بینظیر بھٹو شہید کے نام ان کے جانثاروں کا نوحہ


ہماری زندگیوں سے زیادہ عزیز ہستی
محترمہ بینظیر بھٹو شہید

امید ہے آپ جنت الفردوس کے باغِ ارم میں، جنت الفردوس میں عورتوں کی سردار دخترِ رحمت للعالمین محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ و سلم اُم الحسنین حضرت فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ عنہ اور بی بی زینب بنت علی المرتضی علیہ السلام جیسی عظیم المرتبت ہستیوں کی صحبت میں ہوں گی۔

بی بی ہم آپ کے جانثاران آپ کے جانے کے بعد لاوارث ہو گئے ہیں، گو کہ آپ کے بہادر ہمسفر اور شریک حیات محترم آصف علی زرداری نے آپ کی شہادت کے بعد فروری 2008 میں بننے والی پیپلز پارٹی حکومت میں پارٹی کارکنوں اور پاکستان کو ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگا کر نہ صرف سنبھالنے کی کوشش کی بلکہ پاکستان کی وحدانیت، سالمیت اور استحکام کو بھی برقرار رکھنے کے کامیاب اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے نہ صرف روزگار کے بے شمار مواقع فراہم کیے بلکہ پچھلے ادوار میں نوکری سے فارغ کیے گئے ہزاروں نوجوانوں کو واپس اپنی ملازمتوں پہ بحال بھی کیا۔

سندھ میں پارٹی کے انتہائی مخلص اور سینیئر ترین کارکن سائیں قائم علی شاہ کو وزیر اعلیٰ مقرر کیا جنہوں نے کارکنان سے وفا نبھائی اور کارکنان کو ایک بڑے بزرگ کی طرح سنبھالا۔

شہید رانی 2013 کے بعد بننے والی سندھ حکومت جو آج مسلسل چوتھی بار اقتدار میں آئی ہے، آپ کے عشاق اور عقیدت مندوں، آپ کے جانثاروں اور جیالوں کی مرہون منت اقتدار میں آئی ہے مگر پچھلے دس سالوں سے آپ کے جیالے کارکن اور سندھ کی عوام نہ صرف روزگار سے محروم ہیں بلکہ ان سہولیات سے بھی محروم ہیں جو ان کا ان بنیادی انسانی حق ہے۔ گو کہ حکومت سندھ نے صحت کے شعبے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے مگر دیگر اہم شعبے نہ صرف زوال پذیر ہوئے بلکہ یہ کہیں کہ انتہائی نگہداشت کی حالت میں ہیں تو غلط نہ ہو گا۔

شہید رانی آپ کی شہادت کے سانحے کے بعد منعقد ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور خاصی نشستیں حاصل کر کے سندھ، بلوچستان میں اپنی جبکہ وفاق سمیت خیبرپختونخوا میں اتحادی حکومت بنائی تھی۔ مگر اس کے بعد سندھ تو آج بھی آپ کے عشق میں مبتلا ہے آپ کے خون کے ساتھ وفا نبھا رہا ہے مگر دیگر صوبوں میں پیپلز پارٹی کی حالت بالکل کنونشن مسلم لیگ جیسی ہو چکی ہے۔

قیادت چاپلوسوں چمچوں اور درباریوں میں گھِر چکی ہے، دوسرے درجے کی قیادت اپنے اپنے صوبوں میں باہمی اختلافات اور گروپنگ کا شکار اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے اپنے گرد اناؤں کے خول چڑھائے ہوئے ہیں اور تنظیم کو مکمل طور پہ اراکینِ اسمبلی، حکومت سندھ اور طاقتور وزراء کے طابع کر دیا گیا ہے۔ معاملات یہاں تک خراب ہو چکے ہیں کہ طاقتور ترین وزراء اور اراکینِ اسمبلی قیادت کے فیصلے تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور قیادت بھی پراسرار طور پہ ان طاقتوں کے آگے بے بس و خاموش تماشائی بنی تنظیم کی درگت بنتے دیکھ رہی ہے۔

شہید قائد ہم کو آج یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں کہ یونین کونسل کا انتخاب نہ جیتنے کی اوقات رکھنے والے اہم وزارتوں پہ براجمان ہو کر ہمارا منہ چڑاتے ہیں۔ ہر ادارہ کرپشن کے کینسر میں مبتلا ہو چکا ہے۔ ایک وزیر تو ایسا ہے جو اپنے گفتار میں اپنی کالم نگاری میں پیپلز پارٹی، شہید بھٹو اور آپ کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوتا رہا۔ وہ سندھ کی علیحدگی پسند تنظیم کے سیاسی فکر و فلسفے کا پیروکار ہمیشہ اخبارات میں آپ اور شہید بابا کے لیے نازیبا زبان استعمال کرتا رہا اور آج وہی صوبے کے طاقتور وزراء میں شمار ہوتا ہے۔

صوبے کا وزیر اعلیٰ ایک ایسے دلیر اور برجستہ سابق وزیر اعلیٰ کا بیٹا ہے جس کی کارکن نوازی اور سندھ نوازی کے ہم معترف ہیں مگر اس کے بیٹے نے پچھلے آٹھ نو سالوں میں وزارتِ اعلیٰ پہ بیٹھ کر صرف آپ کے جانثاروں کی حق تلفی کی ہے اور اداروں میں بدترین کرپشن کی تاریخ رقم کی ہے۔ سندھ حکومت میں اقربا پروری عروج پذیر ہے اور جیالا زوال پذیر ہے۔

سندھ کابینہ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی تنظیم کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اب تنظیم کی حکومتی معاملات میں مزید کوئی ضرورت نہیں ہے۔ صوبے میں امن امان ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار سے بھی بدترین حالت میں ہے۔ کوئی دن کوئی شام ایسی نہیں گزرتی جب سندھ کا کوئی معصوم شہری ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغوا نہیں ہوتا یا پھر پکے میں پولیس کے ہاتھوں رسوا نہیں ہوتا۔

بی بی آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے مگر کیا کریں ہم آپ کے جانثار ہونے کے ساتھ ساتھ انسان بھی ہیں۔ ہمارے خاندان ہیں بال بچے ہیں۔ ہمیں بھی بھوک لگتی ہے، ہماری بھی بنیادی ضروریات ہیں۔ ہمارے بچے بھی اچھی تعلیم، اچھی صحت اور پُرسکون زندگی چاہتے ہیں جس کا خواب ہمیشہ آپ نے دیکھا تھا۔ بھٹو شہید پیپلز پارٹی ملک کے پسے ہوئے محکوم طبقات کے لیے بنائی تھی مگر اسی پیپلز پارٹی پہ طاقتور اور استحصالی طبقات قابض ہیں، سونے پہ سہاگا یہ کہ آپ کے لخت جگر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی مفاد پرستوں اور درباریوں کے نرغے میں ہیں۔ کارکنان سے لاتعلق ہو چکے ہیں۔ کارکن سراپا احتجاج ہیں مگر ان کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔

بلاول ہاؤس میں چار چار ہزار پہ ملازمتیں کرنے اور آپ کے جانثاروں کی جی حضوری کرنے والے اب کروڑوں کی جائیدادوں کے مالک بن کر ان ہی جیالوں پہ حکم چلاتے ہیں جن سے کبھی سگریٹوں کے پیکٹ یا پھر سو دو سو کی بخشش مانگا کرتے تھے۔ آپ کا جیالا، آپ کا پروانہ جانثار آج زخم زخم ہے۔ روزی روٹی کے لیے دربدر ہے اور کوئی پرسانِ حال نہیں۔

آپ کو یہ سب حالات بتانے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ آپ کے عشاق کے گڑھ سندھ میں بھی دراڑیں پڑ چکی ہیں، شہیدوں کا یہ عظیم ورثہ پیپلز پارٹی لیروں لیر ہو رہا ہے اور آپ کو اس کی جانکاری دینا ضروری تھا تاکہ روزِ محشر ان لوگوں کو گریبانوں سے پگڑ کر پوچھ سکیں کہ انہوں نے آپ کے جانے کے بعد آپ کے جانثاروں کے ساتھ ایسا جانوروں جیسا، سوتیلی ماں سے بھی بدتر سلوک کیوں کیا۔ کیا ان کا قصور صرف یہ تھا کہ یہ میرے جانثار تھے۔

ہمیں بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ موجودہ قیادت کو آپ کے جانثاروں کی نہیں بلکہ درباریوں، خوشامدیوں، چمچوں، قصیدہ گوئی کرنے والے ردالیوں کی ضرورت ہے۔ قیادت ہمیں لاتیں مار کر پیپلز پارٹی سے باہر دھکیل رہی ہے مگر ہم ڈھیٹ بنے اپنی ماں کے ساتھ چمٹے کھڑے ہیں۔ ہم یہ نوحہ آپ سامنے رکھتے ہوئے صرف یہ چاہتے ہیں کہ روزِ محشر آپ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں کہ ہم نے آپ کو حالات سے آگاہ نہیں کیا۔

اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے، آپ کی مغفرت فرمائے، آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کو جنت الفردوس میں باغِ ارم عطا فرمائے آمین

Facebook Comments HS