آدمی کہانی ہے!


کئی سال پہلے میں نے محمد سلیم الرحمن کے کیے ہوئے تراجم پر مشتمل کی ایک کتاب پڑھی تھی "اسیر ذہن”، مصطفیٰ شاہد کا ناول ”آدمی کہانی ہے“ پڑھ چکا تو رہ رہ کر اس کتاب کے دو مضامین یاد آتے رہے۔ پہلا جون میک مرے کا؛ “ حقیقت اور آزادی ”جب کہ دوسرا چیسلا میلوش کا مضمون، وہی جس کا عنوان کتاب کا نام ہو گیا ہے۔ اس دوسرے مضمون یعنی“ اسیر ذہن ”میں ایک غیر معمولی ناول “غیر تسکین پذیری” کا ذکر ہے۔ یہ ناول استا انسلا اگناسی و تکئے وچ کا ہے جو 1933ء میں دو حصوں میں شائع ہوا تھا۔

اس ناول کے مصنف کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ مصور، ادیب اور فلسفی تھا۔ اُس نے لیبنز کی واحدیت سے مشابہ ایک فلسفیانہ نظام تشکیل دیا تھا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 7 ستمبر 1939ء کو جب اسے یہ خبر ملی کہ سرخ فوج پولینڈ کی مشرقی سرحد پار کر چکی ہے تو اس نے ویرونل پی کر اور کلائیاں کاٹ کر خود کشی کر لی تھی۔ استا انسلا اگناسی و تکئے وچ کے ناول میں یہ سجھایا گیا ہے کہ یا تو آدمی کو روحانی اور جسمانی طور پر مر جانا چاہیے یا پھر مرتی بنگ گولیاں کھا کر از سر نو پیدا ہونا چاہیے۔

یہیں بتاتا چلوں کہ مرتی بنگ ایک منگول فلسفی تھا اور مرتی بنگ گولیاں کھانے والا اتنا پر سکون ہو جاتا کہ زندگی اور وجود کے مسائل اُسے سطحی لگتے تھے۔ مصطفیٰ شاہد کے ناول ”آدمی کہانی ہے“ کے کرداروں کی مرتی بنگ گولیوں تک رسائی نہ تھی تو کیا ہوا چرس تو ان کی دسترس میں ہے۔ یہ کردار اسے سگریٹ میں بھر کر کش لگاتے ہیں اور تسکین پاتے ہیں کہ ایسے میں ان سوالات کو قہقہوں میں اُڑایا جا سکتا تھا جو ایک ذہن پرست انسان کو الجھاتے تھے۔

مصطفیٰ شاہد کے ناول کا مرکزی کردار عرفان میری نظر میں بہت حد تک ذہن پرست ہے۔ وہ لوگوں، اشیا اور مناظر کو دیکھ کر لا تعلق گزر نہیں جاتا، ان سے ذہنی سطح پر الجھتا ہے ؛ بالکل یوں، جیسے کانٹوں بھری جھاڑیوں کے اندر سے گزرتے ہوئے کسی کا دامن ان میں الجھ سکتا ہے۔ جب دامن ایسے کانٹوں میں اُلجھ جائے تو بالعموم دو طرح کے رویے سامنے آتے ہیں؟ ایک یہ کہ دامن لیر لیر ہوتا ہے تو ہو جائے، زور لگا کر آگے بڑھ لیا جائے اور دوسرا یہ کہ مڑ کر دیکھا جائے اور دامن کو ایک ایک کانٹے سے الگ کرنے کی بابت نہ صرف سوچا جائے، دامن چھڑانے کو ممکنہ حیلہ بھی کیا جائے۔ عرفان اس دوسری قبیل کا ذہنی رویہ رکھتا ہے۔ تاہم عرفان کی زندگی جن لوگوں کے ساتھ جڑی ہوئی تھی اُن میں عادل جیسا دوست بھی ہے جس کی زندگی ہیروئن کے نشے نے تباہ کر دی ہے اور صادق جیسا دوست بھی جو اس کی سوچوں کو تحریک دیتا رہا اور حیوانی زندگی کی بندش سے اسے رہائی کی صورتیں سمجھاتا ہے۔

اور ہاں، یہیں یہ بھی بتاتا چلوں کہ استا انسلا اگناسی و تکئے وچ کے مذکورہ ناول میں شہوانی مناظر کا وحشیانہ بیان بھی ہے اور اس کے ہم عصر فلسفیوں پر مباحث بھی، مگر مصطفیٰ شاہد کے ناول میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ جنس کی بابت تو ناول نگار اس درجہ محتاط ہے کہ مواقع نکلنے پر پہلو بچا کر نکل جاتا ہے۔ مثلاً دیکھیے وہاں، جہاں عرفان اور نائبہ کمرے میں اکیلے ہوتے ہیں، اور نائبہ سگریٹ چھیننے کے لیے عرفان پر جھپٹتی ہے، کچھ یوں کہ اس کے گداز بدن کا بوجھ عرفان کے بدن پر ہے تو وہ یہاں بھی پھسلنے کی بجائے سٹپٹا کر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ خیر، سٹپٹا کر پیچھے ہٹنے والے عرفان اور اس کی محبوبہ نائبہ کی اس کہانی میں زندگی کے فلسفے سے جڑے ہوئے کئی سوال ہیں۔ جی اس زندگی سے جڑے ہوئے، جو محض گٹار بجانا سیکھ کر اور محبت کے گیت گا کر نہیں گزاری جا سکتی تھی۔ یہ زندگی بہ قول نائبہ بہت مشکل ہے۔ جی ہاں، زندگی مشکل ہے اور اس کا عرفان بھی۔

عرفان نے اس زندگی کو فلسفیانہ اور ذہنی سطح پر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ناول کے آغاز میں جہاں یہ مرکزی کردار باہر کے مناظر کو دیکھتا تھا اور اس کے اندر روشنی کے چھپا کے ہوتے تھے، وہیں زندگی ایک انسانی تجربے کی صورت میں ظہور کرتی ہے۔ یہی اس ناول کے بہترین حصے ہیں اور ایسی وجودی کیفیات کو گرفت میں لے آتے ہیں جن کا بیان شاید کسی اور طرح ممکن نہ ہو پاتا۔ ایسا محض آغاز میں ہوتا ہے آگے چل کر ناول نگار نے بہت سا بوجھ ایک ٹیکسی ڈرائیور صادق پر ڈال دیا ہے جو حافظ شیرزای کا دیوانہ تھا اور اس دیوانگی میں زندگی کی گہری بصیرت اس کا نصیب ہو گئی تھی۔

یہاں پہنچ کر محمد سلیم الرحمن کی کتاب کے دو میں سے اُس پہلے مضمون کے ذکر کا موقع بھی نکل آیا ہے جن دو مضامین کا اوپر حوالہ دے کر میں نے دوسرے پر بات کی اور پہلا بھول گیا تھا۔ جی، وہی جون میک مرے کا مضمون ”حقیقت اور آزادی“ ۔ اسی جون میک مرے کا محمد سلیم الرحمن کی کتاب میں ایک اور مضمون بھی ہے ”آزادی کی شرطیں“ ؛ مصطفی شاہد کے ناول سے ایک آدھ بات اس تیسرے مضمون کے حوالے سے۔ جب ناول نگار عرفان اور صادق کے باہمی مکالموں کے توسل سے جبر و قدر سے جڑے ہوئے کئی فلسفیانہ سوالات کے مقابل ہوتا ہے یا ہر اسرار آدمی کے مقابل بیٹھا زندگی کے ایسے تجربات بیان کر رہا ہوتا ہے جس میں کسی تاریک سرنگ سے نکل کر کھلی فضا میں پہنچنے کا ذہنی تجربہ بیان ہو رہا ہوتا ہے تو جون میک مرے کے وہ الفاظ میرے ذہن میں گونجنے لگتے ہیں جن میں اس نے انسانی آزادی کو ہم رشتہ افراد کی آزادی کے ساتھ مشروط کر کے دیکھا اور دکھایا ہے اور اصرار کے ساتھ کہا ہے کہ ”ہم میں سے ہر ایک کی آزادی دوسروں کی آزادی پر منحصر ہے۔

“ حیوانی سطح پر زندگی کا چلن مصطفیٰ شاہد کے ناول کے بنیادی کرداروں کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ کردار انسانی سطح پر زندگی کو معرض وجود میں لانے والے شعور اور اس شعور کی روشنی میں زندگی کی سمت جست لگانے پر ایقان رکھتے ہیں۔ یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ ذہنی آزادی جس پر انسانی زندگی کی آزادی کا انحصار ہے محض اضافی قدر ہے، یہ ناول اپنی آزادی پر اصرار کرتا ہے۔ اس کا مرکزی کردار عرفان اور اس مرکزی کردار کی ذہن سازی کا فریضہ سر انجام دینے والا صادق؛جبر کی صورت حال کے اندر رہ کر اپنی آزادی کی فضیلت کے گن گاتے ہیں تو اس لیے کہ جبر کا قیدی ہو کر انسانی زندگی محض حیوانی سطح پر ہی گزاری جا سکتی ہے۔

انسان مخلوقات میں افضل ہے اور اس کی انسانیت کی کہانی یہی ہے کہ یہ حیوانی زندگی کے تسلسل کو توڑتے ہوئے گہرے اور فلسفیانہ سوالوں کے مقابل ہوتا ہے۔ جون میک مرے نے اپنے مضمون ”حقیقت اور آزادی“ میں انسانی تجربے کو سمجھنے کی کوشش کو فلسفہ کہا ہے۔ یہ ناول بھی حقیقی انسانی زندگی کی کھوج میں ہے اور اپنے کرداروں کو ایک خاص انسانی صورت حال میں ڈال کر کئی فلسفیانہ سوالات اٹھاتا اور اپنے تئیں اُن کے جوابات دینے کا حیلہ کرتا ہے۔ جون میک مرے نے یہ بھی کہا تھا:

”ایسی نسلیں، بلکہ کبھی کبھار صدیاں بھی، ہوتی ہیں کہ جب زندگی کو سمجھنا ضروری نہیں ہوتا محض زندہ رہنا کافی ہوتا ہے لیکن ہمارا زمانہ ان میں سے نہیں ہے۔ ہمارے لیے لازم ہے کہ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔“

” آدمی کہانی ہے“ ہمارے زمانے کی کہانی ہے۔ ہمارے زمانے کی، اور اس آدمی کی جس کے لیے زندگی محض کامیابی اور ناکامی والا کھیل نہیں انتہائی سنگین معاملہ ہے۔

Facebook Comments HS