نریندر مودی کی سیاسی پسپائی


بھارت کے حالیہ انتخابات کے نتائج غیر متوقع نہیں تھے اور عمومی طور پر بھارت کی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں اور اہل دانش کی یہ متفقہ رائے تھی کہ نریندر مودی دو تہائی اکثریت سے کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ ان تجزیہ کاروں کے بقول دو تہائی اکثریت کی بجائے بی جے پی اور نریندر مودی سادہ اکثریت ہی حاصل کر کے اتحادیوں کی بنیاد پر مخلوط حکومت بنا سکتے ہیں۔ لیکن دو تہائی اکثریت تو کیا مودی جماعت سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کر سکی اور ان کی اپنی نشستوں کی تعداد 240 ہے جبکہ اتحادیوں کو بنیاد بنا کر ان کی نشستیں 293 بنتی ہیں۔ اگرچہ

نریندر مودی کے حامی میڈیا پر ان کو عملاً ایک بڑے سیاسی دیوتا کے طور پر پیش کیا گیا اور یہ ہی تاثر دیا گیا کہ وہ نہ صرف ناقابل تسخیر ہیں بلکہ ان کو اور ان کے سیاسی بیانیہ کو شکست دینا ان کے سیاسی مخالفین کے بس میں نہیں ہو گا۔ اسی بنیاد پر یہ نعرہ مودی کی حمایت میں سب سے زیادہ میڈیا اور سیاسی مہم کی تشہیر کا ذریعہ بنا کہ ”اب کی بار۔ چار سو پار“ یعنی مودی کی جماعت 543 کی کل نشستوں میں سے 400 سے زیادہ نشستیں حاصل کرے گی۔

لیکن جو اب انتخابی نتائج سامنے آئے ان میں بی جے پی اور ان کے اتحادیوں کو 543 میں سے 293 جبکہ ان کے مخالف کانگریس اتحاد کو 233 سیٹیں ملی ہیں۔ 2019 کے انتخابات کے مقابلے میں بی جے پی کی 60 کے قریب نشستیں کم ہوئیں، جبکہ کانگریس کی نشستوں کی تعداد میں تقریباً پچھلے انتخابات کے مقابلے میں دو گناہ زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے بلکہ یقینی ہے کہ بی جے پی اور بالخصوص نریندر مودی بھارت کے تیسری بار تسلسل کے ساتھ وزیر اعظم بن جائیں گے۔ اس سے قبل یہ اعزاز جواہر لال نہرو کے پاس تھا جو تین بار مسلسل وزیر اعظم کے عہدے پر رہے۔ لیکن کانگریس اور ان کے اتحادیوں اور بی جے پی کے درمیان حکومت سازی کا نیا جوڑ توڑ بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ کچھ لوگوں نے کانگریس کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ مودی کی حکومت کا راستے کو روکنا چاہتے ہیں تو اول ان کو اپنی جماعت کے اقتدار کی قربانی دے کر مودی کے اتحادیوں جن میں نتیش کمہار اور چندرا بابو کو ساتھ ملا کر نتیش کمہار کو وزیر اعظم کا عہدہ دینا ہو گا اور وہی بی جے پی کی دیگر اتحادیوں کو ساتھ ملا کر مودی کو اقتدار سے محروم کر سکتے ہیں۔

یعنی اب نتیش کمہار ہوں یا چندرا بابو دونوں ہی اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ کانگریس یا بی جے پی سے اپنی شرائط پر سودے بازی کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر نریندر مودی ہی حکومت بنائیں گے تو ان کی یہ حکومت ان کی خواہش کے برعکس ایک کمزور، مفلوج، محتاج اور اپنی بڑی سیاسی طاقت یعنی دو تہائی اکثریت کے مقابلے میں اتحادیوں کے سہارے کھڑی ہوگی۔ یہ جو اب تک نریندر مودی اور امت شاہ ایک مضبوط گٹھ جوڑ جو ہمیں بھارت، بی جے پی اور نریندر مودی کی سیاست پر غالب نظر آتا تھا اور سیاسی فیصلے ان ہی دو شخصیات کے گرد گھومتے تھے اس میں اب بنیادی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔

نریندر مودی کا سہارا اب اتحادی جماعتیں ہوں گی اور دو تہائی اکثریت سمیت سادہ اکثریت نہ ملنے کے بعد ان کو اتحادیوں کو رام کرنے تک محدود رکھے گی۔ اسی طرح جب نریندر مودی خود دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کرسکے تو ان کی کمزور یا مخلوط حکومت ”ہنداوتہ کی سیاست“ کا کارڈ اب زیادہ مضبوطی سے نہیں کھیل سکے گی۔ اس پر اب یقیناً اتحادیوں کا دباؤ ہو گا اور بالخصوص نتیش کمہار اور چندرا بابو کی موجودگی میں ہندواتہ کارڈ بہت آسانی سے نہیں کھیلا جا سکے گا۔

سیاسی پنڈتوں کے بقول اگر نریندر مودی دو تہائی اکثریت سے جیت جاتے تو اس کا نتیجہ مزید ہندواتہ کی سیاست اور بالخصوص آئین میں بھارت کی سیکولر حیثیت کو تبدیل کر کے ہندواتہ میں تبدیل کرنا تھا۔ اس لیے کہا جا رہا ہے کہ نئی مودی حکومت کو اپنے سیاسی اتحادیوں کے دباؤ کی وجہ سے ہندواتہ کے مقابلے میں ماڈریٹ پہلو اختیار کرنا ہو گا۔

نریندر مودی نے ان انتخابات میں یا انتخابی مہم میں انتہا پسندی، فرقہ ورانہ، پاکستان اور مسلم دشمنی، دلت یا دیگر اقلیتوں کے خلاف پالیسی اور خود کو ایک بڑے سیاسی اور معاشی جادوگر کے طور پر پیش کیا تھا۔ لیکن بھارت کے ووٹرز نے نریندر مودی کے سیاسی عزائم کو خاک میں ملا دیا اور ان کو دو تہائی اکثریت سے عملی طور پر محروم کر دیا ہے۔ جبکہ ان کے برعکس کانگریس اور ان کے اتحادیوں نے جہاں سماجی، معاشی مسائل کو بنیاد بنایا وہاں ان کی مہم میں مودی کی سخت گیر پالیسی، انتہا پسندانہ رجحانات اور بالخصوص آئین میں تبدیلی کر کے سیکولر بھارت کو ہندواتہ پر مبنی ریاست میں تبدیل کرنا تھا۔

ایک بات یہ بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ رسمی میڈیا جہاں نریندر مودی کے حامیوں کی بالادستی تھی وہاں کانگریس اور ان کے اتحادیوں نے ”سوشل میڈیا“ کو ایک بڑی سیاسی طاقت کے طور پر مودی مخالف ایجنڈے پر استعمال کیا اور رسمی میڈیا مودی کو سیاسی ہیرو کے طور پر پیش کرتا رہا جبکہ سوشل میڈیا نے نریندر مودی کو بہت بڑا سیاسی دھچکہ دیا ہے اور اس کے نتیجہ میں بھارت کی سیکولر سیاست کو بھی اور وفاقیت کو بھی تحفظ ملا ہے۔

یقینی طور پر ان انتخابات کے نتیجے میں کانگریس یا ان کے اتحادیوں کی انتخابی سیاست یا نتائج میں بڑی بحالی ہوئی ہے اور ان نتائج نے نریندر مودی کے مخالفین کو حوصلہ اور امید دی ہے کہ وہ نریندر مودی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ نریندر مودی کے مخالفین نے رسمی میڈیا سمیت پورے اس نظام کو شکست دی ہے جو انتخابات سے پہلے انتخابی سروے یا انتخابی نتائج کی پیش گوئی کرتے تھے جہاں مودی کے حامیوں کا قبضہ تھا۔ سب سے اہم بات ایودھیا میں جہاں بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانا تھا وہاں بھی بی جے پی کو شکست ہوئی ہے اور ایسے لگتا ہے رام مندر کی تعمیر کو بنیاد بنا کر جو لڑائی بی جے پی یا نریندر مودی نے شروع کی تھی وہ ایودھیا میں ہار کی صورت میں سامنے آئی ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ کہا جا رہا ہے کہ نریندر مودی اس انتخاب میں جیت کر بھی ہار گئے ہیں۔ اس کمزور جیت اور مخلوط حکومت کی بنیاد پر جو تصویر نریندر مودی اور ان کے حامی افراد نے داخلی و خارجی محاذ پر ”ناقابل شکست مودی“ کی کھینچی تھی اس کو بھی سیاسی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مودی کی اس دو تہائی برتری کو روکنے میں بھارت کی سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں میں مودی مخالف ریلیوں، مودی کی انتہا پسندی پالیسیوں اور خاص طور پر نوجوانوں کی سطح پر مودی مخالف بیانیہ نے کام کیا اور اس کا سیاسی مخالفین کو ملا ہے۔

یہ کہنا کہ نریندر مودی کا جادو ختم ہو گیا یا اب بھارتی سیاست میں ان کی اہمیت دوبارہ قائم نہیں رہ سکے گی، یہ تجزیہ جذباتیت پر مبنی ہو گا۔ نریندر مودی کے پاس آج بھی پاپولر سیاست کا کارڈ بھی ہے اور ایک خطرناک ہندواتہ پر مبنی سوچ اور فکر جس کے پیچھے آر ایس ایس کی طاقت بھی ہے کو ختم کرنا آسان نہیں ہو گا۔ کیونکہ آج بھی وہ جیتے ہیں اور کئی کروڑ افراد نے ان کو ووٹ دیے ہیں اور وہ حکومت بنا سکتے ہیں۔ اس بات کا امکان ہو گا کہ نیا نریندر مودی جو کمزور وزیر اعظم ہو گا وہ پہلے سے موجود وزیر اعظم کے مقابلے میں مختلف ہو گا اور اسے مختلف نوعیت کے دباؤ کا بھی سامنا کرنا ہو گا۔

ایک امکان یہ بھی کہ کچھ عرصہ کے بعد بی جے پی میں ان قیادت کو بھی چیلنج کیا جاسکتا ہے اور مودی مخالف بی جے پی میں لوگ خود کو سامنے لانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ان نتائج کے بعد جہاں مودی کو ہندواتہ پر مبنی سیاست پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا وہیں ان کی مہم کا ایک بڑا نعرہ ”ون نیشن ون الیکشن“ بھی کمزور ہو گا۔ کیونکہ مودی حکومت نے اس کو اپنی مہم کا حصہ بنایا کہ پارلیمانی اور ریاستی انتخابات ایک ہی وقت پر ہونے چاہیے۔

اب اس پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو گا۔ اسی طرح مودی کی نئی حکومت کو آنے والے عرصہ میں ریاستی انتخابات میں بھی کافی چیلنجز کا سامنا ہو گا اور مودی کی حالیہ دو تہائی یا سادہ اکثریت کا نہ ملنا اور کمزور سیاسی حکومت کانگریس اور اتحادیوں کی مضبوط اپوزیشن میں مودی مخالف سیاسی قوتوں کو مضبوط بنیادوں پر پاؤں کھڑا کرنے کا بڑا موقع مل سکے گا۔ اس لیے فوری طور پر مودی کا اپنا دیوتا نما ہونے کی حیثیت بھی کم اور ان کا سیاسی قد بھی چھوٹا ہوا ہے۔ ان نتائج کے بعد یہ دیکھنا ہو گا کہ اگر نریندر مودی کی حکومت بنتی ہے تو وہ

حکومتی امور کو کیسے کامیابی سے چلاتے ہیں اور بی جے پی، اپنی سیاسی شخصیت، ہندواتہ پر مبنی سیاست کو کیسے بحال کر کے دو بارہ بڑی طاقت کو یقینی بنا سکیں گے یا وہ اب غیر اہم ہوجائیں گے۔

Facebook Comments HS