کہاں گیا پاکستان


پاکستان میں پہلا مزاحیہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب 24 مارچ 1948 کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے کرزن ہال میں مشرقی بنگال میں بسنے والے سوا چار کروڑ بنگلہ زبان بولنے والے عوام کو مرکزی حکومت کی جانب سے انگریزی زبان میں یہ مژدہ جانفزا سنایا گیا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی۔ بعد ازاں، اس اعلان کے بطن سے 21 فروری 1952 کو ایک الم ناک واقعہ نے جنم لیا۔ جب ڈھاکہ میں طالب علموں کے ایک ہجوم پر جو بنگلہ زبان کو پاکستان کی ایک قومی زبان بنانے کے حق میں نعرے لگا رہا تھا پولیس نے گولی چلا دی واقعے میں 5 طالب علم ہلاک ہو گئے۔

اس واقعہ کے بیس سال بعد ڈھاکہ جو پاکستان کے ایک صوبے مشرقی پاکستان کا دارالحکومت تھا، ایک آزاد ملک بنگلہ دیش کا دارالحکومت بن گیا۔ مزید براں اس آزاد ملک بنگلہ دیش نے اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے یونیسکو کو یہ تجویز بھیجی کہ 21 فروری کو بین الاقوامی مادری زبان کا دن قرار دے دیا جائے۔ یونیسکو کی تیسویں جنرل کانفرنس 17 نومبر 1999 کو منعقد ہوئی اور اس میں بنگلہ دیش کی یہ تجویز متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

پاکستان میں سرکاری سطح پر ”سازش“ کی بازگشت سب سے پہلے 9 مارچ 1951 کو سنی گئی جب پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کی ایک سازش بے نقاب ہوئی ہے اور سازش میں شریک افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ یہ بغاوت کی کوشش راولپنڈی سازش کیس کے نام سے مشہور ہوئی۔ عجب اتفاق ہے کے اس سازش کے طشت ازبام ہونے سے دو مہینے پہلے 17 جنوری 1951 کو ایوب خان نے پاکستانی افواج کے کمانڈر انچیف کا عہدہ سنبھالا تھا۔ راولپنڈی سازش کیس کا سرغنہ میجر جنرل اکبر خان کو قرار دیا گیا۔ مارچ 1951 میں انہیں بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور پھر انہیں برطرف کر دیا گیا۔ جنرل اکبر نے ”ریڈرز ان کشمیر“ کے نام سے کتاب بھی لکھی جس کا اردو ترجمہ ”کشمیر کے حملہ آور اور پنڈی سازش کیس“ کے نام سے چھاپا گیا۔ اس کتاب میں جنرل اکبر نے راولپنڈی سازش کیس کو ایک ”کارٹون کہانی“ قرار دیا اور ایوب خان کو اس کہانی کا ”میر رقص“ بتلایا۔ وہ اپنی کتاب میں مزید لکھتے ہیں کہ ”اپریل 1955 میں لاہور ہائی کورٹ نے ہماری حبس بے جا کی پٹیشن منظور کرتے ہوئے ہم سب کو رہا کر دیا۔

اس دوران صدر سکندر مرزا سے ملاقات ہوئی انہوں نے بتایا کہ ساری کابینہ اس بات پر متفق ہے کہ کیس ختم کر دیا جائے لیکن جنرل ایوب خان زور دے رہا ہے کہ ہمیں جیل واپس بھیج دیا جائے“ ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس زمانے میں رونما ہونے والے کئی پر اسرار واقعات ایوب خان کی شخصیت کے ارد گرد گھومتے ہیں۔ لیکن ایوب خان اس قدر محتاط تھے کہ انہوں نے زیادہ تر پراسرار واقعات کے رونما ہونے والے مقامات سے اپنے آپ کو دور رکھا۔

ایوب خان پاکستانی افواج کے پہلے مقامی سربراہ تھے۔ اس سے پہلے پاکستانی فوج کے کمانڈر چیف ایک انگریز جنرل ڈگلس گریسی تھے۔ ابتدائی طور پر ایوب خان کو کمانڈر انچیف بنانے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا بلکہ ایک اور فوجی افسر جنرل افتخار کو کمانڈر انچیف بنانے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ کیونکہ جنرل ڈگلس گریسی کے بعد وہی سب سے سینیئر جرنل تھے۔ جنرل افتخار کو بطور کمانڈر انچیف تعیناتی سے پہلے پاکستان کے پہلے فوجی افسر کے طور پر برطانیہ کے امپیریل ڈیفنس کالج میں کورس کے لیے بھی منتخب کر لیا گیا تھا۔ جنرل افتخار لاہور سے کراچی تک بذریعہ ریل سفر کرنا چاہتے تھے۔ پھر کراچی سے ہوائی جہاز میں برطانیہ کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ لیکن ان کے ایک فوجی ساتھی نے ان کو قائل کیا کہ وہ سب ایک ساتھ ہوائی سفر کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنا نیا عہدہ سنبھال پاتے وہ ہوائی حادثے کا شکار ہو گئے سانحہ اس وقت پیش آیا جب 13 دسمبر 1949 کو رات 10 بجے پاکستان ایئرویز کے 53۔ C ہوائی جہاز کی پرواز جنگ شاہی کے قریب زمین سے جا ٹکرائی۔ حادثے میں ان سمیت، ان کی بیوی اور نوزائیدہ بیٹی کی جان بھی چلی گئی۔ پاکستانی فوج کے ایک اور جنرل نوابزادہ شیر علی خان کے مطابق اگر جرنل افتخار اس طرح نہ مرتے تو پاکستان کی صورتحال مختلف ہوتی۔ نہ کوئی ایوب خان ہوتا نہ ہی پاکستانی فوج ملکی سیاست میں ملوث ہوتی۔ ایوب خان اپنی کتاب ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی“ میں رقم طراز ہیں ”جس وقت میں ایڈجوٹنٹ جنرل کی حیثیت سے راولپنڈی پہنچا تو اس زمانے میں نئے کمانڈر انچیف کے بارے میں ایک دو مرتبہ میری بیوی نے بھی پوچھا کہ کس شخص کے کمانڈر انچیف بننے کا امکان ہے۔

اس کے بعد لوگوں نے براہ راست مجھ سے پوچھنا شروع کر دیا۔ میں نے سوچا اس قسم کی گپ شپ سے جان چھڑانے کا عمدہ طریقہ یہ ہے کہ چھٹی لے لی جائے۔ چنانچہ میں اپنے بیوی بچوں کو لے کر دو مہینے کے لیے چھانگلہ گلی کی سرد پہاڑیوں پر چلا گیا۔ ستمبر 1950 کی ایک رات کو وزارت دفاع کے ایک افسر کا فون آ یا کہ آپ پاک فوج کے نئے کمانڈر انچیف چن لیے گئے ہیں“ ۔ اس بات سے ان کے محتاط رویے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وہ اپنی کتاب میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ انگریز، جنرل افتخار کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ جنرل افتخار کے ساتھ لوگوں کی بہت کم بنتی تھی اور پھر انہیں غصہ بھی بہت جلد آ جایا کرتا تھا۔ یعنی جنرل افتخار ان کی دانست میں ایک غیر متوازن شخصیت کے حامل تھے۔ ایوب خان کے کمانڈر انچیف بننے کے سات مہینے بعد 16 اکتوبر 1951 کو پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں شہید کر دیا گیا۔ یاد رہے اس شہر میں ہی پاک فوج کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر پاک فوج کے کمانڈر انچیف ایوب خان اس وقت ملک میں موجود ہی نہیں تھے۔

وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ”میں اس وقت لندن کے شفا خانے میں پیچش کا علاج کرا رہا تھا۔“ یہ نہ پتہ چل سکا کہ کہیں وہ ”خونی پیچش“ کا شکار تو نہ تھے! یہ اور بات ہے کہ لیاقت علی خان کا قاتل گو کہ افغان پاوندہ تھا لیکن وہ ایوب خان کے آبائی علاقے کا رہائشی تھا اور اس کی بیوہ کو تادم مرگ سرکاری رہائش اور وظیفہ ملتا رہا۔ قتل کی اس واردات کے بعد نوابزادہ اعزاز الدین لیاقت علی خان قتل کیس کی اہم دستاویزات لے کر راولپنڈی سے بذریعہ طیارہ کراچی، وزیراعظم خواجہ نظام الدین سے ملنے آرہے تھے کہ جہلم کے قریب ان کا ہوائی جہاز حادثے کا شکار ہو گیا۔ جہاز میں آگ لگ گئی اور تمام مسافر، ان کا سامان بشمول لیاقت علی خان کے قتل سے متعلق دستاویزات جل کر راکھ ہو گئیں۔

دوسری طرف ایوب خان کے محتاط پسندی کا یہ عالم تھا کہ اسکندر مرزا اپنی یادداشتوں میں تحریر کرتے ہیں کہ ”جب میں نے اکتوبر 1958 میں ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کا ارادہ کیا تو اس سے پہلے ستمبر کے وسط میں، میں نے جنرل ایوب کو اپنی مجوزہ کارروائی سے آگاہ کر دیا۔ جنرل ایوب نے میرا ساتھ دینے کا وعدہ کر لیا اور پھر گلگت میں اس جگہ جہاں کوئی فوج متعین نہیں تھی، غائب ہو گئے شاید اس سے وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ آنے والے انقلاب میں ان کا کوئی ہاتھ نہ تھا۔

“ ایک طرف وردی والے سیاسی حکمرانوں کے خلاف سازشوں کے جال بن رہے تھے دوسری طرف نوکر شاہی کے کارندے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے نت نئی چالیں چل ر ہے تھے۔ اس وقت کے نوکر شاہی کے دو سرخیل چوہدری محمد علی اور غلام محمد قیام پاکستان سے پہلے ہی مسلم لیگ کے معاملات میں اور پاکستان بننے کے بعد پاکستانی حکومت کے معاملات میں بہت زیادہ دخیل تھے۔ پاکستان بننے کے بعد نوکر شاہی کی اس دو رکنی ٹیم میں اسکندر مرزا بھی شامل ہو گئے۔

اسکندر مرزا کا تعلق انڈین پولیٹیکل سروس سے تھا۔ المیہ یہ تھا کہ مسلم لیگ میں شامل سیاست دانوں کی اکثریت زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی اور ان کو حکومتی امور نبٹانے اور چلانے کا بھی کوئی تجربہ نہیں تھا پھر ان میں آپس میں بہت زیادہ تال میل نہ تھا۔ پاکستان کی تشکیل کے بعد مشرقی بنگال سب سے اکثریتی صوبہ بن کر ابھرا وہاں کی قیادت متوسط طبقہ سے تعلق رکھتی تھی جبکہ مغرب میں واقع پاکستان کے چاروں صوبوں کی سیاسی قیادت جا گیر داروں اور زمین داروں پر مشتمل تھی۔

دونوں خطوں کی زبان کے علاوہ ثقافت بھی مکمل طور پر مختلف تھی۔ پاکستان کی ابتدائی دنوں کی نوکر شاہی نے ان تضادات کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس وقت کی نوکر شاہی کے سرخیل غلام محمد 17 اکتوبر 1951 کو پاکستان کے گورنر جنرل بن بیٹھے۔ غلام محمد نے 1954 میں اسکندر مرزا کو وزیر داخلہ اور ایوب خان کو وزیر دفاع بنا دیا۔ 22 ستمبر 1954 کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے گورنر جنرل کے بے پناہ اختیارات کو متوازن بنانے کے لیے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935، میں جس کے تحت آئین کی غیر موجودگی میں حکومت پاکستان کا انتظام و انصرام چلایا جا رہا تھا کچھ ترامیم کر دیں جوابی طور پر غلام محمد نے 24 اکتوبر 1954 کو آئین ساز اسمبلی کو ہی تحلیل کر دیا۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ ہی وہ نازک موڑ ہے جب پاکستان کے اعلی عدالتی کارپرداز مسند انصاف پر الف ننگے کھڑے نظر آئے۔ پاکستان کے اس وقت کے مصنف اعلی نے نظریہ ضرورت گھڑا اور تاریخ میں ایک مخبوط الحواس قرار دیے جانے والے گورنر جنرل کے آمرانہ اقدام کو اپنے فیصلے کے ذریعے جلا بخشی۔ 70 کی دہائی کے آخری سالوں میں تو عدلیہ خون آشام ہو گئی اور اس کے 6 فروری 1979 کے ایک متنازعہ فیصلے کے نتیجے میں ایک جیتا جاگتا انسان تختہ دار پر جھول گیا جو اتفاق سے اس مملکت خداداد کا اپنے وقت کا مقبول ترین وزیراعظم بھی رہ چکا تھا۔

اس کے بعد سے آج تک نہ صرف عدلیہ بلکہ اسٹیبلشمنٹ اور نوکر شاہی بھی پاکستان میں بے لباس ہی ہے اور تادم تحریر یہ سب قوتیں اقتدار کی مسند کی چابی حاصل کرنے کی ہوس میں ننگا ناچ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سیاستدان آج بھی 1947 کی طرح کمزور اور منقسم ہیں اور ہمہ وقت ایک دوسرے کا لباس تار تار کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور عوام کے لباس، مہنگائی، ظلم اور نا انصافی کے پے درپے چرکوں سے تار تار ہو گئے ہیں ان کے پاس اپنا ستر ڈھانپنے کے لئے وسائل ہی نہیں ہیں الغرض اس حمام میں آج سب ننگے ہو گئے ہیں۔

Facebook Comments HS