گریجوایٹس کا المیہ: خوابوں کی ڈگریاں اور بے روزگاری


یوکے میں ہر سال لاکھوں طلبا اپنے دل میں بڑے خواب اور امیدیں لیے یونیورسٹیوں سے گریجوایشن مکمل کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں ہوتی ہیں، لیکن جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ایک سخت حقیقت ان کا منتظر ہوتی ہے : بے روزگاری۔

علیشا کی کہانی

علیشا، کمپیوٹر سائنس میں گریجوایٹ، نے بڑی محنت اور امیدوں کے ساتھ اپنی ڈگری مکمل کی تھی۔ مگر نوکری کی تلاش میں اسے جلد ہی احساس ہوا کہ خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا سفر کتنا مشکل ہے۔ مختلف کمپنیوں میں درخواستیں دینے اور پوری تیاری کے باوجود، ہر جگہ سے یہی جواب ملا: ”آپ کی ڈگری تو بہت اچھی ہے، لیکن آپ کے پاس تجربہ نہیں ہے۔“

ناکامی کی وجوہات

صحیح رہنمائی کا فقدان: علیشا نے یونیورسٹی میں بہت کچھ سیکھا، لیکن کیریئر کے راستے کا انتخاب سمجھ نہ آیا۔

یونیورسٹی کو راہ فرار کے طور پر استعمال: آزاد زندگی کے مزے لینے کی قیمت نوکری کی تلاش کے دوران چکائی۔

مالی مشکلات: مینٹیننس لون ناکافی ثابت ہوا، جس کی وجہ سے سپر مارکیٹ میں کام کرنا پڑا۔
مایوسی اور ذہنی پریشانیاں : نوکری نہ ملنے کی مایوسی نے ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالا۔
نوکری کے لیے سخت مقابلہ: ایک نوکری کے لیے ہزاروں درخواستیں مقابلہ شدید بنا دیتی ہیں۔
اس مسئلے پر کام کرنے والی تنظیمیں

”مایند“ (Mind) ، ”سامریٹنز“ (Samaritans) اور ”پیپارس“ (Papyrus) جیسی تنظیمیں ذہنی صحت اور خودکشی کی روک تھام کے لیے کام کر رہی ہیں۔ لیکن ثقافتی، سماجی رکاوٹوں کی وجہ سے طلبا ان تنظیموں سے رابطہ کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔

ممکنہ حل
تعلیمی ادارے اور حکومت نوکریوں کے مواقع پیدا کریں۔
انٹرن شپ کے مواقع فراہم کریں۔
طلبا کو تعلیمی کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ تربیت بھی دیں۔
نتیجہ

تعلیم اور روزگار کے درمیان خلا کو کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں اور حکومت کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ گریجوایٹس کے خواب حقیقت بن سکیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments