نریندر مودی، ہندوستان کا بلا وردی ایوب خان
”نریندر مودی نے بدقت تمام آخر کار تیسری مدت کے لئے وزیر اعظم کا حلف اٹھالیا۔ لیکن ہندوستان کے عوام نے مودی کا دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کا خواب چکناچور کر دیا۔ اب مودی کو اپنی آمرانہ روش ترک کر کے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔ بھارتی میڈیا جس طرح مودی کو سپرمین بنا کر پیش کر رہا تھا، اس کو بھی اپنی روش تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
”ایوب خان۔ فوجی راج کے پہلے دس سال“ یہ کتاب الطاف گوہر کی تصنیف ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”ایوب خان اپنے تجربات کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچے کے سیاسی طور پر عوام نا بالغ ہیں۔ وہ ابھی تک قبائلی اور جاگیر دارانہ ذہنیت سے نجات نہ حاصل کر سکے۔ ان کی رسائی اور سوچ ابھی تک انفرادی، قبائلی علاقائی معاملات تک محدود ہے۔ “
بعینہ یہی خیال مودی کا بھی ہندوستان کی عوام کے بارے میں تھا نہ صرف سیاسی طور پر بلکہ اس نے سمجھا کہ ہندوستانی عوام مذہبی رجحانات کے معاملات میں بھی نا بالغ ہیں اس لیے اس نے نہ صرف ہندو توا کے نظریہ کو مہمیز بخشی بلکہ بھارت کے ایک ارب سے زیادہ ہندو مت کے ماننے والوں کو اپنی حرکات و سکنات سے یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ ”ہندو ہے تو بی جے پی میں آ“ 20 اگست 2020 کو مودی نے بنفس نفیس بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا۔
”بابری مسجد رام / مندر“ اتر پر دیش کے شہر ایودھیا میں واقع ہے۔ رام مندر کی تعمیر کے ساتھ اس نے پورے شہر کو نئی شکل دینے کے لیے 10 ارب ڈالر کی لاگت سے ایک جامع منصوبے کا اعلان کیا۔ جس میں شہر کے لیے ایک نئے ائرپورٹ اور نئے ریلوے اسٹیشن کی تعمیر بھی شامل تھی۔ اس طرح مودی نے ایودھیا کو ایک عالمی مذہبی سیاحتی مرکز میں تبدیل کر دیا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ہندوستان کے عوام نے بالعموم اور ایودھیا کے باسیوں نے بالخصوص مودی کے اس قدم کو نہیں سراہا اور حالیہ انتخابات میں مودی کی جماعت کا ایودھیا سے کھڑا ہوا امیدوار بھی ہار گیا۔
حالیہ انتخابات کے پہلے مرحلے میں مودی اپنی حکومت کی معاشی میدان میں حاصل کردہ کامیابیاں گنوا رہے تھے۔ لیکن جب ان کو احساس ہوا کہ پہلے مرحلے میں ووٹر کا بہت کم ٹرن آؤٹ ہے اور وہ دو تہائی اکثریت نہیں حاصل کر پائیں گے تو انہوں نے مذہبی کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا اور کانگریس کو ببانگ دہل مسلمانوں کی جماعت قرار دے دیا لیکن ان کا یہ حربہ بھی کامیاب نہ ہوا۔
ایوب خان نے بھی 1965 کے صدارتی انتخابات میں اپنی مد مقابل امیدوار محترمہ فاطمہ جناح کو باقاعدہ اخباری اشتہارات کے ذریعے پختونستان کے لیے کام کرنے کا الزام لگا کر غدار قرار دینے کی مذموم کوشش کی اور ان کو سرخ پوش رہنما غفار خان کا ساتھی قرار دیا۔ مودی نے کئی مرتبہ اس بات کا بھی عندیہ دیا تھا کہ وہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں اور ہندوؤں کے عائلی قوانین میں بھی تبدیلی کریں گے۔
یاد رہے کہ بی جے پی کی مجوزہ آئینی ترامیم سے ہندوستان میں بسنے والے مسلمان اور دلت بہت زیادہ خائف تھے۔ دلت سمجھتے تھے کہ بی جے پی آئینی ترامیم کے ذریعے دلتوں کے لئے نوکریوں میں مختص مخصوص کوٹے کو ختم کر دے گی اور مسلمانوں کا خیال تھا کہ وہ ہندوستان میں رائج مسلم فیملی لاء کو ہی ختم کردے گی۔ یہ دونوں طبقات ہندوستان کی آبادی کا تقریباً چالیس فیصد بنتے ہیں اور ان دو طبقات نے بی جے پی کو اپنے ووٹ کی طاقت سے دو تہائی اکثریت نہ لینے دی۔ ہندوستان چونکہ ایک جمہوری ملک ہے اس لیے اس طرح کی قانون سازی کے لیے حکمران جماعت کو دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔
لیکن پاکستان کے ایوب خان تو ایک فوجی آمر تھے انہوں نے اپنی حکمرانی کے دور میں 2 مارچ 1961 کو ایک آرڈیننس جاری کر کے عائلی قوانین میں تبدیلی کر دی تھی یہ الگ بات ہے کہ ان تبدیلیوں کو عوام نے من و عن قبول نہ کیا۔
مودی کے سابقہ دس سالہ اقتدار میں ہندوستان کی معاشی اور صنعتی ترقی کا بڑا غلغلہ بلند ہوتا رہا اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کی معیشت میں اس دور میں بیرونی سرمایہ کاروں نے بڑے بڑے صنعتی اور تجارتی منصوبوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی اور مقامی طور پر بھی کئی بڑے نئے صنعتی و تجارتی گروپ ابھر کر سامنے آئے اور متوسط طبقے کے حجم میں بھی اضافہ ہوا لیکن غربت کی شرح میں کوئی خاطر خواہ کمی نہ ہو سکی۔
بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق صرف دارالحکومت دہلی میں تقریباً 667 کچی بستیاں ہیں جن میں 30 لاکھ افراد رہائش پذیر ہیں۔ وہاں کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ ہم یہاں بڑی بڑی مصیبتیں جھیلتے ہیں جانے کتنے کتنے الیکشن آئے اور چلے گئے لیکن ہماری حالت نہ بدل سکی۔ جب پچھلے سال ہندوستان میں جی۔ 20 کانفرنس ہوئی تو ان بستیوں میں سے کئی ایک کو مسمار کر کے ہزاروں لوگوں کو بے گھر کر دیا گیا تھا۔
پاکستان میں بھی ایوبی آمریت کے دور میں صنعتی اور معاشی ترقی کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے تھے بلکہ 1968 میں ایوب خان نے عظیم الشان طریقے سے ”جشن ترقی دس سالہ“ منایا جس کو انگریزی میں Decade of Developement کا نام دیا گیا۔ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اخبارات خصوصی ضمیمے شائع کرتے تھے جن میں ایوبی حکومت کی کامیابیوں پر داد کے ڈونگرے برسائے جاتے تھے لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس تھے ملکی دولت چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئی تھی اور ملکی معیشت کے افق پر دولت مند بائیس خاندان براجمان تھے اور عوام بیچارے بس ہاتھ ملتے ہی رہ گئے تھے۔
ہندوستان کے ان انتخابات نے دنیا بھر میں ایک دفعہ پھر جمہوریت کی اصل طاقت کا مثبت پہلو اجاگر کر دیا ہے اور عوام نے حکمران طبقے پر واضح کر دیا کہ ان کو کسی بھی شکل کی آمرانہ سوچ قابل قبول نہیں ہے۔ ہندوستان کے انتخابات کا ان نتائج میں پاکستان کے بالادست طبقات کے لئے بھی ایک خاموش پیغام پنہاں ہے کہ ایک وفاقی ریاست کی بقا و ترقی صرف اور صرف ایک جمہوری نظام کو اپنانے میں ہی ممکن ہے۔


