ایک دن ایک صحرا میں


میں جنگل میں سے گزرا ہوں، پہاڑوں کا چکر لگا چکا ہوں، دریا و سمندر کی سیر کی ہے۔ لیکن صحرا کی سفر میں جو مزہ آیا، کہیں اور نہیں دیکھا۔ سعودی عرب کے ایسٹرن ریجن یا مشرقی صوبے کے ایک بڑے صحرا میں سے گزرتا ہوں تو کبھی لارنس آف عریبیہ ذہن میں آتا ہے اور کبھی مذہبی مقدس ہستیاں اور دیگر دیومالائی کہانیوں کے مختلف کردار۔ ڈرائیور سیٹ پر بیٹھے دوست کہہ رہا ہے کہ کوئی اچھا سا گانا لگاؤ۔ اس کو پتہ ہے کہ میں میوزک کا بے حد شوقین ہوں۔ ماہ رمضان میں بھی میرا ٹائم پاس موسیقی سے ہوتا ہے حالانکہ وزیرستان کے اکثر لوگ اسی مہینے میں ثواب کی نیت سے طالبان کے ترانے سنتے ہیں۔

پچھلے رمضان میں میں اپنے علاقے وانا میں بطور سُپروائیزر ایک نان گورنمنٹ تنظیم میں کام کرتا تھا۔ میری ٹیم کا مجھ سے ایک گلہ تھا کہ میں اسی بابرکت مہینے میں گانا چلاتا تھا۔ ایک حساس بندہ ہونے کے ناتے میں کوشش کرتا رہا کہ ان کا خیال رکھوں لیکن ٹیپ سے میرے ہاتھ رکنے والے نہ تھے۔ کاش وہ ہینڈز فری لگا کر موبائل میں اپنی پسند کے ترانے سنتے اور مجھے گانا سننے دیتا۔ لیکن ماحول ایسا نہ بن سکا۔ سوچتا ہوں ہمارے کلچر میں یہ متشدد رویے نے بڑی طاقتوں کی جنگوں کے دوران متعارف ہونے والے مختلف جہادی نظریات کی وجہ سے جنم لیا۔ ورنہ چار سو سال پہلے لکھے گئے خوشحال خان بابا کے شعر سے ہماری ثقافت کا سیکولر پہلو نمایاں ہے۔

شیخ دی مونځ روژہ کړی زۀ بہ ډکی پیالی اخلم
ھر سړے پیدا دے خپل خپل کار لرہ کنھ

ترجمہ: یہاں ہر بندے نے اپنا اپنا کام کرنا ہے۔ شیخ گر نماز پڑھ سکتا ہے، روزے رکھ سکتا ہے۔ ہمیں بھی جام نوش کرنے کی آزادی حاصل ہو۔

لیکن حیران ہوں کہ اسی صحرا نے کیا جادو کیا ہے کہ گانے کی بجائے دل کرتا ہے کہ صحرا کی قدرتی موسیقی میں مگن رہوں۔ دوست کے استفسار سے سردار علی ٹکر کی آواز میں غنی خان کے قلم ”یوا ورځ یوا صحرا کی“ ترجمہ: ایک دن ایک صحرا میں، کا گانا چلایا۔ شکر ہے کہ ساتھ بیٹھے انڈین دوست نے مداخلت کی کہ اسے پشتو سمجھ نہیں آتی بہتر ہے میوزک کی بجائے گپ شپ لگائیں۔ اسے انڈیا کے حالیہ انتخابات سے لے کر تقسیم ہند تک کے سیاسی واقعات پر کمال درجے کی گرفت تھی۔ ان سے کہانیاں سن کر مجھے عرب ممالک میں آباد اکثر پاکستانی پشتون مزدوروں کے انڈین خلاف متعصبانہ رویے پر حیرانی ہوئی کہ وہ ہندوستانیوں سے کیوں اتنے نفرت کرتے ہیں؟ انہیں ان سے ملنا چاہیے۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملیں گے۔ آج کل تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ رجحان پیدا ہو رہی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔

صحرا میں موجود ہزاروں کی تعداد میں آئل و گیس کے کنویں پر نظر دوڑاتا ہوں تو کبھی بڑی بڑی قیمتی گاڑیوں میں عیاشی کرنے والے عرب نوجوانوں کو دیکھتا ہوں۔ ساتھ ساتھ یہ سوچتا ہوں کہ ان کے اباؤ اجداد اگر اپنی قوم پرستی سے کام نہ لیتے۔ اور عرب نیشنل ازم کے ذریعے ترک عثمانیوں سے اپنی آزادی نہ دلاتے تو آج ان کے وسائل سے انقرہ اور استنبول والے مزے لیتے اور عرب ہمیشہ کے لئے بدو کے بدو ہی رہ جاتے۔ ان کی حالت پاکستان کے بلوچ اور پشتون قوموں جیسے ہوتی۔ متحدہ پاکستان میں بنگالی لیڈر شیخ مجیب الرحمن نے اسلام آباد کی افتتاحی تقریر میں کہا تھا کہ آج اسے اسلام آباد کی گلیوں اور سڑکوں سے پٹ سن کی بو آ رہی ہے۔

عرب نیشنل ازم میں ملا حضرات برسرپیکار تھے۔ فلسطینی مفتی اعظم کی قیادت میں ایک مسلمان ترک حکمران کے خلاف ان لوگوں نے ہتھیار اٹھائے۔ جبکہ پاکستانی مفتی تقی عثمانی نے پاکستان کے خلاف مسلح تنظیموں کی جنگ کو فساد قرار دیا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اسی فلسطینی مفتی نے تقی عثمانی کی راہ اپناتے ہوئے ایک پشتون قوم پرست ملا حاجی میرزا علی خان (ایپی فقیر) کو اپنی سیاسی جدوجہد کی بنا انتشاری و فسادی قرار دیا تھا؟ حالانکہ اس عمل سے تو وہ خود گزرا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments