ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
غالباً 2012 ء کے اوائل کی بات ہے میں اُن دنوں گورنمنٹ ہائی سکول چک نمبر 171 /EB ضلع وہاڑی میں بطور ہیڈ ماسٹر کا کام کر رہا تھا کہ ملتان بورڈ کی طرف سے ایک خط موصول ہوا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر جرمانے کی رقم متعلقہ بورڈ کو جمع نہ کروانے کی صورت میں جماعت نہم اور دہم کے طلباء کو رول نمبر سلپس ایشو نہیں کی جائیں گی۔ جرمانہ شدہ رقم کا درست عدد تو اس وقت میرے ذہن میں نہیں ہے لیکن خاصی بڑی رقم تھی۔ جو سکول فنڈ میں بھی موجود نہیں تھی۔
یاد رہے کہ یہ جرمانہ لیٹ فیس کی مد میں کیا گیا تھامیں نے فوراً ہی متعلقہ ٹیچر کو بلایا بورڈ کے متعلقہ تمام امور کی ذمہ داریاں جن کے سپرد کی گئی تھیں اور بورڈ کی طرف سے موصول ہونے والا محبت نامہ اُن کے سامنے رکھ دیا۔ انہوں نے ایک دو بار اسے بغور پڑھا اس کے بعد خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد واپس آئے اور جواب آں غزل کے طور پر انہوں نے بھی پچھلی تاریخوں میں بورڈ کی طرف سے موصول شدہ ایک خط میرے سامنے رکھ دیا۔
جس میں طلباء کے داخلہ فارم بھجوانے کی جملہ ہدایات درج تھیں۔ اس خط میں پروسیسنگ فیس ایک سو روپیہ فی طالب علم تو بورڈ کو بھجوانے کا حکم صادر فرمایا گیا تھا۔ لیکن یہ فیس کب تک بھجوائی جا سکتی ہے۔ اس کا تذکرہ کہیں موجود نہیں تھا۔ اپنی ہیڈ شپ کے دورانیے میں میرا ہمیشہ سے ہی یہ وتیرہ تھا کہ میں جملہ امور کے لیے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق موزوں ٹیچرز کی ڈیوٹیاں لگا دیا کر تا تھا اور خود اُن کے کام میں کبھی مداخلت بھی نہیں کیا کرتا تھا۔
ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے پڑھتے پڑھانے کے علاوہ کلرکی وغیرہ سے متعلق دوسرے کاموں کے متعلق نہ ہی تو کچھ خاص علم تھا اور نہ ہی میں نے کبھی انہیں سیکھنے کی کوشش کی۔ اس طریق کار کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ متعلقہ ٹیچرز اپنی ذمہ داریوں کو بڑی محنت سے نبھایا کرتے۔ ہاں اگر کہیں گڑ بڑ ہو جاتی تو پھر میں اُسے سلجھانے کے لیے اپنا کردار ادا کر لیا کرتا تھا۔ جیسے کہ اب ہو چکی تھی آپ کے لئے یہ بات بھی حیراں کن ہوگی کہ اس سال تمام تعلیمی بورڈ امتحان لینے والے طلباء سے داخلہ فیس کی مد میں کچھ بھی وصول نہیں کر رہے تھے۔ گو یا کہ اُس سال داخلہ فیس ختم کر دی گئی تھی۔ صرف پروسیسنگ فیس کے نام پر ہر طالب علم سے سو روپے وصول کیے جا رہے تھے اور ہم اسی کی زد میں آ چکے تھے۔
اس سال داخلہ فیس معافی کا پس منظر بھی بتاتا چلوں۔ 2005ء سے 2011ء تک میں گورنمنٹ ایم سی ماڈل ہائی سکول بوریوالہ میں بطور ڈپٹی ہیڈماسٹر تعینات رہا یہ بھی ایک ہومیو پیتھک سی پوسٹ تھی جس کی ذمہ داریوں کا کوئی تعین نہیں کیا گیا تھا۔ ٹیچر انہیں اپنی برادری میں شمار نہیں کیا کرتے تھے اور ہیڈ ماسٹر انہیں اپنی کلاس سے باہر سمجھا کرتے تھے۔ لیکن اس سب کے باوجود میں نے یہاں پر بھی ایک بھر پور کردار ادا کیا۔
اُن دنوں تعلیمی بورڈ کی طرف سے آنے والے مراسلوں کو دیکھ کر مجھے بڑی شدت سے احساس ہوا کہ ان اداروں کا بنیادی مقصد شاید تعلیم کو فروغ دینے کی بجائے اب صرف پیسے اکٹھا کرنا ہی رہ گیا ہے۔ جب تاجر طبقہ برسراقتدار آتا ہے تو سرکاری اداروں کی سوچ بھی تاجرانہ ہوجاتی ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یونیورسٹی یا کالجز میں داخلے کے لیے صرف ایک صفحے پر مشتمل ایک فارم درکار ہوا کرتا تھا۔ جو عموماً دفتر سے مفت میں ہی مل جایا کرتا تھا۔
لیکن جب انہی اداروں پر تاجر حکمران اشرافیہ کی سوچ کے اثرات مرتب ہوئے تو ایک تعلیمی ادارے میں صرف داخلے کی درخواست گزارنے کے لیے ڈیڑھ دو ہزار روپے پراسپکٹس اور تقریباً اتنی ہی رقم داخلہ ٹیسٹ کے نام پر اکٹھے کی جانے لگی اور عام لوگوں کے لئے ان تعلیمی اداروں میں داخلے کے لئے درخواست گزارنا بھی مشکل ہوتا چلا گیا۔ یہی رویہ ایجوکیشن بورڈ کا تھا یوں لگتا تھا کہ اُن کی جانب سے آنے والے خطوط تعلیم سے منسلک کسی ادارے کی طرف سے نہیں آ رہے ہیں بلکہ کسی ایسے ادارے کی طرف سے آرہے ہیں۔ جس کا بنیادی مقصد صرف اور صرف پیسے اکٹھا کرنا ہیں۔
بہر حال میں نے اپنی سطح پر اس کے خلاف جدوجہد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے قومی سطح پر شائع ہونے والے مختلف اخبارات میں اس موضوع پر کالم لکھ کر اس کا آغاز کیا۔ اُن دنوں میں عموماً نوائے وقت ملتان میں کبھی کبھار لکھ دیا کرتا تھا۔ میں نے نوائے وقت ملتان اور خبریں ملتان میں اس موضوع پر بار بار اس لیے لکھا کہ ہمارا متعلقہ ایجوکیشن بورڈ بھی ملتان میں ہی ہے۔ شاید ان تحریروں کی وجہ سے ہی ان کے طرزِ فکر و عمل میں کوئی تبدیلی آ جائے۔
لیکن نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات رہا۔ ارشاد احمد حقانی اُن دنوں روزنامہ جنگ میں لکھنے والے ایک مشہور و معروف کالم نگار تھے۔ میں نے اس موضوع پر انہیں ایک تفصیلی مراسلہ تحریر کیا اور اپنے موقف کی وضاحت کے لیے بورڈ کی طرف سے آنے والے مراسلہ جات بھی ساتھ لف کیے گئے۔ یہ مراسلہ 30 اور 31 مئی 2009ء کو ان کے کالموں میں شائع ہوا۔ چند ایک مندرجات کا یہاں بھی ذکر کر تا چلوں۔ جونہی ایک طالب علم جماعت نہم میں داخل ہوتا ہے تو سکول میں داخلہ کے وقت ایجوکیشن بورڈ کو 400 روپے رجسٹریشن فیس کی ادائیگی کر کے اس کی طرف سے قدم قدم پر عائد کی جانے والی فیسوں اور جرمانوں کے ایک لامتناہی سلسلہ میں ایسا پھنستا ہے کہ مدتوں رہائی نصیب نہیں ہوتی۔
اس سلسلہ میں بورڈ کے احکام ملاحظہ فرمائیں۔ رجسٹریشن ریٹرن میں کسی قسم کی قطع برید کرنے کی صورت میں 300 روپے فی غلطی درستی فیس ریٹرن کے ہر صفحہ پر سربراہ ادارہ کے دستخط یا مہر نہ ہونے کی صورت میں 300 / روپے فی غلطی کوئی کالم خالی رہ جانے پر 300 / روپے فی غلطی جرمانہ سیریل نمبر غلط ہونے کی صورت میں 300 / روپے فی غلطی فارم داخلہ پر کرتے وقت اگر طالب علم سے کٹنگ اوور رائٹنگ یا کوئی اور غلطی ہو جائے تو اس سے بھی 300 / روپے فی غلطی جرمانے کے وصول کیے جاتے ہیں اور جب بورڈ خود ایسی غلطیاں کرتا ہے تو اس پر بورڈ کے قوانین خاموش ہیں۔ اس سلسلے میں اپنے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعہ بیان کرتا چلوں۔
اسی دورانیے کا ذکر ہے ہم نے جماعت نہم او ر دہم کے داخلہ فارم بورڈ کو بھجوائے تو چند دنوں بعد بورڈ کی طرف سے ایک خط موصول ہوا کہ آپ کی طرف سے بھجوائے گئے داخلہ فارموں میں غلطیاں پائی گئی ہیں۔ بورڈ قوانین کے مطابق اُن غلطیوں کا جرمانہ تیس ہزار روپے ایک ہفتہ کے اندر اندر بورڈ کے کھاتے میں جمع کروا کر رسید ہمیں بھجوائی جائے ورنہ طلباء کو رول نمبر سلپس ایشو نہیں کی جائیں گی۔ خیال رہے کہ یہ داخلہ فارم طلباء کو خود ہی پر کرنا ہوتے تھے اور پہلی دفعہ فارم پر کرنے پر طلبا سے غلطی ہوجانا ایک عام فہم بات تھی۔
ہم نے اس جرمانے سے جان چھڑانے کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارے لیکن ہمارے دوسرے ملکی قوانین کی طرح جن کا سارے کا سارا زور صرف کمزور پر ہی چلتا ہے۔ بورڈ کے قواعد و ضوابط نے اجازت نہ دی اور مجبوراً ہمیں تیس ہزار کی خطیر رقم جرمانے کے طور پر بورڈ کو ادا کرنا پڑی۔ غصہ تو بہت آیا لیکن وہی بات کہ کمزور کے غصے کی پرواہ کس کو تھی۔ بہر حال بات آئی گئی ہو گئی اگلے سال ہم نے بورڈ کو جماعت نہم کے طلباء کی رجسٹریشن کے لیے ریٹرن بھجوائی بورڈ نے اُن کی رجسٹریشن کر کے جو فہرست ہمیں ارسال کی اس میں بھی بہت سی غلطیاں موجود تھیں۔
اس فہرست میں موجود غلطیوں کی درستی کے بعد اس درستی کا بورڈ میں درست اندراج کروانے کے لیے فہرست دوبارہ تیار کر کے سائن ہونے کے لیے میرے پاس آئی تو میں نے متعلقہ آدمی سے کہا کہ بورڈ کی طرف سے کی جانے والی غلطیوں کا شمار کر کے 600 / روپے فی غلطی کے حساب سے بورڈ سے جرمانہ وصولی کا تقاضا کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں میں نے چیئرمین بورڈ کے نام ایک لیٹر بھی ڈرافٹ کروا دیا جس کا لب لباب یہ تھا کہ ہمارا ادارہ تعداد کے لحاظ سے آپ کے تحت آنے والے تمام سکولوں سے سب سے بڑا ادارہ ہے اور اس ادارے کا قانون ہے کہ بورڈ اس ادارے سے خط و کتابت کے دوران جتنی بھی غلطیاں کرے گا بورڈ کے قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سے 600 / روپے فی غلطی جرمانہ وصول کیا جائے گا۔
بورڈ کی طرف سے بھیجی گئی رجسٹریشن ریٹرن میں 300 غلطیاں موجود پائی گئیں ہیں اور اس فہرست میں مذکورہ غلطیوں کی نشان دہی کر کے درستی بھی کر دی گئی ہے۔ حسب ِ ضابطہ ان 300 غلطیوں کا 600 روپے فی غلطی کے حساب سے ہمیں ایک لاکھ اسی ہزار روپیہ جرمانہ ادا کیا جائے۔ یاد دہانی کے لئے عرض یہ ہے کہ ہم ایجوکیشن بورڈ کو اسی مد میں پچھلے سال تیس ہزار روپے کی رقم جمع کروا چکے ہیں اور ایک غلطی کا جرمانہ بورڈ کی نسبت دو گنا زیادہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ داخلہ فارم تو بچوں نے خود پر کرنا ہوتے ہیں۔ جو وہ اپنی زندگی میں پہلی بار پر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کہ رجسٹریشن ریٹرن بورڈ کے ہزاروں روپے ماہانہ تنخواہ وصول کر نے والے کہنہ مشق ملازمین تیار کرتے ہیں جن سے غلطی کے امکانات طلبا کی نسبت نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جب میں اس خط کی ڈرافٹنگ ختم کر چکا تو متعلقہ استاد نے میری طرف کچھ ایسی نظروں سے دیکھا جیسے کہ اُسے میری ذہنی صحت پر شک ہو۔ وہ کچھ دیر تک ایسی ہی نظروں سے مجھے گھورتا رہا پھر بولا کہ سر یہ مسئلہ تو سب سکولوں کے ساتھ ہے۔
آپ اپنے اڑوس پڑوس کے سکولوں کے ہیڈز سے ڈسکس کر لیں اور اگر وہ سب متفق ہو جائیں تو پھر یہ کام سبھی لوگ اجتماعی طور پر شروع کر دیں۔ مجھے اس کی تجویز اچھی لگی اور میں نے انہی خطوط پر کام شروع کر دیا۔ لیکن پندرہ بیس ہیڈز سے گفتگو کرنے کے بعد مجھے بذات ِ خود بھی اپنی ذہنی صحت کے بارے میں کچھ شکوک و شبہات سے پیدا ہونے لگے اور میں نے بھی یہ سوچنا شروع کر دیا کہ شاید میں ہی غلط سوچ رہا ہوں۔ کیوں کہ کسی ایک نے بھی میری رائے سے اتفاق نہیں کیا۔
بس سب کی ایک ہی رٹ تھی بورڈ ہمیں جرمانہ کیسے ادا کرے گا اور اس ضمن میں میری ساری دلیلیں، تاویلیں، منطق قانون اور انصاف کے تقاضے سبھی کو رد کر دیا گیا اور میں بھی ایک شریف ملازم کی طرح خاموشی سے یہ ظلم برداشت کر کے اُن لوگوں کی صف میں شامل ہو گیا۔ جو اس ظلم کو ظلم تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ میں اور ہی طرف نکل گیا بات ہو رہی تھی ارشاد حقانی صاحب کو لکھے گئے مراسلے کے چند اقتباسات کی جس میں میں نے صرف چند ایک ہی نامناسب جرمانوں اور فیسوں کی وصولی کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد بھی اسی قسم کی مختلف مدات میں جرمانوں، فیسوں اور لیٹ فیسوں کی ایک طویل فہرست تھی جسے پڑھ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان تعلیمی بورڈز کا اصل کام تعلیم کے شعبے میں مدد اور سہولت کاری نہیں ہے بلکہ مختلف حیلوں بہانوں سے پبلک سے فیسوں اور جرمانوں کی شکل میں رقوم وصول کر کے اُن کی کھال اتارنا ہے۔
حقانی صاحب نے شروع میں میرے اس مراسلے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔ مجھے خالد جاوید صاحب کی طرف سے ایجوکیشن بورڈز سے شکایت پر مشتمل ایک مراسلہ موصول ہوا تھا۔ میں نے وہ مراسلہ اسی طرح جواب دہی کے لیے لاہور بورڈ کے کنٹرولر امتحانات کو بھیج دیا تھا۔ ”یہاں جناب خالد جاوید صاحب کی شکایت اور لاہور بورڈ کے کنٹرولر امتحانات کا جواب شائع کر رہا ہوں۔ میں بورڈ کے جواب سے کچھ ایسا مطمئن نہیں ہوا اور میری رائے میں شکایت کنندہ نے جو تفصیل درج کی ہے اس پر طلباء و طالبات کے مفاد میں نظر ثانی ہونی چاہیے۔
میاں شہباز شریف تعلیم پر بڑی توجہ دیتے ہیں اور خاص طور پر تعلیم کے میدان میں استحصال کے سخت مخالف ہیں۔ میں اُن کی توجہ کے لیے شکایت اور اس کا جواب دونوں درج کر رہا ہوں۔ اس کے بعد میرا تفصیلی مراسلہ اور اس پر کنٹرولر امتحانات کا جواب دو دنوں تک حقانی صاحب کے کالم میں شائع ہوتا رہا۔ بدیہی طور پر میری ہمدردیاں شکایت کنندہ خالد جاوید صاحب کے ساتھ ہیں“ ۔ اب جنگ اخبار میں ارشاد احمد حقانی کی رائے اور شہباز شریف سے تخاطب ان سب عوامل کا فوری رد عمل یہ ہوا کہ باقی فیسوں اور جرمانوں کا تو شاید کچھ نہیں کیا گیا۔
لیکن اس سال تمام امتحان دینے والے بچوں کی داخلہ فیس معاف کر دی گئی۔ بہت بڑا قدم تھا بڑی بلے بلے ہوئی۔ لیکن عام پبلک اور طلباء کو حسب ِ روایت ریلیف ملنے کی بجائے تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ کیوں کہ اس امتحان کے بعد جب بورڈ نے نتائج کا اعلان کیا تو رزلٹ کارڈ کی فیس 500 روپے مقر ر کر دی۔ اب ہر طالب علم کو رزلٹ کارڈ کے حصول کے لیے بورڈ کو 500 روپے کی ادائیگی کرنا لازمی قرار دے دیا گیا۔ پہلے پرائیویٹ طلباء کے رزلٹ کارڈ مفت ہی ان کے گھروں میں اور دیگر طلباء کے ان کے سکولوں میں بذریعہ ڈاک پہنچ جایا کرتے تھے۔
پرائیویٹ طلباء کے لیے نیا وضع کر دہ طریق کار یہ رکھا گیا۔ کہ وہ بذاتِ خود بورڈ کے دفتر میں حاضر ہوں۔ وہاں پر 500 روپے کی ادائیگی کریں اس کے بعد اپنی شناخت کروائیں اور پھر اپنا رزلٹ کارڈ وصول کریں۔ اس طریق کار سے طلباء کو جس خجل خواری کا سامنا کرنا پڑا اس کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ ملتان آنے جانے کا کرایہ اور اس سے متعلقہ دوسرے اخراجات اس کے علاوہ تھے اور سرکاری سکولوں میں اس تاکید کے ساتھ رزلٹ کارڈ بھجوا دیے گئے کہ ہر ایک طالب علم سے 500 / روپے وصول کر کے فوری طور پر بورڈ کو ارسال کیے جائیں۔
اب یہاں پر ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ جب سکول والے طلباء یا اُن کے والدین سے رزلٹ کارڈ کے عوض 500 روپے رزلٹ کارڈ فیس کا مطالبہ کرتے۔ تو عمومی طور پر تاثر یہ بنتا کہ سکول والے رزلٹ کارڈ دینے کے عوض 500 روپے رشوت طلب کر رہے ہیں۔ تقریباً پورا سال ہی سکولوں اور بورڈز کے دفاتر میں یہ پھڈے بازی چلتی رہی۔ حالاں کہ اُن دنوں ایک طالب علم کی داخلہ فیس 400 روپے فی کس تھی۔ جس کو سرکاری طور پر معاف کر کے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری گئی تھی۔ لیکن اس معافی کے عوض طلباء کو رقم بھی زیادہ خرچ کرنا پڑی اور خجل خواری اور تکلیف اس کے علاوہ اُن کے حصے میں آئی سرکاری سطح پر پبلک کو دی جانے والی ساری کی ساری سہولیات کا حشر عموماً یہی ہوا کرتا ہے بس طریقِ کار اپنا اپنا ہے۔
ہاں تو بات ہو رہی تھی گورنمنٹ ہائی سکول چک نمبر 171 ای بی کے طلباء کو ایک سو روپے پرسیسنگ فیس کے تاخیر سے جمع کروانے پر بورڈ کی طرف سے بھاری لیٹ فیس کی ادائیگی کے مطالبے کی مجھے اس بات کا احساس تھا کہ بچوں کو ہونے والا یہ جرمانہ ہماری کوتاہی سے ہوا ہے۔ اس لیے اس کا تدارک بھی ہمیں ہی کرنا ہو گا۔ اس لیے میں نے چیئرمین بورڈ سے فون پر رابطہ کیا اور اس سے بڑے ہی مسکینانہ، عاجزانہ، غریبانہ اور فدویانہ انداز میں لیٹ فیس معافی کے لیے درخواست کی لیکن صاحب نے بڑے ہی بے رحمانہ انداز میں قاعدے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے صاف انکار کر دیا۔
اب میں نے اردگرد اور ضلع کے باقی سکولوں سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ ہماری طرح اور بھی بہت سے سکول لیٹ فیس کی چھری تلے آئے ہوئے ہیں۔ میں نے ایسے سکولوں کی ایک فہرست تیار کرلی۔ اگلے دن پھر جناب چیئرمین سے رابطہ کیا اور ایک بار پھر انہیں لیٹ فیس معافی کی اپیل کی۔ اُن کا جواب حسب ِ توقع اصول و ضوابط اور قواعد و قانون اجازت نہیں دیتے۔ اس کے بعد اس اصل موضوع پر آ گیا۔ میں نے انہیں اپنے اردگرد کے آٹھ دس سکولوں کے نام بتا کر کہا کہ یہ سکول بھی ہماری طرح جرمانے کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ ان سکولوں کے طلباء اور اُن کے والدین کو پتہ نہیں کس نے بتایا ہے کہ میں اس جرمانہ معافی کے لیے کوشش کر رہا ہوں اور وہ آج سو کے قریب لوگ اکٹھے ہو کر میرے سکول میں یہ پتہ کرنے آئے ہیں کہ کیا بنا۔ میں نے انہیں بتا دیا کہ چیئر مین کو قواعد و ضوابط لیٹ فیس معافی کی اجازت نہیں دیتے اور اس سلسلے میں اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ اب وہ کل باقی لوگوں کو بھی ساتھ لے کر آپ کے دفتر میں آ کر وہاں دھرنا دینے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔
میں نے سوچا کہ آپ کو مطلع کردوں تاکہ آپ اس سلسلے میں مناسب انتظامات کر لیں۔ یہ سنتے ہی وہ گھبرا گیا بولا ان کو روکو۔ اب وہ رکیں گے نہیں صرف ایک ہی صورت ہے لیٹ فیس معافی اچھا یار تم انہیں ہر حال میں روکو۔ اس کی بھی گنجائش نکالتے ہیں ابھی تو اُن کو روکو۔ میں نے اُسے دو ٹوک انداز میں بتایا کہ چیئر مین صاحب یہ ایک فیکس نمبر نوٹ کر لیں اگر تو اس نمبر پر ایک گھنٹے کے اندر ہی اندر لیٹ فیس معافی کا مراسلہ وصول ہو گیا تو یہ لوگ خاموشی سے گھر چلے جائیں گے ورنہ بسوں کا انتظام یہ لوگ آج کر چکے ہیں۔
کل یہ آپ کے دفتر میں ہوں گے یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا اور اس کے ٹھیک پندرہ منٹ بعد مجھے بوریوالہ سے ٹیلی فون آیا کہ بورڈ کی طرف سے لیٹ فیس معافی ایک مراسلہ بذریعہ فیکس موصول ہوا ہے۔ کہ تمام سکولوں کو لیٹ فیس معاف کر دی گئی ہے۔ ویسے میرا دل بڑا کر رہا تھا کہ چیئر مین صاحب سے پوچھوں کہ اب وہ قاعدے اور قانون کہاں گئے۔ وطن ِ عزیز میں یوم اول سے ہی یہی طاقت کا اصول لاگو ہے۔ طاقت یہاں پر سب سے بڑا قانون ہے باقی سب قاعدے قانون اسی کے تابع ہیں۔


