عرب ملوکیت اور فلسطینی بچے کا وصیت نامہ

کسی زمانے میں اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان او آئی سی کے پلیٹ فارم پر سنائی دیا تھا۔ آہستہ آہستہ مسلم ممالک میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف رغبت پیدا ہو رہی تھی۔ ستتّر سالوں میں تھوڑی بہت رغبت پیدا نہ ہونا قدامت پسندی کے رجحانات کی نشان دہی کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو قدامت پسند کہلوانا پسند نہیں کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ بدلنا پڑتا ہے لیکن موجودہ حماس اور اسرائیل جنگ نے اسرائیل کا سفاک چہرہ مزید بے نقاب کر دیا ہے۔
تصور امت بھاڑ میں گیا۔ ہر مسلم ملک اپنے مفادات اور معاملات کے باعث فلسطین سے لا تعلق ہو گیا ہے۔ جتنا احتجاج یورپ کی شاہراہوں اور امریکی تعلیمی اداروں میں دکھائی دیا ہے۔ اس کا دسواں حصہ بھی مسلم ممالک میں نظر نہیں آیا ہے۔ گمان یہی ہے کہ یہ صدی بھی غلامانِ مغرب کی حکمرانی میں گزرے گی۔ عوام خوف کا شکار ہیں یا ان کے ذاتی مسائل اتنا زیادہ ہیں کہ انھیں دیگر معاملات کو دیکھنے کی فرصت نہیں ملتی ہے۔ حکمران اسی طرزِ حکمرانی کے ذریعے عوام کو کنٹرول کرتے ہیں۔
برتھ کنٹرول کے بعد عوامی جذبات کو کنٹرول کرنے کا یہ موثر ذریعہ ہے۔ کچھ سرپھرے فیس بکی چیختے چلاتے نظر آتے ہیں اور پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔ جب تک عرب ممالک فلسطین کے عوام کی مدد نہیں کریں گے۔ یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ افسوس! عرب کے حکمرانوں کو یورپ کی ٹھنڈی عورتوں نے مفلوج کر دیا ہے۔ تاریخ کے پاس حقائق کا انبار لگا ہوا ہے۔ ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ حماس اسلامی موومنٹ ہے اور عرب کے بادشاہ اپنے ملکوں میں اسے افورڈ نہیں کرتے ہیں۔
انھیں خوب معلوم ہے کہ اسلامی ریاست میں بادشاہت کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے خاموشی سے فلسطینیوں کو مرتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ مہذب دنیا کی منافقت اور مفاد پرستی پر رونا آتا ہے۔ ہمیں انسانی حقوق کا درس دینے والوں نے نوع انسانی کی سب سے تکلیف دہ نسل کشی پر آنکھیں بند کر لی ہیں۔ البتہ مہذب ممالک کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے۔ دنیا بدل رہی ہے، روس اور چین کا اتحاد دنیا میں طاقت کے توازن کا آغاز ہے۔ یاد رہے دنیا میں طاقت کا مرکز بدلتا رہتا ہے۔ جلد یا بدیر یہ مرکز بدلے گا تو ظلم کا بدلہ لیا جا سکتا ہے۔ کوئی قوم اپنے مرنے والوں کو فراموش نہیں کرتی ہے۔
ملکوں میں تبدیلی کا آغاز تعلیمی اداروں سے شروع ہوتا ہے۔ سٹوڈنٹس سود و زیاں سے بے پروا ہو کر سچ کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ امریکا اور یورپ کے تعلیمی اداروں میں اسرائیل کے خلاف تحریک کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان جذبوں کے سامنے بند نہیں باندھا جا سکتا ہے۔ اساتذہ کا کردار بھی قابل تحسین ہے۔ سوشل میڈیا نے تحریک کو توانائی دی ہے۔ حکومتی پابندیاں سوشل میڈیا پر اثر انداز نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے دنیا کے طول و عرض میں ہنگامے برپا ہیں۔
امریکا نے اسرائیل کے خلاف سو سے زائد قراردادیں ویٹو کی ہیں۔ ویٹو نا انصافی کا دوسرا نام ہے۔ جلد یا بدیر اس کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز بلند ہو سکتی ہے۔ اکیسویں صدی میں یہ ظلم و نا انصافی قبول نہیں کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں جناب عرفان صدیقی کی فلسطین سے متعلق قرارداد پر حیرت، غصہ اور افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح فلسطینی عوام سے مدد نہ کرنے کی معذرت کی گئی ہے۔ شاید ایسی مثال پہلے دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ اپنا دکھڑا بیان کر کے فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود فلسطینی بچے محمد عبد القادر الحسینی کا موت سے پہلے وصیت نامہ بھی مسلم ممالک کو شرم دلانے میں ناکام رہا ہے۔
ملاحظہ کیجیے۔
” اگر میں اس دنیا سے چلا گیا اور میں جنگ میں شہید ہو گیا تو میں تمام عرب اور عالم اسلام کے مسلمانوں کو معاف نہیں کروں گا۔ وہی جس نے یہ کائنات بنائی ہے وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہم نے کھانے پینے کے بغیر کئی دن گزارے ہیں اور اسرائیل نے ہم کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اس بے رحمی سے میرے بال سفید ہو گئے ہیں۔ خدا اپ کو معاف کرے اور معاف کرے۔ اللہ کی قسم میں ساتویں آسمانوں کے خالق سے تمہاری شکایت کرتا ہوں۔ مجھے معاف کر دو میں اپ سب سے بہت پیار کرتا ہوں۔ مصری عوام کے لیے میری جدائی کا غم نہ کرو۔ یمنی عوام، اردنی عوام، الجزائر کے لوگ، لبنان کے لوگ، سوڈان صومالیہ ملائشیا اپ سب کے لیے غزہ امانت ہے غزہ کو نہ بھولیں۔ میں اپ سب سے بہت پیار کرتا ہوں۔ میں ایماندار ہوں جس کو میری ایمانداری کا پیغام ملے اسے پھیلانے کی حوصلہ افزائی کریں“

