مودی کی پاپولسٹ سیاست اور لوک سبھا چناؤ کے نتائج


سات مراحل میں مکمل ہونے والے بھارت کے ایوان زیریں، لوک سبھا کے 18 ویں الیکشن کے نتائج کا اعلان ہو چکا ہے۔ برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیراعظم نریندر مودی کی لگاتار تیسری انتخابی فتح، نہرو کے 1947 سے 1964 تک تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے۔ انتہا پسند ہندوتوا سیاست کے بل بوتے گجرات کی وزارت اعلی سے دلی سرکار کے مکھ منتری کے پتھ پر براجمان ہونے والے مودی نے حالیہ الیکشنز میں ”اس بار چار سو پار“ کا بلند بانگ دعویٰ کر کے مبصرین اور تجزیہ کاروں سمیت عوامی پولز میں اپنی جیت کی دھاک بٹھا قبل از وقت دی تھی۔

جدید جمہوری تاریخ کے سب سے بڑے الیکشنز میں 640 ملین سے زیادہ بھارتی ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ مرحلہ وار انتخابی سکیم 19 اپریل سے یکم جون 2024 تک سات مرحلوں میں مکمل ہوئی۔ حالیہ الیکشن میں موجودہ وزیراعظم مودی کے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) اور راہول گاندھی کے (INDIA) انڈین نیشنل ڈیویلپمنٹل انکولیسیو ایلائنس کے درمیان گھمسان کا سیاسی دنگل لڑا گیا۔ واضح رہے کہ 2019 میں لوک سبھا کی 543 سیٹوں میں سے 303 سیٹوں پر بی جے پی نے اپنی برتری ثابت کی تھی جبکہ کانگریس کے حصے میں 52 نشستیں آئی تھیں۔

2024 میں ہونے والے انتخابات سے پہلے کانگریس اتحاد کی ہندی بولنے والی ریاستوں میں سیاسی پوزیشن کے بارے میں حوصلہ شکن اندازوں کے باوجود راہول گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے اکلیش یادیو نے زبردست انتخابی مہم اور بہتر سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر توقعات سے بڑھ کر کامیابی حاصل کی ہے اور لوک سبھا کی سب سے زیادہ 80 نشستیں رکھنے والے اتر پردیش کی مسلم۔ یادیو بیلٹ میں کامیاب ہو کر ناقدین کو خاموش کروا دیا ہے۔ اس ریاست میں بی جے پی 2019 میں حاصل کی گئی 62 سیٹوں میں سے صرف نصف 33 ہی جیت سکی ہے۔ جبکہ ریاست سے مایا وتی کی بھوجن سماج وادی پارٹی کا صفایا ہو گیا ہے۔

ادھر مہاراشٹر میں مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے 83 سالہ سخت جان حریف، شرد پوار ”بھٹکتی آتما“ نے الیکشن میں حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ویٹرن سیاست دان اور چار مرتبہ ریاستی وزیر اعلیٰ سمیت سابقہ یونین منسٹر رہنے والے پوار نے 50 ڈگری کی گرمی میں 50 سے زائد انتخابی ریلیز اور جلسوں کی قیادت کر کے اپنے بارے میں مودی کی ہتک آمیز جملے بازی کا منہ توڑ جواب دے دیا ہے۔

گزشتہ الیکشن کی مایوس کن سیاسی کارکردگی کے برعکس، اس بار نوجوان گاندھی نے ریاست میں اپنی سیاسی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کو 17 جبکہ باقی نشستوں پر سماج وادی پارٹی کو موقع دیا اور اپنی پولیٹکل سٹریٹجی کو بہتر انداز سے ترتیب دے کر ریاست میں اینٹی بی جے پی ووٹر کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ انتخابات سے پہلے راہول گاندھی کی جانب سے بھارت بھر کی پیدل اور بس یاترا کے ذریعے کانگریس اتحاد کے انتخابی منشور کو براہ راست عوام کے سامنے رکھا گیا۔

مذکورہ ”بھارت جوڑو“ یاترا کے دوران کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے مودی اور بی جے پی کے مذہبی تعصب اور سیاسی تقسیم کے ایجنڈے کے برعکس بھارت کے روایتی رواداری اور بقائے باہمی کلچر کو بڑھاوا دینے پر زور دیا۔ اس کے علاوہ اتحاد نے اپنے مینی فیسٹو کے تحت کسانوں، نوجوانوں، خواتین سمیت ورکرز کے لیے قانونی معاونت، مراعات، ملازمتوں، اپرنٹس شپ پروگرامز اور گورننس میں حصے داری کا یقین دلایا۔

ادھر لوک سبھا انتخابات کے سب سے اہم محاذ پر جموں اور کشمیر کی منقسم الیکشن بیٹل فیلڈ میں بھی دلچسپ سیاسی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ مودی حکومت کی طرف سے 2019 میں خصوصی حیثیت کے خاتمے اور 30 سالہ تابڑ توڑ مسلح تحریک آزادی کے جزوی وقفے کے تناظر متنازعہ جموں وکشمیر کی انتخابی سرگرمیوں پر بھارت سمیت پوری دنیا کے میڈیا کی خاص توجہ مرکوز رہی۔ بھارتی یونین کے تحت حال ہی میں تقسیم کی گئی جموں کی دونوں نشستیں بی جے پی نے جیتی جبکہ سری نگر کے بڑے معرکے میں سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ کو نیشنل کانفرنس کے آغا روح اللہ نے شکست سے دو چار کیا۔ اننت ناگ راجواڑی کی سیٹ پر ریاست کی آخری وزیر اعلی رہنے والی پی ڈی پی کی قائد محبوبہ مفتی کو میاں الطاف نے ہارا دیا۔ لداخ سے ایک مسلم امیدوار محمد حنیفہ نے اپنی سیٹ جیت لی ہے۔

ویسٹ بنگال کی ریاست میں ممتا بینرجی کی پارٹی نے اپنی برتری برقرار رکھی اور 42 میں سے 29 سیٹیں اپنے نام کی ہیں۔ یہاں بی جے پی کے حصے میں 12 جبکہ کانگریس نے ایک نشست جیتی ہے۔ تامل ناڈو میں بی جے پی کی اتحادی چندرا بابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی نے سب سے زیادہ سیٹوں پر میدان مارا ہے۔ اس بار راجھستان اور ہریانہ میں بھی بہ جے پی کو 2019 کے مقابلے بڑا دھچکہ لگا ہے۔ ان ریاستوں میں بی جے پی کی گرتی ہوئی مقبولیت کی وجہ ”اگنی ویر پالیسی“ اور کسانوں کا احتجاج رہے ہیں۔

حالیہ انتخابات میں اسانسول سے مشہور بھارتی اداکار شترو گھن سنہا اور ہماچل پردیش کے حلقے منڈی کی سیٹ پر بالی وڈ کوئین اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی کنگنا رناوت نے کامیابی سمیٹی ہے۔ اس کے علاوہ سابق بھارتی کرکٹر یوسف پٹھان ویسٹ بنگال اور اویس الدین اویسی حیدرآباد سے الیکشن جیت چکے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں آبادی کا 14 فیصد ہونے کے باوجود الیکشن میں حصہ لینے والے مسلم امیدواروں کا تناسب کہیں کم دیکھنے کو ملا ہے۔

2019 میں 115 کے برعکس اس مرتبہ صرف 78 مسلمان امیدواروں کو ٹکٹ دیے گئے۔ 2024 کے چناؤ میں بی جے بی کے کئی وزیروں کو بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے، ان میں 2019 میں امیٹھی کے حلقے سے راہول گاندھی کو شکست دینے والی سمرتی ایرانی سمیت کئی دوسرے شامل ہیں۔ حالیہ الیکشن کا سب سے دلچسپ نتیجہ فیض آباد/ ایودھیا میں سماج وادی پارٹی کی جیت کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں بی جے پی سیاسی اٹھان کے مرکز میں ایسی شکست درحقیقت بہت بڑا اپ سیٹ ہے۔ مزید برآں حیران کن نتائج کی ایک کڑی دلی سے اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کا دھڑن تختہ ہے، جہاں دلی کی ساتوں نشستوں پر ہونے والے انتخابی معرکے میں بی جے پی فتحیاب رہی ہے۔

الیکشن نتائج کے مطابق تقریباً 240 سیٹس حاصل کرنے کے باوجود مودی کی بی جے پی کو اپنے اتحادیوں کی مدد پر انحصار کرنا پڑے گا کیونکہ مرکز میں حکومت سازی کے لیے اسے کم از کم 272 نشستیں درکار ہیں۔ تمام تر دعوؤں اور پری پول جائزوں کے برعکس گزشتہ دو باریاں کھیلنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کی گھٹ بندھن کی سرکار کو کانگریس کی سرکردگی میں 223 کی تگڑی اپوزیشن کا سامنا رہے گا۔ 2024 الیکشن نتائج بھارت میں بڑھتے ہوئے مذہبی تعصب اور تقسیم کی نفی کرتے ہوئے مذہبی اقلیتوں اور سیاسی حریفوں کے نئے امکانات کی نوید ثابت ہوں گے ۔

 

Facebook Comments HS