کارواں بک سینٹر سے شنگریلا چوک تک: تصویر کہانی (11)

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری)
صدر بازار ملتان میں محبوب بیکری والے چوک میں جہاں کبھی کارواں بک سینٹر ہوتا تھا اس کے اوپر دو یا تین منزلہ فلیٹ ہیں۔ ان فلیٹوں میں 1973۔74 کے زمانے میں ہم اکثر جاتے تھے۔ فلیٹوں پر جانے کا راستہ کارواں بک سینٹر کی عقبی گلی سے تھا جہاں اب منیر ٹی سٹال ہے اور رات کو کسی لمحے جب چائے پینے کو جی چاہے تو ہم اسی ٹی سٹال کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں سےایک فلیٹ میں ہمارا کلاس فیلو اکمل رہتا تھا۔ اکمل کا ایک بھائی فیصل بھی ایف جی پبلک سکول میں ہم سے جونیئر تھا۔ ان کی چار بہنیں بھی اسی سکول میں پڑھتی تھیں۔ سکول کے علاوہ بھی ہمارا ان کے ساتھ ایک تعلق تھا اور وہ ان کی والدہ آنٹی فریدہ کی وجہ سے تھا۔ آنٹی فریدہ بہت نیک خاتون تھیں۔ ان کی میری والدہ سے دوستی تھی۔ ہمارے محلے میں کوٹھی والی دادی اماں کے گھر پر خواتین کے درس کی ہفتہ وار محفل ہوتی تھیں (جن کا ذکر میں ایک الگ مضمون میں تفصیل کے ساتھ کر چکا ہوں)۔ آنٹی فریدہ اور میری والدہ درس کی اس محفل میں باقاعدگی سے شرکت کرتی تھیں۔ ہم سکول کے کچھ دوست جب اکمل سے ملنے ان کے گھر جاتے تو آنٹی ہمیں بہت سی مٹھائیاں کھلاتی تھیں کہ فیروز پور سے ہجرت کر کے آنے والے اس خاندان کے بہت سے افراد مٹھائی کا کا روبار کرتے تھے اور ملتان میں فیروز پوری مٹھائی اسی طرح مقبول تھی جیسے آج کل ریواڑی کی مٹھائی مشہور ہے۔ ہم مٹھائی بھی کھاتے اور ان کے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کی نشریات شروع ہونے کا انتظار بھی کرتے جو اس زمانے میں پانچ بجے شام ”نورِ بصیرت“ سے شروع ہوتی تھیں۔ نورِ بصیرت سے زیادہ ہمیں دلدار پرویز بھٹی کے پروگرام ” ٹاکرا“ کا انتظار ہوتا تھا جو کوئز پروگرام تو تھا ہی لیکن دلدار پرویز بھٹی کی ہنستی مسکراتی میزبانی کسی کو بھی اکتاہٹ کا شکار نہ ہونے دیتی تھی۔
وقت کا پہیہ آگے بڑھا اور اکمل کے والد شیخ عبدالحمید نے 1975 میں شیر شاہ روڈ پر گلڈ ہوٹل کے سامنے حمید موٹرز کے نام سے کاروں کا شو روم کھول لیا۔ یہ ملتان میں کاروں کے ابتدائی شو رومز میں سے ایک تھا۔ بعد ازاں حمید صاحب نے کچھ اور شورومز بنائے اور نئے کاروبار بھی شروع کیے جن میں سے ایک بڑا منصوبہ ملتان میں ہالیڈے ان ہوٹل کی تعمیر تھی۔ یہ ملتان کا پہلا تین ستارہ ہوٹل تھا جس کی تعمیر کے بعد ملتان میں کھیلوں، شوبز اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئی اور کارپوریٹ سیکٹر پروان چڑھا۔ یہ ہوٹل اب بھی رمادا کے نام سے موجود ہے اور اکمل کے چھوٹے بھائی فیصل کی نگرانی میں کام کر رہا ہے۔
حمید صاحب نے شیر شاہ روڈ پر جہاں کاروں کا پہلا شو روم قائم کیا تھا، اسی جگہ ایک پلازہ بھی تعمیر ہوا۔ اس پلازے کے ساتھ بھی ہماری بہت سی یادیں وابستہ ہیں کہ اسی میں 1980 کے عشرے میں پاکستان نیشنل سینٹر ہوتا تھا جہاں ہم خالد خلیل، سے ملنے جاتے تھے اور اس کی لائبریری میں بیٹھ کر کتابیں پڑھتے تھے۔ اسلم انصاری صاحب کے بھتیجے اور امید ملتانی مرحوم کے صاحب زادے سلیم جہانگیر اور ظہور بخاری بھی نیشنل سینٹر سے منسلک تھے۔ 1983 میں وہاں ملتان آرٹس کونسل کا آڈیٹوریم بھی موجود تھا۔ یہ آڈیٹوریم 1990کے عشرے تک وہیں موجود تھا۔ آرٹس کونسل میں وہ ڈرامے کے عروج کا زمانہ تھا۔ قوی خان، عمر شریف، معین اختر، عارفہ صدیقی، بندیا، جمیل فخری، سنگیتا، افضال، شیبا حسن اور حامد رانا سمیت لاہور اور کراچی کے بہت سے اداکاروں کے ڈرامے ہم نے اس زمانے میں ملتان آرٹس کونسل کے اسی آڈیٹوریم میں دیکھے تھے۔ ملتان کے فنکاروں میں اس زمانے میں سہیل اصغر، زاہد سلیم، قیصر نقوی، رضوان شہزاد کا طوطی بولتا تھا۔ آغا ماجد، نواز انجم اور بہت سے نئے لوگ اپنے کیریر کا آغاز کر رہے تھے اس آڈیٹوریم کی تزئین و آرائش میں ہدایت کارشوکت زاہدی اور صفدر عباس نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ شوکت زاہدی بعد ازاں وسط ایشیائی ریاستوں کی جانب چلے گئے اور پھر ایک حادثے میں ان کا انتقال ہو گیا۔ صفدر عباس ان دنوں لندن میں مقیم ہیں۔
معروف صحافی اور ملتان کے فنکاروں کو دنیا بھر میں متعارف کرانے والے ناصر محمود شیخ کی جوانی بھی اس زمانے میں دیوانی ہوا کرتی تھی۔ اس مضمون کی تکمیل کے لیے میں نے ان سے بھی رابطہ کیا۔ اور بہت سی یادوں کو ان کی مدد سے اس مضمون کا حصہ بنایا۔ اس زمانے کے ڈائریکٹروں میں زوار بلوچ آج بھی فن کی خدمت میں مصروف ہیں۔ قیصر ملک ملتانی اب ہم میں نہیں رہے۔ شاہد راحیل خان اب ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مظہر احسن کینیڈا میں ہیں۔ یونس سہیل اسلام آباد کو مسکن بنا چکے۔ امتیاز تاج اور حامد سعید ملک اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ بات کارواں بک سینٹر والے فلیٹوں سے شروع ہوئی اور آرٹس کونسل تک آ گئی۔
لیکن میں آپ کو دوبارہ اسی علاقے میں لے جانا چاہتا ہوں جہاں میرا بچپن اور لڑکپن یادوں کی صورت میں میری طرح بکھرا پڑا ہے۔ امپیریل سینما اب وہاں نہیں رہا۔ وہاں جوتوں کی دکان بن چکی ہے۔ امپیریل چوک ہمارا سکول کے زمانے میں ہمارا علی الصبح مسکن ہوتا تھا۔ سینما کا گیٹ لوہے کی گرل(Grill) سے بند ہوتا تھا صبح اخبار فروش سائیکل روکے بغیر وہاں اخبار پھینکتا اور ہم اس گرل کے اوپر سے کود کر وہ اخبار اٹھا لیا کرتے تھے اور پھر پڑھنے کے بعد وہیں دوبارہ پھینک دیتے تھے۔ یہ 1974۔ 75 کی باتیں ہیں۔
اسی چوک پر پانی والی ٹینکی اب بھی موجود ہے جس کے ساتھ محکمہ انہار کی کوٹھی میں میرا کلاس فیلو حبیب اللہ رہتا تھا۔ اس چوراہے سے واپس شنگریلا چوک کی جانب چلیں تو بائیں ہاتھ قائد اعظم شاپنگ سینٹر ہے، یہاں خالی میدان تھا۔ پھر شاپنگ سینٹر بنا تو 1970 کے عشرے میں دبئی کے حکمران شیخ راشد بن المکتوم جنرل ضیاء کے ہمراہ اس کے افتتاح کے لیے ملتان آئے۔ اسی زمانے میں کمہار منڈی کے راستے وہاڑی چوک جانے والی سڑک کا نام شاہراہ راشد رکھا گیا تھا اور یہ سڑک آج بھی اسی نام سے موجود ہے۔
قائد اعظم شاپنگ سینٹر ہی میں بہت عرصہ تک کتابوں کی دکان ”بک لینڈ“ موجود تھی جو اب ختم ہو گئی۔ قریب ہی منیر ٹی سٹال کے پاس سیڑھیاں کیفے عافیہ میں جاتی تھیں۔ عزیز بھٹی شہید سے موسوم اسی سڑک پر کلفٹن فوٹو سٹوڈیوز تھا۔ جہاں آگے شنگریلا ہوٹل تھا جو اب اولڈ شنگریلا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ پہلا شنگریلا ہوٹل تھا جس کی بعد میں کئی برانچیں قائم ہوئیں۔ اسی جگہ ملتان میں پہلی کون آئس کریم متعارف ہوئی جو اب بھی وہیں فروخت ہوتی ہے (اس مضمون کے ساتھ اسی شنگریلا کی تصویر ہے جو اب اولڈ شنگریلا کہلاتا ہے) اور اس سے آگے جہاں یہ سڑک ختم ہوتی ہے کونے میں گھاس کے ایک قطعے میں بیٹھ کر ہم چائے پیتے تھے اور اس جگہ کو گوگو سینک بار کہتے تھے۔ یہ صرف ایک سڑک کا احوال ہے۔ باقی کہانی پھر سہی۔


