ہمارے اپنے اپنے ڈزنی لینڈ


ہماری موسکہ سات سال کی ہوئی تو سالگرہ پر وعدہ کیا کہ اسے ڈزنی لینڈ لے جاؤں گا۔ امریکہ والے ڈزنی لینڈ جانے کے لئے وقت بھی بہت درکار ہے اور رقم بھی۔ اس لیے پڑوس یعنی پیرس میں واقع ڈزنی لینڈ لے گیا تاکہ ایفائے عہد کر سکوں۔ اب کیا ڈھونگ کا سہارا لوں۔ سچ تو یہ ہے کہ بچی کا ذوق و شوق اپنی جگہ لیکن خود ہم والدین بھی متجسس تھے کہ جا کر دیکھیں کہ کون سی دلفریب دنیا سجا رکھی ہے ڈزنی والوں نے۔

ہم لاکھ انقلابی سہی لیکن اس حقیقت سے کیا انکار کریں کہ والٹ ڈزنی ایسا کمال کا سپنا گر اور تخلیق کار تھا کہ 1928 میں ایک چوہے کا انتخاب کیا تو اسے ایسا سلیبریٹی بنایا کہ نہ صرف وہ اس کمپنی کی پہچان بن گیا بلکہ آج بھی دنیا کا کون سا کونا ہے جہاں مکی ماؤس کا نام نہ جانا جاتا ہو۔ الہ دین عربی داستان کا کردار ہے لیکن اسے کمائی کا ذریعہ ڈزنی والوں نے ایسا بنایا کہ ڈزنی لینڈ میں پورا ایک حصہ اس کے نام پر وقف ہے جہاں روزانہ لاکھوں ڈالر ڈزنی کی آمدن میں جاتے ہیں۔

پیرس کا ڈزنی لینڈ جسے 1992 میں عوامی تفریحی پارک کے طور پر کھولا گیا، اڑتالیس سو ایکڑ پر محیط ہے۔ 2002 میں اس میں ڈزنی سٹوڈیو پارک کا اضافہ کیا گیا جہاں مختلف فلموں اور کرداروں سے وابستہ سٹوڈیوز کو بچوں کی تفریح کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اگر آپ کی جیب سکت رکھتی ہے تو پھر ڈزنی لینڈ کے اپنے سات ہوٹل رہائش کے لئے دستیاب ہیں۔ دونوں پارکوں میں صبح نو بجے سے رات کے گیارہ بجے تک ہر وقت گہماگہمی ہوتی ہے۔ ایک سال میں کوئی ڈیڑھ کروڑ افراد ٹکٹ خرید کر اس پارک میں داخل ہوتے ہیں۔ جہاں یہ کمپنی کی آمدن کا ذریعہ ہے وہیں اس سے فرانس کی معیشت کو ساٹھ بلین ڈالر کا فائدہ ہوا ہے اور تقریباً ستر ہزار افراد کو روزگار ملنے کا سبب بھی بنا ہوا ہے۔

ڈزنی لینڈ میں قدم رکھتے ہی آپ کو احساس ہو جاتا ہے کہ آپ ایک تصوراتی اور کہانیوں سے آراستہ طلسماتی دنیا میں داخل ہو گئے ہیں۔ جہاں کہیں کسی ڈزنی فلم کا کوئی جانور یا انسانی کردار نظر آ جائے سب بچے اپنے والدین کو لے کر ان کے ساتھ تصویر اتارنے چل دوڑتے تھے۔ خوابوں سے لطف اٹھانا مفت کا دھندا تو ہے نہیں۔ چاہے مزار ہو یا مندر، مسجد ہو یا گرجا گھر۔ ہر جگہ خوابوں کی قیمت وصول کی جاتی ہے۔ چنانچہ اس خوابوں کی دنیا میں بھی جو چیز باہر ایک روپے کی ہو وہ دس روپے میں مل رہی تھی لیکن والدین اپنے بچوں کے خوابوں کے تقدس کا لحاظ کرتے ہوئے انہماک کے ساتھ خریداری کر رہے تھے۔ دلچسپی کے مختلف مقامات پر معتقدین سب آزمائشوں کو خندہ پیشانی سے قبول کر کے طویل قطاروں میں کھڑے رہتے تھے۔

ایک دروازہ شہزادیوں کے محل کو کھلتا تھا جہاں زائرین اندر داخل ہو کر وہاں موجود سنڈریلا اور ایلسا جیسی شہزادیوں کے ساتھ تصویر اتار سکتے تھے۔ پہلے دن وہاں گیٹ پر معلوم کیا تو بتایا گیا کہ دو گھنٹے کی قطار میں کھڑا ہونا ہے۔ اب ہم جیسے ناقص عقیدے والے یہ چونچلے کہاں برداشت کرتے۔ بقول غالب

بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا

لیکن یہاں معاملہ ہمارا نہیں بلکہ بچی کے نازک احساسات کا تھا۔ دختر نیک اختر سے کچھ بحث کے بعد یہ وعدہ کر کے وہاں سے کھسک گئے کہ اگلے دن ذرا جلدی آئیں گے تاکہ طویل قطار سے بچا جائے۔ ہم اگلے دن جلدی آئے تو بتایا گیا کہ آج صرف ایک شہزادی اندر دستیاب ہے اور قطار تین گھنٹے کی ہے۔ ایک دفعہ پھر صاحبزادی سے وعدہ کیا کہ دن کے اختتام پر آئیں گے تاکہ باقی مقامات کی سیر کی جا سکے۔ جب شام ڈھلے واپس آئے تو دروازے پر دربان نے مزید داخلے پر پابندی کی دردناک خبر سے آگاہ کیا۔

اس کے بعد کئی گھنٹے ہم اپنی والی شہزادی کا غم غلط کرنے اور بھاری جرمانہ دینے کی پیشکشوں میں جت گئے۔ ایک مداوا یوں کیا کہ شام کو ڈزنی کے کرداروں کی پریڈ ہوتی ہے۔ ہم کوئی گھنٹہ بھر پہلے اچھی پوزیشن پر قبضہ جمانے بیٹھ گئے۔ بہت جلدی وہاں زائرین کا بے پناہ ہجوم لگ گیا۔ وقت مقررہ پر پریڈ شروع ہوئی تو ہماری شہزادی نے ڈزنی کی شہزادیوں کو ہاتھ ہلا ہلا کر کچھ غم غلط کیا۔ اپنی صاحبزادی کے چہرے پر طمانیت اور مسرت کے تاثرات واپس لوٹتا دیکھ کے ہم نے اس دو روزہ دورے کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور اگلی صبح واپس برطانیہ آ گئے۔

ڈزنی لینڈ میں گھومتے پھرتے وقت ایک خیال تمام وقت دامن گیر رہا کہ ہم سب نے اسی طرح کے تصوراتی ڈزنی لینڈ اپنی اپنی دنیاؤں میں بسا رکھے ہیں۔ ہمارے ڈزنی لینڈوں اور اس ڈزنی لینڈ میں تاہم ایک بنیادی فرق ہے جس کی نشاندہی محترم شاعر، فلمساز اور مفکر جاوید اختر نے بہت عمدہ انداز میں کی ہوئی ہے۔ روحانیت موضوع پر ہونے والے ایک مباحثے میں اپنے مدمقابل مقرر جناب سری روی شنکر کی جانب اشارہ کر کے وہ فرماتے ہیں کہ بطور فلم ساز تمثیلی دنیا تخلیق کرنا ان کی روزی روٹی اور ہنر ہے۔ جاوید اختر پھر مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کی تخلیق کردہ دنیا اور ان جوگی اور مبلغین کی روحانیت والی تصوراتی دنیا میں ایک بنیادی فرق ہے کہ دو تین گھنٹوں کے بعد ان کی تصوراتی دنیا میں ختم شد کا اعلان ہوتا ہے جبکہ روحانی دنیا بسانے والے ایسا کوئی اعلان نہیں کرتے۔

یہی احساس مجھے ڈزنی لینڈ کے اندر گھومتے پھرتے ہوئے بھی رہا۔ تصوراتی دنیا تخلیق کرنا انسانوں کی بنیادی اساس ہے۔ جب انسان غاروں میں رہا کرتا تھا تب بھی غار کی دیواروں پر نقش نگاری کیا کرتا تھا۔ پتھر کے دور سے اب تک ہمیں یہ تصوراتی دنیائیں کہیں قصے کہانیوں میں ملتی ہیں تو کہیں ہمارے رسوم و رواج میں۔ کہیں ہنومان کی داستانوں پر سامعین واہ واہ کر رہے ہیں تو کہیں سو سو فٹ کی دراز قد حوروں کے قصے محرومین کے کانوں میں رس گھول رہے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ فقط ڈزنی لینڈ میں آئے بچے تصوراتی دنیا میں نہیں رہتے بلکہ ہم شاید کبھی بڑے ہوتے ہی نہیں اور کسی نہ کسی تصوراتی دنیا کا کردار بن کر جی رہے ہوتے ہیں۔

پیرس کے ڈزنی لینڈ کے فلمی کرداروں کی دنیا اور ہماری تخیلاتی دنیاؤں میں ایک اور بنیادی فرق بھی ہے۔ وہاں بحری قزاق جیسے کردار بھی سب کی ہنسی خوشی کا سبب بنتے ہیں۔ وہ ہماری دنیاؤں کے کرداروں کی طرح کہانی سے باہر نکل کر ہمیں قتل و غارتگری پر نہیں اکساتے۔ جب یہ مغربی لوگ ہماری طرح کی تخیلاتی دنیاؤں میں رہا کرتے تھے تو اس تصوراتی دنیا کے کردار انہیں بھی ایک دوسرے کے خون کے درپے کر دیتے تھے۔

اسی فرانس میں سولہویں صدی میں سینٹ بارتھولومو ڈے کا سانحہ رونما ہوا جب کیتھولک عقیدے والوں نے کوئی تیس ہزار کے لگ بھگ پروٹسٹنٹ عقیدے والوں کو چن چن کر قتل کیا۔ اس کی تفصیلات کسی اور تحریر میں رقم کردوں گا۔ فی الوقت یہ کہنا کافی ہے کہ اب ان یورپ اور امریکہ والوں نے یہ دنیائیں دفنا دی ہیں اور تخیلاتی دنیا ڈزنی جیسے پارکوں تک محدود کرلی ہے جبکہ ہم میں سے بہت سوں نے ان کا بند کیا ہوا کاروبار سنبھال لیا ہے۔

تبھی ان کہانیوں کے کردار گاہے بگاہے نکل کر کبھی جلوس کو مشعال خان کے پیچھے لگا دیتے ہیں تو کبھی کسی سری لنکائی باشندے کے پیچھے۔ دیکھیں وہ دن کب آتا ہے جب ہم بھی ان تمثیلی کہانیوں کو کسی تھیم پارک تک محدود کر کے صرف مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا کریں گے۔

 

Facebook Comments HS

ڈاکٹر حیدر شاہ

مصنف برطانیہ کی ہارٹفورڈ شائر یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور ریشنلسٹ سوسائٹی آف پاکستان کے بانی ہیں۔ ان سے hashah9@yahoo.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

haider-shah has 22 posts and counting.See all posts by haider-shah