مودی کا الیکشن


بھارتی الیکشن آج کل پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہیں جہاں مودی تیسری بار وزیراعظم بننے جا رہے ہیں۔ نریندرا مودی اب سے پہلے دو بار بھاری اکثریت سے جیت چکے ہیں۔ جہاں ان کی پارٹی کو 2014 میں 283 سیٹیں اور 2019 میں 303 سیٹیں ملی۔ اسی پاپولیرٹی کو دیکھتے ہوئے ان کا نعرہ تھا ”اب کی بار چار سو پار“ ۔ اس کے لیے انہیں کولیشن بھی بنانا پڑا تاکہ آئینی قوانین میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا مقصد حاصل ہو سکے۔ جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے حمایت یافتہ مین سٹریم میڈیا کے تقریباً تمام چینل نے اتنی پر اثر مشہوری اور پرچار کیا اور مودی کے متشدد مذہبی ایجنڈے کو پھیلایا لیکن سارے پنڈتوں کے دعوے دھرے رہ گئے اور مودی کو بھی بیساکھیوں کا سہارا لینا پڑا کیونکہ وہ 272 کا ٹارگٹ اکیلے حاصل نا کر سکے۔

حالانکہ انہوں نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر اور اتر پردیش میں گجرات ڈیویلوپمنٹ ماڈل کا بہت پروپیگنڈا گیا لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نا کر سکے۔ مدراس یونیورسٹی کی پروفیسر وندانا کا کہنا ہے کہ ایودھیا سے ہارنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی نے رام مندر کا بڑا منصوبہ تو کھڑا کر لیا لیکن وہاں کے مقامی لوگوں تک مثبت نتائج نا پہنچ سکے۔ کیونکہ مندر کے اردگرد تقریباً تین ہزار لوگوں کو بے گھر کیا گیا اور ان کو ان کے گھروں یا دکانوں کی مارکیٹ ویلیو کی قیمت بھی نہیں دی گئی۔

مقامی لوگوں کو مندر کے اردگرد کاروبار کرنے کی بہتر سہولیات فراہم نہیں کی گئی۔ بلکہ باہر سے بڑے کاروباری لوگوں کو زیادہ مواقع دیے گئے جنہوں نے بی جے پی کو فنڈ کیا اور میگا پراجیکٹس لگائے جس کی وجہ سے مقامی آبادی اتنی خوش نظر نہیں آئی۔ چھوٹے کاروباری اور ورکنگ کلاس کے لوگوں کو اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ملا۔ یہاں جو خلا پیدا ہوا اسے پھر سماج وادی پارٹی نے پورا کیا اور بی جے پی کے مقابلے میں یوپی اور ایودھیا سے زیادہ سیٹیں لینے میں کامیاب ہوئی۔

سماج وادی پارٹی کا زیادہ رجحان بائیں بازو کی سوچ سے ہے اس لیے وہاں جو ورکنگ کلاس ناراض تھی انہیں سماج وادی پارٹی میں امید نظر آئی۔ بائیں بازو کے حلقے کے لوگ اسے اس لیے بھی بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیں کہ مودی جس نے ہندوتوا کو بڑھاوا دیا مذہب کارڈ کا بے دریغ استعمال کیا اور انڈیا کا روشن خیال اور جمہوری چہرہ مسخ کیا۔ وہیں سے ناکامی ملی جسے بی جے پی نے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا۔ اور بائیں بازو کے رہنماؤں کو ورکنگ کلاس کی بات کرنے کا موقع ملا اور وہ اتر پردیش اور ایودھیا میں زیادہ سیٹیں لینے میں کامیاب ہوئے۔

بھارت کی 80 فیصد ہندو آبادی میں مودی کو اپنے شدت پسند رویے اور خیالات کو ترویج دینے کا موقع ملا اور اس نے اپنی پاپولیرٹی کو ون مین شو کے طور پہ استعمال کیا گیا۔ ان دس سالوں میں میگا پراجیکٹس کے ذریعے معاشیات کے پیمانے بہت بہتر دکھائے گئے جس کا عام آدمی یا ورکنگ کلاس کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا اور مذہبی شدت پسندی پھیلانے میں بہت کام کیا گیا اقلیتوں کو مشکل وقت دیکھنا پڑا۔ اگر گانگریس، بائیں بازو کی جماعتیں یا علاقائی جماعتیں ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کریں تو کولیشن حکومت جو کہ بہت مضبوط نہیں ہے کو مشکل ٹائم دیا جاسکتا ہے کیونکہ وزیراعظم مودی نے پچھلے دس سال میں آمرانہ طرز پہ حکومت کی، دس سالہ دور حکومت ون مین شو کی طرح گزارا۔

نیشنل ڈیموکریٹک الائنس جس کو چندر بابو نائیڈو لیڈ کر رہے ہیں مودی کے ساتھ ماضی میں خوشگوار تعلقات میں نہیں رہے جس کی وجہ سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ کولیشن ٹوٹتا ہے تو پھر کوئی بھی پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن مین نہیں رہے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن اور بائیں بازو کی پارٹیاں کس حد تک مودی کی شخصیت اور پالیسیوں کے اثرات کو زائل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں اور بھارت کو اپنا سیکولر سٹیٹس واپس ملتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments