تیسرا گیئر (حصہ اوّل)
مشینوں سے شناسائی رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ کسی بھی مشین میں دست گو (گیئر) کیسا کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ دست گو (گیئر) اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر لیتا ہے جب اسے رفتار ( آر پی ایم ) کے معاملے میں استعمال کیا جائے۔ بالخصوص جب دست گو (گیئر) کی مدد سے مشین کو زیادہ رفتار سے کم رفتار پہ لانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ مشین کی حرکی توانائی ( کائنیٹک انرجی ) کم ہو جانے سے بظاہر یہ بے ضرر سا پرزہ لگنے لگتا ہے لیکن اس میں مخفی توانائی ( پوٹینشل انرجی ) اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ اس کو معمولی طاقت سے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حرکی سے مخفی توانائی میں تبدیلی کے دوران حرارت ( ہیٹ ) کا پیدا ہونا اور اسے تحلیل کرنا اپنے آپ میں ایک مختلف موضوع ہے۔
اپنے معانی اور مفہوم کی وسعت کے لحاظ سے یہ لفظ دست گو (گیئر) اب صرف مشینوں تک ہی محدود نہیں رہ گیا۔ بلکہ اب تو یہ موقع محل، سیاق و سباق اور کام کی مناسبت کے اعتبار سے کئی جگہوں پہ موزوں ہو جاتا ہے۔ جیسے آج کل یہ کرکٹ میں بالعموم اور ہمارے ابتدائی بلے بازوں (اوپننگ بیٹرز) کے لئے باقاعدگی سے بالخصوص استعمال ہو رہا ہے۔ کہ کسے اور کیسے دائرے کی پابندی (سرکل رسٹرکشن) کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ رنز بنانے کے لئے اپنا گیئر تبدیل کرنا ہو گا۔ یا جیسے ’دا‘ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انگریزی اور پنجابی کا ’دا‘ جہاں لگے، لگا دیں۔ بالکل ویسے ہی جہاں رفتار کے ذکر کا تذکرہ ہو تو موقعے کی مناسبت سے ’گیئر‘ لگانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
جیسے جیسے زمانہ تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے اور ہر گزرتا دن نئی جہتوں، جدتوں اور افق پار کی منزلوں سے روشناس کروا رہا ہے، اس سے یہی لگتا ہے کہ وقت کی رفتار نے بھی گیئر بدل لیا ہے۔ صبح آنکھ کھلتی ہے تو براہ راست رات ہی سکون کے لئے میسر آتی ہے۔ اب مصروفیت میں کہیں بھی دوپہر، لوڈا ویلا (سہ پہر کا وقت ) یا شام نہیں اترتی۔ زمانے کی طرح اسی گیئربندی کے لڑ کو کچھ زمانہ شناس ٹھگ لوگوں نے بھی پکڑا ہے اور معجزوں کا انتظار کرتی سادہ لوح عوام کو خوب لوٹ رہے ہیں۔
پائیدار کامیابی چونکہ مسلسل محنتِ شاقہ کی متقاضی ہے لیکن دوسروں سے بے سروپا کے مقابلے اور جلد سے جلد سب کچھ ’ہتھیا‘ لینے کا جنون ہمیں ٹاپ گیئر اور شارٹ کٹ کی طرف لے جاتا ہے۔ سرپٹ گھوڑا بھی بھلا کیا بھاگتا ہو گا جس رفتار سے شارٹ کٹ والے بھاگتے ہیں اور ہوش تب آتا ہے جب بھاگتے دوڑتے اڑتے کہیں سے شارٹ سرکٹ ہو جاتا ہے۔
ایسا ہی ایک واقعہ چند دن پہلے گزرا کہ ایک جوان شکر دپہرے موٹر سائیکل پہ رواں دواں تھا کہ سڑک پہ کھڑے کسی ٹھگ نے لفٹ مانگی۔ دوپہر کی گرمی اور ٹھگ کی عمر کی پیشِ نظر موٹر سائیکل والے جوان نے لفٹ دے دی۔ کچھ دیر بعد ہی ٹھگ نے شکریے کے ساتھ اترنے کا کہا۔ لیکن ایسی تپتی دوپہر میں خالی شکریہ بھی بھلا کہاں اچھا لگتا ہے۔ ٹھگ نے زمین سے کنکر اٹھایا اور موٹر سائیکل والے جوان کی مٹھی میں رکھتے ہوئے ہاتھ بند کر دیا۔
اور گمبھیر سے لہجے میں کہا کہ مٹھی نہ کھولنا۔ یہاں سے سیدھے گھر کی راہ لو اور جب تیسرا گیئر لگاوَ تو مٹھی کھول کے دیکھنا اگر تو کنکر میں کچھ تبدیلی محسوس ہو تو میری طرف لوٹ آنا۔ حسبِ ہدایت جب تیسرے گیئر پہ مٹھی کھولی تو کنکر کی جگہ کوئی بیش قیمت پتھر تھا۔ یعنی کنکر کی ہیئت و ہیبت بدل چکی تھی۔ پھر واپسی تو بنتی تھی کہ شارٹ کٹ جو مل رہا تھا۔ جوان نے کھلوتے پیریں (وہیں سے ) موٹر سائیکل موڑی۔ اعصاب پہ پہلا وار کامیاب ہوا۔
ادھر ٹھگ صاحب بھی اپنے منتظر دھیمے قدموں سے کچے راہ کی خاک چھانتے ہوئے اپنے شکار کی راہ ہی دیکھ رہے تھے۔ جوان نے کنکر کے پتھر بننے کا مژدہ سنایا تو ٹھگ نے بھی کمالِ بے نیازی سے اس تبدیلی کو جوان کی شرافت و دیانت اور پرہیزگاری کے ساتھ منصوب کر دیا۔ جوان کا سینہ پھولا۔ یعنی نفس پہ دوسرا وار کارگر گزرا۔
ٹھگ نے لوہا گرم دیکھ کے ایک اور کاری ضرب لگانا ضروری خیال کیا اور کہا کہ مدتوں بعد کوئی ایسا بندہ ملا ہے کہ جس کا دل اس قدر صاف اور ہمدردی سے بھرا ہوا ہے کہ کنکر بھی قیمتی بن گیا۔ چل بیٹے اپنے گھر لے چل، آج تجھے کچھ عطا کرتا ہوں۔ شارٹ کٹ منزل کو قریب لاتا دکھا رہا تھا۔ جوان نے بھی ٹھگ کو ساتھ بٹھایا اور گھر کی راہ لی۔ راستے میں ٹھگ اسے سمجھاتا رہا کہ یہ بات باہر نہ نکلنے پائے کہ تمہیں کچھ ودیعت کیا جا رہا ہے۔
بار بار تذکرہ کر کے جوان کو پکا کرتا رہا۔ گھر کے دروازے پہ پہنچ کے ٹھگ نے دس روپے کا نوٹ مانگا اور پھر حسبِ سابق اس کی مٹھی میں دے دیا کہ اندر جاوَ اور بیٹھک کھلواوَ اور پھر مٹھی کھولنا۔ اگر تو نوٹ بدل گیا تو گھر میں آوَں گا ورنہ یہیں سے واپس ہو لوں گا۔ مٹھی کھولی تو دس کا نوٹ ہزار کے نوٹ سے بدل چکا تھا۔ لالچ کا تیسرا وار عین نشانے پہ لگا۔
جوان نے نوٹ بدلنے کی خوشخبری سنائی تو ٹھگ کی فاتحانہ ہن٘سی گہری ہو گئی۔ جوان نے بیٹھک میں بٹھایا اور خدمت کا پوچھا۔ اب کی بار چائے کی فرمائش آئی لیکن کنکر دینا ٹھگ یہاں بھی نہیں بھولا اور مٹھی میں دیتے ہوئے کہا کہ باورچی خانے میں کھولنا لیکن آس پاس کوئی نہیں ہونا چاہیے اور اس کا ذکر کسی سے نہیں کرنا۔ مٹھی کھلی تو اس بار کنکر موتی کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ جوان کی تو آنکھیں چندھیا گئیں کہ خدمت کا کیسا اعلیٰ انعام مل رہا ہے۔ مال و زر کی ریل پیل شروع ہو چکی ہے۔ لالچ، طمع اور زیادہ کی لوبھ والے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا۔
چائے کے ساتھ ہی جوان نے موتی پیش کیا تو ٹھگ نے اسے یقینی اور حتمی کامیابی قرار دے دیا اور ساتھ ہی نوید سنائی کہ گھر میں یا بینک میں جتنے بھی پیسے ہیں وہ لے آوَ تاکہ ان کو دوگنا کیا جا سکے۔ دس کے نوٹ کو ہزار کے نوٹ میں بدلتا ہوا تو وہ اپنی لالچی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا سو پیسواں کے انتظام میں جھٹ گیا۔ مختلف بینکوں کی اے ٹی ایم مشینوں سے جتنی رقم نکلوائی جا سکتی تھی، سب نکلوا لی اور ٹھگ کے قدموں میں ڈھیر کر دی۔ ٹھگ نے ہاتھ کی صفائی دکھائی، سب ایک پوٹلی میں باندھا اور اس نصیحت سے گھر بھجوایا کہ یہ اپنی ماں سے کھلوانا۔
دوگنی رقم کی خوشی میں جوان گھر آیا، ماں جی سے دھاگہ کھولنے کی استدعا کی۔ اور دھاگہ بھی شیطان کی آنت ثابت ہوا۔ ایک دھاگہ کھلتا تو نیچے سے نیا گیند نمودار ہو جاتا۔ جیسے دلہن کی بہنیں یا سہیلیاں بارات والے دن دولہے سے کھیل کھیلتی ہیں کہ بڑا سا ڈبہ اور پھر اس میں کئی ایک چھوٹے چھوٹے ڈبے اور آخر میں کوئی چوسنی برآمد ہوتی ہے۔ یہی کچھ جوان کے ساتھ ہوا۔ سب دھاگے کھولنے میں دس سے پندرہ منٹ کا وقت لگ گیا۔ اور آخر ہاتھ میں وہی کنکر ہی آئے۔ یہ شارٹ کٹ کا ڈرامہ جب اپنے منطقی انجام یعنی شارٹ سرکٹ پہ پہنچا تو ہوش آئی۔ ایک ہزار کے نوٹ اور دو جعلی پتھروں کے بدلے وہ ٹھگ جمع پونجی لوٹ چکا تھا۔
کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ یہ مسلسل محنت، صبر آزما مشقت، ناکامی کی صورت میں تجربوں اور ربِ ذوالجلال کے کرم سے عمارت ہے۔ اسباب کے اس جہان میں ہر کسی کا ہر وقت ہی ’پھدو‘ نہیں لگتا۔ قسمت کی دیوی ایسے ہی خوامخواہ میں مہربان نہیں ہوتی۔ مصائب و الم کی خلیج پاٹنی ہی پڑتی ہے، فاقوں سے گزرنے پہ ہی روٹی کی اہمیت اور اس کے اصل ذائقے کا پتا چلتا ہے۔ لیکن اگر اس روٹی کے پیچھے اناج کی مشقت اور محنت کو سمجھ لیا جائے تو امید ہے کہ کوئی بھی آپ کے نوالے کو ترنوالا نہیں بنا سکے گا۔


