اسکول کے اقوال زریں

”سایہ خدائے ذوالجلال۔“ قومی ترانہ ختم ہوا تو ہم ساری جماعتوں کے طلبا قطار میں ایک ایک کر کے اپنی اپنی کلاسوں میں چلے گئے۔ ٹیچر بھی کچھ دیر ایک دوسرے سے حال احوال کر کے چلی گئیں۔ اسکول کا صحن اب بالکل خالی ہو گیا جس کے دو اطراف میں مختلف جماعتوں کے کمرے تھے جہاں طلبا اپنے تعلیمی دن کا آغاز کرنے جا رہے تھے۔ ایک طرف پرنسپل اور ایڈمن کے دفاتر تھے جہاں اسکول میں موجود کثیر تعداد اور نئے آنے والے طلبا کی منصوبہ بندی ہوتی تھی۔
صحن کو تاروں کے ساتھ بیلیں لپیٹ کر ڈھانپ دیا گیا تھا۔ صحن کے ایک طرف دیوار تھی۔ جس پر اسکول کا کلاک لگا ہوا تھا۔ وہاں سے سیڑھیاں دوسری منزل کی طرف جا رہی تھیں۔ دیوار کے وسط میں کلاک کے عین نیچے ایک سفید بورڈ آویزاں تھا جس کے چاروں طرف سیاہ بارڈر تھا۔ بورڈ پر سب سے اوپر سرخ حروف میں ”قائد اعظم“ لکھا ہوا تھا۔ اس کے نیچے سیاہ لکھائی میں کچھ اقوال لکھے تھے جن میں پہلا یہ تھا: ”میں آپ کو مصروف عمل ہونے کی تاکید کرتا ہوں، کام، کام اور کام۔“
ہمارے اسکول میں جگہ جگہ عظیم ہستیوں کے اقوال زریں کے بورڈ لگے ہوئے تھے۔ یہ بورڈ شہر کے سب سے مشہور پینٹر نے تیار کیے تھے۔ ان کو لگانے کا مقصد یہ تھا کہ طلبا نصاب کے ساتھ ساتھ حکمت کے ان موتیوں سے بھی بہرہ مند ہو سکیں۔ وہاں کتنے طلبا آئے، سالوں قیام کیا اور چلے گئے۔ کتنی استانیاں آئیں اور چلی گئیں۔ کتنے لوگ ہوں گے جنہیں وہ اقوال زریں یا ان کے پیچھے چھپے ہوئے مطالب اب یاد ہوں گے؟
ہماری کلاس اسکول کی پہلی منزل پر صحن کے ساتھ تھی۔ ٹیچر نے مجھے دوسری منزل پر واقع ایک کمرہ جماعت میں کسی کام سے بھیجا۔ میں اوپر جاتی ہوئی نیم تاریک سیڑھیوں کے آخر میں پہنچا تو میری نظر باہم نوے درجے کے زاویے سے لگے ”ارسطو“ اور ”افلاطون“ کے اقوال کے بورڈز پر پڑی۔ مجھے ان کے بالترتیب یہ قول پسند تھے : ”غصہ ہمیشہ حماقت سے شروع ہو کر ندامت پر ختم ہوتا ہے۔“ ”سب سے بڑی فتح اپنے آپ کو فتح کرنا ہے۔“
برآمدے سے گزر کر مطلوبہ کمرے سے ہوتا ہوا جب میں واپس اپنی کلاس میں پہنچا تو بہت سے اقوال پڑھ چکا تھا:
”زبان کی حفاظت کرو کہ یہ ایک بہترین خصلت ہے۔“ حضرت عائشہ
”لوگوں کی اچھائیوں کو ظاہر کرو اور برائیوں سے چشم پوشی اختیار کرو۔“ امام غزالی
”نیکی کا آغاز مشکل لیکن انجام راحت بخش ہوتا ہے۔“ بنجمن فرینکلن
میں نے سوچا کہ یہ اقوال اپنے آپ میں ایک متوازی اسکول تھا۔ مشرق و مغرب، ماضی و حال کے اساتذہ یہاں درس دیتے تھے۔ مذہب، سائنس، ادب، قومیت، معاشرت، اخلاق اور بہت کچھ تھا جس کا گیان یہاں سے ملتا تھا۔ شرط یہ تھی کہ کوئی معمول سے ہٹ کر طلبگار علم و دانش ہو!
اسکول کی بریک کی گھنٹی بجتی تو طلبا ایسے کلاسوں سے باہر آ جاتے جیسے جیل سے کھچا کھچ بھرے ہوئے قیدی۔ ہر کسی کی کھیل اور کھانے پینی کی اپنی اپنی ترجیح ہوتی۔ چھپن چھپائی، پکڑن پکڑائی یا گولہ کاری کا۔ آلو کی چاٹ، دال مر مرے یا سوڈے کی بوتل۔ بریک سے پہلے کا سکوت کچھ دیر میں ہی درہم برہم ہو جاتا۔ اور ہر ایک طالب علم چابی دیے ہوئے کھلونے کی طرح اسکول میں ادھر سے ادھر دوڑ رہا ہوتا۔ اسکول میں کئی منزلیں، سیڑھیاں، کمرے، برآمدے، ڈیوڑھیاں اور راہ داریاں تھیں کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تفریح بھی فراہم کی جا سکتی تھی۔ اور پھر ان پر وہ اقوال زریں!
ایک روز میں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ پکڑن پکڑائی کھیل رہا تھا۔ میں ایک برآمدے میں برق رفتاری سے کئی عظیم ہستیوں کے قولوں کو پیچھے چھوڑتا ہوا آگے بڑھا۔ ایسے میں میرے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ میں ہر بورڈ پر فردا فردا نظر ڈالتا۔ مبادا پکڑا جاتا۔ اس وقت وہ سرخ اور سیاہ رنگ کے ہیولے معلوم ہو رہے تھے۔ لیکن میں ماضی میں انہیں کہیں بار دیکھ چکا تھا۔ سو میرے ذہن میں ایک کے بعد ایک مقولہ نشر ہونے لگا: ”نفرت جرم سے کرنی چاہیے مجرم سے نہیں۔“ گاندھی۔ ”دانا بولنے سے پہلے سوچتا ہے اور بیوقوف بولنے کے بعد ۔“ حسن بصری۔ ”دنیا میں سب سے آسان کام دوسروں پر نکتہ چینی کرنا اور سب سے مشکل کام اپنی اصلاح کرنا ہے۔“ ہربرٹ سپنسر۔
ایک دن بریک میں ہم چھپن چھپائی کھیل رہے تھے۔ ایسے میں اسکول کے طول و عرض کے کونوں کھدروں میں چھپنا ضروری تھا۔ میں سیڑھیوں سے صحن میں داخل ہوا۔ میں نے ”سعدی شیرازی،“ ”جنید بغدادی“ اور ”مولانا رومی“ کے بورڈز کی طرف دیکھا گویا ان سے بہتر جگہ کے انتخاب کا پوچھ رہا تھا: ”دشمن سے ہمیشہ بچو اور دوست سے اس وقت جب وہ تمہاری تعریف کرنے لگے۔“ ”وقت سے زیادہ قیمتی شے اور کوئی نہیں۔“ ”حقیقی کامیابی محنت سے حاصل ہوتی ہے۔“
پھر میں دوسری سیڑھیوں سے واپس اوپر چلا گیا اور ایک کمرے میں نکلا جو خالی پڑا تھا۔ وہاں ”آئن سٹائن“ اور ”گوتم بدھ“ کے بورڈز لگے ہوئے تھے کہ ہر آتا جاتا بچہ ان فکر افروز جملوں کو دیکھ سکے : ”تخیل علم سے زیادہ اہم ہے۔“ ”نفرت کو محبت سے کم کرو۔ کیونکہ نفرت نفرت سے نہیں مٹتی۔“ پھر میں اسکول کے تین اطراف میں موجود گیلری میں سے گھوم کر ایک دروازے کے باہر پہنچا۔
یہ ایک اسٹور تھا جو زیادہ استعمال نہیں ہوتا تھا۔ اس سے بہتر چھپنے کی کون سی جگہ ہو سکتی تھی! میں اسٹور میں داخل ہوا۔ کچھ سامان بکھرا ہوا تھا۔ فرش پر اقوال زریں کا ایک بورڈ رکھا ہوا تھا جس کا رخ دیوار کی طرف تھا۔ میں نے ہٹا کر دیکھا تو مجھے یہ قول نظر آیا: ”میں آج تک لاجواب نہیں ہوا مگر اس شخص کے سامنے جس نے مجھ سے پوچھا کہ تو کون ہے؟“ خلیل جبران۔ میں نے سوچا کہ میں اپنے دوستوں سے چھپ سکتا تھا مگر ان اقوال سے نہیں۔
ایک روز ہم بریک کے بعد اپنی کلاس میں جا رہے تھے۔ ہمیں ایک ٹیچر نے روکا۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول میں ایک فنکشن ہونے والا تھا۔ وہ پوچھ رہی تھیں کہ کوئی لڑکا اس کے لیے ایک ڈرامے میں حصہ لینا چاہے گا؟ ٹیچر کے پس منظر میں شیکسپیئر کا یہ قول نظر آ رہا تھا: ”۔ سب سے کرو، اعتبار چند ساتھیوں کا اور بدی کسی سے بھی نہ کرو۔“ لفظ ”محبت“ ٹیچر کے سر کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔
میں اسکول کے کم و بیش ہر کمرے میں پڑھ چکا تھا۔ ہر جماعت کے بعد جگہ تبدیل ہو جاتی تھی مگر اقوال زریں اپنے مقام پر ثابت قدم تھے۔ ایک روز اسکول سے چھٹی کے وقت میں ”سقراط“ کے ان جملوں پر غور کرتا گھر پہنچا: ”جس چیز کا علم نہیں اس کے بارے میں کچھ نہ کہو۔ جس چیز کی ضرورت نہ ہو اس کی جستجو نہ کرو۔“ گھر میں کپڑے بدل کر اور کھانا کھا کر ہم ٹیوشن کے لیے پھر سے اسکول آ جاتے۔
ٹیوشن صرف ان جماعتوں کے لیے تھا جن کے بورڈ کے امتحانات ہوتے تھے۔ یعنی پانچویں اور آٹھویں جماعت۔ شام کو اسکول کی وسیع عمارت خاموش اور قدرے خوفناک معلوم ہوتی تھی۔ اسکول کے بارے میں بہت سی ڈراؤنی کہانیاں مشہور تھیں۔ ایک روز جب ہمارے اسکول کے پرنسپل کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے تو ہم چند ہم جماعتوں نے رات کے وقت ان کمروں کو دیکھنے کا پروگرام بنایا جن کے بارے میں دن میں طرح طرح کی باتیں کی جاتی تھیں۔
ہم ایک چھوٹی سی ٹارچ لے کر منزلیں چڑھتے اوپر کی طرف جانے لگے۔ دن میں جو منور کمرے بچوں اور استانیوں کی آوازوں سے گونجتے رہتے تھے، اب تاریکی میں ڈوبے سائیں سائیں کر رہے تھے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ کوئی آہٹ، کوئی کھٹکا ہمیں چونکا کر رکھ دیتا۔ ہم وہیں رک جاتے۔ ٹارچ کی روشنی ادھر ادھر مارتے اور اچھی طرح تسلی کر کے آگے بڑھ جاتے۔ ہمیں وہاں کوئی بھوت تو نظر نہیں آیا پر مجھے ٹارچ کی روشنی میں کچھ اقوال نظر آ گئے :
”مصائب سے مت گھبراؤ کیونکہ ستارے اندھیرے میں چمکتے ہیں۔“ حکیم لقمان۔
”جو کسی کا نہ بن سکا، اسے تو بھی نہ اپنا، کیونکہ وہ تیرا بھی نہیں بن سکے گا۔“ دیوجانس کلبی۔
”موت کو یاد رکھنا نفس کی تمام بیماریوں کی دوا ہے۔“ عبدالقادر جیلانی۔
ایک شام پرنسپل صاحب نے کسی کام کی وجہ سے سب کو جلدی چھٹی دے دی۔ انہوں نے اپنے واپس آنے تک مجھے کچھ دیر اسکول ٹھہرنے کا بولا۔ اس وقت اسکول میں کوئی نہیں تھا۔ میں دوسری منزل کے برآمدہ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میرے چاروں طرف اقوال کے بورڈز لگے ہوئے تھے۔ میں نے سوچا کہ مجھے اگر ساری عمر اسکول میں رہنے کے لیے مجبور کر دیا جائے تو میں وہ وقت اقوال زریں پڑھنے اور ان پر غور کرنے میں گزار دوں گا۔
میں نے سوچا کہ کیسے یہ بورڈ دانش کے گوہر نچھاور کر رہے تھے۔ غیر شعوری طور پر بچے علم کی آب و ہوا میں سانس لے رہے تھے۔ اور اقوال آکسیجن ہی کی طرح نظر انداز بھی ہو رہے تھے۔ میں نے اپنے دائیں بائیں، آگے پیچھے نظر دوڑائی۔ ”برنارڈ شا،“ ”آسکر وائلڈ،“ ”رابندر ناتھ ٹیگور،“ ”جالینوس،“ ”بقراط“ اور کیسے کیسے نام تھے! میں عظیم لوگوں کے جھرمٹ میں گھرا ہوا تھا۔ مجھے لگا کہ وہ سب ایک مکالمے میں مصروف تھے اور میری حیثیت فقط اس مجلس کے منتظم کی تھی۔ میری نگاہیں ایک کی بات دوسرے تک پہنچا رہی تھیں۔ وہ لوگ مر کے بھی امر ہو چکے تھے۔ اور میرا عارضی وجود سرد لافانیت میں کہیں کھو کر رہ گیا تھا۔

