پہلی غلطی دوسری غلطی


چھوٹا بیٹا ہارون علی محض سوا تین سال کا ہے مگر باتیں طوطے کی طرح کرتا ہے۔ اس کی معصوم سی باتیں سادہ ہونے کے باوجود بارہا سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ پچھلے دنوں کہنے لگا کہ چھوٹے ماموں بوڑھے ہیں۔ بڑے ماموں بوڑھے نہیں ہیں۔ مزید سوالوں پر پتہ چلا کہ وہ کئی جوانوں کو بوڑھے کہہ رہا ہے مگر کئی بوڑھوں کو بوڑھا ماننے سے انکاری ہے۔ اگرچہ مجھے اس وقت بہت خوشی ہوئی جب اس نے میرے بارے بتایا کہ بابا بوڑھے نہیں ہیں۔

چونکہ بچے جھوٹ نہیں بولتے اور اپنے سے بھی بات نہیں بنا رہے ہوتے تو مجھے تجسس ہوا کہ یہ ایسا کیوں سمجھ رہا ہے۔ میں نے کریدتے ہوئے اس سے مزید لوگوں بارے سوال کیے اور غور و فکر جاری رکھی۔ بالآخر ایک آدھ دن میں میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ جس کسی کو بھی بیٹے نے حقہ پیتے دیکھا ہے اسے وہ بوڑھا سمجھتا ہے اور جو کوئی حقہ نہیں پیتا وہ جتنا بھی عمر رسیدہ ہے اس کے نزدیک وہ بوڑھا نہیں ہے۔

ہم سب جو بھی بات کرتے ہیں اس کے پیچھے ایک اور بات ہوتی ہے جو اصل بات ہوتی ہے اور ہماری بات کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر یہ پہلی اور بنیادی بات درست نہ ہو گی تو اس بات کی بنا پر استوار کیا گیا سارا مقدمہ، نظریہ یا گفتگو غلط ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بنیادی تعلیم جو سب سے پہلے بچے کو دی جاتی ہے وہ بہت اہم ہوتی ہے کہ اس کی بنیاد پر ہی پوری شخصیت، نظریہ اور قومی کردار استوار ہوتا ہے۔ اگر اس بنیادی مذہبی، معاشرتی یا قومی تعلیمی عمل میں کسی تعصب، تفاخر، برتری یا کمتری، کے احساس کو روا رکھا جائے گا تو سارا معاشرہ اس تعصب کا شکار ہو جائے گا اور اس کے قومی سطح پر نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

ہمارے ملک میں یہ ایک نصابی نظریہ رائج ہے کہ مغربی ممالک کے لوگوں کی اخلاقی اقدار بہت پست ہیں جبکہ ہماری اقدار بہت بلند ہیں۔ اگر اس نظریہ پر غور کریں تو اس کی بنیاد صرف دو باتوں یعنی جنسی آزادی اور لباس کو ہی بنایا گیا۔ درحقیقت اخلاق کا اصل نظریہ اس دو نکاتی بنیاد سے بہت زیادہ وسعت کا حامل ہے اور اس میں کسی بھی معاشرے کی تمام اقدار شامل ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر رشوت ستانی، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، اقتدار پر ناجائز قبضہ، سفارش کا ناجائز استعمال، امتحانوں میں نقل کرنا، عورتوں کی بے حرمتی کرنا، چھوٹے بچوں سے مشقت کروانا، لوگوں کو بنیادی انسانی آزادیوں سے محروم رکھنا، قانون شکنی کرنا، اقلیتوں پر ظلم کرنا، عورتوں کو جائیداد اور یکساں مواقع سے محروم کرنا وغیرہ۔ یوں ان تمام نکات کو اخلاقیات کی محدود تعریف سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ نکات اسلامی معاشرت سمیت کسی بھی معاشرے میں اخلاقیات کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں مگر ہمارا دو نکات پر بہت زیادہ فوکس جبکہ دیگر کو بنیاد ہی نہیں بنایا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم اپنے تفاخر اور عصبیت کے بوجھ تلے سسکتے ہوئے آج بھی عورت کے کپڑوں اور روز افزوں بڑھتی فحاشی کے پیچھے ہی لٹھ لے کر پڑے ہوئے ہیں جبکہ معاشرتی برتری پر قائم ہمارا سارا مقدمہ زمین بوس ہو چکا ہے۔ کیا اخلاقیات کی اس وسیع تعریف کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم آج بھی اس بات پر قائم ہیں کہ مغربی ممالک کی مجموعی اخلاقی اقدار ہم سے پست ہیں؟

اگر آپ کا دل گواہی نہیں دے رہا تو ایک کروڑ سے زائد بیرون ملک پاکستانیوں میں سے کسی ایک سے یہی سوال پوچھ کر دیکھ لیں۔ مجھے امید ہے اس کا تسلی بخش جواب مل جائے گا۔ اگر آپ ان کے جواب سے مطمئن ہوئے تو آپ کو اس بات پر بھی غور کرنا ہو گا کہ ہماری معاشرت میں آج بھی بہت کچھ ایسا ہو رہا ہے جس کا بنیادی مقدمہ درست نہیں ہے اور بنیادی مقدمے کی یہ غلطی پچھلی غلطیوں کی طرح ہمیں کل پھر تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کر دے گی۔

 

Facebook Comments HS