مائی سیانی کی سیان فہمیاں
زندگی میں آپ کو کئی خوش فہمیاں اور بے شمار غلط فہمیاں ہوئی ہوں گی لیکن آج تک آپ کا واسطہ سیان فہمیوں سے نہیں پڑا ہو گا۔ تو ہو جائیے تیار سیان فہمیاں پڑھنے کے لیے۔ جی ہاں پڑھنے کے لیے۔ خوش فہمی اور غلط فہمی ہو جاتی ہے لیکن سیان فہمی ہوتی نہیں سوچی جاتی ہے، لکھی جاتی ہے اور یہ کر دکھایا ہے فہمینہ نے۔
فہمینہ ارشد آر جے ہونے کے ساتھ ساتھ پختہ سوچ کی حامل عمدہ لکھاری بھی ہیں۔ سیان فہمیاں ان کے مضامین، بلاگز اور کالمز کا مجموعہ ہے۔ کتاب کا عنوان نہ صرف منفرد اور چونکا دینے والا ہے بلکہ اس میں شامل موضوعات بھی دلچسپ ہیں۔ مائی سیانی کے نام سے نت نئی اصطلاحات متعارف کرانے والی یہ مصنفہ کھٹی میٹھی، کراری اور تیکھی تحریریں لکھتی ہیں اور ان کو عنوان بھی انوکھا دیتی ہیں۔ یہ تحریریں اگرچہ مختصر لیکن موثر اور نتیجہ خیز ہیں۔
فہمینہ نے سماج میں پھیلی ناہمواریوں، منفی رویوں اور پوشیدہ مسائل کو پاکستانی معاشرے کی عام زبان میں بیان کر دیا ہے۔ ان کا اسلوب توانا اور انداز جارحانہ ہے۔ اپنی بات بغیر لگی لپٹی رکھے یعنی بے دھڑک کہنے کا ہنر جانتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں بے ساختگی اور نصیحت آمیز رویہ دکھائی دیتا ہے۔ تلخ تجربات اور مشاہدات کو نہایت ہلکے پھلکے شگفتہ انداز میں بیان کرتے ہوئے کہیں کہیں ان کا رویہ سنجیدہ بھی ہو جاتا ہے۔
پدر سری نظام، معاشرتی تضادات نیز خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے کے باعث ان کا شمار فیمینسٹ میں ہوتا ہے۔ جس طرح کے موضوعات پر فہمینہ نے قلم اٹھایا ہے اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک حساس اور درد مند دل رکھنے والی انسان ہیں۔ ان کا مشاہدہ وسیع اور گہرا ہے۔ قلم چلاتے ہوئے جہاں بہتر سمجھتی ہیں محاورات کا استعمال کرتی ہیں اور کہیں ظرافت، طنز اور کاٹ دار الفاظ کا تڑکہ لگا کر تحریر جاندار بنا دیتی ہیں۔
”ڈھلتی عمر کی لڑکیاں اور مردوں کی حسرتیں“ سے چند سطریں ملاحظہ ہوں۔ ”ڈھلتی عمر کی غیر شادی شدہ لڑکیوں کی تعداد میں اضافے کو دیکھتے ہوئے بارہا یہ تجویز پیش کی جاتی رہی کہ مردوں کو ایک سے زائد شادیاں کرنی چاہئیں۔ اس تجویز کو وائرل کرنے میں مرد تو آگے آگے رہتے ہی ہیں جن میں ایک نمایاں تعداد مولوی حضرات کی بھی ہے۔ لیکن کچھ اللہ والی خواتین بھی اس میں شامل ہیں، گو کہ وہ صرف مفت مشورہ ہی پیش کرتی ہیں، اپنا خاوند نہیں۔“
ایک تحریر جس کا عنوان ہے ”میں مردوں کی دشمن نہیں ہوں قسم سے“ میں لکھتی ہیں : ”لوگ مجھے مرد دشمن سمجھتے ہیں اور یہ کوئی غلط بھی نہیں کیوں کہ میں ہوں بھی۔ ان مردود مردوں کی دشمن جو اپنی بے ہودہ حرکتوں اور خبیث فطرت سے باز نہیں آتے اور عورتوں کا جینا دو بھر کیے رکھتے ہیں۔“
ایسے معاشرے میں جہاں آئے دن غیرت کے نام پر خواتین کا قتل معمول کی بات ہو ایسے میں مصنفہ کا یہ سوال کرنا کہ ”عورت کو غیرت کیوں نہیں آتی؟“ سوچ کے نئے در کھولتا ہے۔
موجودہ معاشرتی صورتحال پر نظر ڈالیں تو تہذیب و روایات کی پاسداری دکھائی نہیں دیتی۔ احترام ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ عدم برداشت، ایک دوسرے پر زبردستی اپنی رائے مسلط کرنا نیز گالیوں کا بے دریغ استعمال عام ہے۔ گالیوں میں زیادہ تر خواتین کا تذکرہ سنائی دیتا ہے جس کا استعمال مرد آزادانہ کرتے نظر آتے ہیں۔ اس تناظر میں لکھتی ہیں کہ:
”ویسے تو گالیاں عورتیں بھی دیتی ہیں لیکن مردوں کو ان پر فوقیت حاصل ہے۔ گالی بھلے کسی مرد کو دیں گے لیکن مجال ہے کوئی مردانہ گالی دیں، اپنی برادری کے نام پر کوئی گالی نہیں۔ چن چن کر صنف مخالف کے نام پر تخلیق کی گئی گالیاں دی جاتی ہیں جن میں ماں بہن کی گالیاں سر فہرست ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ یہ ان کی صنف مخالف سے محبت کا اظہار ہے یا نفرت کا۔“
یوں تو کتاب میں شامل ہر موضوع اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس میں معاشرے کی مسخ شدہ شکلیں دیکھی جا سکتی ہیں لیکن بیٹا سدھارنے کی مشین، قوم کے سپوت اور ماشاءاللہ کی صدائیں، میں کراچی ہوں، مجھے جینے دو! ، بنت حوا کی بقا کے نئے قاعدے، اگلے جنم مجھے بٹیا ہی کیجو اور پیدا کیوں کرتے ہو پڑھ کر محسوس ہوا جیسے فہمینہ نے کئی حساس اور باشعور لوگوں کی سوچ کو زبان دے دی ہے۔



