ترقی پسند نقاد پروفیسر محمد حسن کے حوالے سے مکالمہ

۔ ۔
! محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب
میں زندگی میں اتفاقات پر بھی یقین رکھتا ہوں مگر ان سے کہِیں زیادہ حادثات پر ۔ کیوں کہ حادثات، میرے خیال میں، اتفاقات سے زیادہ پیش آتے ہیں انسان کو ۔ یا شاید یاد زیادہ یہی رہ جاتے ہیں۔ نہیں کیا؟
بہرحال، سرِ دست کسی حادثے پر بات کرنا مقصود نہیں۔ ایک اتفاق بلکہ حسیں اتفاق آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے میں والد گرامی قبلہ یزدانی جالندھری صاحب کی نایاب مطبوعات کی تلاش میں ”نیٹ گرداں“ ہوں۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہو گا ان کے اولین شعری مجموعہ ”ساغرِ انقلاب“ سے لے کر درجن سے زیادہ نثری تصنیفات و تالیفات تقسیمِ برصغیر سے قبل شائع ہو چکی تھیں۔ ان میں ان کے طبع زاد افسانوں کے مجموعے بھی شامل تھے اور بین الاقوامی ادبی تراجم بھی مگر ان میں سے بہت کم کتابیں تھیں جو مجھے پاکستان میں دیکھنے کا موقع ملا۔ بھارت کا سفر کرنے والے احباب البتہ یہ خبر دیتے رہے کہ یزدانی صاحب کی کتابیں، خاص کر ، روسی، بنگالی اور ہندی ناولوں اور افسانوں کے اردو تراجم وہاں مسلسل شائع ہو رہے ہیں جس کا ثبوت اب ادبی ویب سائٹ ”ریختہ“ پر ان کتابوں کی موجودگی ہے جس کے توسط سے ادبی دنیا پھر سے ”یزدانی ادب“ سے آشنا ہو رہی ہے۔
ہاں وہ حُسنِ اتفاق جس کے لیے یہ سب تمہید باندھی گئی وہ یہ کہ گم شدہ ادبی خزانے کی اسی ”برقی تلاش“ کے دوران میں گزشتہ روز بھارت سے شائع ہونے والے علمی، ادبی اور تحقیقی مجلّہ ”عصری ادب“ کا شمارہ 57 جو اپریل 1987 میں شائع ہوا تھا میری کمپیوٹر سکرین پر جلو افروز ہو گیا۔ مجلّہ کے ابتدائی صفحہ پر حسبِ روایت اس کے مدیران کے نام درج ہیں یعنی ڈاکٹر روشن آرا حسن اور سیّد بہا الدین احمد اور ان سے اُوپر مجلّہ کے نگراں کا نام بھی جلی حروف میں درج ہے : محمد حسن۔
ذہن نے فوراً کہا کہ یہ ضرور ڈاکٹر محمد حسن ہیں جن کی علمی، ادبی، تخلیقی نگارشات اہلِ علم و دانش کی نگاہ میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ انھیں اردو کا قابل احترام نقاد، ناول نگار اور ڈراما نگار قرار دیا گیا ہے۔ ان کی تصانیف و تراجم کی کتابوں کے ساتھ اگر ان کی ادارت میں نکلنے والے ادبی جریدہ کی اشاعتوں کو بھی شامل کر لیں تو ان کی تعداد 75 بن جائے گی۔
ڈاکٹر محمد حسن کے ادبی کارناموں کی گونج پاکستان اور بھارت سمیت ساری اردو دنیا کے دانش کدوں میں سنائی دیتی ہے۔ اُن کے علمی تبحّر اور تخلیقی معراج کی گواہی اُن کی زندگی ہی میں اُن کے نام ور ہم عصر ادبا نے بھی دی اور ان کے بعد آنے والی نسل نے بھی۔ جس کی جھلکیاں ہم کتابوں میں بھی دیکھتے ہیں اور پسِ رحلت اُن کی یاد میں شائع ہونے والے ادبی جرائد کے خصوصی شماروں میں بھی۔
ڈاکٹر محمد حسن صاحب کو یاد کرتے ہوئے جہاں ان کی دیگر ادبی خدمات کا ذکر ہوتا ہے وہاں ان کی ادارت اور نگرانی میں دہلی سے نکلنے والے مجلّہ ”عصری ادب“ کا تذکرہ بھی انتہائی تحسینی انداز میں کیا جاتا ہے۔
کل اس مجلہ کے شمارہ 58 کے ابتدائی صفحہ پر نگراں صاحب کا نام دیکھ کر یہ سب باتیں ذہن میں گردش کرنے لگی تھیں۔ اور پھر برقی ورق پلٹا تو آنکھ مندرجات سے ہم۔ نگاہ ہوئی۔ کیسے کیسے نام سامنے روشن تھے : منظر سلیم، ڈاکٹر سلامت اللہ، عزیز حسن، فیض احمد فیض، سردار جعفری، ادا جعفری، ابرار الحسن، عبدالقوی ضیا، کلام حیدری، قیصر تمکین، حیات اللہ انصاری اور کئی اور بھی۔ مگر میری نظر جا ٹھہری اس شمارہ کے خصوصی گوشہ پر جس کا عنوان ٹھہرا: ”ایک فن کار“ ۔ اور اس عنوان کے تحت جس فن کار کا باتصویر تعارف و تخلیقات شاملِ شمارہ تھیں وہ ہیں ”خالد سہیل“ یعنی آپ۔
بس یہی حُسنِ اتفاق تھا جس نے مجھے ایک خوش گوار حیرت اور قلبی مسرت سے سرشار کر دیا۔ میرا آپ سے غائبانہ تعارف آپ کی تخلیقات کے توسط سے ستّر کی دہائی کے اواخر میں ہوا تھا جبکہ بالمشافہ ملاقات کی سبیل 1999 کے موسمِ سرما میں کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں ہوئی تھی جو ”اوقاف و رموز“ کے مراحل سے گزرتی ہوئی اب ایک قدرے بے تکلف ادبی دوستی کا روپ دھار چکی ہے۔ آپ کی اب تک شائع ہونے والی اردو اور انگریزی زبان کی ستّر سے زیادہ کتابوں میں سے اکثر سے مستفیض بھی ہو چکا ہوں بلکہ چند ایک پر مضامین لکھنے کا شرف بھی پا چکا ہوں۔
گویا میں آپ کا ایک ایسا خوش قسمت ہم۔ عصر ہوں جو آپ کے فن کا مداح بھی ہے۔ مگر یہ تو 2024 کی بات ہے۔ حیرت ناک سچائی یہ ہے کہ اردو ادبی دنیا کے سنجیدہ حلقے تو چار عشرے پہلے سے آپ کو اعترافِ فن کے اعزازات سے نواز رہے ہیں۔ ”عصری ادب“ کا یہی شمارہ دیکھ لیجیے۔ ”حرفِ آغاز“ یعنی اداریہ میں محمد حسن صاحب قارئین سے آپ کا تعارف کرواتے ہوئے رقم طراز ہیں :
”پھر خالد سہیل ہیں جو بالکل نئے طرز کے ذہنی اور سماجی رویے لے کر آئے ہیں۔ معاملہ یہ نہیں کہ انسان کس کرے میں زندہ ہے بلکہ یہ ہے کہ دورِ جدید میں انسانی رشتوں کی نوعیت پر سائنٹیفک اور معقولیت پسند انداز میں غور کیا جائے اور انسان کے جسم اور اس کی ذہنی اور جذباتی آسودگیوں پر ، خواہ انفرادی ہوں یا اجتماعی، نئے ڈھنگ سے سوچا جائے۔“
اور پھر اپنے اس دعویٰ کی دلیل کے طور پر آپ کے تعارف ”ذاتی بیان“ کے بعد وہ آپ کی دو نظمیں اور نو خاکے بعنوان ”کرچیاں“ پیش کرتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ خاکے درحقیقت ایسے بصیرت افروز مختصر افسانے ہیں جو ہمیں جدید انسانی زندگی کے بدلتے ہوئے رویوں اور ہمہ وقت تغیر پذیر وقت کے تقاضوں سے متعارف کرواتے ہیں اور تخلیقی ادب میں
سادہ بیانی اور کفایتِ لفظی کی بہترین مثال ہیں۔
! ڈاکٹر صاحب
اس قدر دیر سے سہی مگر پھر بھی اس اہم ادبی مجلہ میں آپ کے بھرپور ادبی تعارف پر میں آپ کو ”تاخیری“ مگر دِلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
عمر رسیدگی کے ”ثمرہ“ کی بدولت اگرچہ کتنی ہی باتیں ذہن کی تختی سے صاف ہو چکی ہیں مگر جانے کیوں مجھے یہ بات نہیں بھولی کہ ایک بار تخلیق کاروں سے آپ کی یادگار اور اتفاقی ملاقاتوں اور ان کی شخصیت کے نفسیاتی پہلووں پر گفت گُو کرتے ہوئے آپ نے ڈاکٹر محمد حسن صاحب کا بھی ذکر کیا تھا کہ ان سے آپ کی ملاقات رہی اور رابطہ بھی رہا۔ میں تو ان سے بالمشافہ کبھی مل نہیں سکا اور اب اس کا امکان بھی نہیں۔ تو بس ”عصری ادب“ کے زیرِ نظر شمارہ سے اتفاقی برقی ”مڈبھیڑ“ مجھے اُکسا رہی ہے کہ میں آپ سے ڈاکٹر محمد حسن سے آپ کی ملاقاتوں اور باتوں کی تفصیلات جانوں۔ مجھے لگتا ہے آپ کی ان باتوں سے میں ہی نہیں کتنے ہی اور تشنگانِ ادب استفادہ کرنے کو بے قرار ہوں گے۔
امید ہے آپ اس ادبی درخواست پر غور کریں گے اور اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے اس خط کا جواب تحریر کرنے کے لیے وقت نکالیں گے۔
مع السلام
آپ کا ادبی دوست اور مداح
حامد یزدانی
واٹر ڈاؤن، کینیڈا
…………………..
خالد سہیل کا جواب
۔ ۔
محترمی و معظمی حامد یزدانی صاحب
آپ نے اپنے والد گرامی یزدانی جالندھری کی تخلیقات کے بارے میں جو تاثرات رقم کیے ہیں ان سے میرے دل میں ان کے شعری و نثری فن پاروں کو پڑھنے کا شوق بڑھ رہا ہے۔ جب آپ کو وقت ملے تو مجھے ان کی تخلیقات کی فہرست بھیج دیں۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کے والد بھی آپ کی طرح ایک ہمہ جہت شخصیت کا مالک تھے۔
آپ کے حسن اتفاق سے میرے دل میں محمد حسن کی بہت سی پرانی یادیں سرگوشیاں کرنے لگیں۔ پروفیسر محمد حسن ایک تنقیدی شعور اور ترقی پسند سوچ کے مالک تھے۔ ان کی شخصیت میں نظریاتی خود اعتمادی بھی بدرجہ اتم موجود تھی۔
پروفیسر محمد حسن استاد بھی تھے نقاد بھی تھے ایڈیٹر بھی اور بہترین مقرر بھی تھے۔
ان کے ادبی رسالہ۔ عصری ادب۔ نے اردو کے بہت سے نئے لکھنے والوں کی تربیت بھی کی اور پرانے لکھنے والوں کی رہنمائی بھی کی۔
جب میری کینیڈا کی ایک کانفرنس میں ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ایک ویکنڈ گزارنے میرے ساتھ میرے گھر چلیں چنانچہ میں انہیں اپنے گھر لے آیا۔ ان دنوں میں اور میرے دوست زاہد لودھی اکٹھے رہتے تھے۔ پروفیسر محمد حسن نے ہمارے ساتھ دو دن گزارے۔
ہم رات دیر تک مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے رہے۔
انہوں نے اس رات ہمیں اپنا ایک طویل ڈرامہ۔ ضحاک۔ بھی سنایا۔
میرے لیے ان کی یہ بات خوشگوار حیرت لیے ہوئے تھی کہ وہ میرے بارے میں اپنے مجلے۔ عصری ادب۔ میں ایک گوشہ نکالنا چاہتے ہیں۔
یہ آپ کی محبت کہ آپ نے وہ رسالہ انٹرنیٹ پر ۔ ریختہ۔ کی ویب سائٹ پر ڈھونڈ نکالا۔
پروفیسر محمد حسن کے اس ادبی تعارف نے میرے لیے اردو دنیا کے بہت سے دروازے کھول دیے۔
یہ اسی تعارف کا فیضان ہے کہ برسوں بعد ان کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی طالبہ شبانہ خاتون نے میرے افسانوں پر اپنا ایم فل کا تھیسس لکھا بھی اور چھپوایا بھی۔
ہندوستان میں کسی ادیب نے ایک اردو افسانوں کی اینتھالوجی چھپوائی اور ُپروفیسر محمد حسن کو تبصرے کے لیے بھیجی۔ محمد حسن نے اپنے تبصرے کے آخر میں لکھا کہ اردو افسانوں کا یہ انتخاب نامکمل ہے کیونکہ اس میں خالد سہیل کا افسانہ شامل نہیں ہے۔
یہ جملہ میری تخلیقی صلاحیتوں سے زیادہ محمد حسن کی محبت اور شفقت کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے میرے افسانوں کے بارے میں جو رائے رقم کی تھی اسے امیر حسین جعفری نے اپنی کتاب
ڈاکٹر خالد سہیل۔ فن اور شخصیت
میں بھی شامل کیا ہے۔ رقم طراز ہیں :
خالد سہیل دورِ حاضر میں معقولیت پسندی کی میزان پر انسانی رشتوں کی پہچان کے فن کار ہیں۔ ہمارے کندھوں پر صدیوں کی روایت کا جو بوجھ خوش عقیدتگی اور دقیانوسیت نے مسلط کر رکھا ہے اس سے خالد سہیل سماجی ضرورتوں کے عرفان اور معروضیت کے ذریعے نجات پانا چاہتے ہیں۔ وہ مشرق کے ماضی پرست معاشرے سے ہجرت کر کے مغرب کے دور افتادہ اور نسبتاٌ مرفہہ الحال معاشرے میں جا بسے ہیں لیکن اس تبدیلی نے ان کی شخصیت کو پارہ پارہ نہیں کیا ہے اور وہ انسانی وجود کی بنیادی اور غیر منقسم حسیت کے علمبردار ہیں۔
ان کی کہانیاں اس روشن خیال فرد کے افکار و اقدار کی داستانیں ہیں جو قوم و نسل ’مذہب اور عقیدے‘ جنس اور جذباتیت ’رنگ اور روایت کی جکڑ بندیوں کو توڑ کر فطری زندگی جینا چاہتا ہے۔ مرد اور عورت کا رشتہ بھی اس حیاتیاتی اور صالح مندانہ بنیادوں پر طے کرنا چاہتا ہے۔ اس اعتبار سے ان کی کہانیاں انسانی زندگی کے نئے افہام اور معروضی تفہیم کی طرف رہبری کرتی ہیں اور اردو ادب کو ایک نئی فکری اور فنی جہت بخشتی ہیں۔
ڈاکٹر محمد حسن
پروفیسر جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی انڈیا
جولائی 1990
پروفیسر محمد حسن نے اپنی ملاقات کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ان کے مرنے کے بعد میں ان کے بارے میں کچھ لکھوں۔ لیکن میں ان کی وہ خواہش جب بھی پورے کرنے کا سوچتا تو میرے قلم پر لکنت طاری ہو جاتی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ انہوں نے مجھ سے اپنے کچھ تکلیف دہ ازدواجی تعلقات کا بھی ذکر کیا تھا جنہیں سوچ کر میں دکھی ہو جاتا تھا۔ اب جبکہ میں نے سو سے زیادہ مشرقی اور مغربی ادیبوں اور فنکاروں ’شاعروں اور دانشوروں کی سوانح عمریوں کا مطالعہ کیا ہے تو مجھے اندازہ ہوا کہ ان میں سے بہت سوں کی ازدواجی زندگیاں بہت تکلیف دہ اور پریشان کن تھیں۔
! قبلہ و کعبہ
میرے دل میں پروفیسر محمد حسن کے لیے عزت و احترام کے بے انتہا جذبات موجود ہیں۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ وہ ایک عہد ساز شخصیت کے مالک تھے۔ میں آپ کا تہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ان کے حوالے سے مجھے خط لکھ کر مجھے یہ موقع دیا کہ میں ان کا دیرینہ قرض ادا کروں۔
! حامد یزدانی صاحب
یہ خط لکھتے لکھتے مجھے خیال آیا کہ یزدانی جالندھری ایک شاعر اور دانشور تو تھے ہی ایک باپ بھی تھے جنہیں آپ نے ایک بیٹے کی حیثیت سے قریب سے دیکھا۔ کیا ہی اچھا ہو اگر آپ اگلے خط میں یزدانی جالندھری صاحب کی شخصیت کے حوالے سے کچھ بتائیں تا کہ ’ہم سب‘ کے قارئین کا ان کی ادبی خدمات کے علاوہ ان کی طرز زندگی سے بھی تعارف ہو۔
میں چاہتا ہوں کہ ادبی خطوط کا یہ سلسلہ جاری رہے
جب تلک بس چل سکے ساغر چلے
آپ کا دوست اور مداح
خالد سہیل
۔
نوٹ: ادبی مجلّہ ”عصری ادب“ کے مذکورہ شمارہ سے استفادہ کے لیے ذیل میں اس کا لنک بھی درج کیا جا رہا ہے۔ (ح۔ ی) :
https://www.rekhta.org/ebooks/asri-adab-shumara-number-058-sayyad-bahauddin-ahmad-magazines?lang=ur



