عدلیہ انتظامیہ کشمکش اور سیاسی منظرنامے پر اس کے اثرات

پچھلے تقریباً دو برس سے جاری سیاسی بحران نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔ اب عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان ایک کشمکش نظر آ رہی ہے۔ فروری انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف آزاد حیثیت میں بھی سب سے پاپولر جماعت بن کر ابھری اور اس نے ان انتخابات کے بہت سے نتائج کو مشکوک قرار دے کر ان کو عدالتوں میں چیلنج کیا ہوا ہے۔ اس طرح پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف نو مئی کے بعد جاری مقدمات کے عدالتی فیصلے آنا شروع ہوئے ہیں اس نے عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان واضح خلیج پیدا کر دی ہے۔
عدلیہ کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے ایک خط لکھ کر جب انتظامیہ پر ان مقدمات میں اثر انداز ہونے کے الزامات عائد کیے تو پی ٹی آئی کو مقدمات میں ریلیف ملنا شروع ہو گیا۔ سب سے بڑا ریلیف اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو سائفر کیس سے بری ہونے کی صورت میں ملا ہے۔ جس سے تاثر ملتا ہے کہ اب ججز انتظامیہ کے پریشر سے باہر نکل آئے ہیں۔ اب حکومت کو بانی پی ٹی آئی کو جیل میں رکھنے میں مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے۔
لگتا ہے بانی پی ٹی آئی نے ماضی کے سیاسی رہنماؤں کے برعکس کسی ڈیل کے تحت ملک سے باہر جانے کی بجائے ملک میں رہ کر اپنی سیاسی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے اور اس سلسلے میں کافی جارحانہ انداز اپنا لیا ہوا ہے جس کی مثال حال میں ہی حمود الرحمان رپورٹ کے بارے ایک متنازعہ ٹویٹ کیا ہے جس کے بعد تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین تلخیوں میں بہت اضافہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ جیل سے باہر تحریک انصاف کی قیادت نے شروع میں اس ٹویٹ سے فاصلہ رکھنے کی کوشش کی مگر بانی پی ٹی آئی کی سخت ہدایات کے بعد ان کا موقف بھی سخت ہو گیا ہے اور ابھی تک اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ نہیں کیا گیا ہے۔
تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود تحریک انصاف کا سیاسی اُبھار جاری ہے۔ اور عدلیہ کے حال ہی میں فیصلوں نے اس کی پوزیشن کو تقویت دی ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے حال ہی میں الیکشن کمیشن کے ایک فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس سے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں جن کی حکومتی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے آپس میں بندر بانٹ کر لی تھی وہ اب ان نشستوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں۔ اگرچہ اس کا حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کے فل بنچ نے کرنا ہے مگر اس وقت حکومت اپنی دو تہائی اکثریت سے محروم ہو چکی ہے اور اب وہ کوئی من مانی آئینی ترمیم کرنے کی پوزیشن بھی کھو چکی ہے۔
اس دو تہائی اکثریت کے بل بوتے پر چیف جسٹس کی تین سال کی ٹینیور پوسٹنگ کی باتیں ہو رہی تھیں۔ جو اب ممکن نہیں رہی ہے۔ اس طرح کئی حلقوں میں دوبارہ گنتی کے بعد سنی اتحاد کونسل کو کئی سیٹوں سے محروم کیا گیا تھا وہ سیٹیں اعلی عدلیہ کے فیصلوں کے بعد واپس سنی اتحاد کونسل کو مل چکی ہیں۔ اس طرح الیکشن ٹریبونلز میں زیر سماعت کئی حلقوں میں مشکوک قرار دیے گئے نتائج بھی دوبارہ تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ اسلام آباد سے مسلم لیگ کی تینوں سیٹوں کے کیسز میں لگتا ہے حکومتی جماعت کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔
اسی کو دیکھتے ہوئے حکومتی ارکان نے الیکشن ٹریبونل سے کیس ٹرانسفر کرنے کی درخواست دائر کر دی ہے۔ ان حالات میں تحریک انصاف نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر ممکنہ طور پر مزید احتجاج کرنے کا پلان بھی ترتیب دینا شروع کر دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے بھی بہت سخت گیر موقف اپنایا ہوا ہے اور وہ اسٹیبلشمنٹ پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں اور ان کے درمیان ماضی کی تلخیاں کم ہوئی ہیں اگر ان دو جماعتوں نے مل کر کوئی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا تو حکومت کے لئے بڑی مشکل پیدا ہو سکتی ہے۔
حکومت کو بجٹ پیش کرنے کا بڑا سخت مرحلہ پیش ہے۔ آئی ایم ایف کے مطالبات پر مختلف شعبہ جات کو دی جانے والی سبسڈیز کی واپسی اور مزید ٹیکسز لگانے سے حکومت کی پوزیشن اور کمزور ہو سکتی ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں ممکنہ اضافہ افراط زر میں کمی کا اثر زائل کر سکتا ہے۔ زراعت کا شعبہ بحران کا شکار ہے کسان کی گندم ابھی تک نہیں بک سکی اور وہ اگلی فصل لگانے سے بھی قاصر ہے۔ اس طرح دیوالیہ ہوئی دیہاتی آبادی اگر بازاروں کا رخ نہیں کر پائے گی تو شہروں میں کاروبار بھی ٹھپ ہو جائے گا اور معاشی بحران مزید گہرا ہو تا چلا جائے گا۔
جس سے اپوزیشن سیاسی فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ عام آدمی جہاں اتنے مسائل کا شکار ہے وہیں بیوروکریسی اس بجٹ میں اپنے لئے تنخواہوں میں ایک بڑا اضافہ کروانے جا رہی ہے۔ اس طرح بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے متبادل سولر انرجی پر بھی حکومت مختلف ٹیکسز عائد کرنے کا سوچ رہی ہے۔ جس پر عمل ہو گیا تو حکومت کے خلاف شدید عوامی ردعمل آ سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے ایسے عوام دشمن فیصلوں سے اجتناب کرے۔

