نریندر مودی کے چیلنجز
بھارتی جنتا پارٹی کے امیدوار نریندر مودی اپنی اتحادی پارٹیوں کے اجلاس میں شرکت کے بعد کسی وقت صدر دروپدی مورمو سے ملاقات کریں گے تاکہ لوک سبھا میں اکثریت کا ثبوت دے کر حکومت سازی کا اعلان کریں۔ چھوٹی پارٹیوں کی حمایت سے انہیں اکثریت حاصل ہو جائے گی لیکن اتحادی حکومت کی قیادت کرتے ہوئے انہیں متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وزارت عظمی کے منصب تک پہنچانے کے لیے اتحادی پارٹیاں وزارتوں میں حصہ داری اور زیادہ سیاسی اثر و رسوخ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بڑی دھوم دھام سے مارچ، اپریل میں انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا۔ مودی کا خیال تھا کہ دس سال تک ملک پر آمرانہ طور طریقے سے حکومت کرنے کے بعد وہ اپوزیشن جماعتوں کو اس حد تک کمزور کرچکے ہیں کہ اب انہیں مودی کی سیاسی طاقت کو چیلنج کرنے کی سکت نہیں ہے۔ اس میں کوئی شبہ بھی نہیں تھا۔ دس سال تک عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر کسی آمر کی طرح نظام تبدیل کرنے اور اسے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کی وجہ سے مودی بظاہر ’ناقابل تسخیر‘ لگتے تھے۔ انہوں نے حکومتی وسائل اور انتظامی اختیارات کو اپنی سیاسی کامیابی کے لیے بے دریغ استعمال کیا۔ انتظامیہ کے علاوہ عدالتی نظام پر بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کا اثر و رسوخ محسوس کیا جاتا رہا ہے۔
حالیہ انتخابات کے دوران میں بھی انہوں نے دیدہ دلیری سے سیاسی مخالفین کو گرفتار کر کے جیل بھیجا تاکہ انہیں کسی معمولی مزاحمت کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔ گزشتہ دور حکومت میں مقبوضہ کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام کرنے اور اس کی خود مختاری سلب کر کے انہوں نے اپنے ہندو حامیوں کے سامنے اپنی اولوالعزمی کا ثبوت دینے کی کوشش کی۔ اور واضح کیا کہ وہی ہندوستان کو صحیح معنوں میں ہندو دیش بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جہاں اقلیتوں کو ہندوؤں کی مقررہ حدود قیود کے مطابق زندگی گزارنا ہوگی۔ اس حوالے سے خاص طور سے مسلمان اقلیت ان کے نشانے پر رہی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو ہندوستان پر غیرملکی حملہ آوروں کی نشانی کے علاوہ ایسا گروہ قرار دینے میں بھی کوئی حجاب محسوس نہیں کیا جو تیز رفتاری سے اپنی آبادی میں اضافہ کر رہا ہے۔ تاکہ ہندوستان میں ہندوؤں کو اقلیت میں تبدیل کردی۔ اس قسم کا انوکھا خیال پیش کرتے ہوئے یقیناً ان کے پیش نظر ان کی کشمیر پالیسی رہی ہوگی۔ مقبوضہ کشمیر کی خود مختار آئینی حیثیت ختم کرنے کے علاوہ مودی حکومت نے وہاں ڈومیسائل قوانین تبدیل کیے اور مختصر مدت تک مقبوضہ کشمیر میں کام یا قیام کرنے والے افراد و خاندانوں کو وہاں کا ڈومیسائل دے کر درحقیقت کشمیر کی مسلمان اکثریت کو کم کرنے اور ہندو اکثریت کی سیاسی طاقت میں اضافے کے عملی اقدامات کیے۔
نریندر مودی نے بھارت میں ہندو جذبات اکسا کر اور ہندو انتہا پسندی میں اضافہ کے ذریعے خود کو مضبوط سیاسی لیڈر کے طور پر ابھارا۔ اگرچہ اس دوران میں ملک میں معاشی ترقی بھی ہوئی۔ پیداواری شرح میں اضافہ نے مودی کو معاشی استحکام کا نعرہ لگانے کا موقع دیا۔ اس کے علاوہ بیرونی سرمایہ کار ہندوستان میں بے دریغ سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ ہوئے۔ مجموعی طور پر بھارت کی معاشی ترقی کے باوجود بڑھتی ہوئی آبادی اور ملک میں طبقاتی تقسیم کی صورت حال تبدیل نہیں ہو سکی۔ ایک طرف مضبوط اور مالدار متوسط طبقہ پیدا ہوا جو ملکی معیشت کے احیا میں حصہ دار بنا تو دوسری طرف غریب طبقات کی حالت میں قابل ذکر تبدیلی نہیں آ سکی۔ مودی کی قیادت میں دس سال کے دوران میں وسائل و سہولتوں کی نیچے تک تقسیم کا کوئی قابل اعتبار، منصفانہ اور سماجی مساوات پر مبنی نظم فعال نہیں ہوسکا۔
تاہم امور مملکت پر اپنی مکمل دسترس اور اپوزیشن پارٹیوں میں افتراق کی صورت حال کے پیش نظر نریندر مودی اور ان کے رفقا اس سیاسی بے چینی کا اندازہ کرنے میں ناکام رہے جو احتیاج، غربت، مسائل میں اضافے اور حکومت سے پیدا ہونے والی شکایات کی وجہ سے عوام میں پیدا ہو رہی تھی۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت ایودھیا میں دیکھنے میں آیا۔ اس شہر میں بابری مسجد شہید کرنے کے اقدام کی سپریم کورٹ سے تائید کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے مسجد والی جگہ پر عظیم الشان رام مندر کی تعمیر کا منصوبہ بنایا۔ انتخابات سے پہلے اربوں روپے کے کثیر سرمائے سے تعمیر شدہ اس مندر کی افتتاحی تقریب میں نریندر مودی خود آئے اور پورے ہندوستان سے ہر طبقے کی نمایاں شخصیات نے خاص طور سے شرکت کی۔ یوں بی جے پی نے ہندوؤں کے لیے اپنی گراں قدر خدمات کا اعلان کرنے کے لیے رام مندر کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا۔ انتخابی مہم کے شروع میں ہی نریندر مودی کی مسلم دشمن اور مذہبی تقسیم کی بنیاد پر کی جانے والی تقریروں سے اس حکمت عملی کا مظاہرہ ہونے لگا تھا۔
تاہم انتخابی نتائج نے واضح کیا ہے کہ نریندر مودی ہندو انتہاپسندی، مسلمان و پاکستان دشمنی پر مبنی سیاسی نعرے بازی کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکے اور ان کی پارٹی گزشتہ دو بار کے مقابلے میں لوک سبھا میں واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔ اسے حیرت انگیز طور پر 63 نشستیں کم حاصل ہوئی ہیں۔ گزشتہ بار کی 303 کے مقابلے میں بی جے پی کو اس بار صرف 240 سیٹیں ملی ہیں۔ یوں وہ حکومت سازی کے لئے درکار 272 کا ہدف حاصل نہیں کر سکی۔ اور اب مودی وزیر اعظم بننے کے لیے چھوٹی اتحادی پارٹیوں کو وزارتیں اور شاید لوک سبھا کی اسپیکر شپ تک دینے پر مجبور ہوں۔ انتخابی مہم کے آغاز میں اور دوران بی جے پی چار سو نشستوں کا ہدف حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اس مقصد میں بری طرح ناکام ہوئی۔ حتی کہ وہ ایودھیا سے بھی لوک سبھا کی نشست حاصل نہیں کر سکی۔ حالانکہ اس شہر کو ہندوؤں کی مذہبی حمیت کا مرکز بنایا گیا تھا اور شہر کی ترقی پر کثیر وسائل صرف کر کے اسے دنیا بھر میں ہندوؤں کے لیے سب سے بڑی اور عالی شان زیارت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
بھارتی جنتا پارٹی نے اپنے ان سیاسی ارادوں کو خفیہ نہیں رکھا تھا کہ انتخابات میں چار سو سے زیادہ سیٹیں جیتنے کے بعد وہ ملک کا آئین تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ بھارت کو سیکولر ریاست کی بجائے باقاعدہ ہندوؤں کا ملک قرار دیا جائے اور ملکی قوانین و روایات کو دوسرے عقائد پر مسلط کرنے کے اقدام کیے جائیں۔ مودی کی زہر ناک انتخابی تقریروں کے علاوہ گزشتہ دس سالہ دور حکومت میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق محدود کر کے بھی انہوں نے اپنے ارادوں کا اظہار کیا۔ نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکی۔ انتخابات سے واضح ہوا ہے کہ ہندوستان کی ہندو آبادی اپنے مذہب و روایات کے فروغ کی خواہش رکھنے کے باوجود یہ سمجھتی ہے کہ ملک کا سیکولر آئین ہی ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ مودی کی شکست اور کانگرس کی قیادت میں قائم ہونے والے سیاسی اتحاد ’انڈیا‘ کی غیر معمولی کامیابی درحقیقت انڈین شہریوں کی اس خواہش کا اظہار ہے کہ وہاں آباد اکثریت اب بھی بھارت کو سیکولر ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے اور تمام مذاہب کے لیے مساوی احترام کا رویہ رکھتی ہے۔
ان انتخابات میں ہندو انتہا پسندی و تشدد کے خلاف اکثریتی ووٹ ڈالا گیا ہے۔ نریندر مودی اسی انتہا پسندی کی بنیاد پر لوک سبھا میں ایسی اکثریت حاصل کرنا چاہتے تھے جس میں وہ مذہبی اقلیتوں اور مخالف سیاسی آوازوں کو سختی سے کچل دیں۔ واضح اکثریت ملنے میں ناکامی بتا رہی ہے کہ بھارتی عوام نے مودی کے اس سیاسی ایجنڈے کو قبول نہیں کیا۔ اب دیکھنا ہو گا کی کیا نریندر مودی او ربی جے پی بھی بھارتی ووٹروں کی طرف سے اس واضح اور مضبوط اشارے کو تسلیم کریں گے اور اپنی انتہاپسندانہ حکمت عملی میں نرمی پیدا کر کے سیکولر انڈیا کے لیے کام کریں گے۔ مودی اگرچہ پنڈت نہرو کے بعد ملک کے تیسری بار وزیر اعظم بننے والے دوسرے لیڈر بن جائیں گے تاہم دیکھنا ہو گا کہ کیا وہ نہرو کی طرح تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت کا مظاہرہ بھی کرسکیں گے۔
نریندر مودی کے نئے دور حکومت میں سب سے بڑا چیلنج یہی ہو گا کہ وہ کس حد تک سیاسی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ان کی اصلاح کا بیڑا اٹھاتے ہیں یا وہ ایک بار پھر ہندو جذبات کو ہوا دے کر ووٹروں کے پیغام کو مسترد کرتے ہیں۔ نریندر مودی ہندو انتہا پسندی کا چیمپئین بننے کے لیے بھارتی مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی کے علاوہ پاکستان کے خلاف مہم جوئی بھی کرتے رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران بھی متعدد بار انہوں نے ایسے اشتعال انگیز بیانات دیے کہ پاکستانی وزارت خارجہ کو اس پر رد عمل دینا پڑا۔ تیسری اتحادی حکومت کا وزیر اعظم بننے کے بعد ان کے لیے دوسرا بڑا چیلنج خطے میں حالات تبدیل کرنے کے بارے میں ہو گا۔ بھارت اس وقت ایک طرف چین کے خلاف محاذ آرائی میں امریکہ کا اسٹریٹیجک حلیف بنا ہوا ہے تو دوسری طرف پاکستان کو نقصان پہنچانے اور اس کی معاشی سفارتی پوزیشن کمزور کرنے کے لیے کوششیں کرتا رہتا ہے۔ حالانکہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور باہمی تنازعات حل کر کے ہی علاقے میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے اور عوام کی بہبود کے لیے وسائل مہیا ہوسکتے ہیں۔
لوک سبھا میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کی ایک وجہ عوام میں طبقاتی تقسیم کی وجہ سے پائی جانے والی ناراضی بھی ہے۔ عوام کی اس پریشانی کو دور کرنے کے لیے انہیں پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے بائے میں اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ اندرون ملک میڈیا پر تسلط کے ذریعے خوشحالی اور کامیابی کے یک طرفہ تصور سے باہر نکلنا چاہیے۔ انہیں جاننا چاہیے کہ سرمائے کی بنیاد پر میڈیا پر قابض ہو کر سچ چھپایا تو جاسکتا ہے، سچ تک پہنچا نہیں جاسکتا۔ مودی کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ بھارتی عوام کے شب و روز کے بارے میں حقائق سے بے خبر رہے کیوں کہ پابندیوں کی وجہ سے میڈیا متوازن خبریں سامنے نہیں لاتا تھا۔
پولنگ ختم ہونے کے بعد ایگزٹ پول سرویز کے ذریعے تو بھارتی میڈیا نے بی جے پی کو بھاری بھر کم اکثریت دلوانے کے پرزور اعلانات بھی کیے تھے لیکن یہ اندازے یکسر غلط ثابت ہوئے۔ نریندر مودی کو میڈیا کی طاقت کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنے کے طرز عمل سے گریز کرنا پڑے گا اور بھارت میں میڈیا کی آزادی کو یقینی بنانا ہو گا تاکہ متوازن رائے اور عوام کے اصل مسائل سامنے آ سکیں۔ برسر اقتدار حکومت بے بنیاد خواب نہ دیکھتی رہے اور عوام کی ضرورتیں سمجھنے میں ناکام نہ ہو۔
انتخابی نتائج سامنے آنے پر نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ ’ایک بار پھر عوام نے ہم پر اعتماد کیا ہے۔ اس سے ہمارے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ یہ ہمارے لیے نئی طاقت ہے‘ ۔ انہیں البتہ یہ سمجھنا ہو گا کہ بھارتی عوام نے انہیں چند سخت شرائط کے ساتھ وزیر اعظم بننے کا نیا موقع فراہم کیا ہے۔ اگر وہ عوام کے فیصلے کو سمجھنے میں ناکام رہے تو اپنے سیاسی مستقبل کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی بالادستی کو بھی داؤ پر لگائیں گے۔


