انگلینڈ جیسی پاکستان کرکٹ ٹیم


سٹورٹ براڈ 2014 کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ٹیم کے کپتان تھے اور الیسٹر کُک 2015 کے ورلڈ کپ سے دو ماہ قبل تک انگلینڈ کی ایک روزہ ٹیم کے کپتان تھے۔ براڈ کو ٹی 20 کی ابتدا میں اس فارمیٹ کا بہترین بالر بھی کہا جاتا تھا۔ تاہم انگلینڈ کو محسوس ہوا کہ یہ وہ ٹیم نہیں جس کے ساتھ آگے بڑھنا ہے چنانچہ سٹورٹ براڈ جو کہ ٹیم کے کپتان تھے، نے مزید نو سال بین الاقوامی کرکٹ کھیلی مگر کبھی بھی ٹی 20 میں جگہ نا بنا سکے۔ اسی طرح السٹر کک بھی دوبارہ ایک روزہ میچ نہ کھیل پائے۔

یہ دونوں نامور بھی تھے اور کپتان بھی مگر جب ان سے بہتر موجود تھے ان کو باہر کر دیا گیا اور بہادر کرکٹر مورگن کو ٹی 20 اور ون ڈے کا کپتان بنا دیا گیا۔ یہاں سے انگلینڈ کی ٹیم نے ایک نیا موڑ لیا۔ انگلینڈ سے شارٹ فارمیٹ میں کوئی ٹیم نہ ڈرتی تھی پھر سب اس سے گھبرانے لگیں۔ صرف یہ کر کے وہاں کے کرکٹ بورڈ نے یہ واضح کیا کہ کوئی کھلاڑی کھیل سے بڑا نہیں۔

آج ہماری بھی یہی حالت ہے۔ اس وقت موجودگی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لئے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ان کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ان کی جگہ ان سے اچھا کھیلنے والا آ سکتا ہے اور اگر آپ کپتان اور مقبول بھی ہیں اور آپ سے بڑے جگر کے ساتھ کھیلنے والا موجود ہے تو کوئی بھی میچ آپ کا آخری میچ ہو سکتا ہے۔ کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ اینڈرسن کو 2015 کے ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ نے کبھی شارٹ فارمیٹ میں کبھی گیند بازی کا موقع نا دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی انگلینڈ سمجھ گیا کہ کون سا کھلاڑی کون سا فارمیٹ کھیل سکتا ہے۔

اسی طرح ہماری ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ایک بار نا کھیلنے والوں کو نکالیں۔ اور مقبول مگر بہادر اور اچھا کھیلنے والوں کو لائیں۔ کیوں نہیں موقع ملتا صاحب زادہ فرحان کو ابرار کو عبداللہ شفیق اور تحمل سے کھیلنے والے سعود کو؟ اپ کے پاس صرف ایک ایسا بلے باز ہے جو نڈر ہے فخر زمان اس کو آپ نے اوپننگ سے ہٹا دیا۔ بھیجیں صاحب زادہ فرحان اور فخر کو اوپنر پھر صائم کو تین آؤٹ ہونے پر لائیں اس کی باؤلنگ سے فائدہ اٹھائیں، وکٹ کیپر لائیں حارث کو سب کو معلوم ہو کہ وہ کرکٹ سے بڑے نہیں۔ بڑے اور نکمے ناموں کو باہر نکالیں۔ شاداب کو دوبارہ تب ہی موقع دیں اگر وہ ڈومیسٹک کھیل کر کچھ کرے۔ اور خاص طور پر پاکستان ٹیم کے خلاف ٹی وی پر بول کر ٹیم میں آنے والوں کو باہر بٹھائیں۔ اور کسی کرکٹ کو سمجھنے والے کو چیئر مین بنائیں۔

ایسے یقیناً پاکستان بھی آئندہ انگلینڈ کی طرح بہت خطرناک ٹیم بن سکتا ہے۔

Facebook Comments HS