ایک اسٹوڈنٹ جس کا وجود اور ذہن ناکارہ ہو چکا ہے
مذہبی فکر کا شروع دن سے یہ دعویٰ ہے ” کہ جس کی بنیادوں میں مذہب داخل ہوتا ہے وہ اپنی باقی کی زندگی میں کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا ، زمانے کی تبدیلیاں اس کی فکر یا مائنڈ سیٹ کو تبدیل نہیں کر سکتیں“
اب گمراہی سے کیا مراد ہے یہ ذرا مشکل سوال ہے۔
کیا اپنا موقف تبدیل کرنا گمراہی ہے؟
یا زندگی کے مختلف پہلوؤں یا سوالوں کو مختلف اینگل سے دیکھنا یا ذرا سا ہٹ کے سوچنا گمراہی کے زمرے میں آتا ہے؟
یا مذہبی تشریحات کو پرکھنا یا جرح کرنا گمراہی تصور ہو گا؟
یا سائنسی فکر اختیار کرنے کو گمراہی جانا جائے گا؟
یا پھر دنیا میں تخلیق ہونے والے نئے فلسفے، فکر یا سوچ پر غور و خوض کرنے کو گمراہی کہا جائے گا؟
ہم مذہبی تناظر میں اس لفظ کا مفہوم جاننے کی کوشش کریں تو مذہبی مفکرین کے مطابق جو بندہ اپنے ”مڈھ یا بنیاد“ پر وہ کوئی سا مذہب یا فرقہ ہو سکتا ہے سے کبھی بھی منحرف نہ ہو۔
منحرف ہونے سے مراد کبھی سوال نہ اٹھائے اور اس سسٹم کی صداقت پر کبھی شک و شبہ میں مبتلا نہ ہو۔
اب یہ باتیں کہنے سننے میں تو بہت بھلی لگتی ہیں کہ مذہبی انسان دنیا داروں سے کہیں بہتر ہوتے ہیں، صوم و صلوٰۃ، پاکی ناپاکی کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں، معاملات میں بہت حد تک کھرے اور اجلے ہوتے ہیں اور مذہبی تعلیمات ان کو ایک بہترین انسان میں تبدیل کر دیتی ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کا ذہن زمانے کی ہوا لگنے سے بہکنے کی طرف آسانی سے مائل نہیں ہو پاتا۔
اس طرح کی مسحور کن سی باتیں تقریباً ہر روایتی شخص نے سن رکھی ہوں گی، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا ہی ہے؟ کیا عملی طور پر ایسا ممکن ہے؟ کیا آپ نے اس طرح کی کامل مخلوق کہیں دیکھی؟
بطور معلم میرے پاس اس طرح کی درجنوں کہانیاں موجود ہیں جو اوپر بیان کیے گئے بنیادی اصولوں کی نفی کرتی ہیں۔
تقریباً ہر تعلیمی سیشن میں میرا ٹاکرا کسی نہ کسی حافظ یا حافظہ سے ہو ہی جاتا ہے جن سے مجھے بھی سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
دلچسپی سے ان کے خیالات سنتا ہوں اور ابتدائی ماہ و سال جو انہوں نے مذہبی تعلیمات کی چھتر چھایا میں بسر کیے ہوتے ہیں ان کے متعلق جاننے کی کوشش کرتا ہوں، تقریباً ہر ایک سے میرا ایک ہی سوال ہوتا ہے
” کہ آپ نے اپنی زندگی کے انتہائی قیمتی ابتدائی سال جس مقصد کے لیے صرف کیے ہیں کیا وہ مقصد حاصل ہوا“ ؟ ان کے وہی روایتی سے جواب ہوتے ہیں بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ انہیں خود بھی اپنی ذات کے متعلق اس قدر آشنائی نہیں ہوتی کہ وہ واضح طور پر کچھ بھی بتا پائیں۔ لیکن کچھ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے متعلق کھل کے بتاتے ہیں جب ان کی کسی دکھتی رگ پر ہاتھ پڑتا ہے تو وہ شعلے کی طرح بھڑک اٹھتے ہیں۔
ان میں سے اکثر کا اپنے والدین سے یہی گلہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ہم سے کچھ بھی نہیں پوچھا۔ اپنی آخرت سنوارنے کی خاطر ہمیں حافظ عالم بنانے کے لیے مدارس کے حوالے کر دیا۔
اتنی لمبی تمہید کا مقصد آپ کے ساتھ ایک ایسے سٹوڈنٹ کی لائف سٹوری سانجھی کرنا ہے جو مذہبی بندوبست میں سے پاس آؤٹ ہونے کے باوجود بھی اپنی زندگی سے مطمئن نہیں ہے۔ وجودی طور پر ناکارہ ہو چکا ہے اور لمحہ موجود میں اس کا ذہن کسی بھی طرح کا فیصلہ لینے سے عاری ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ وہ دنیا میں اپنے وجود اور ذہن کے ساتھ ہی آیا تھا لیکن اس پر حکمرانی سماج نے کی ہے، اور اب وہ اس مقام پر کھڑا ہے کہ اسے اپنی زندگی کو برقرار رکھنا ہے یہ خاتمہ کر لینا چاہیے؟
والدین اور سماجی بڑوں کی انتہا پسندی نے اسے اس نہج تک سوچنے پر مجبور کر دیا۔ وہ کہتا ہے کہ میرے والدین کٹر قسم کے مذہبی ہیں اور ان کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے۔ انہوں نے تقریباً آٹھ نو سال کی عمر میں ہی اسے ایک کامل انسان بنانے کے لیے مدارس کے سپرد کر دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو حافظ عالم بنا کر امت کے لیے وقف کر دیں گے، جب میں نے اپنے والدین کے جذبے کو دیکھا تو پھر میں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی، مذہبی تعلیمات کے ساتھ ساتھ خود کو تقوی و طہارت کے اعلی ترین مقام تک لے جانے کے لیے تیاگ دیا۔
حفظ مکمل ہوا تو والد کے ذہن میں ایک اور خواب نے انگڑائی لے لی، انہوں نے مجھے چھٹی جماعت میں داخل کروا دیا اور کچھ عرصے کے بعد ڈائریکٹ نویں جماعت میں بٹھا دیا اور فرمانے لگے
” کہ بیٹا آپ نے اب عالم نہیں بننا بلکہ ڈاکٹر بننا ہے، کیا میرا سپنا پورا کرو گے؟“
میرے دماغ میں تو اندھیرا سا چھا گیا اور سوچنے لگا کہ کہاں وہ تقوی و طہارت اور پاکیزگی والی زندگی اور کہاں یہ دنیاوی تعلیم کا بیڑا اور وہ بھی ڈاکٹر بننے کا سپنا، سپنا بھی میرا نہیں بلکہ والد کا۔
یاد رہے کہ مجھے صالح نوجوان بنانے کا سپنا بھی انہی کا تھا اور اب ڈاکٹر بنانے کا بھی۔
اس سارے تناظر میں میری خود کی خواہش کہاں پر تھی میں نہیں جانتا تھا۔ تین بار میٹرک کا امتحان دینے کے باوجود بھی 900 کا ہندسہ عبور نہ کر پایا اور اسی دوران والد چل بسے، اب ان کے بعد والدہ کی حکمرانی میں چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا انٹرمیڈیٹ آئی سی ایس کے ساتھ کر لو لیکن اس مقام تک پہنچتے پہنچتے میں ذہنی اور جسمانی طور پر بالکل ناکارہ ہو چکا ہوں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ بہت کوشش کرتا ہے کہ تقوی و طہارت والی پاکیزہ زندگی گزارے لیکن فطرت کی منہ زور جبلت کے آگے مجبور ہے، جب والد زندہ تھا اسے بھی کہا تھا کہ وہ بالغ ہو چکا ہے شادی کر دو تاکہ گناہوں سے بچ سکوں اور اب والد کے بعد والدہ سے بھی ملتمس ہوں کہ براہ کرم شادی کر دیں۔
میری تقوی و طہارت والی ریاضت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ وہ سارا دن اپنے کمرے میں بند رہتا ہے، عبادات و تسبیحات میں مصروف رہنے کی کوشش کرتا رہتا ہے لیکن اب میرا نفس پوری طرح سے مجھ پر حاوی ہو چکا ہے۔
میں نے سوال کیا کہ مذہبی تعلیمات اور تسبیحات بھی تمہاری جبلت کو ٹھنڈا یا پرسکون نہیں کر پائی؟
اس نے انکار کرتے ہوئے سر ہلایا اور اپنی گردن شرم کی وجہ سے جھکا لی۔
میں اکثر اس سے مذہبی فکر اور مدرسہ کلچر کے متعلق سوال کرتا ہوں تو اس کے سامنے وہ سارے واقعات گھومنے لگتے ہیں جن کا وہ دوران تعلیم شاہد بن چکا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مذہبی لوگ ہی سب سے زیادہ بے خوف اور دنیا دار ہوتے ہیں، یہ تلقین تو ضرور کرتے ہیں لیکن خود عمل سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔
میں نے سوال کیا کہ تم نے فرسٹ ائر کا امتحان دے دیا ہے آگے کیا ارادے ہیں؟
کہنے لگا کہ مجھے پتا ہی نہیں ہے کہ خواہش کس چڑیا کا نام ہوتا ہے؟ تو میں خواہش کیسے کر سکتا ہوں؟ مجھے تو شروع دن سے پاکباز بنانے کے لیے ”اکیلا یا تنہا“ کر دیا گیا تھا، گھر سے نکلنے پر پابندی تھی اور اگر کبھی بھولے سے باہر چلے بھی گئے تو چھپ چھپا کے نگرانی ہوتی تھی کہ کہیں میں غلط لوگوں سے تو نہیں مل رہا۔
اسی ڈر اور خوف کی وجہ سے آج بھی میری آماجگاہ صرف میرا کمرہ ہے جس میں صبح سے شام تک قید رہتا ہوں۔
سوچ یا خواہش تو ان کی ہوتی ہے جنہیں کبھی سوچنے کا موقع دیا گیا ہو اور خواہش پوچھی گئی ہو۔
میں نے پوچھا کہ تمہارے تو ابتدائی ماہ و سال مذہبی تعلیمات و تربیت کی چھتر چھایا میں بسر ہوئے ہیں تمہارا اپنی ذات کے متعلق کیا خیال ہے؟ آیا کہ تم ایک بہتر اور صالح نوجوان بن پائے؟
خاصی دیر تک خاموش رہنے کے بعد اس نے جواب دیا
”نہیں“
زیادہ اصرار کرنے پر وہ صرف اتنا بتا پایا کہ خود کو ایک کامل انسان بنانے کے لیے اس راہ میں جتنی کاوشیں کی تھیں وہ فطرت کی منہ زور جبلتوں کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور آنکھوں میں آنسو لیے روانہ ہونے لگا تو میں نے کہا بس اتنا بتا دو کہ تمہیں کبھی دوبارہ زندگی ملے اور تمہیں چوائس بھی ملے تو پھر تم کس طرف جانا چاہو گے؟
میں سب سے پہلے دنیا اور اس کے تقاضوں کو سمجھنا چاہوں گا اور اس کے لیے مجھے دنیاوی علوم کا انتخاب کرنا ہو گا اور اگر مجھے دوبارہ زندگی ملی تو اپنی ابتدائی زندگی کے قیمتی ماہ و سال جس میں ذہن اور جذبے آہستہ آہستہ پھل پھول رہے ہوتے ہیں کو روایتی بندوبست کے حوالے نہیں کروں گا۔
اس وجہ سے نہیں کہ مجھے کوئی مذہب سے دشمنی ہے صرف اس وجہ سے کہ میں اپنی ذہنی صلاحیتوں کو پوری طرح سے کھلنے کا موقع فراہم کروں گا تاکہ جس بندوبست کی بھی پیروی کروں اس میں میری شعوری کاوش شامل ہو، میری اپنی مرضی ہو، زندگی اگر میری ہے تو اس کی باگ ڈور بھی میرے ہی ہاتھوں میں ہو۔
میں نے کہا کہ اگر زندگی میں کبھی والدین سے شکوہ و شکایت کا موقع ملے تو ان سے کس خواہش کا اظہار کرو گے؟ میں ان سے زیادہ کچھ تو نہیں کہوں گا بس اتنا کہوں گا کہ کیا وہ مجھے میرا بچپن لوٹا سکتے ہیں؟ میری زندگی کے انتہائی قیمتی ماہ و سال مجھے واپس کر سکتے ہیں؟ میری آنکھوں میں بسا ہوا بچپن کا ڈر ختم کر سکتے ہیں؟


