میرا جی کی شاعری میں مصطلحات موسیقی


پچیس اکتوبر انیس سو بارہ میں گوجرانوالہ کے ڈار خاندان کے سربراہ محمد مہتاب الدین کے گھر ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی جس کا نام انہوں نے محمد ثناءاللہ ڈار رکھا۔ محمد مہتاب الدین کو اس بات کا ذرا علم نہ تھا کہ ایک دن ان کا بیٹا معرا نظموں کا مستند حوالہ بنے گا، لیکن مشہور میرا جی کے نام سے ہو گا۔

میرا جی بحیثیت ایک تخلص کے سوا کچھ نہیں، مگر اس تخلص کے پیچھے کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ یہ کہانی میرا جی کے لڑکپن کی ہے جب انہوں نے ایک ”پارسی لڑکی میرا سین“ کو آنکھ بھر کے دیکھا اور ان کے دوستوں نے انہیں اس کے نام چھیڑنا شروع کر دیا۔ پھر کیا تھا ثناءاللہ ڈار نے خود کو میرا سین کے روپ میں ڈھال دیا اور اپنا تخلص ساحری سے میرا جی کر لیا۔

میرا جی کا ماننا تھا کہ: ”سب سے پہلے آواز بنی، آواز کے اتار چڑھاؤ سے سر بنے، سروں کے سنجوگ سے بول نے جنم لیا اور پھر راگ کی ڈوری میں بندھ کر بول گیت بن گئے۔“ ( 1 ) انہوں نے نا صرف معرا نظموں کی بنیاد میں سانچے کا کام کیا بلکہ اپنی شاعری میں کثرت سے مصطلحات موسیقی کو پیش کیا۔ درج ذیل میں ان کی چند نظموں کا جائزہ آپ کے سامنے پیش ہے۔

استھائی/ انترہ

استھائی سے مراد گیت کا شروعات مرحلہ جس کا آغاز راگ سے ہوتا ہے۔ کہیں کہیں گیت نچلے سروں میں اور کہیں کہیں اونچے سروں میں شروع کیے جاتے ہیں گیت کی ابتدا کو استھائی ہی کہیں گے۔ جیسے جیسے گیت بول کی طرف بڑھتا ہے استھائی سے انترہ کا سفر در پے ہوتا ہے۔ میرا جی نے استھائی اور انترہ کو اپنے کلام میں یوں برتا ہے کہ:

استھائی، انترہ، سنچاری،
چنچل ہنس مکھ ناری
اندر سبھا کی بہتی دھارا
گیت بھی پیارا، ناچ بھی پیارا ( 2 )

ترنم

ترنم ایسی مصطلحات موسیقی ہے جس میں آواز کا عمل دخل شامل ہوتا ہے جیسا کہ سریلی آواز میں گانا یا لحن کا ہو نا۔ ترنم ایسی شے ہے جو بنا روشنی کے ایک راہ بھٹکے مسافر کو اندھیری شب میں اس کو اس کی منزل مقصود تک پہنچا سکتی ہے۔ میرا جی کو ترنم سے خاصا شغف تھا اور خود گاتے بھی تھے۔ انہوں نے ترنم کو اپنی نظم ”اے لڑکی“ میں یوں برتا ہے :

بے خبری کے عالم میں اس ہلکے ہلکے جسم میں
بالوں کی لہروں کو سمو دے اپنے میٹھے ترنم میں ( 3 )

تان

تان موسیقی کی اصطلاح میں سروں کے اس مجموعے کو کہتے ہیں جس سے راگ بلند ہوتا ہے۔ ساز کے سروں کی آواز کا مسلسل اتار چڑھاؤ جو تیزی کے ساتھ ہو۔ گانے میں بلند آواز کو تان کہتے ہیں۔ میراچی نے تان کا ذکر اپنی نظم ”بعد کی اوڑان“ میں یوں کیا ہے۔

رات کے راستے میں چھوڑ گئی تھی وہ کہانی، جس کو
سننے والا یہ کہے گا مجھ سے
گیت میں ایسی لرزتی ہوئی تان کی حاجت ہی نہ تھی ( 4 )
اسی طرح اپنی اک اور نظم میں میرا جی لکھتے ہیں کہ
کان میں آئی تان سریلی، ایک پپیہا بول اٹھا
میرے من کی بات ہی کیا، سارا بن ہی ڈول اٹھا ( 5 )

راگ

راگ مختلف سروں کی ایک دلچسپ ترتیب کو کہتے ہیں جو انسانی کان پر اچھے اثر چھوڑ جاتا ہے۔ موسیقی کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ہر راگ دوسرے راگ سے مختلف ہوتا ہے اور ہر راگ کے گائے جانے کے مختلف اوقات مقرر ہوتے ہیں تاکہ یہ اپنے اثرات کو تابندگی بخشیں۔

”مطالعہ کے ساتھ ساتھ ان کے شوق کا دوسر امید ان موسیقی تھا۔ راگوں میں جے بے دنتی بہت پسند تھا۔ یہ راگ جب وہ گاتے یا سنتے تو رونے لگتے۔ کامی نے راگ شروع کیا میراجی پر آہستہ آہستہ جذب طاری ہونے لگا، یہاں تک کہ انہوں نے پلنگ کے پائے کے ساتھ سر مارنا شروع کر دیا۔ جے جے ونتی سن کر ان پر وجد طاری ہو جاتا۔“ ( 6 )

ہر لہر کا ہر لہر سے اپنا جدا اک رنگ تھا
کیوں کان کو دھوکا ہوا یہ راگ ہم آہنگ تھا ( 7 )

راگنی

راگوں کی جنس بھی ہوتی ہے۔ ان کو راگ اور راگنی کہا جاتا ہے۔ راگ اور راگنی کا فرق یہ ہے کہ راگ مذکر اور راگنی مونث ہے۔ جس طرح ٹھاٹھوں میں سے راگ نکالے گئے ہیں اس طرح راگوں میں سے راگنیاں نکالی گئی ہیں۔ دس ٹھاٹوں کے قائم کرنے کے بعد چھ راگ اور ان سے متعلق تیس راگنیوں کو قائم کر دیا گیا ہے۔ ان کے اس خاندان تک کو موسیقی میں بیان کیا گیا ہے۔ میرا جی نے راگنیوں کا ذکر اپنی نظم ”بیوپاری“ میں کچھ یوں کیا ہے :

جس بر بھی کوئی دکھ بیتے مجھ کو آ کے سناتا ہے
بپتا کی ہر راگنی میرے کان میں آ کر سناتا ہے ( 8 )

سر

آوازوں کی تقسیم کو سر کہا جاتا ہے۔ سر ایسی آواز ہوتی ہے جو ایک خاص فریکوینسی کے تحت گلے یا ساز سے نکلتی ہے اور راگ کو جنم دیتا ہے۔ فریکوینسی کے تبدیل ہوتے ہی سر بھی بدل جاتا ہے اور راگ بھی۔

کر لو جتنے ہیرے پھیرے بدلا کب اس گیت کا ڈھنگ
ہر پھر کر سر ایک لگے گا چاہے گاؤ جس کے سنگ ( 9 )

صدا

صدائے موسیقی ایسی آواز کو کہتے ہیں جو متناسب اور متواتر اثر پیدا کرے۔ اصول موسیقی کے لحاظ سے آواز کے دو حصے مانے گئے ہیں جن کو صدائے کرخت اور صدائے لطیف کہا جاتا ہے۔ صدائے لطیف موسیقی میں استعمال ہوتی ہیں۔ صدائے موسیقی کو نغمہ بھی کہتے ہیں۔ میراجی نے اپنی نظموں میں صدائے لطیف کا ذکر بھی کیا۔

سندر سانولی موہن غوری گود میں لیں کاندھے سے لگائیں
میٹھی، رسیلی، ہلکی ہلکی صدا میں لوری لوری گیت سنائیں ( 10 )

لے

لے کو موسیقی میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ موسیقی میں استعمال ہونے والی آواز میں خواہ وہ ساز کی ہو یا گلے سے نکلی ہو، ایک خاص آہنگ ہوتا ہے۔ ایک مخصوص توازن کو لے کہتے ہیں۔ لے کی اصطلاح کو بھی میراجی نے اپنی نظموں میں استعمال کیا ہے۔

چنچل کرنیں ہیں مدماتی
جیسے کوئی ناری اٹھلاتی
مدھم لے میں گیت سناتی بول ہوں پیارے پیارے ( 11 )

حوالہ جات

1- https://www.rekhta.org/quotes/geeton-ka-janam-meeraji-quotes/?lang=Ur
2 میرا جی، کلیات میرا جی، مرتبہ: ڈاکٹر جمیل جالبی، ص: 408
3 ایضا، ص: 125
4 ایضا، ص: 117
5 ایضا، ص: 168
6 رشید امجد، میراجی شخصیت اور فن، ص: 91
7 میراجی، کلیات میراجی، مرتبہ، ڈاکٹر جمیل جالبی، ص: 214
8 ایضا، ص: 459
9 ایضا، ص: 932
10 ایضا، ص: 940
11 ایضا، ص: 590

Facebook Comments HS