سانحہ سرگودھا اور بربریت کا راج
میں غلط تھا جو یہ سمجھتا رہا کہ جس پاکستان، پاک سر زمین پر میں ہوں وہ واقعی شر پسندی، نا انصافی، مذہبی انتہا پسندی، نا راستی، بے گناہوں کا قتل، جلاؤ گھیراؤ، ملاوٹ، جھوٹے مقدمات، بے رحمی سے سنگسار کرنے والے اور ذات پات، رنگ و نسل کے حامی ہونے سے پاک ہے۔ میں سمجھ بیٹھا کہ یہ پاک سر زمین کے پاکیزہ لوگ ہیں۔ خوف ِ خدا اور صراط مستقیم کے حقیقی متلاشی ہیں۔ یہاں پر بسنے والی دوسری قوموں (اقلیتوں ) کو برابری کے حقوق ملتے ہیں۔ ان کی جان و مال کا تحفظ یقینی ہے۔
لیکن مورخہ 25 مئی 2024 ء کے سانحہ سرگودھا پر دہشت گردی کی خبر، فوٹیج نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان صرف اور صرف اکثریت یعنی مسلمانوں کا ہے۔ مسیحی قوم کی قربانیاں، اُن کی مختلف شعبوں میں خدمات، خاص طور پر تعلیم اور صحت کے میدان میں جو وہ پیش پیش رہے، بے معنی تھیں اور کس طرح یہ لوگ سیاسی طور پر بھی مسیحوں کے کردار کو فراموش کر سکتے ہیں؟ جو انہوں نے پارٹیشن کے وقت فیصلہ کن مراحل میں اپنے قیمتی ووٹوں سے لاہور کو پنجاب کا حصہ بنا دیا۔
یہ کیسا اتفاق ہے کہ جب میں سرگودھا مجاہد کالونی کے مقیم مسیحی لوگوں پر ہونے والی دہشت گردی کو اپنے ادھورے لفظوں میں قلم بند کر رہا تھا، اس وقت بھی پاکستانی میڈیا مسیحی قوم کی دو بیٹیوں کی خدمات کو سراہتا نظر آیا۔ (ا) ڈاکٹر ہیلن میری رابرٹ پاکستان کی 76 سالہ تاریخ میں پہلی مسیحی خاتون ہیں جو ون سٹار جنرل (بریگیڈیئر) کے عہدے پر ترقی پا گئیں۔ طب کے میدان میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ (ب) اور اسی طرح فن کے میدان میں پاکستانی نژاد برطانوی مسیحی خاتون، سائرہ جان پیٹر، دنیا کی پہلی صوفی اوپرا سنگر، جن کو کنگ چارلس سوئم کی تاجپوشی کے بعد برطانوی قومی ترانہ ”گاڈ سیو دی کنگ“ ریکارڈ کرنے پر برمنگھم پیلس سے تعریفی خط اور سند موصول ہونے، اور پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنے پر سراہا جا رہا تھا۔
لیکن افسوس کہ آج اسی ملک میں جو مسیحی بزرگوں کی کاوشوں سے بھی بنا ہے مسیحی قوم یتیم، بے وجود اور لا وارث نظر آتی ہے، ذلیل اور رسوا ہو رہی ہے۔ ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں، ہر وقت بے بس اور لاچار نظر آتی ہے۔ یہ جو اپنے آپ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اصل حق دار اور ٹھیکے دار سمجھتے ہیں، وہ گروہ جب چاہے، جہاں چاہے، اپنی ذاتی رنجشوں یا اپنے کسی بھی خاص مفاد کے لیے نہ صرف مسیحی بستیوں، ان کی عبادت گاہوں بلکہ مسیح لوگوں کو زندہ جلا سکتا ہے، قتل و غارت اور سنگسار کروا سکتا ہے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ ملک جتنا اس مسلم اکثریت کا ہے اتنا ہی مسیحی اقلیت کا بھی ہے۔ کیونکہ مسیحی قوم بھی ملک پاکستان کو حاصل کرنے میں قائد پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی تھی۔ افسوس! ابھی یہ قوم جڑانوالہ کے دکھ سے نکلی ہی نہیں تھی کہ سرگودھا کا قیامت خیز واقعہ سامنے آ گیا۔ اور ابھی تک تو کوئی جرم بھی ثابت نہیں ہوا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے چھان بین کر رہے تھے۔ لیکن اس سے پہلے ہی مسلمانوں کی ایک آزاد ملی جلی بھیڑ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ معصوم لوگوں پر دھاوا بول دیا۔ کرسچن لوگوں کے کاروبار، گھر، سامان کو جلا دیا۔ لوٹ مار کی اور انسانیت کے منہ پر حیوانیت کا ایسا تھپڑ مارا کہ انسانیت بھی شرما گئی۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اس ملک میں کوئی قانون نہیں، کوئی انصاف نہیں، 47 سالا بزرگ شخص نذیر مسیح کو بے دردی سے اینٹوں اور پتھروں سے قتل کرنے کے لیے مارتے رہے، اس کے زخمی جسم کو روندا گیا۔ افسوس جو ایمبولینس اس قریب المرگ شخص کو بچانے کے لیے آئی اس ایمبولینس کو بھی نہ چھوڑا، اسے بھی واپس جانے سے روکتے رہے، اور ایمبولینس کے اندر پڑے شخص کو اینٹیں ما ر مار کر مزید زخمی کیا اور ایمبولینس کے شیشے توڑ دیے۔
اس حیوانیت کی تصویر کو پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ایک مردہ قوم کے چند عناصر، کس طرح زندگی کو موت میں بدل رہے ہیں اور وہ اتنے زور آور ہو چکے ہیں کہ ان کے سامنے پوری کی پوری ریاستی مشینری بے بس نظر آئی۔ بس فوراً توہین مذہب کا مرتکب بنا دیا گیا اور الزام یہ لگایا کہ کھمبے کے ساتھ لٹکے باکس میں سے مقدس اوراق یعنی قرآن مجید کی آیات کو تو بہ نعوذ باللہ، معاذ اللہ جلا دیا گیا ہے۔ لیکن علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سراسر جھوٹا الزام ہے جو ذاتی رنجش کی بنا پر لگایا گیا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ، الزام جھوٹا تھا یا سچا، اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی تھا، تھانہ، پولیس یا کچہری جانے کی بجائے مسجدوں میں اعلانات کیوں کروائے گئے؟ کیوں بے ضمیر لوگوں کا ہجوم اکٹھا کیا گیا؟ پتہ نہیں کب حکومتی ادارے حرکت میں آئیں گے اور ان شر پسند لوگوں کا جڑ سے صفایا کریں گے؟ شفاف تحقیق کریں گے کہ یہ کون خاص لوگ ہیں؟ یا کوئی ایسا خاص گروہ ہے جو ہمیشہ ایک جیسے عمل میں ملوث رہتا ہے؟ کاش ہمارے ادارے اتنے باخبر ہوں اور ان کے پاس اتنا وقت ہو کہ وہ فوری طور پر ایسے شرپسند عناصر کو روک سکیں جو نا صرف اشتعال انگیزی کو ہوا دیتے ہیں بلکہ خاص مسیحی معصوم اور قیمتی جانوں کے قاتل ہیں اور اس پاک سرزمین کی پاکیزگی پر نا انصافی کی دھبوں میں اضافے کا سبب بنتے جا رہے ہیں۔
سرگودھا سانحہ کی ویڈیو جب ایک دوست کے ذریعہ سے مجھ تک پہنچی تو مجھ سے دیکھا نہیں گیا کہ کس طرح ظالمانہ طرز سے ایک نہتے بزرگ کو سنگسار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس بے بس شخص کو ملعون کے نعروں، گالیوں اور کس طرح کافر کے لقب سے پکارا جا رہا ہے۔ اس کے مردہ سے جسم کو پتھروں اور پاؤں سے ٹھوکریں ماری جا رہی ہیں۔ اس وقت میرا چھوٹا بیٹا میرے ساتھ تھا جس سے میں وہ ظلم و ستم اور قتل و غارت چھپانے کی کوشش کر رہا تھا، بچہ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ بابا یہ کیا ہے؟
لیکن مجھے ایک چپ سی لگ گئی۔ میں فوراً اپنے بچے سے دور چلا گیا اور جلدی سے ویڈیو بند کر دی۔ میری طبیعت خراب ہونے لگی۔ اپنے بچے کو کوئی جواب نہ دے سکا اور خوف کی سی کیفیت میں چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے لیے ڈر سا گیا کہ ہم کس ملک میں ہیں جہاں کوئی بھی، کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ، کسی کو بھی مار سکتا ہے، مروا سکتا ہے، مسجدوں میں نعوذ باللہ توہین مذہب، توہین رسالت کے الزامات لگا کر اعلانات کروا سکتا ہے، یہاں کوئی قانون نہیں، خاص طور پر کمزور اور غریب کے لیے اور مسیحی اقلیت کے لیے تو کچھ بھی نہیں۔
یہی سچ ہے کہ یہ ملک اب ہمارا نہیں، ہم یہاں غلام ہیں اور ذات پات، رنگ و نسل کے تعصب کے شکار ہیں اور اب تو، جب یہ لوگ چاہیں کسی کو بھی توہین مذہب کا مجرم بنا سکتے ہیں۔ بس دل سے یہ دعا نکلتی کہ یا اللہ اس ملک پر رحم فرما یہ نہیں جانتے کہ کیا کر رہے ہیں؟ انہیں حقیقت میں صراط مستقیم پر لے چل۔ راہِ حق اور حقیقی ابدی زندگی کا بھید دے اور جس طرح لاکھوں لوگ اس اسلامی جمہوریہ پاکستان، پاک سر زمین سے ہجرت کر گئے ہیں اور کر رہے ہیں۔
ہم بھی یہاں سے ہجرت کر جائیں اور کسی ایسے ملک چلے جائیں جہاں لوگ انسان تو کیا حیوان کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ جہاں رنگ و نسل، ذات برادری اور خاص طور پر مذہب کا رونا دھونا نہ ہو اور وہ لوگ انسانیت کے علمبردار ہوں۔ بے شک میرے مولا! وہ کافروں کی پناہ گاہ ہی کیوں نہ ہو۔ آمین۔ ٓاُو خدایا! مجھے ابھی ابھی ایک یہ خبر ملی ہے کہ 47 سالا بزرگ نذیر مسیح، توہین مذہب کا ملزم، جسے سرگودھا کے مشتعل ہجوم کہ تشدد سے زخمی کیا گیا تھا، وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے، 9 روز بعد ، 3 جون 4202 کو دم توڑ گیا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔


