11)
ڈھلوان راستہ پہلی منزل تک لے جاتا ہے۔ داخل ہوتے ہی پہلی نظر ڈاکٹر جمیل جالبی کی تصویر پر پڑتی ہے جسے شمیم باذل نے بنایا ہے۔ اس کے سامنے محققین کا سامان رکھنے کے خانے بنے ہوئے ہیں۔ سامنے ہی استقبالیہ کی میز ہے۔ یہ عام مطالعہ گاہ ہے جہاں مختصر میزیں اور کرسیاں نصب ہیں۔ سامنے لفٹ کا دروازہ ہے جو دوسری منزل تک جاتا ہے۔ (12)
اسی حال سے چند سیڑھیاں اتر کر ایک فرشی ہال ہے جس میں قدآور الماریوں میں جمیل جالبی کی کتابوں کو موضوعاتی سطح پر مرتب کیا ہے۔ فرشی منزل سے سیڑھیاں چڑھ کر ایک مختصر کمرہ یا دو چھتی بنی ہوئی ہے۔ جہاں محققین کے لیے مطالعے کی نشستیں موجود ہیں۔ (13)
دوسری منزل تک جانے کے لیے لفٹ اور زینہ دونوں موجود ہیں۔ دوسری منزل پر ہال کمرے میں قارئین کے لیے آٹھ، آٹھ کرسیوں کی میزیں ہیں۔ یہ منزل رسائل اور لائبریری کی دیگر خدمات کے لیے مختص ہے۔ اسی منزل پر ایک کمرے میں مخطوطات و دستاویزات اور اعزازات کے کمرے ہیں۔ اسی منزل پر قدیم و نادر کتب، رسائل و جرائد، دستخط شدہ کتب کے شعبے ہیں۔ (14)
لائبریری میں ایک جدید کتب خانے کی تمام تر سہولیات موجود ہیں۔ ہوا، روشنی اور بجلی کا معقول انتظام ہے۔ ٹھنڈے پانی کی مشینیں دستیاب ہیں۔ آگ بجھانے کے آلات، شمسی بجلی بنانے والی مشینیں اور کیمروں کا بندوبست ہے جو پوری لائبریری کی صورت حال ریکارڈ کرتے ہیں۔ کمپیوٹر، پرنٹر، اسکینر اور فوٹو کاپی کی مشین بھی موجود ہے۔ سماعت گاہ ”نسیم شاہین ہال“ میں جدید صوتی و بصری آلات کا بندوبست کیا گیا ہے۔ (15)
اُردو میں کتابوں کی تعداد 36881 ہے۔ انگریزی میں کتابوں کی تعداد 2555 ہیں۔ بچوں کی کتابیں 230 ہیں۔ بلوچی میں ایک کتاب ہے۔ سندھی کتاب کی تعداد 56 ہے۔ فارسی میں 284 کتابیں دستیاب ہیں۔ عربی میں 13 کتب ہیں۔ ہندی میں 8 کتابیں ہیں۔ کل تعداد 36881 ہوئی ذخیرے میں سب سے زیادہ کتابیں اُردو میں اور دوسرے نمبر پر انگریزی میں ہیں۔ (16)
اُردو، انگریزی، سندھی اور فارسی رسائل عنوانی ترتیب سے رکھے گئے ہیں۔ اُردو میں رسائل بھی ہیں اور مجلات بھی۔ ایک بڑی تعداد ان رسائل کی الگ ذخیرہ کی گئی ہے جنھوں نے تاریخ، تنقید، اصناف، شخصیات وغیرہ پر خصوصی نمبر شائع کر کے محققین کے لیے آسانیاں پیدا کیں۔ (17)
اخباری تراشے سے مراد اخبار سے خبر تراش کر سادہ صفحے پر چسپاں کردی جاتی ہے۔ ایک معینہ وقفے کے تراشے مرتب کر کے جلد کروائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی 1983ء سے 1989ء تک جامعہ کراچی کے شیخ الجامعہ کے منصب پر فائز رہے۔ وہ تحقیق میں اخباری بیانات کی اہمیت سے واقف تھے اس لیے 1983ء سے 1987ء تک کے تراشے فائلوں کی صورت میں جلد کروائے جواب ذخیرۂ جمیل جالبی کی ملکیت ہے۔ یہ اخباری تراشے 75 جلدوں پر مشتمل ہیں۔ (18)
جمیل جالبی ریسرچ لائبریری میں موجود، ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے موجود ہیں جن کی کل تعداد 104 ہے۔ بیشتر مقالات وہ ہیں جن کے جمیل جالبی ممتحن رہے، ان مقالات پر ان کے ہاتھ سے لکھی گئی تحریر اور اصلاح موجود ہے۔ (19)
قدیم اور نادر کتب کا بھی ایک گوشہ موجود ہے جس میں تقریباً 500 کتابیں شامل ہیں۔ غالبیات کے تحت، غالب اُردو کتب، غالب فارسی کتب، غالب انگریزی کتب اور غالب پر رسائل کے خصوصی شمارے شامل ہیں۔ گوشہ سر سید احمد خان میں 144 کتابیں موجود ہیں۔ گوشہ اقبالیات میں، اُردو کی 660، فارسی کی 10، سندھی کی 1، اور انگریزی کی 74 کتابیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 12رسائل کے اقبال نمبر بھی شامل ہیں۔ (20) جمیل جالبی ریسرچ سینٹر میں موجود متفرق مخطوطات کی کل تعداد 190 ہے۔ اس میں اصل مخطوطات 72 ہیں باقی عکس ہیں۔ (21)
اس لائبریری میں جمیل جالبی کو لکھے گئے خطوط کا ذخیرہ بھی موجود ہے۔ جیسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک خاندان کے لوگوں کو لکھے گئے خطوط، دوسرے وہ خطوط جو مختلف شخصیات نے جمیل جالبی کو لکھے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کو ڈھائی ہزار لوگوں نے خطوط لکھے۔ اشاریہ خطوط کے مطابق ان خطوط کی تعداد 13783 ہے۔ جمیل جالبی ریسرچ لائبریری میں دستخط شدہ کتب کی تعداد 3979 ہے۔ لائبریری میں 37 ڈائریاں یا روزنامچے بھی موجود ہیں جس میں جمیل جالبی کی روزانہ مصروفیات کا احوال قلم بند کیا گیا ہے۔ (22)
جمیل جالبی ریسرچ لائبریری میں، 30 البم موجود ہیں۔ ان البموں کی تصاویر سے جمیل جالبی کی مکمل زندگی سامنے آجاتی ہے۔ ذخیرے میں ٹیپ ریکارڈ، سی ڈی اور فلاپی ڈسک میں ان کے مختلف خطبات، موجود ہیں۔ لائبریری میں وہ تمام اعزازات، یادگاری شیلڈ وغیرہ موجود ہیں جو جمیل جالبی کو مختلف مواقعوں پر ان کی خدمات کے عوض دیے گئے۔ جمیل جالبی ریسرچ لائبریری میں کئی قسم کے مضامین اور شعرا کے قلمی مسودات بھی موجود ہیں۔ ایسے مسودات کی تعداد 46 ہے۔
(23) 2019ء سے 2023ء کے دورانِ اس لائبریری سے 20 کتابیں اور ایک رسالہ شائع ہو چکا ہے۔ مجموعی طور پر ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری، جامعہ کراچی میں قائم ایک بہترین لائبریری ہے جو اُردو زبان و ادب کے محققین اور قارئین کو بہترین سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ لائبریری کی ممبر شپ کے لیے ممبر شپ فام ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود ہے جسے ڈاؤن لوڈ اور پرنٹ کرنے کے بعد ضابطے کی ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری کی ممبر شپ حاصل کی جا سکتی ہے جس کا دورانیہ ایک سال ہے۔ ایک سال بعد اس ممبر شپ کو ری نیو کروایا جاسکتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس لائبریری کی ممبر شپ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ امید ہے کہ یہ کتب خانہ اُردو زبان و لسان کی تحقق کے حوالے سے محققین کو نئی راہیں فراہم کرے گا۔
حواشی
1۔ ڈاکٹر نسیم فاطمہ، ”ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری“ ، جامعہ کراچی، (کراچی: ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری، جامعہ کراچی، 2023ء) ، سلسلۂ مطبوعات 21، ص1
2۔ خاور جمیل، ”ڈاکٹر جمیل جالبی عصری آگہی کا ایک تناظر“ ، (کراچی: ڈاکٹر جمیل جالبی کتب خانہ، جامعہ کراچی، 2020ء) ، (مرتب) سیّد معراج جامی، 11
3۔ ایضاً، ص11
4۔ ایضاً
5۔ ایضاً
6۔ ڈاکٹر نسیم فاطمہ، ”ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری“ ، ص1
7۔ ایضاً، ص2، 1
8۔ ایضاً، ص2
9۔ ایضاً، ص2
10۔ راشد اشرف، ”ایک چراغ اور مٹی میں رکھ دیا“ ، مشمولہ: ڈاکٹر جمیل جالبی (تعزیت نامے ) ، مرتب: ڈاکٹر نسیم فاطمہ، ڈاکٹر خاور جمیل (کراچی: ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری، 2019ء) ، ص53
11۔ ڈاکٹر نسیم فاطمہ، ”ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری“ ، جامعہ کراچی، ص5
12۔ ایضاً، ص2
13۔ ایضاً، ص3
14۔ ایضاً، ص4
15۔ ایضاً، ص7
16۔ ایضاً، ص8
17۔ ایضاً، ص9
18۔ ایضاً، ص11، 10
19۔ ایضاً، ص13، 12
20۔ ایضاً، ص23، 22
21۔ ایضاً، ص25
22۔ ایضاً، ص28، 27، 26، 25
23۔ ایضاً، ص30، 29، 28





