امیر حسین جعفری: انسان دوست شاعر اور ہر دلعزیز دوست


ایک ایسی جگہ پر جہاں خالد سہیل اور امیر جعفری دونوں موجود ہوں اور ایک میزبان محفل ہو اور دوسرا مضمونِ محفل تو میرے لیے بہت مشکل ہے کہ میں کس پر پہلے بات کروں یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور دونوں ہی میرے محترم عزیز دوست ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ میں یہاں ہر کھڑے ہو کر بہت خوشی محسوس کر رہی ہوں تو یہ بہت رسمی سا جملہ ہے حقیقت یہ ہے کہ میں یہاں کھڑے ہو کر اپنے آپ کو زندہ محسوس کر رہی ہوں۔

زندگی بے خوف احساس کا نام ہے جو کرنٹ کی مانند آپ کی رگوں میں جب دوڑتا ہے تو آپ کا روں روں اس احساس سے زندہ ہو جاتا ہے۔ یقین مانیں میں بہت اطمینان کا سانس لے پا رہی ہوں کہ دوستی میں دوست سب سے قیمتی چیز ہوتا ہے اور میں اس اصول پر یقین رکھتی ہوں کہ دوست کا دوست آپ کا دوست اور دوست کا دشمن آپ کا دشمن ہوتا ہے اس لیے جعفری صاحب مجھے بہت عزیز ہیں کہ میرے انتہائی محترم دوست ڈاکٹر خالد سہیل جب بھی ان کا نام لیتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں ایک خاص چمک آ جاتی ہے لیکن جس لمحے جعفری صاحب کی عزت میرے دل میں پیدا ہوئی مجھے وہ لمحہ بھی اچھی طرح یاد ہے۔

پتہ نہیں جعفری صاحب کو یاد ہو یا نہ ہو فیملی آف ہارٹ کے فنکشن میں ڈاکٹر خالد سہیل فن اور شخصیت کے بارے میں جب میں اپنا مضمون پڑھ رہی تھی تو سب سے اونچی تعریفی آواز جعفری صاحب کی تھی حالانکہ انہی سے میں سب سے زیادہ خوفزدہ تھی کہ میرا ان سے ڈاکٹر صاحب کی زبانی جتنا غائبانہ تعارف تھا اس میں ان کی قادر الکلامی اور اردو ادب پر مہارت کا سب سے زیادہ ذکر میں نے سنا تھا لیکن وہ لمحہ جس نے فیصلہ سنایا کہ جعفری صاحب صرف بہت بڑے ادیب اور شاعر ہی نہیں بہت بڑے انسان بھی ہیں وہ تھا جب تقریب کے اختتام پر کرسیاں اٹھاتے ہوئے مجھے یہ کہہ کر روک دیا آپ صرف دوست نہیں، بیٹی بھی ہیں۔

کسی بھی رشتے کا فیصلہ عزت کے باہمی رشتے پر ہوتا چاہے آپ کتنے امیر ہیں یا کتنے ہی با اثر ہیں یہ بے معنی ہے اگر آپ رشتوں میں عزت اور باؤنڈری کے اصول سے ناواقف ہیں۔ میرا جعفری صاحب سے پہلا غائبانہ تعارف 2021 میں اس وقت ہوا جب ڈاکٹر خالد سہیل نے فون پر بات چیت کے دوران مجھے بتایا کہ وہ اپنے انتہائی عزیز دوست امیر حسین جعفری سے ملنے جا رہے ہیں جو کہ پاکستان سے کینیڈا اپنی فیملی سمیت آ گئے ہیں ساتھ ہی انہوں نے مجھے ان کی ادبی صلاحیتوں کے بارے میں بتایا اور ان کے والد اختر حسین جعفری کی شاعری سے میری شناسائی کے بارے میں دریافت کیا میرے کم علمی کے اعتراف پر انہوں نے مجھے اختر حسین جعفری کے بارے میں بتایا اور بتایا کہ ان کی رعب دار شخصیت کے باعث وہ چاہ کر بھی ان کا انٹرویو نہ کر پائے لیکن انہی کے بیٹے سے ان کی دوستی کا یہ عالم ہوا کہ ان دونوں نے مل کر اختر حسین جعفری پر کتاب لکھی۔

یہ مختصر سی کتاب میں نے بطور ہوم ورک امیر حسین جعفری پر مضمون لکھنے کے لیے روٹین میں پڑھنی شروع کی لیکن مجھے احساس ہوا کہ یہ کتاب صرف اختر حسین جعفری کی شاعری اور ان کی شخصیت کا احاطہ نہیں کرتی بلکہ قاری کو اور خاص کر لٹریچر کے قاری کو اپنے ان صفحات میں جدید انگریزی ادب کے رجحانات اور ان کے اردو ادب پر اثرات سے بھی آگاہ کرتی ہے۔ میرے لیے اس کتاب میں امیجزم imagism وورٹیکس vortex اور وورٹسزم vorticism کے کانسیپٹ دلچسپ تھے اور جعفری صاحب کے کام کا Imagist movement کے ساتھ تعلق اور کیسے جدید شاعر کے ذہن میں ایک تصویر بنتی ہے جس کو وہ شاعری کے قلب میں ڈھالتا ہے اور یہ شاعری قاری سے بھی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے ذہن کو اور تخیل کو کھولے اور شعر پڑھتے ہوئے ایک تصویر ذہن میں بنا پائے تاکہ وہ ان الفاظ کو سمجھ سکے۔ اس سب کو سمجھنے میں آسانی امیر حسین جعفری کی اس نظم نے کی

نظم کب ہے یہ ایک ساعت ہے
ایک ساعت کہ جس کے باطن میں
انگنت بے شمار منظر ہیں

یہ نظم جہاں اختر حسین جعفری کی شاعری کو ٹریبیوٹ ہے وہاں امیر حسین جعفری کے اپنے والد سے تعلق کو بھی ٹریبیوٹ ہے کہ وہ اپنے والد کے کام کو اور ان کی شخصیت کو کتنے بہتر طریقے سے سمجھتے ہیں۔ میرے لیے یہ سب اس لیے بھی اہم ہے کہ میں ان لوگوں سے تعلق رکھتی ہوں جن کے ذہن میں ہر جملے سے ایک تصویر ابھرتی ہے بہت دفعہ وہ لفظ وہ شعر اس تصویر کے ذریعے میرے ساتھ رہ جاتے ہیں اور بعض دفعہ وہ اتنی خوشگوار ہوتی ہے کہ میں جب وہ جملہ سوچتی ہوں مسکراتی ہوں جیسے ایک دفعہ میں نے ڈاکٹر صاحب کو بتایا کہ میں جب آپ کے اور اپنے استاد شاگرد کے رشتے کے بارے میں سوچتی ہوں تو میرے ذہن میں چھوٹو کا خیال آتا ہے جو کان میں پینسل پھنسائے ڈائری اٹھائے اپنے استاد کے پیچھے بھاگا جا رہا ہے تاکہ کچھ سیکھ سکے۔

میری بہت خواہش ہے کہ اس کتاب کا اردو ترجمہ بھی ہو تاکہ زیادہ لوگ اس میں جو آئیڈیاز ڈسکس کیے گئے ہیں ان سے فائدہ اٹھا سکیں اور جان سکیں کہ انسان دوستی اور فاشزم سے نفرت کی جنگ ایک جہد مسلسل ہے جس میں ایک کارکن جہاں پہ مشعل چھوڑتا ہے وہاں سے اس جدوجہد کا تا زہ دم رکن بڑھ کر وہ مشعل اٹھا لیتا ہے جہاں پہ انسان دوستی اور جبر فاشزم اور ڈکٹیٹر شپ سے نفرت اور اس کے خلاف جدوجہد کی مشعل اختر حسین جعفری نے چھوڑی امیر حسین جعفری نے بڑھ کر اٹھا لی۔ یہ نظریات آسان نہیں خاص کر جب آپ مڈل کلاس سوڈو انٹلیکچوئل کے برعکس ان کو جینے کا بھی اعادہ کریں اس کی قیمت ہوتی ہے جو اختر حسین جعفری اور امیر حسین جعفری دونوں ادا کی اور میں اس سے اچھے سے واقف ہوں کہ یہ قیمت میں نے اپنے بابا اور تایا دونوں کو مسکرا کے ادا کرتے دیکھا۔

”ہم زمیں زاد“
ہمارے پیروں کے چھالے پھوٹیں
تو ان کے نم سے
غبار رستوں کا بیٹھتا ہے
ہمارے خوابوں کا خون پی کر یہ سبز رنگی رُتیں جواں ہیں
ہمارے سر کاٹ کر اساسِ فلک میں جب تک دھرے نہ جائیں
کھڑا نہ رہ پائے ایک پل بھی
ہماری پوروں نے قطرہ قطرہ لہو دیا ہے
تو ورقِ جاں سُرخ گوں ہوا ہے
ہمارے اشکوں نے ہر لبِ دشت کو چھوا ہے
تو تر ہوا ہے
ہمی ہیں وجۂ جمالِ ہستی
ہمارے ہونے سے ارتقا ہے
وگرنہ اس کارگاہ میں کچھ
کمالِ کن فیکون کیا ہے؟
ظہیر مشتاق

مجھے امید ہے ایک دن اس کا اردو ترجمہ بھی آئے گا اور خواہش ہے کہ مجھے دھکا لگا کر ڈاکٹر صاحب اس کا ریویو لکھوانے پر کامیاب ہو جائیں گے۔ اس کتاب کا حوالہ میں نے صرف اس لیے نہیں دیا کہ میں بتا سکوں کہ دیکھیں واہ واہ امیر جعفری کتنی قد آور شخصیت کے بیٹے ہیں اور جعفری صاحب کتنی محبت کرنے والے بیٹے ہیں۔ محبت کرنا کوئی کمال نہیں کمال یہ ہے کہ آپ ان ان دیکھے اصولوں کی پاسداری کر سکیں جس سے محبت بھی فخر کر سکے۔ نظریے دولت کی طرح نہیں ہوتے کہ باپ نے اولاد میں بانٹ دیے نظریہ اور خاص کر انسان دوستی کا نظریہ ایک خاموش میراث ہوتی ہے جس کو صرف وہ inherent کرتا جو یہ تکلیف اٹھانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

بلکہ یہ کتاب امیر جعفری اور ڈاکٹر خالد سہیل کی دوستی کا بھی اظہار ہے۔ اور یہ بات میں نے آج سے پہلے کبھی ڈاکٹر صاحب کو بھی نہیں بتائی کہ شروع میں جب جعفری صاحب واپس آئے اور ڈاکٹر صاحب ان کی انتہائی ایکسائٹمنٹ سے ذکر کرتے تو میں بہت جیلس فیل کرتی کیونکہ بہت عرصے کے بعد مجھے ایک ایسا دوست میسر تھا جس سے میں بغیر جج ہوئے اپنا ہر قسم کا اوٹ پٹانگ آئیڈیا اور بات شیئر کر سکتی ہوں لیکن پھر میں نے امیر جعفری صاحب کی مرتب شدہ کتاب ڈاکٹر خالد سہیل فن اور شخصیت پڑھی اور میں نے جعفری صاحب کے لیے بے پناہ عزت اور محبت اپنے دل میں محسوس کی کہ یہ دوستی اور محبت کا کمال ہے کہ وہ منفی جذبات کو بھی کو بھی پازیٹیویٹی میں بدل سکتے لیکن پھر میں نے اس دوستی کا ایک نیا روپ دیکھا جب جعفری صاحب بیمار ہوئے اور مجھے لگا کہ میں اس تکلیف کو برداشت نہیں کر پا رہی تب تکلیف کا وقت میں نے ڈاکٹر صاحب سے مسلسل یہ پوچھ پوچھ کر گزارا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا نا اور مجھے نہیں معلوم کہ ان کا اتنا حوصلہ کیسے ہے کہ وہ اپنی تکلیف کے باوجود مجھے تسلی دیتے رہے اور جب جعفری صاحب گھر آئے اور کچھ بہتر ہوئے تو ڈاکٹر صاحب نے مجھے بتایا کہ وہ جعفری صاحب کی شاعری ڈاکومنٹ کرنا چاہتے ہیں میرے لیے یہ بات کہ سب نظمیں جعفری صاحب کو یاد ہیں اور انہوں نے کچھ لکھا ہوا نہیں بہت حیران کن تھا لیکن پھر مجھے ہر ہفتے پتہ چلنا شروع ہوا کہ آج اتنی نظمیں لکھ لیں جب اس پروگرام میں بات کرنے کی دعوت ڈاکٹر صاحب نے مجھے دی تو ہوم ورک کے لیے میں نے ان سے ان نظموں کو پڑھنے کی خواہش کی جو دونوں نے بخوشی مجھے دی۔

ان نظموں کے موضوع کے نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ اے مرے غم کے ٹائیٹل کے ساتھ نظموں میں میری دلچسپی کی وجہ بالکل مختلف ہے۔ کیونکہ حساس لوگوں کے لیے ان کا غم ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔ یہ بہت پرائیویٹ ہوتا ہے اس کو اپنے دل میں گارڈ کیا جاتا ہے اور دماغ کے اپنے یونیک کریٹیویٹی پروسیس سے گزار کر جب یہ کسی بھی آرٹ کی شکل دھارتا ہے تو اس کا نتیجہ اس طرح کی شاعری میں نمودار ہو رہا جس کو میں نے ان بیس نظموں میں پڑھا۔

لیکن ان لوگوں جن کو ڈاکٹر خالد سہیل نے creative minority کا نام دیا ہے ان کے غم بھی نرالے ہیں ان کو ایک عام سیوڈو انٹلکیچوئل کی طرح اپنے لفظوں کی اپنے فن کی نیلامی نہیں کرنی اور جب ان جو اپنا حرف بیچنا پڑتا ہے تا جو دکھ وہ محسوس کرتے ہیں وہ کچھ اس طرح سے ظاہر ہوتا ہے جیسے سرمایہ میں ُ امیر جعفری کا دکھ واضح ہے اور شاید یہ وہ میراث ہے جو ان کو اختر جعفری سے ملی ہے کہ اختر جعفری صاحب نے بھی پیسے شہرت دونوں کے لیے اپنے لفظ اپنا فن بیچنے سے انکار کیا

تمہارے تن سے روشن خواب
کاغذ کی روپہلی سطح پر تصویر کرتا تھا
مجھے ان کی بہت اچھی بہت معقول سی قیمت بھی ملتی ہے
کبھی تعریف کے سکے کبھی پہچان کے درہم
نجانے کیوں میں اکثر سوچتا ہوں
میں تمہارا جسم کیونکر بیچ آتا ہوں
یا انسانوں کے بقا کے انسانیت کے دکھ ہیں

یہ ان کی دوسری میراث ہے جو جعفری صاحب کو ملی ان کو وراثت میں ڈالرز کی چمک نہیں بلکہ وہ انسانیت کی بقا اور عام انسانوں کے دکھ ملے ہیں زمیں سہمی ہوئی میں جفری صاحب رقمطراز ہیں

پچھلے دروازے سے آنے والوں کے قدموں سے
زمیں سہمی ہوئی ہے
اور شجر اس حکم نامے کی عبارت کو
اسی حیرت سے تکتے ہیں
جو اس تحریر کو پڑھتے
مرے اسلاف کی آنکھوں میں مثم اشک پھیلی تھی
مرے اسلاف بزدل تھے نہ میں کم دل
کہ اپنے خواب تج ڈالوں
بس اتنا ہے کہ اک وعدہ نبھانا ہے
زمیں کی آخری حد سے مجھے پہرہ ہٹانا ہے

اس سب جدوجہد، نظریے اور انسانوں کے دکھ کی میراث میں محبت وہ نرم اور گداز جذبہ ہے جو آپ کو زندہ رکھتا ہے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے جیسا رومینٹک انسان نظم کے یہ اشعار پڑھے اور ان کو اپنے دل و دماغ میں کئی ہزار مرتبہ نہ دہرائے

تیری پلکوں پہ جو ستارا ہے
میری نظموں کا استعارہ ہے
میرے پہلو میں ایک سایہ ہے
ایک تصویر رنگ ہے جس میں
رات بھر گفتگو سی رہتی ہے

یہ وہ گفتگو ہے جو ہر حساس انسان اپنے تخیل کے محبوب سے کرتے ہیں جو ہمارے تخیل نے تخلیق کیا ہے اور کون اپنی تخلیق سے محبت نہیں کرتا اپنی محبت کے تو سات خون معاف ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کو تو بہت محبت سے امیر حسین جعفری اپنی نظم پڑھنے کا فن سکھا رہے ہیں

تم مری نظم کیسے پڑھتی ہو
یہ کہانی نہیں حقیقت ہے
تم اسے چھو کے دیکھ سکتی ہو
چشم حیرت سے چھو کے دیکھو کبھی
سطر نم سے وہ بھیگ جائے گی
اور وہاں پر ’تمہارے چاروں طرف
روشنی سی بھی پھیل جائے گی
رنگ اڑتے دکھائی دیں گے تمہیں
ایک تصویر جاگ جائے گی
سطروں کے درمیاں جو معانی ہیں
ہو سکے گر تو اس پہ غور کرو
تم مری نظم کیسے پڑھتی ہو

یہ اتنی سافٹ نظم ہے کہ یقین نہیں آتا یہ وہی شاعر ہے جس نے زمین سہمی ہوئی ہے تحریر کی ہے۔ بہت سارے نقاد شاعر جب اپنے ہم عصروں کی تحریروں کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک ہاتھ میں میگنیفائنگ گلاس اور دوسرے ہاتھ میں انا کا ہتھوڑا تھام کر ہر تخلیق اور تخلیقی عمل کو تہس نہس کر دیتے ہیں اور یہ انا سب سے بڑا المیہ ہے اس لیے شکر ہے میں نے ہی بہت بڑی قلمکار ہوں نہ ہی کوئی انا کی ماری ہوئی نقاد ہوں بطور لیفٹ ایکٹوسٹ اور قاری کے میرے لیے ان کی نظموں میں موضوعات کی ورائٹی اور خیالات کی وسعت اور جذبات کی سچائی سب سے اہم ہے الفاظ برش اپنے ہاتھ میں لے کر خود تصویر قاری کے ذہن میں پینٹ کرتے ہیں اور چے سے لے کر جعفری صاحب کا محبوب سب قاری کے ذہن میں مجسم ہو جاتے ہیں۔ یہ سطر جو جعفری صاحب نے اختر صاحب کے لیے لکھی میرے خیال میں ان کی اپنی شاعری کے لیے بھی درست ہے

نظم کب ہے یہ ایک ساعت ہے
ایک ساعت کہ جس کے باطن میں
ان گنت بے شمار منظر ہیں

اور میں اچھے سے جانتی ہوں کہ امیر جعفری کے لیے اس سے بڑا میڈل کوئی نہیں کہ ان کے الفاظ میں ان کے ساتھ ان کے والد کی جھلک بھی ہے کہ یہ بات میرے سے زیادہ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ میں آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں ڈاکٹر خالد سہیل اور امیر جعفری جیسے انسان دوست انسانوں کو جانتی ہوں لیکن اس سے بڑی خوش قسمتی ہے کہ وہ میرے استاد ہیں۔ استاد صرف نصابی نہیں ہوتا بلکہ وہ استاد سب سے بڑا ہوتا ہے جو آپ کو زندگی سکھائے اور اپنے والد کے بعد انسان دوستی کا سن سے بڑا سبق میں نے ان دونوں سے ہڑا ہے کہ جس راستے کہ ہم مسافر ہیں وہ جدا ہے کانٹوں سے بھرا ہے اور ایک دوسرے کا ساتھ نعمت ہے اس لیے میں امید کرتی ہوں کہ مجھے ان دونوں کا ساتھ دوستی اور شاگرد اور دوست ہونے کا اعزاز حاصل رہے گا

ہم دشت کے باسی ہیں ارے شہر کے لوگو
یہ روح پیاسی ہمیں ورثے میں ملی ہے
دکھ درد سے صدیوں کا تعلق ہے ہمارا
آنکھوں کی اداسی ہمیں ورثے میں ملی ہے
جاں دینا روایت ہے قبیلے کی ہماری
یہ سرخ لباسی ہمیں ورثے میں ملی ہے
جو بات بھی کہتے ہیں اتر جاتی ہے دل میں
تاثیر جدا سی ہمیں ورثے میں ملی ہے
جو ہاتھ بھی تھاما ہے سدا ساتھ رہا ہے
احباب شناسی ہمیں ورثے میں ملی ہے
محسن نقوی

یہ مضمون 9 جون 2024 کو امیر حسین جعفری کی صحت یابی کی خوشی میں منعقد کردہ فیملی آف دا ہارٹ کے ایونٹ میں پڑھا گیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments