چھٹکارا (افسانہ)


چلچلاتی دھوپ میں ارد گرد مٹی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ گویا پہاڑ تھے۔ ضرورت پڑنے پر ان پہاڑوں کو کھودا جا سکتا تھا۔ سکینہ نے مٹی میں سنے ہوئے ہاتھوں سے پیشانی سے پسینہ صاف کرتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا۔ مٹی کے ڈھیر کے درمیان بیٹھی سکینہ اینٹوں کا سانچہ ہاتھ میں لیے گیلی مٹی کو گوندھ کر بڑی تیزی سے اینٹیں بنا رہی تھی اور اپنی انگلیوں کی پوروں پر حساب لگا رہی تھی کہ قرض کی رقم کتنی دیر میں پوری ہو جائے گی؟ کب بے فکر ہو کر پیٹ بھر کے کھانا کھا سکیں گے؟ یہ قرض تو اترنے کا ہی نہیں شاید۔ باپ دادا کا قرضہ ہم کب تک چکائیں گے؟

سکینہ ہر روز صبح سویرے اپنے دھندے پر لگ جاتی تھی۔ منشی کی تیکھی اور زہریلی نظروں کا کئی برس سے سامنا کر رہی تھی۔

سوچنے لگتی ہے، ”منشی یہ قرض کبھی اترنے نہیں دے گا۔ سود لگ کر ہر ماہ اضافہ ہو رہا تھا۔ کیا میری اور سجو کی حیاتی ایسے ہی گزر جائے گی؟ پھیکی، بے رنگ؟ اللہ اس منشی کو موت دے۔ کیسے توند نکالی ہے حرام کھا کھا کر۔ اللہ ہماری بھی سن لے فریاد“ سکینہ بے بس اور لاچار اللہ سے فریاد کر رہی تھی۔

”جلدی ہاتھ چلا کیسے آرام سے بیٹھی ہوئی ہو۔ قرض نہیں اتارنا؟ جب تک قرض نہ اترا تم ہمارے ہاں کام کرتی رہو گی“ منشی سکینہ کے پاس آ کر بڑے رعب سے دھمکی دینے لگا تھا۔ اس کی نظریں سکینہ کے سانولے سلونے حسن پر گڑی ہوئی تھیں۔ سکینہ اپنی عزت بچاتے بچاتے کئی سال گزار چکی تھی۔ اب منشی کی حرکتیں مزید بڑھ چکی تھیں۔ گرمی کی شدت میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا تھا۔ اینٹوں کے بھٹے کی تپش نے جینا دوبھر کر دیا تھا۔ بارش بھی نہیں ہو رہی تھی۔

”سجو اس بار تو ساون کے مہینے میں بھی بارشیں بہت کم ہوئی ہیں۔ بہت گرمی ہے۔ دم نکل رہا ہے۔“ سکینہ نے اپنے دوپٹے کے پلوں سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا۔

”نہ مانگ بارش، دھندا مٹھا پڑ جائے گا اور بھلی مانس ہم پر ابھی بہت قرض باقی ہے۔“ سجو نے اپنی بیوی سکینہ سے کہا

”سجو میں نے حساب کتاب کر لیا ہے۔ اس سال قرض اتر جائے گا۔ لیکن سجو اس موٹے بھینسے منشی کے ہوتے چھٹکارا مشکل ہے۔“ سکینہ نے کہا

سجو جواب دیے بنا ٹھنڈی سانس بھر کر ارد گرد دیکھنے لگا تھا۔ تاریک اور جھلستی ہوئی راتیں گزر رہی تھیں۔ صبح سجو کسی کام سے شہر گیا تھا۔ سکینہ اپنے کام میں جت گئی تھی۔ دوپہر سر پر تھی۔ سکینہ کے ناک کا چاندی کا لونگ پوری آب و تاب سے لشکارا مار رہا تھا۔ منشی نے دور سے دیکھا سکینہ اکیلی ہی سانچوں میں گندھی ہوئی مٹی ڈال کر بڑی پھرتی سے اس پر اپنے پتلے اور لمبے ہاتھوں سے اینٹوں کی سطح برابر کر رہی تھی۔ وہ کام میں مگن تھی اسے ارد گرد کی خبر نہ تھی۔ منشی اپنی توند ہلاتا مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا سکینہ کے لونگ کے لشکارے میں کھو گیا تھا۔

”سکینہ کیوں اپنی جوانی اور حسن کی دشمن ہو گئی ہو؟ میری بات مان جا، تیرا سارا قرض معاف کرا دوں گا“ منشی یہ بات بار ہا کہہ چکا تھا۔

”منشی بکواس نہ کر اینٹ مار کر تیرا سر پھاڑ دیاں گی۔ تو کیا سمجھتا ہے۔ ہماری کوئی عزت نہیں ہے۔ ہم تیرے دین دار ہیں پر بے غیرت نہیں۔ چل دفع ہو جا۔ دوبارہ مجھے شکل نہ دکھانا۔ جو بات کرنی ہے وہ میرے گھر والے سے کرنا۔“ سکینہ نے منشی کو بہت سی جلی کٹی باتیں سنائیں۔ منشی کا غصے سے رنگ اور گاڑھا ہو گیا۔ اس کے نتھنے پھڑ پھڑانے لگے تھے۔ وہ آگ بگولا ہو کر سکینہ کو چوٹی سے پکڑنے لگا تھا کہ ساتھ کام کرنے والے شخص نے سکینہ کی جان بچائی۔

”آج تو، تو بچ گئی کب تک بچے گی؟ کیا کروں یہ لونگ کا لشکارا تیر کی طرح میرے دل کے آر پار ہو جاتا ہے اس کا سلونا روپ جان پر وار کرتا ہے۔“ منشی بڑبڑاتا ہوا چلا گیا تھا لیکن اس کے ارادے خطرناک تھے۔

شام ڈھل چکی تھی لیکن تپش میں ذرا بھر کمی نہ آئی تھی۔ سجو نے آتے ہی سکینہ کے چہرے پر نظر ڈالی تو سکینہ کے چہرے پر غصے اور مجبوریوں کے چھینٹے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ خاموش نگاہوں سے اپنی بیوی کی طرف دیکھتا رہا تھا۔ سکینہ نے سجو کی خیر خبر پوچھ کر کھانا کھلایا اور خاموشی سے چار پائی پر دراز ہو گئی تھی۔

”سکینہ تیری طبیعت ٹھیک ہے؟ چپ کیوں سادھ لی ہے؟“ سجو نے اپنی سکینہ کی خاموشی توڑنے کی کوشش کی۔

”سجو ہم اس منشی سے کب جان چھڑائیں گے؟ مجھے اس کی گندی نظریں کھا جاتی ہیں۔ منشی اچھا آدمی نہیں ہے۔ تم مالک سے بات کرو نا!“ سکینہ نے سجو کو مشورہ دیا۔

”منشی ہو یا مالک سب ایک جیسے ہیں۔ ویسے بھی مالک ملک سے باہر گیا ہوا ہے۔ تم فکر نہ کرو میں منشی سے بات کرتا ہوں۔“ سجو نے اسے دلاسا دیتے ہوئے کہا۔

سکینہ نے اپنا بازو سر پر رکھا اور آسمان پر چمکنے والے تاروں کو دیکھتے دیکھتے کب سو گئی؟ اسے پتہ ہی نہ چلا تھا۔

کچھ عرصہ ایسے ہی گزرتا گیا تھا۔ سجو اور سکینہ نے بہت محنت کی تا کہ وہ قرض جن کے یہ ذمہ دار نہ تھے۔ ادا ہو جائے۔ سجو کو امید تھی کہ آج حساب ہوا تو بے باق ہو جائے گا۔

”سجو! آج منشی سے حساب کتاب کرنا قرض اتر گیا تو کہیں اور محنت مزدوری کر لیں گے۔ اس منشی کی شکل نہیں دیکھنی۔ مجھے یہ زہر لگتا ہے۔“ پر امید ہو کر سکینہ نے کہا تھا۔ سجو کچھ سوچتا ہوا

منشی کے پاس گیا جو کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا۔
”منشی جی، ہمارا حساب کتاب کر دے۔ ہم میاں بیوی نے بہت محنت کی ہے۔ اب تو ہمارے اوپر قرض نہیں ہے نا“

”کیسے قرض نہیں ہے؟ یہ تو ہوئی اصل رقم۔ اتنی دیر سے دینے پر سود اس سے بھی زیادہ ہے۔ تم لوگ ابھی کہیں نہیں جا سکتے۔ مالک نے کہا ہے جب تک پوری رقم ادا نہ کریں تم کہیں نہیں جا سکتے۔“

سجو نے غصے کو قابو کرنے کے لیے ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے بند کیا اور ایک تہیہ کر کے چل پڑا۔

”کیا ہم آزاد ہو گئے؟ ہو گئی قرض کی رقم پوری؟ اب ہم یہاں منشی کی نظروں سے بچ جائیں گے؟“ سکینہ نے سانس لیے بغیر ہی اتنے سوال کر ڈالے تھے۔

سجو خاموش گہری سوچ کے بھنور میں تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ سکینہ کو کیا کہے۔ ؟

ایک دن شام ڈھلے کالے بادلوں نے اپنی چادر تان لی تھی۔ گرج چمک کے ساتھ بارش بھی ہونے لگی تھی، بارش زیادہ تیز نہ تھی۔

”سکینہ چل جلدی کر“
”کہاں؟ سکینہ نے پوچھا
” وہاں جہاں منشی نہیں ہو گا۔“ ہم یہاں سے بھاگ چلیں۔ یہی طریقہ ہے جان بچانے کا ”
”ہم جائیں گے کہاں؟“

”اللہ کی زمین بہت بڑی ہے۔ جلدی سے کچھ کپڑے اٹھا لے۔“ سجو نے سکینہ کا ہاتھ پکڑا اور تیز قدموں سے بھٹے کی حدود سے باہر نکل گئے۔ اب بارش کچھ تیز ہونے لگی تھی۔ منشی کو اس کے کا مے راجو نے جا کر بتا دیا تھا۔ منشی کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی ”۔ چل راجو یہ بچ کر نہ جانے پائیں۔“ غصے سے منشی کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔ نتھنے پھڑپھڑانے لگے تھے۔

تیز تیز جاتے منشی ان کا پیچھا کرنے لگا تھا۔ سکینہ اور سجو تیز بارش کی وجہ سے تیز دوڑ نہیں پا رہے تھے لیکن وہ مسلسل دوڑ رہے تھے۔ بجلی کی کڑک سے سکینہ دہل جاتی تھی لیکن منشی کا خوف اس سے زیادہ تھا۔

”چل راجو وہ ابھی دور نہیں جا سکتے۔ تیز چل،“ یہ دونوں بھی بھاگ رہے تھے۔ منشی گالیاں دے رہا تھا۔ اس کی بھدی سی آواز سکینہ کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔

”سجو منشی پہنچ گیا ہے شاید، ہم پکڑے جائیں گے۔“ سکینہ نے ڈرتے کہا تھا۔
”تو فکر نہ کر آج یا وہ نہیں یا ہم نہیں“

سجو نے راستے سے ایک درخت سے ٹوٹے ہوئے ٹہنے کو پکڑ لیا تھا۔ درختوں کی اوٹ میں چھپ کر دونوں منشی کا انتظار کرنے لگے تھے۔ منشی کی گرج دار آواز نے اسے آشکار کر دیا تھا۔ ابھی تھوڑا سا منشی آگے بڑھا ہی تھا کہ سجو نے بڑبڑاتے کہا، ”سود خور“ پھر ایک زور دار وار کیا جس نے منشی کے سر کو چکرا دیا تھا۔ خون نکل آیا جیسے اس کی کھوپڑی ٹوٹ گئی تھی اور زمین پر منہ کے بل گر پڑا۔ راجو ڈر کے مارے پیچھے کی طرف بھاگا تھا کہ سجو نے اس کی طرف وہی ڈنڈا چلایا تھا۔ بارش کم ہو چکی تھی۔ سکینہ نے لمبی سانس لی اور سجو کے کندھے پہ سر رکھا۔

”سجو ہمیں چھٹکارا مل گیا؟“

” سمجھو چھٹکارا مل گیا۔ یہ علاقہ ہی چھوڑ دیں گے۔ چلو کوئی دیکھ نہ لے“ سجو کہہ کر سکینہ کا ہاتھ پکڑتا ہے اور دونوں تیزی سے جانے لگتے ہیں۔

Facebook Comments HS