زندگی ہے یا موت کا اِنتظار
والدین نے پالتو بنانے کے لیے ایک بچہ پیدا کر لیا، رونے سے پتہ چلا زندہ ہے، چاچی تائی جس نے بھی اٹھایا فوراً لوری میں پالتو بنانے کی کہانی، گُنگنا کے شروع کر دی۔ اُٹھ کے چلنے لگا، پاؤں یا گلے میں رسی ڈال دی تاکہ مرضی نہ کرے، چار پانچ سال گھر میں پالتو بنانے کی کوشش کرتے رہے، مزید پالتو کرنے کے لیے، ابا سکول لے گیا، روتے دھوتے کو داخل کروا دیا۔
سکول شروع ہو گیا، روزانہ اُٹھو، مُنھ ہاتھ دھو، مسجد جاؤ، مُلاں کی لعن طعن سُنو۔ جلدی کرو، کھانا کھاؤ، سکول جاؤ، اب پ، تختی لکھو، تختی دھوؤ، سکھاؤ، پھر لکھو، ایسے نہیں چلنا، اُدھر نہیں بیٹھنا، ایسے نہیں بیٹھنا، لائن میں چلنا ہے، لائن توڑنے والے کو سزا ہو گی۔
ہر سرگرمی میں پالتو کرنے پر توجہ۔ جو زیادہ پالتو عادت اپنا لے وہ تہذیب یافتہ اور مہذب کہلائے۔
اماں نے روٹی پکائی، آؤ روٹی کھاؤ، ساتھ ہی حُکم ”ہاتھ دھو کے آنا“ ۔ کھانا شروع ہوا، ”اوہ نہیں، شیطان کھانا کھا جائے گا“ پہلے مذہبی شرائط پوری کرو۔
سب کُچھ پالتو بنانے کے لیے
اماں روٹی سبزی، جھاڑ پونجھ، استری، دھلائی، ہر وقت کبھی دھیان اور کبھی بِالکل بے دھیانی میں لگی رہتی ہے۔
لگتا ہے پکی پالتو بن چُکی ہے۔
ابا بھی کُچھ اِس طرح، روزانہ سُورج نکلنے سے پہلے اُٹھنا، پھر شروع، وہی چھ کام روزانہ، پہلی چھ مصروفیات جن کے لیے پالتو کیا گیا تھا، وقت کو ٹئیٹ کر کے کبھی کبھی درمیان میں کوئی شادی غمی بھی، اچھے پالتو پَن کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمٹا دیتا ہے۔
آگے۔ آگے۔ آگے۔ سب اِسی طرح، نسل در نسل۔
پالتو پَن نے ایسا جکڑا، جوانی کا پتہ چلا نہ بڑھاپے کا، موت کا بھی کوئی نہیں، ہاں بس پالتو بنانے میں موت کے خوف نے بہت کردار ادا کیا، شاید ڈر ڈالنے والوں کی منشا بھی یہی تھی، کہ اچھی طرح پالتو بن جائے۔
وقت کے ساتھ ساتھ کردار بدلتا رہا، کہولو کے بیل سے ذرا مختلف، اُس کو روزانہ صرف ایک کوہلو، بندے کے لیے روزانہ چھ سات کوہلو۔ بیل سے زیادہ پالتو جو ہوا۔
پتہ نہیں کس وقت جوانی آ گئی، کوہلو بدلتے رہے، رونے دھونے کی نوعیت نہیں بدلی۔
کوہلو کا بیل دفتر پہن گیا۔ دفتر کے باہر سائل رو رہے ہیں، گرمی گرمی۔ بیل اندر دو ہم منصبوں اور تین ماتحتوں سے گھر میں گزارے وقت کی روداد سُنا رہا ہے،
” رات کو ٹینکی کا ڈھکنا ٹوٹ گیا، پلمبر کو بلایا، اُس سے کام نہیں ہوا، یہ بہت ہڈ حرام ہوتے ہیں، گھر میں پودوں کو کیڑی لگ گئی ہے، پودے خشک ہو رہے تھے، ایگزاسٹ کام نہیں کر رہا تھا، رات بھر گرمی بہت، صبح صبح ویگن نِکل جائے گی کے ڈر سے ناشتہ نہیں کیا، جلدی میں ٹائی لگانا بھول گیا، گھر والا پرنٹر خراب تھا، یہ پرنٹ نکلوا دو، ہاں وہ کپڑے دھوبی کو دے آؤ، وہ سبزی گھر پہنچوانی ہے، ہاں بیٹے کی طبیعت خراب تھی، فون کر کے پتہ کرو، اگر ٹھیک نہیں تو جب سبزی دینے جاؤ اُس کو ڈاکٹر کو بھی وکھا لینا۔ آج گن مین کدھر ہے، اُس کو بھی ساتھ لے جانا، پودوں کو پانی ڈال آئے گا“ ۔
ہاں وہ بیٹی کا داخلہ فارم جمع کرواتے آنا!
صاحب ظُہر کی نماز کے لیے دفتر سے نکلے، پھرتے پھراتے، چار بجے گھر پہنچ گئے، پالتو جا ہوا اور جاتا کہاں؟
بہت تھک گیا ہوں، آج تو دفتر بہت کام تھا، صاحب اپنی فائلیں بھی مجھے تھما کے قربانی کا لیلا خریدنے کے بہانے نکل گیا، گرمی نے ستیا ناس کر دیا ہے، کام بھی لوگوں کے ایسے ایسے ہوتے ہیں، اُوپر سے خود بھی نان سنس، بات کرنی آتی نہیں، کلرک بالکل نالائق ہوتے ہیں، خود سے کُچھ نہیں کر سکتے۔
خود کسی سے فون پر لگا ہوا تھا، دو گھنٹے مجھے پی اے کے پاس بٹھائے رکھا۔
اگلے ہفتے انسپکشن بھی ہے، کمبختوں نے اِتنی گرمی میں رکھ لی ہے، پتہ نہیں کیا نئے حُکم سُنائیں گئے؟ اِنسپیکشن کیا ہونی ہے، ٹی اے ڈی اے کی خاطر رکھ لیتے ہیں، پتہ ہوتا وؤتا کوئی نہیں، بس آ کے دفتر میں بیٹھ جاتے ہیں، کھانا بھی سستے ہوٹل سے نہیں کھاتے۔
کَل جاتے ہی نوٹ بُکس تیار کرواؤں گا، سرٹیفکیٹ بھی بنوانے ہیں، درخواست الحاق تیار کرنی پڑے گی، فون خراب پڑا ہے، سرکاری گاڑی کا ڈنٹ اِنسپکشن سے پہلے ٹھیک کروانا ہے، زیر دست روپے بینک مُنتقل کرنے ہیں، جائنٹ اسٹاک کا الگ سیاپا ہے، نا قابلِ ادخال، ایف ایس سی انگلش میتھ، کمپیوٹر اینڈ موبائل ریپیئرنگ، مجھے خود ہی خاں مارکیٹ جانا ہو گا۔
میمورنڈم، پراگریس رپورٹ، ناموں کو ترتیب لگانا ہے، اغراض و مقاصد، گورننگ باڈی، عہدے داران کی لِسٹ تو جلدی تیار ہو جائے گی، ثبوت ملکیت کے لیے پٹواری کو فون کرنا پڑے گا۔ فاتحہ خوانی بھی کرنی ہے، کمال اے، بجلی بند ہے، تحصیل ناظم پتہ نہیں ٹائم دے یا نہیں؟
سونے کے لیے بِستر پر لیٹ گیا، خیالات نے ایک دَم یلغار کر دی، ایجنڈا مکمل کرو، فائن ہو گا، ثمر کی چُھٹی کب ختم ہو گی؟ کوئی سُنتا نہیں، فوجی تربیت، کیمپ، سوموار کو، کوئی پانچ تصویریں، شناختی کارڈ، منگل، دستار، بھلوال، کیس، ثنا کرنل اسلام آباد، پینشن، فون خراب، بینک، یو ایس بی، سائنس کا مسئلہ آ رہا ہے، شرائط مقدمہ، ذاتی لیول، ملکیت، رسپیکٹ ایبل، مسائل، کمیٹی دفتر، رسم بن گئی، کمیٹی دفتر، بلڈ بینک، انگلش ریڈنگ، اِنٹرپرائزز، کپڑے اِستری، چولہا مرمت، مناظرہ، ٹی وی، گھر میں، کھیت میں، ڈاکٹر، ڈیوٹی، ایکسیڈنٹ، ماسٹر امریکہ، قمیص بھٹ گئی، درزی کے نخرے، پیدل چلنا پڑا، انگریزی بولو، کالج تعلیم، والد مَر گیا، ماں بیمار ہے، قبر نکالو، بارش کا خطرہ ہے، کالم لکھنا ہے، کتاب پڑھو، دھوکا دے گا، حصہ داری، دھندلی، تھانہ کلچر، منصوبہ بندی، دیوانِ خاص، بچہ بیمار، ہوتے بچے، مزدور، لوگوں کے کام آئیں گئے، تمہیں کیا فائدہ پالنے کا؟
سو جاؤ، صوفہ پھٹ گیا، مریض چلے جائیں، جلدی کرو، ناشتہ دو، موٹر سائیکل پنکچر، سَر درد، سڑک ٹوٹ گئی، ایمبولنس، ہر وقت سپیڈ، صبح ہو گئی ہے، جلدی کرو دفتر سے لیٹ ہو جاؤں گا، موت آ گئی، اعلان ہو گیا ”چوہدری غلام محمد مر گیا، جنازہ ڈاچی صاحب قبرستان شریف، بعد از نماز پیشی“ ۔
جنازے کے اعلان میں ایک غلطی لگتی ہے، شناختی کارڈ والے نام کے بجائے اصل نام ہونا چاہیے تھا۔
”پالتو بچہ“ مر گیا، بڑے کام کرتا تھا، بس بے چارا، مرضی سے آیا نہ گیا۔
زندگی تو نہ ہوئی، موت کا انتظار ہوا؟


