کوہ قاف کی پریوں سے ملاقات کے لیے روانگی


جیپوں میں سامان کی لد لدائی اور ٹھونسا ٹھونسی بے سلیقگی اور بے ہنگم پن کو نمایاں کرتی تھی۔ پر جونہی ان پر کاجل سے بھری آنکھیں مٹکاتے اور ادائیں دکھاتے دو وجود بیٹھے سب کچھ جیسے پس منظر میں چلا گیا تھا۔

گاڑیاں پشاور روڈ پر تیزی سے آگے پیچھے دوڑ رہی تھیں۔ تقریباً کوئی پون گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد سب سے اگلی گاڑی مین روڈ چھوڑ کر ڈھلانی راستے سے نیچے اُترنے لگی۔ ”آیون آ گیا ہے۔“ ڈرائیور نے کہا میں نے داہنی طرف دیکھا تھا اور ڈرائیور کو گاڑی روک دینے کے لیے کہا۔ نیچے اُتر کر سامنے دیکھا۔ سورج کی سنہری چمکیلی چھتنار کے نیچے بلندوبالا سنگلاخ خاکستری پہاڑوں کے دامن میں گہرے سنہرے میں لپٹی وادی نظروں کو حُسن کے نشیلے جام پلانے لگی تھی۔ دریائے چترال اس وقت چاندی کی کسی موٹی لکیر کی مانند آیون کے گرد نیم دائرہ بناتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ چوکور اور تکونے کھیتوں کے ٹکڑے یوں جان پڑتے تھے جیسے وسیع و عریض قطعہ پر جا بجا سبز قالین بچھے ہوں۔ بلندی سے نشیب کے اس منظر کی دید اسے کچھ زیادہ ہی قاتل بنا رہی تھی۔

معلق پُل سے گزرنے کا تجربہ بہت دلچسپ ہے۔ چھن چھن ہوتی ہے جیسے کہیں پازیبیں بجتی ہوں۔ دریا کی ٹھنڈی ہواؤں میں لپٹے جھلار سے ملتے ہیں جیسے جھولے کو ماں کا ممتا بھرا ہاتھ جھلاتا ہو۔

معلق پُل سے اُترتے ہی گھنے سر سبز درختوں نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ پھر ایک اور پُل آیا جس کے نیچے دریائے کیلاش جھاگ اُڑاتا رواں دواں تھا۔ آیون مرکزی وادی ہے۔ کیلاش کی تینوں وادیوں بمبوریت، ریمبور اور بریر کو یہیں سے راستے جاتے ہیں۔

گاڑیاں کُرد بازار میں شہتوت اور اخروٹ کے درختوں کی چھاؤں تلے جا کر رُک گئیں۔ ساتھ ہی صحن بازار تھا۔ بازار کیا تھا چند دکانیں تھیں۔ رُکنے کی وجہ عفت صدیقی کے چترال پہنچنے کی اطلاع تھی جسے اے سی صاحب کی ذاتی گاڑی لا رہی تھی۔

اور شیخ جی کی کچے انڈوں والی ٹوکری ٹوٹ گئی تھی جس نے صرف پندرہ کلو میٹر پر محیط آدھ گھنٹے کی ڈرائیو میں انڈوں سے مرغیوں بھیڑ بکریوں گائے بھینسوں اور زراعتی فارم تک کے جان لیوا مرحلے پل جھپکتے میں سکھ سکون سے طے کر لیے تھے۔

” چلو دفع کرو۔ گولی مارو۔ چولہے میں پھینکو شہرت کو۔ آیون کی سیر کرتے ہیں۔“ میں نے اپنے آپ کی دلداری کی۔

پشاور روڈ پر کھڑے ہو کر وادی کے جس نظارے نے قلب و نظر کو جتنا مسحور کیا تھا وادی کے اندر اُتر کر اتنی ہی مایوسی ہوئی۔ گلیاں اور گھر پنجاب کے کسی اُجڑے پُجڑے گاؤں جیسے نظر آتے تھے۔ بے ڈھبے سلیقے طریقے اور صفائی ستھرائی سے عاری گھروں کے آنگن۔ پاؤں راستوں میں بکھری دھول مٹی میں اٹ گئے تھے۔ بہر حال میرے نصیب کا جو جو آب و دانہ جس جس گھر میں دھرا تھا وہ سب میں نے سمیٹا۔ کہیں نماز پڑھی کہیں چٹائی بنتے دیکھی۔ کہیں کسی نوزائیدہ بچے کے چہرے کو سرونگ ( بالوں کی صفائی کے لیے بکری کے جلے سینگوں کا پاؤڈر ) میں لت پت دیکھا۔ اور جب گھنٹے بھر کی آوارہ گردی کے بعد آئی۔ پروین کا غصہ ناک پر دھرا تھا۔ پوری بتیسی کھول کر میں نے اُسکے غصے کو شہد بھرے چمچ کی طرح حلق میں اُتار لیا تھا۔

ریت اور مٹی اُڑتی تھی۔ راستہ اکثر و بیشتر مقامات پر تنگ اور عمودی تھا کہ ذرا سی بے احتیاطی کسی حادثے کا فوری سبب ہو سکتی تھی۔ کٹے پھٹے بنجر اور پُر ہیبت پہاڑ سڑک کی بعض جگہوں پر ڈراؤنے جنوں کی طرح دانت نکوسے جیسے آپ کو اپنے آہنی پنجوں میں دبوچنے کے لیے تیار۔ جہاں چڑھائی کے موڑ آتے اور گاڑی ٹرن لیتی تو عقبی منظروں میں برفانی چوٹیوں کی ننگی وحشت بسا اوقات جسم پر لرزہ سا طاری کر دیتی۔ دریائے کالاش کی گہرائیاں کہیں بصارت میں اور کہیں اُس سے کوسوں پرے۔

مجھے دکھ ہوا تھا کیلاش کی وادیاں اپنے قدیم تہذیبی ورثے اپنے عقائد و رسوم اپنی پراسراریت اپنے انوکھے رنگوں ڈھنگوں اور پُر بہار تہواروں سے اندرون اور بیرون ملک سیاحوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں۔ کیا تھا جو سڑکوں کا ناک نقشہ ذرا ڈھنگ کا ہو جاتا۔

میں نے اب تک کے سفروں میں بالعموم ڈرائیوروں کو از خود ہی گائیڈ کے فرائض سنبھالتے ہوئے دیکھا تھا۔ پر میرے ساتھ بیٹھا ہوا یہ نوجوان سا لڑکا جس کی پیشہ ورانہ مہارت عمودی چڑھائیاں چڑھنے ریورس کرنے اور گاڑی سے بغل گیر ہونے کے لیے بیتاب چٹانوں کے شر سے اُسے محفوظ رکھنے میں بلا شبہ بہت مستند تھی سارے راستے جبڑوں کو یوں بھینچے بیٹھا تھا جیسے اُسے دندل کا دورہ پڑا ہو اور جس کی کھولائی بڑے سے چمچ کے بغیر ممکن ہی نہ ہو۔

نیچے چند زیر تعمیر عمارتوں کو دیکھ کر دوبارہ ان کے بارے میں پوچھا تھا۔ تب کہیں جا کر سنا کہ ”آیون کے لئے بجلی گھر زیر تعمیر ہے۔“ دو دریائی نالوں کے ملاپ کے بارے میں جاننے کا بھی یہی حال ہوا۔ مجھے تپ چڑھی۔ جھلا کر بولی۔

” گونگے کا گُڑ کھائے بیٹھے ہو۔ بتاتے نہیں۔ کچھ جاننے کے لیے یہاں خجل ہو رہے ہیں۔“
”نالہ بمبوریت اور نالہ ریمبور۔“ جواب میں بے نیازی سی بے نیازی تھی۔

پھر ایک پل پر کراسنگ ہوئی اور گاڑیاں دوباژ چیک پوسٹ پر رُک گئیں۔ یہاں تھوڑی سی شوٹنگ ہوئی۔ اس چیک پوسٹ کے پہلو سے ایک راستہ دائیں جانب ریمبور اور بائیں جانب والا بمبوریت کی طرح جاتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments