گود لینے کے لیے بچوں کی سمگلنگ میں پاکستان کی انٹری

پاکستان اور دنیا بھر میں امیر گھرانے اور بعض ممالک میں کوٹھے والے ایک خاص قیمت ادا کر کے بچوں کو گود لیتے ہیں۔ زیادہ تر یتیم اور بے سہارا بچوں کو سماجی ادارے اور ان کے رشتہ دار گود لینے والوں کو پیش کرتے ہیں۔ اس عمل سے بہت سارے بچے امیر والدین جن کے بچے نہیں ہوتے ان کے ہاں پرورش پاتے ہیں۔ اس وقت امریکہ میں سالانہ دس ہزار سے زیادہ اور فرانس میں ڈھائی ہزار سے زیادہ بچے سالانہ گود لیے جاتے ہیں۔ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی بچوں کو گود لینا کا عمل فروغ پا رہا ہے۔
گود لینا قانونی ہے مگر اس کی آڑ میں انسانی بچوں کی سمگلنگ کے مکروہ دھندے نے جنم لیا جس میں بہت زیادہ اضافہ ہونے لگا۔ امریکہ اور یورپ کے دیگر ممالک میں اس سلسلے میں بہت سخت قوانین رائج ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ انسانی سمگلر ان ممالک کا رُخ کرتے ہیں جہاں قانونی پابندیاں اور سختیاں نہیں ہیں یا پھر کاغذی خانہ پوری کی حد تک ہیں۔ آج سے تیس پینتیس برس پہلے اس مقصد کے لیے پولینڈ، کوریا، تھائی لینڈ اور افریقی ممالک کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ جہاں سے بچوں کو پندرہ سے بیس ہزار امریکی ڈالروں میں خرید کر یورپ اور امریکہ کے امیر خاندانوں کو دیا جاتا تھا۔ اس مقصد کے لیے ان ممالک میں چرچ کے زیر انتظام کام کرنے والے یتیم خانوں اور دیگر سماجی تنظیموں کا وہاں پر قیام عمل میں لایا گیا جو بچوں کو ان ممالک تک لے جانے کے لیے کاغذی کارروائی مکمل کرنے میں مدد فراہم کرتے تھے اور اس کے عوض بھاری رقم لیتے تھے۔ مگر ان ممالک میں قوانین سخت کر دیے گئے جس کے بعد ان انسانی سمگلروں نے ایشیائی ممالک کا رُخ جہاں سے یہ آسانی کے ساتھ اس کاروبار کو چلا رہے ہیں۔
جن ممالک میں قوانین موجود ہیں اور وہاں قانون کی عمل داری ہے ان ممالک سے بچوں کو دوسرے ممالک میں لے جانا ممکن نہیں رہتا۔ مگر جن ممالک میں قوانین نہ ہوں یا پھر قوانین کو آسانی کے ساتھ اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہو ان ممالک سے گود لینے کے لیے بچوں کی سمگلنگ کا فائدہ مند کاروبار زوروں پر ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے امریکہ میں اس پر تحقیقات کا آغاز ہوا۔ تو اس میں کچھ ایسے انکشافات ہوئے کہ جس نے انہیں اس مسئلہ کو سنجیدگی کے ساتھ دیکھنے پر مجبور کیا۔
پاکستان ان دنوں اس لیے بھی خبروں میں ہے کہ پاکستان کے ایف آئی اے جو انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے کام کرتی ہے نے امریکہ سے واپسی پر ایک معروف سماجی کارکن صارم برنی کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے امریکہ میں ایسے گود لینے والے بچوں کو جو پاکستان سے لیے گئے ان کے لیے اپنے ادارے کا استعمال کیا۔ اور ان بچوں کے بارے امریکہ کو فراہم کیے گئے کاغذات میں بتایا گیا ہے کہ وہ سارے بچے ان کے ادارے کے باہر کوئی چھوڑ گیا تھا جن کو انہوں نے ادارے میں پالا۔
یہاں تک تو بات ٹھیک لگتی ہے مگر جب امریکی حکام نے حکومت پاکستان کو اپنی تشویش اور ان تمام بچوں کے بارے میں یکساں معلومات دینے کے متعلق آگاہ کیا تو دعویٰ سامنے آیا ہے کہ یہ بچے یتیم بھی نہیں تھے اور نہ ہی بے سہارا تھے بلکہ والدین کو پیسے دے کر ان کو ان کے والدین سے لیا گیا تھا اور پھر امریکہ میں لوگوں کو گود لینے کے لیے ان کے کاغذات بنائے گئے تھے۔ یہ خبر اگر چہ اتنی بڑی نہیں ہے مگر یہ انگریزی مقولے کہ مطابق ”ٹپ اف دی آئس برگ“ ہے پاکستان میں ایسے سینکڑوں ادارے ہیں جو یتیم خانے چلاتے ہیں۔ اور پاکستان میں ان یتیم خانوں میں بچوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، ان ادارے کے پاس ایسے بچے بھی ہیں جو لوگ غربت کی وجہ سے پال نہیں سکتے اور ان کو ان اداروں کے حوالے کرتے ہیں۔ اور پاکستان میں تقریباً ہر ضلع اور گاؤں اور ہسپتالوں سے نوزائیدہ اور چھوٹے بچوں کے غائب اور چوری ہونے کے واقعات کثرت سے سننے میں آتے ہیں۔ یہ بچے بعد میں ان یتیم خانوں سے ہوں یا خریدے گئے ہوں ان کو امریکہ اور دیگر ممالک کے جوڑوں کو بیچا جاتا ہے۔ جس کے عوض میں پندرہ سے بیس ہزار ڈالرز لیے جاتے ہیں۔
یہی کام ان دنوں سری لنکا اور فلپائن میں بھی کیا جا رہا ہے۔ چلی، ارجنٹائن اور پیراگوئے بھی ان ممالک میں شامل ہیں جہاں سے شیر خوار بچے امریکہ پہنچائے جا رہے ہیں۔ بچوں کو گود لینا ایک نہایت ہی اچھا عمل ہے جس سے یتیم یا بے سہارا بچے کی بہتر انداز میں نگہداشت ہو سکتی ہے اور اسے بھی دنیا کی دیگر بچوں کی طرح گھر اور والدین میسر آسکتے ہیں۔ مگر اس نیک عمل کو اب ایک کاروبار بنا دیا گیا ہے۔
اس پر اقوام متحدہ کے اداروں اور دیگر سماجی تنظیموں نے بہت کام کیا ہے۔ مگر ہمارے ملک میں قانون کو اور نیکی کے کاموں کو کسی بھی جرم کے لیے بہت زیادہ آسانی کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس ملک میں غربت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے اس لیے والدین بچے فروخت بھی کرتے ہیں اور ان کی کفالت کی ذمہ داری نہ اٹھا سکنے کی وجہ سے وہ ایسے انسانی سمگلروں یا ان کے فرنٹ مینوں جو ان خیراتی اور رفاہی اداروں میں کام کرتے ہیں یا ان کو چلا رہے ہیں کے جھانسے میں آ جاتے ہیں کہ ان کے بچوں کو اچھا مستقبل ملے گا، اچھی تعلیم ملے گی اور ان کو فائدہ ہو گا۔
اس آڑ میں یہ اشخاص اور ادارے گود لینے والوں سے بہت زیادہ رقم لیتے ہیں اور یہی ان کا کاروبار ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ پاکستان کے شیر خوار بچے امریکہ کے شہری جوڑوں کو گود لینے کی گنجائش پاکستان کے قانون میں کیسے رکھی گئی ہے اور اگر دنیا کی دیگر ممالک کی طرح یہ گنجائش نہیں ہے تو کیسے سینکڑوں شیر خوار اور نوزائیدہ بچے پاکستان کے ائر پورٹس سے امریکہ پہنچائے جا رہے ہیں۔
ریاست کا پہلا کام اپنے شہری کی جان کی حفاظت ہوتی ہے۔ وہ بچہ جو یہاں جنم لیتا ہے اسے اس کی مرضی کے بغیر کیسے کسی دوسرے ملک کے باشندوں کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ اس بچے کے ساتھ کوئی غیر انسانی سلوک نہیں کریں گے۔ اس کے اعضا فروخت نہیں کریں گے، اسے کسی غیر قانونی یا غیر اخلاقی کام کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔ اس کا مذہب تبدیل نہیں کریں گے۔ اس کی شناخت تبدیل نہیں کریں گے۔ اس لیے کہ جب ایک دفعہ وہ آپ کے ملک کے حدود سے نکل گیا تو آپ کے پاس کون سا ذریعہ ہے جس کو استعمال کر کے آپ اپنے اس شہری کے حقوق یقینی بنا سکتے ہیں یا پھر اسے قانونی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
ہر فلاحی کام کرنے والا چند برسوں میں بے پناہ دولت کا مالک بن جاتا ہے۔ اور اس فلاحی کام کی آڑ میں نہ کوئی ٹیکس بھرتا ہے اور نہ ہی کسی قانون کو جواب دہ ہوتا ہے۔ جس سے معاشرے میں ایک ایسا گروہ جنم لے رہا ہے جو اس نیک کام کو کمائی کا ذریعہ بنا رہا ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ دنیا میں فلاحی کام کرنے والوں کی سخت ترین نگرانی ہوتی ہے خصوصاً مالی معاملات میں ان کے لیے بہت زیادہ سخت قوانین ہیں۔ انہیں ہر برس ایک ایک پائی جو انہوں نے چندے میں لی ہو یا پھر کسی بھی ذرائع سے پیدا کیے ہوں ان کا سورس بتانا پڑتا ہے اور اس کا ریکارڈ رکھنا پڑتا ہے۔
اس ملک میں بے شمار لوگ ہیں جو فلاحی کام کرتے ہیں ادارے ہیں جو انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں اور بے لوث کر رہے ہیں۔ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ مگر نظام کو درست رکھنے اور اس سے غیر قانونی فائدہ اٹھانے والوں کو اس عمل سے دور رکھنے کے لیے ان کے لیے قوانین بنانا بہت ضروری ہیں۔ ان کو دنیا کی دیگر ممالک کی طرح ایک نظام کا پابند بنایا جائے اور اس ملک میں فوراً یہ قانون پاس کیا جائے کہ اس ملک کے باشندے کسی بچے کو کسی بھی دوسرے ملک کے لوگوں کو گود لینے کے لیے نہیں دیا جا سکے گا۔
اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہمارا ملک دنیا کو بچے فراہم کرنا والا سب سے بڑا ملک بن جائے گا اور اس جدید دور میں بھی ہمارے بچے دنیا کی بلیک مارکیٹ میں بکنے کے لیے دستیاب ہوں گے۔ بچوں کے اغوا، فروخت اور اسمگلنگ جیسے جرائم کے نتیجے میں گود لینا، گود لینے کے عمل میں دھوکہ دہی، سرکاری دستاویزات میں جعل سازی اور زبردستی اور اس سے منسلک دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کرنا حکومت کا فرض ہے۔ امریکہ میں بہت سارے پاکستانی نام نہاد سماجی ادارے پاکستانی بچوں کو گود لینے والے خاندانوں کو تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔
بہت سارے لوگ جو پاکستان میں بچے گود لے رہے وہ اس بچے کے لیے امریکی گود لینے والے خاندان ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ اس عمل سے پاکستان کی کتنی بدنامی ہو رہی اس کا اندازہ آپ یہاں بیٹھ کر نہیں لگا سکتے۔ اب جب دنیا کی رسائی ڈارک ویب تک ہے جہاں یہ ایک باقاعدہ کاروبار کی شکل میں موجود ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں کرپشن کے ذریعہ یا رشوت دے کر آپ کچھ بھی کر سکتے ہوں وہاں سے ان بچوں کی سمگلنگ اور انہیں عالمی مارکیٹ میں بیٹھے ہوئے بردہ فروشوں کے ہاتھوں فروخت کرنا اب بہت آسان ہو گیا ہے۔ اور اس کام میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایلیٹ کلاس کے لوگ بھی ہیں۔ اس حقیقت کا وقت پر ادراک ضروری ہے اور اس موضوع پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ لوگوں کو آگاہی ہو اور لوگ اس مسئلہ کی حساسیت اور شدت کو جان سکیں۔ اور اس عمل کو اجتماعی اور حکومتی کوششوں سے روکا جا سکے۔
وہ سارے فراڈ جو دنیا میں آج سے نصف صدی پہلے ہوتے تھے۔ اور اب وہاں لوگ ان کی حقیقت پہچان گئے ہیں۔ وہ اب سارے پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ لیکن ہمارا میڈیا اور ہمارا سماجی نظام اس قابل نہیں ہے کہ بروقت اپنے شہریوں کو ان فراڈز سے بروقت خبردار کرسکے۔ پاکستان میں اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ یا زیادتی کا ازالہ کرنا تقریباً عملاً ناممکن ہے۔ اس لیے کہ نظام میں اول تو آپ ان کو رپورٹ کرنے کے لیے جتنے جتن کریں گے وہ کسی عام انسان کی بس میں نہیں ہوتے اس کے بعد پرانے اور بوسیدہ قدیم پولیسنگ کے نظام میں اتنی سکت ہی نہیں ہے کہ وہ ان فراڈز پر کارروائی کرسکے یا ان کو قانون کی گرفت میں لا سکے۔ انسانی سمگلنگ بھی ایسا ہی ایک جرم ہے جس میں ملوث لوگ دن کی روشنی میں قانونی اداروں کے ہوتے ہوئے اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں لیکن قانون اور نظام ان کو کچھ نہیں کہتا بلکہ یہ سمگلر قانون کا استعمال کر کے اپنا کام نہایت سہولت اور آسانی کے ساتھ کر جاتے ہیں۔
نوزائیدہ بچوں کی سمگلنگ اور اس کام میں مدد فراہم کرنے والوں اور اس کام سے مالی فائدے اٹھانے والوں کے خلاف فوری کارروائی شروع کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ جب بات یتیموں، بے اسرا اور غربت کی وجہ سے والدین کے فروخت کیے گئے بچوں کی سمگلنگ تک آ گئی ہے تو سمجھ لیں پانی سر سے اوپر آ چکا ہے۔ ایسے تمام این جی اوز اور سرکاری اداروں کو جو یتیموں اور بے سہارا لوگوں کی کفالت کرتے ہیں ایک مربوط نگرانی کے نظام سے نتھی کیا جائے کہ ان مشکل میں گرفتار بچوں اور خواتین کا مزید استحصال نہ ہو سکے۔ ہمارے ملک میں یتیم خانوں اور دار الامانوں کے متعلق گاہے بہ گاہے جو خبریں آتی ہیں ان کو پڑھ اور سن کر اپنے انسان ہونے پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اور ہمارے معاشرے اور نظام کی بدبو روح تک اترتی محسوس ہوتی ہے اور اس تعفن سے ضمیر کا دم گھٹنے لگتا ہے۔

