چینی ”سب ہیومن“ ہیں، احمد جاوید کا انکشاف
ایک پوڈ کاسٹ نظروں سے گزری جس میں احمد جاوید اس بات کا انکشاف کر رہے ہیں ” کہ چینی وغیرہ تو سب ہیومن ہیں“
پوچھا گیا کہ کیا اخلاقی معیار یا برتری کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی؟
جواب میں فرمایا بالکل نہیں۔ پھر پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک سب ہیومن سے کیا مراد ہے؟ فرمانے لگے
” جو غذائی ذوق سے ناآشنا ہوں یعنی جو“ بائیو ”معیار پر پورے نہ اترتے ہوں“
اگر اسی کسوٹی پر ہیومن اور سب ہیومن کے فیصلے ہونے ہیں اور اسی فہم کو اولین شرط کے طور پر تسلیم کر لیا جائے تو دوسرے مذاہب کے لوگ بھی ہمارے متعلق یہی رائے قائم کر سکتے ہیں کہ آپ گائے، بکری اور بھینس کھاتے ہیں تو اس بنیاد پر آپ غذائی ذوق نہیں رکھتے اور سب ہیومن کی کیٹیگری میں آتے ہیں تو پھر ہمارا موقف کیا ہو گا؟
ظاہر ہے رائے تو کوئی بھی قائم کر سکتا ہے، ہم کسی سے اس کا یہ حق تو نہیں چھین سکتے نا۔ احمد جاوید ہماری نظر میں بہت قابل احترام ہیں لیکن اس طرح کی سطحی سی رائے قائم کر کے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ اندر سے کٹھ ملا ہی ہیں، وہ جتنے مرضی جدیدیت کے حوالے دیں لیں یا مغربی مفکرین کی تعریف کر لیں اور فلسفیانہ شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگریزی کی موٹی موٹی اصطلاحات کا استعمال کر لیں لیکن وہ کبھی بھی روایتی جکڑ بندیوں سے اپنا دامن نہیں چھڑوا سکتے۔ اگرچہ خاصے صاحب مطالعہ، باذوق اور کھلے ڈھلے سے ذہن کے مالک ہیں اور مغربی مفکرین کو بھی خوب پڑھ رکھا ہے، باریکیوں کو بھی اچھے سے سمجھتے ہیں لیکن اکثر اٹک جاتے ہیں اور فلسفیانہ جلیبیاں بناتے ہوئے اسی مقام پر آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں جہاں صدیوں سے ہماری روایتی فکر اٹکی ہوئی ہے۔
جدیدیت کو قبول بھی کرتے ہیں اور خوفزدہ بھی رہتے ہیں، عقل کو امام بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن ذرا ہچکچاہٹ و تذبذب کے ساتھ۔
عقل کو فوقیت بھی دیتے ہیں اور ساتھ نتائج کا خوف بھی ذہن پر سوار کیے رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ فکری جکڑ بندیوں یا محتاط روی سے آپ کب تک اپنی نوجوان نسل کو باندھ کر رکھ سکتے ہیں؟
کیا شعور کو کسی خاص دڑبے میں بند کر کے طاق نسیاں پر رکھا جا سکتا ہے تاکہ آ نے والی نسلیں اس کی پہنچ سے دور رہیں؟
آپ کب تک نوجوانوں کو اپنی ثقیل، طول اور پیچیدہ گوئی سے اپنے حلقہ مریدین میں بٹھائے رکھنے پر مجبور کر سکتے ہیں؟
کیونکہ علم اب کلک بٹن میں سمٹ چکا ہے اور وہ زمانہ اب قصہ پارینہ ہوا جب لوگ دو زانوں اور نظریں جھکائے ”مانو لاگ“ سنا کرتے تھے اور اختتام پر دست بوسی بھی کیا کرتے تھے اور سوال پوچھنے کی جسارت تو کوئی بھی نہیں کر سکتا تھا۔
ایک پٹھان کو مولانا طارق جمیل کا بیان سنتے ہوئے روتے دیکھا تو ساتھ والے نے پوچھ ہی لیا
کہ میاں اتنا رونے دھونے کا سبب کیا ہے؟
خان صاحب فرمانے لگے ” ہم اس بندے سے بہت پیار کرتا ہے، جب یہ بولتا ہے تو ہمیں بہت اچھا لگتا ہے، اسی وجہ سے ہم اس کا عاشق ہو گیا ہے“
سوال کرنے والے نے پوچھا کہ کیا تمہیں اس کی زبان بھی سمجھ میں آتی ہے؟
تو جھٹ سے بولا کہ اس کی بات یا زبان تو مجھے سمجھ میں نہیں آتا پر لطف بہت آتا ہے۔ احمد جاوید بھی اپنے تئیں لفظی خود لذتی کا شکار ہیں اور ”مڈھلی“ بات کو لفظ زنی کی نذر کر دیتے ہیں کہ کہیں سننے والے سمجھ نا آ جائے۔
سننے والوں کو سرور تو بہت آتا ہے اور وہ ان کی علمیت اور پیچیدہ لفاظی کے بوجھ تلے دب سے جاتے ہیں لیکن ان کی گفتگو میں سے کچھ بھی کشید یا استنباط نہیں کر پاتے۔
اسی پوڈ کاسٹ کے نیچے آپ کو درجنوں ایسے کمنٹس ملیں گے جس میں لوگ ان کی ثقیل سی گفتگو کا رونا رو رہے ہیں اور پوڈ کاسٹ کرنے والوں سے التجا کر رہے ہیں کہ کم از کم انگریزی سب ٹائٹل کا بندوبست ہی کر لیتے ہیں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہوتی۔
جب یہ پوڈ کاسٹ نظروں سے گزری تو کافی عرصہ بعد دل بڑا کرتے ہوئے سننے کا فیصلہ کیا تو یقین مانیں چند منٹ تک ہی سن پایا۔
ایک دو بار وقفے وقفے سے سننے کی کوشش کی لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پایا۔
کچھ پوائنٹس آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں تاکہ آپ بھی مستفید ہو لیں۔
فرماتے ہیں
کہ اب ڈی ہیومنائزیشن ہو رہی ہے، انسان کی جگہ روبوٹ نے لے لی ہے جو ہم سے کہیں زیادہ جانتے ہیں، اب بھلا وہ مذہب کی تبلیغ تھوڑا کریں گے۔
عقل دھوکہ دیتی ہے جبکہ عشق منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔
عقل بھٹکائے رکھتی ہے جبکہ عشق سپر سونک کی سی رفتار کے ساتھ حق تک لے جاتا ہے۔
عشق کے آگے عقل کی حیثیت غیر ضروری سی ہو جاتی ہے۔ چینی لوگ غذائی ذوق نا رکھنے کی وجہ سے سب ہیومن ہیں۔
یہ احمد جاوید کی گفتگو کے چند اہم پوائنٹس ہیں، اب ان نکات میں سے کیا کشید کیا جا سکتا ہے؟
آج کی جدید دنیا میں اور ہمہ گیریت کے تناظر میں ہمارے موقف یا ماحصل کی کیا علمی حیثیت ہوگی؟
خوردبین، دوربین سے شروع ہونے والا سفر آج انسانی جسم کے کسی بھی حصہ میں آلات اور کیمرہ کے ذریعے سے جھانک لینے کے دور میں داخل ہو چکا ہے اور انسانی عقل ابھی بھی بہت سارے ناممکنات کا کھوج لگانے کے سفر پر رواں دواں ہے۔
سوچتا ہوں ان سب کامیابیوں کے آگے ہماری فلسفیانہ موشگافیوں کی کیا حیثیت ہوگی؟
مشاہدے کے سامنے یقین کی کیا نوعیت بنے گی؟
تجربات اور ٹھوس شواہد کے آگے لایعنی یا اٹکل پچویانہ زائچوں کی کیا حیثیت ہوگی؟
عقل اور امپیرسزم کے سامنے وقتی سی لفاظی یا شعبدہ بازیوں کی کیا حیثیت؟
ننگے حقائق کے سامنے خیالی سی طول کلامی کی کیا حیثیت؟
احمد جاوید کے مطابق علم کی حتمی حد ایمانیات اور پختہ یقین پر ٹکی ہوئی ہے اور دوسری طرف وہ ہیگل، دانتے، کانٹ کارل مارکس اور ڈیوڈ ہیوم کی مثالیں بھی جڑ دیتے ہیں اور ان کی فکر سے خاصے متاثر بھی نظر آتے ہیں لیکن عقل پر روایتی بلنکرز چڑھا کر عقلی دائرہ کار کو محدود بھی کرنا چاہتے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے
حد علم کیا ہوتی ہے؟
کیا عقل کوئی آزادانہ اینٹیٹی ہے یا محض ایک محکوم جوہر؟
کیا عقل کے لیے کسی بندوبست کے آگے سرنگوں ہونا ضروری ہوتا ہے؟
کیا مسلمات عقل اٹل ہوتے ہیں یا سمے کے حساب سے بدلتے رہتے ہیں؟
کیا عقل کے حدود و قیود فکس کیے جا سکتے ہیں؟
اب جاوید صاحب عقل کے گرد جو دائرے کھینچتے ہیں ان کو آج کے تناظر میں پرکھنے کا پیمانہ کیا ہو سکتا ہے؟
تصوف و عشق کی باتیں سننے میں تو بہت بھلی لگتی ہیں لیکن سننے کے بعد واہ واہ کرنے اور سر دھننے کے علاوہ ان کی افادیت کیا ہے؟
معذرت کے ساتھ احمد جاوید کی گفتگو سے کچھ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ کسمپرسی اور بے بسی کا مرثیہ پڑھ رہے ہوں، عقل والے تو اسی وصف کے ذریعے سے انسانی دکھوں کو سکھوں میں بدلنے میں مصروف عمل ہیں جبکہ ہمارے دانشور لفظی جگالیوں میں لگے ہوئے ہیں۔
21 ویں صدی میں ہمارے مفکرین عقل و شعور اور عشق کی لفظی وضاحت فرما رہے ہیں جبکہ دنیا عقل کو کلیدی جوہر تسلیم کرتے ہوئے روز بروز آگے بڑھ رہی ہے۔
مغرب اگر انسانوں کو ڈی ہیومنائز کر رہا ہے تو آپ کو اپنے لوگوں کو ہیومنائز کرنے سے کس نے روک رکھا ہے؟
ہمت کر کے دنیا کو ایک ایسا رول ماڈل تو پیش کر دیں جسے دیکھتے ہی مغرب کے دماغ کی چولیں ہل جائیں اور وہ انگشت بدنداں ہو جائیں۔
ویسے ہم تو یہ کام شروع دن سے کرتے چلے آرہے ہیں لیکن کوئی ایسا نادر ماڈل پیش نہیں کر سکے جس پر دنیا رشک کرتی۔
ہم تو عشق اور عقل کی بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں اور اپنے مستقبل کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں
” کہ عقل گمراہ کرتی ہے“
ایک طرح سے ہم اپنی نوجوان نسل کو عقل کا آزادانہ استعمال کرنے سے روک رہے ہیں۔
ہم اپنی نسل کو ”تلقین بابوں“ کا دست نگر بنا کے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ روحانی بابوں کی پیری مریدی بھی چلتی رہے اور مشروط قسم کے شعور کا زمزم بھی بہتا رہے۔


