اتھاریٹیرین ریاست اور سینسر شپ
کئی روز سے پاکستان میں ”ایکس“ کی بندش جاری ہے، پہلے حکومت نے بندش کو ماننے سے ہی انکار کیا لیکن پھر اسلام آباد ہائیکورٹ میں حکومت نے جواب جمع کرایا اور مان لیا کہ سیکیورٹی وجوہات کے بنا پر پاکستان میں آفیشلی ”ایکس“ کی بندش ہے۔
سوچنے والی بات ہے کہ یہ کیسی سیکیورٹی وجوہات ہیں جو عوام کو تو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے استعمال سے روکتی ہیں لیکن وزیراعظم سمیت تمام وزراء وی پی این کے ذریعے اس کا استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان میں میڈیا اور سوشل میڈیا کے سینسر شپ کی ایک پوری تاریخ ہے لیکن پی ڈی ایم کی حکومت کے دور سے لے کر اب تک پاکستان میں ڈیموکریسی کمزور سے کمزور تر ہی ہوتی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے پی ڈی ایم کے دور میں متعدد بار موبائل فون سگنلز اور انٹرنیٹ تک رسائی مشکل بنائی گئی، میڈیا پر سینسر شپ بڑھائی گئی پیمرا اور پیکا آرڈیننس کے ذریعے ملک میں جمہوریت کو مزید دبایا گیا پھر نگران حکومت کا دور آیا تو اس سنہری دور میں بھی سنہری کارنامے سرانجام دیے گئے جس میں پی ٹی آئی کے آن لائن جلسوں کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بند کرنا، الیکشن کے دن انٹرنیٹ معطل کرنا اور پھر پاکستان میں ”ایکس“ کی بندش کرنا شامل تھا۔
حکومت کا سوچے سمجھے بغیر صرف سیاسی بنیادوں پر سوشل میڈیا کو بار بار بند کرنا، سینسر کرنا نہایت قابل مذمت ہے۔ حکومت ایک طرف تو سوشل میڈیا پر پابندیاں لگاتی ہے، کمپنیز کو مجبور کرتی ہے کہ صارفین کا ڈیٹا حکومت کی ڈیمانڈ کے مطابق اس کو مہیا کرے، آزادی اظہار کا گلا گھونٹتی ہے اور دوسری طرف یہ دعوٰی بھی کرتی ہے کہ حکومت نے ملک کو ٹیکنالوجی کا حب بنانا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان میں کسی بھی وقت کسی پلیٹ فارم پر بھی کسی چیز کو جواز بنا کر اس پر پابندی لگا دی جائے گی ایسی کون سی کمپنی اور ملک ہو گا جو پاکستان میں ٹیکنالوجی پر انویسٹ کرنے پر راضی ہو گا۔
پنجاب میں ہتک عزت کے بل کا منظور ہونا ایک اور کالے قانون میں اضافہ ہے جو ملک میں جمہوری اقدار کو مزید کمزور اور اتھاریٹیرین کلچر کو مزید پروموٹ کرے گا، پاکستان نے ہر دور میں ایک طرح کی سینسرشپ دیکھی ہے جب مارشل لا تھا تب بھی اس ملک کی عوام نے ظلم و جبر دیکھا، جیل اور سلاخیں دیکھی جب سویلین حکومت آئی تب بھی ہائبرڈ رجیم کی وجہ سے آزادی اظہار تک کی بنیادی آزادی نہ مل سکی۔ سلسلہ شروع ہوتا ہے ایوب خان کی آمریتی اقدامات سے جب پروگریسو اخبارات کو بند کیا گیا، پرنٹ میڈیا کو سینسر کیا گیا، کنٹرولڈ میڈیا اور نیوز عوام کو بتائی جاتی تھی، تنقید کرنے پر لوگوں کو کوڑے مارے گئے، جیلوں اور سلاخوں میں ڈالا گیا، ضیا الحق نے یہی روایت جاری رکھی، ہر دور میں پابندیوں کے نئے ریکارڈز بنتے گئے، ہر دور میں ایسا لگتا تھا کہ اب سے زیادہ پابندی کیا ہی لگے گی لیکن اس کے بعد کا آنے والا دور پچھلے والے سے زیادہ کنٹرولڈ اور سینسر ہوتا تھا۔ اسی سوچ کو سیاستدانوں نے بھی اپنایا ایک دوسرے سے مخالفت کے چکر میں ایسے ایسے بلز اور آرڈیننس پاس کیے کہ جمہوریت بھی شرما جائے۔ پیکا آرڈیننس اور پیمرا قوانین کو سیاسی حریفوں کے خلاف استعمال کیا گیا اور پنجاب میں ہتک عزت کا بل ایک اور ایسا بل ہے جو بچی کھچی آزادی اظہار کو بھی دبا دے گا۔
خبریں آ رہی ہیں کہ حکومت چائنہ کے طرز کی طرح ایک فائر وال کو انسٹال کرنے جا رہی ہے جو سوشل میڈیا پر چیزیں پوسٹس ہونے سے پہلے ہی مواد کو ڈیلیٹ کرنے کی کپیسٹی رکھتی ہوگی۔ اس ٹیکنالوجی سے سینسرشپ میں مزید اضافہ ہو گا، مزید سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندیاں لگائی جائیں گی، ریاست کی جانب سے لوگوں کی نگرانی میں مزید اضافہ ہو گا۔ یہ سب وہ پہلو ہیں جو پاکستان کو ایک جمہوری ملک کی کیٹیگری سے نکال کر ایک اتھاریٹیرین ملکوں کی کیٹیگری میں ڈال رہے ہیں، پاکستان میں شروع سے ہی جمہوریت کمزور رہی ہے لیکن باعث تشویش یہ ہے کہ ہم نے کوشش بھی نہیں کی کہ جمہوریت کو اس ملک میں مضبوط کیا جائے۔ بس اقتدار کی کرسی کی لالچ میں وہ کام بھی کیے جو لانگ ٹرم میں ملک کے مفاد میں نہیں تھے۔
یہی وجہ ہے کہ 2024 میں (ای آئی یو) کی پیش کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جمہوریت کی رینکنگ میں مزید 11 درجے کمی ہوئی ہے اور باقاعدہ طور پر پاکستان کو ایک اتھاریٹیرین سٹیٹ ڈکلیئر کر دیا ہے جہاں لوگوں سے ان کے انسانی حقوق لے لئے جاتے ہیں اور ایک اوپر بیٹھا ہوا طبقہ اور سٹیٹ کا ادارہ طے کرتا ہے کہ کس کو کتنی بولنے اور سننے کی آزادی دینی ہے۔ ایسے اقدامات سے ہم صرف پیچھے ہی رہیں گے کیونکہ ملک آزادی کی فضا میں ترقی کرتے ہیں، جب سیکیورٹی سٹیٹ کے بجائے ایک فلاحی سٹیٹ کی طرف ریاست کا فوکس جائے گا تب ہی ملکوں کے مقدر اور تقدیریں بدلتی ہیں۔
لہذا حکومت کو سنجیدہ ہو کر سوچنا چاہیے کہ ایسے اقدامات سے وہ ملک کو ٹیکنالوجی کا حب تو نہیں بنائیں گے لیکن ملک میں ٹیکنالوجی کے دروازے بند ضرور کر دیں گے۔ حیران ہو جانے کے قابل بات ہے کہ 2024 میں جہاں ملک 5 جی اور 6 جی کا ٹیسٹ کر رہے ہیں، سیٹلائٹ کی مدد سے بغیر سمز اور سورس کے انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں وہاں پاکستان میں لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بجلی جاتے ہی موبائل اور انٹرنیٹ کی فراہمی میں بھی تعطل آ جاتا ہے، یہ کیسا ٹیکنالوجی انقلاب ہے جس نے ملک کو سائنس کے دور میں بھی اندھیروں میں رکھا ہوا ہے۔
حکومت کو سوچنا ہو گا کہ اگر کسی پلیٹ فارم سے فیک نیوز پھیل رہی ہے تو ایف آئی اے اور پی ٹی اے کو اس قابل بنائے کہ وہ اس کو روک سکے، پاکستان میں موجودہ قوانین کو غیر سیاسی ہو کر اس پر عملدرآمد کروائے، بجائے اس کے کہ نئے سخت قوانین بنا کر پلیٹ فارمز کو بند کر دیا جائے اور آزادی اظہار پر مزید قدغنیں لگا دی جائیں، اس سے اور تو کچھ نہیں ملک میں آمریتی کلچر فروغ پائے گا، ٹیکنالوجی میں ملک پیچھے رہ جائے گا اور پوری دنیا میں پاکستان ایک کنٹرولڈ اور اتھاریٹیرین ریاست کے طور پر جانا جائے گا۔


