غلامی
میں اپنے دوست کریم کے گھر بیٹھا ہوا تھا۔ دنیا کے اہم واقعات کے بارے میں بات چیت شروع ہو گئی۔ کریم نے مجھے بتایا کہ میں ایک غلام ہوں۔
مجھے اس کا یہ کہنا انتہائی برا لگا۔
” میں غلام کیسے؟ میں آزاد ہوں۔ میں اپنی مرضی سے کھا پی سکتا ہوں۔ اپنی پسند کے کپڑے پہن سکتا ہوں۔ میں خود کو نکھارتا ہوں۔ میرا اپنا کاروبار ہے۔ میں اس کا مالک ہوں۔ میں یہ کاروبار اپنی مرضی کے مطابق چلاتا ہوں۔ میں اپنی پسند کا کھیل کرکٹ کھیلتا ہوں۔ میں اپنی مرضی سے دوست بناتا ہوں اور اپنی ہی مرضی سے دوستیاں نبھاتا ہوں یا ختم کر دیتا ہوں۔ یہ سامنے بازار میں ہر طرح کا سامان بک رہا ہے، میں اپنی جیب کی مناسبت سے جو چاہے خریدوں۔ “
پھر میں نے اس سے پوچھا۔ ”تم مجھے غلام کیوں کہہ رہے ہو۔“
” ہاں، تم مرغی کی طرح آزاد ہو۔ جو چا کھاؤ پیؤ۔ جو چاہو، خریدو۔“
کریم اٹھا اور اس نے خبرنامہ لگا دیا۔ پھر اس نے میری ایک کورس کی کتاب میز سے اٹھا کر ایک صفحہ میرے سامنے کھول دیا۔
” تم یہ کیا کر رہے ہو؟“ میں اسے گھور رہا تھا۔
” تم نے اس صفحے کو تو پڑھا ہو گا امتحان کی تیاری کرنے کے لئے۔ “
” ہاں، پڑھا ہے۔ اس علاقے کا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ “
” کیا تم اسے سچ سمجھتے ہو؟“ اس کے چہرے پہ ایک طنزیہ مسکراہٹ تھی۔
” کم و بیش ایسا ہی ہوا ہو گا، تبھی تو کورس کی کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ “ میں نے اعتماد سے جواب دیا۔
” اور یہ جو ٹی وی چینل!“
” ہاں کچھ خبریں، کچھ تبصرے نشر کرتا ہے۔ یہ سب سچ ہی ہو گا۔ کبھی کبھار غلطی تو کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔ تمہارے ابا جان تو خود اخبار میں ملازم ہیں اور باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ “
اس نے اپنے ابّا جان کے حوالے کو نظر انداز کر دیا۔ ”میرے دوست، جھوٹ کئی طرح کا ہو تا ہے۔ “
” تم تو یار پہیلیاں بھجوا رہے ہو۔ جھوٹ تو بس جھوٹ ہی ہے ایک ہی طرح کا۔“
” چلو پھر سننے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ خبر کو چھپانا، خبر کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، خبر کی اہمیت کو جان بوجھ کر کم یا زیادہ کرنا، خبر پہ کسی کی حمایت یا مخالفت میں تبصرے کروانا، غلط حوالے دینا۔ یہ سب کیا ہے؟ جیسے چاہیں عوام کی سوچ کو بدل دیں۔ “ اس کی آنکھوں میں عجب سی چمک آ گئی تھی۔
” بس بس بھئی، تم تو انسائیکلوپیڈیا کی طرح شروع ہو جاتے ہو۔ چلو مان لیا کہ ان خبروں اور تبصروں میں بہت جھوٹ بولا جاتا ہے۔ آخر شاعر کہنا کیا چاہتا ہے؟“
” بات تمہارے سامنے ہے۔ حاکم بس عام لوگوں کو اس جھوٹ اور تصویروں کے ذریعے قابو کر لیتے ہیں، ان کی سوچنے کی صلاحیت کو ختم کر کے ان کو جس طرف چاہیں، موڑ دیتے ہیں۔ یہ غلامی نہیں توَ اور کیا ہے؟ اور سناؤں تمہیں؟“ کریم رکنا نہیں چاہتا تھا۔
” نکال لو اپنی بھڑاس آج یار۔“
” اصلی خبروں کا تو کوئی شاذ و نادر ہی ذکر کرتا ہے۔ “
” کیا مطلب تمہارا، کون سی خبریں۔ “
” کس طرح کچھ لوگوں نے لوٹ کھسوٹ برپا کی ہوئی ہے، اور کس طرح عام لوگ بنیادی ضروریات اور حقوق سے محروم ہیں۔ “
” بھئی، ہر شخص کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ وہ چناؤ کے وقت ان سب مسائل کے بارے میں امیدواروں سے پوچھ سکتے ہیں۔ “ میں نے وثوق سے کہا۔
کریم نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ”یہ انتخابات تو ایک تماشا ہے محض، اور کچھ بھی نہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون سی سیاسی جماعت جیتے۔ امیر کی امارت اور بڑھ جائے گی۔ عوام اور غریب ہو جائیں گے۔ بتاؤ مجھے، یہ خبر نامہ یا اخبار کبھی اس بارے میں بات کرتے ہیں۔ “
” ہاں، میں نے اس بارے میں کبھی کبھار سنا بھی ہے اور پڑھا بھی ہے۔ “
” کبھی کبھار! جب کروڑوں لوگ رات کو بھوکے سو جاتے ہیں، بچّے تعلیم سے محروم ہیں، مریض علاج نہیں کرا سکتے، تو یہ میڈیا والے دن رات اس کے بارے میں بات کیوں نہیں کرتے! “
” ہوں! ہوں! “ میں تذبذب کا شکار تھا۔
” ہوں! ہوں! کیا؟“ کریم تو میرے پیچھے ہی پڑ گیا تھا۔
” تو اس بات سے میں غلام کیسے ہو گیا؟“ میں نے جھلّا کر کہا۔
” اگر یہی میڈیا اس مسئلہ کو ہنگامی طور پیش کریں تو تم بھی اس بارے میں دن میں کئی بار سوچتے۔ “
” ہاں یار، مگر میڈیا کو اور چیزوں کے بارے میں اور دوسرے واقعات بھی تو رپورٹ کرنے ہوتے ہیں۔ “
” ہاں، جیسے اداکارہ یولیا کے بیٹے کو اسکیئنگ کرتے ہوئے چوٹ لگ گئی تھی تو کس طرح میڈیا نے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کراس کو ایک بڑی خبر بنا دیا۔“
بات تو تمہاری ٹھیک ہے لیکن اس بات سے میں غلام کیسے بن گیا؟ ”
” تم اسی بات کے بارے میں سوچتے ہو جو یہ میڈیا تمہیں بتاتا ہے، بلکہ اس کے بارے میں تمہاری رائے کا انحصار بھی اس پہ ہے کہ میڈیا اسے کس طرح پیش کرتا ہے۔ “
”لیکن اصل غلام تَو میڈیا والے ہیں جو عوام کو دھوکے میں رکھتے ہیں۔ کبھی اپنے ابا سے پوچھنا اس بارے میں۔ “ کریم کی باتیں میرے دل کو لگ رہی تھیں مگر میں اس پہ جوابی حملہ کرنا چاہتا تھا۔
” میرے ابا گھر میں اپنے کام کے بارے میں بات نہیں کرتے۔ ویسے بھی وہ تو مزاحیہ کالم لکھتے ہیں اور ان کا کالم تو اکثر غیر سیاسی ہوتا ہے۔ “
۔ ایک مہینے کے بعد ۔
انکل کے دفتر میں داخل ہوا۔ وہ ایک بڑی میز پہ بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے۔ چہرے پہ ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی جسے میں سمجھ نہ سکا۔ انہوں نے میرے آنے پہ حیرانی کا اظہار بھی نہیں کیا۔
” کیسے آنا ہوا میرے دفتر؟“
” میں ادھر سے گزر رہا تھا تو سوچا آپ کو سلام کرتا چلوں۔ “ پھر میں نے جھجک کر کہا۔ ”انکل آج کل میں بہت پریشان ہوں۔ ملکی حالات کتنے خراب ہیں! نجانے کتنے لوگ مر گئے ہیں ایک مہینے کی جدوجہد میں۔ اور صرف غریب لوگ ہی مارے گئے۔ دس ہزار سے زیادہ گھائل ہو گئے۔ اور نجانے کتنے روزگار سے محروم رہے۔ مجھے تو یہ سب سوچ سوچ کر رات کو نیند بھی نہیں آتی۔ آپ تو اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔ آپ کو تو کچھ اندازہ ہو گا۔“
” آج کل تو حالات خراب ہی ہیں لیکن سب ٹھیک ہو جائے گا۔ تم زیادہ فکر نہیں کرو۔“ یہ کہنے کے بعد ان کا چہرہ پھر اپنی خاص مسکراہٹ سے سج گیا تھا۔
پانچ دنوں کے بعد یہ خبر گرم تھی کہ ارباب اختیار ان سے کسی کوتاہی کی وجہ سے ناراض ہو گئے تھے جس کی وجہ سے انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔
ایک دو دن میں اس واقعہ کے بارے میں سوچتا رہا۔ اخبار خریدا تو اس میں ان کا کالم نہیں تھا۔ کریم کو دو تین بار فون کیا مگر بے سود۔ اگلے روز میں ناشتہ کرنے کے بعد کریم کے گھر چلا گیا۔ انکل اپنے چھوٹے سے لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ سلام و دعا کے بعد میری آواز جیسے سلب ہو گئی۔
” انکل، انکل۔“
” کیا بات ہے بیٹے؟“
” جی۔ میں نے سنا ہے کہ۔ ۔ ۔“
” تم سے میں نے کہا تھا کہ کوئی فکر نہیں کیا کرو۔ سب بہتر ہو جائے گا جلد ہی۔“ میں ان کے چہرے کے تاثرات پڑھ نہیں سکا۔
” وہ آپ کا کالم؟“
” بس اتنی سی بات پہ تم پریشان ہو رہے ہو۔ بھئی دو تین ذاتی کاموں میں مصروف تھا اس لئے کچھ لکھ نہیں سکا۔“
میری زبان نے حرکت کرنے سے انکار کر دیا اور میں سلام کر کے باہر آ گیا۔
اگلے روز صبح فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف کریم کی آواز تھی، اعتماد سے کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی۔ ”یار، کل تم مجھ سے ملے بغیر ہی واپس چلے گئے۔ “
” ہاں بس ایسے ہی!“
” تم ہر چھوٹی چھوٹی بات پہ پریشان ہو جاتے ہو۔“
” لیکن انکل کا اب کیا ہو گا؟“
” ہو گا کیا، کچھ بھی نہیں یار۔ اخبار کے مالک نے ان سے معافی مانگ لی ہے۔ کل ان کا کالم آ جائے گا۔ اس پیشے میں تو ایسا ہوتا ہی رہتا ہے۔ “
” یہ تو بہت اچھا ہوا۔ مجھے واقعی انکل پہ فخر ہے۔ “ میں آنکھوں سے مسکرا رہا تھا۔
اگلے دن میں نے صبح اٹھنے کے بعد اخبار اٹھایا اور دوسرے صفحے پہ ان کا کالم پڑھنے لگ گیا۔
دو ایک سطور پڑھنے کے بعد میں نے اخبار کو پرے کیا۔ میری آنکھوں سے چند موٹے آنسو بہہ گئے۔


