مودی جی کی الٹی گھڑی

محمد حنیف - صحافی و تجزیہ کار


یہ اس وقت سے پہلے کی بات ہے جب مودی جی نے کھل کر کہنا شروع کر دیا تھا کہ کبھی کبھی لگتا ہے اپن ہی بھگوان ہے۔

وزیر اعظم بننے کے بعد ان کا پہلا امریکی دورہ تھا۔ جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو ان پر مسلمانوں کے قتل عام کا الزام تھا اور امریکہ میں ان کے داخلے پر پابندی تھی لیکن وزیر اعظم مودی کو کون روک سکتا تھا۔

سرکاری مصروفیات کے ساتھ ساتھ وہ امریکی شہروں میں جا کر انڈین تارکین وطن کے اجتماعات سے خطاب کر رہے تھے۔ جس طرح پاکستانی تارکین وطن کی اکثریت عمران خان کی دیوانی ہے کیوں کہ انھیں لگتا ہے کہ بلآخر انھیں ایک ایسا لیڈر دستیاب ہوا ہے جو مغربی رہنماؤں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکتا ہے۔

اسی طرح مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد دنیا میں پھیلے انڈین تارکین وطن نے اپنے ہندو ہونے پر فخر کرنا شروع کیا اور اپنی قومی اور مذہبی شناخت کو گلے لگایا۔

مودی کا ایک جلسہ نیو یارک کے میڈیسن سکوئر گارڈن میں بھی تھا۔ میں بھی اتفاق سے نیو یارک میں تھا۔ جلسے میں جانے کی کوشش کی لیکن پتہ چلا کہ کئی بارسوخ انڈین بھی نہیں جا پا رہے کیوںکہ ہاؤس کب کا فُل ہو چکا تھا۔

مودی جی کی تقریر ایک مقامی چینل پر دیکھی۔ جلسہ گاہ میں ان کا استقبال ایسے ہی ہوا جیسے کسی راک سٹار کا ہوتا ہے۔ تقریر میں وہی باتیں تھیں انڈیا شائننگ والی، سینہ ٹھونک کر یہ کہنا کہ میں ہندو ہوں، پھر انڈیا اور امریکہ کے سپیشل رشتے کی بات کرتے ہوئے مودی جی نے کلائی سے اپنی گھڑی اتاری اور کہا کہ دیکھو ابھی نیو یارک میں کیا وقت ہوا ہے۔ پھر گھڑی کو الٹا کر کے دکھایا اور کہا کہ گھڑی کو الٹا کر کے دیکھو تو دلی میں یہی وقت ہے۔

مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی۔ میں نے بھی اپنی گھڑی کو الٹا کر کے دیکھا کراچی آدھا گھنٹہ دلی سے پیچھے تھا۔ میڈیسن سکوئر گارڈن تالیوں سے گونج اٹھا۔ مجھے الٹی گھڑی والی منطق پھر بھی سمجھ نہیں آئی۔

میں نے سوچا کراچی میں کوئی ایسی بات کرے تو کہتے ہیں کہ باولا ہوا ہے بھائی۔

گلی کی نکڑ پر سنی ہوئی جو بات باولی لگتی ہے وہی بات دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا پردھان منتری کرے تو گیان لگتی ہے۔

دس سال تک مودی جی انڈیا کی جنتا کو اور پھر دنیا کے طاقتور ترین لیڈروں کو جھپیاں ڈال کر اپنا گیان پہنچاتے رہے۔ بات یہاں تک پہنچی کہ پچھلے سال مائیکرو سافٹ والے بل گیٹس کو بٹھا کر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بارے میں لیکچر دیتے رہے۔ انڈیا اتنی بڑی مارکیٹ ہے کہ دنیا کے کسی سیٹھ کی یہ جرات نہیں کہ ان سے کہہ سکے کہ باولا ہوا ہے بھائی۔

انڈیا میں انتخاب کا چرچا شروع ہوا، مودی جی کی پارٹی نے چار سو پار کا نعرہ لگایا اور پھر انتخابی مہم میں مودی جی کا گیان دھرتی سے اٹھ کر آسمان کی طرف پرواز کرنے لگا۔

پہلے وہ لوگوں کو بتاتے تھے کہ وہ بچپن میں ریلوے سٹیشن پر چائے بیچتے تھے، غربت میں پلے بڑھے ہیں، چالیس سال تک بھکشا پر گزارہ کرتے رہے ہیں۔ اب فرمانے لگے کہ انھیں شک ہے کہ ان کی پیدائش ہی ایک معجزہ تھی۔

پہلے مغل بادشاہوں کے راج کا بدلہ انڈیا کے مسلمانوں سے لیتے تھے، اس انتخابی مہم میں فرمانے لگے کہ ان کے سیاسی مخالف ہندوؤں کی دولت چھین کر ان کو دے دیں گے جو زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں یعنی مسلمانوں کو۔

پھر خیال آیا ہو گا کہ جن ووٹروں کو دولت چھن جانے سے ڈرا رہے ہو وہ تو سرکاری راشن ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ پھر کہہ دیا کہ تمھاری بھینس چھین لیں گے، تمھارا منگل سوتر چھین لیں گے۔ پھر ایک تقریر میں فرمانے لگے کہ ان کے سیاسی مخالفین مسلمانوں کے ووٹ لینے کے لیے مجرے کرتے پھر رہے ہیں۔

شاید کسی نے ان کے کان میں کہہ دیا کہ مودی جی کچھ زیادہ نہیں ہو گیا تو ایک انٹرویو میں فرما دیا کہ میں نے تو کبھی زندگی میں ہندو مسلمان والی سیاست کی ہی نہیں۔

نریندر مودی نے اپنا سفر ایک نظریاتی اور سیاسی کارکن کے طور پر شروع کیا تھا۔ کشتیوں کے پشتے لگاتے اور ایک ہندو راشٹر کا خواب بیچتے، وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سب سے طاقتور حمکران بنے۔

پھر انھیں آئینے میں بھگوان نظر آنے لگا۔ اس الیکشن کے نتائج نے انھیں وزیر اعظم تو بنا دیا لیکن ساتھ ہی دوبارہ سیاست دان بھی بنا دیا۔ اب شاید وہ اپنی گھڑی کو دیکھتے ہوں اور سوچتے ہوں کہ یہ تو الٹی چل پڑی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments