کراچی یاترا۔ قسط2 قبرستان کی حالت زار


Farrukh saleem Canada

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کراچی یاترا میں کئی مساجد میں نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ ماشاءاللہ تمام مساجد بہت صاف ستھری اور نمازیوں کی کثرت۔ دل بہت خوش ہوا۔ لیکن یہ ساری خوشی اس وقت خاک ہو گئی جب مجھے پاپوش نگر کے قبرستان جانے کا موقع ملا۔

کراچی آمد کے بعد پاپوش نگر کے قبرستان میں بزرگوں اور دیگر رشتہ داروں کی قبروں پر فاتحہ پڑھنا ہمیشہ کی طرح میری اولین ترجیحات میں تھا۔ اس دفعہ بھی میری یہی کوشش تھی کہ میں بزرگوں کی قبروں پر جلد از جلد حاضری دوں۔ جب میں نے گھر میں اس کا ذکر کیا تو مجھ سے کہا گیا کہ میں یا تو جمعہ کی نماز کے بعد قبرستان جانے کا پروگرام بناؤں یا چھٹی کے دن۔ وہ بھی دن کے وقت، شام یا خاص طور سے مغرب کے بعد جانا محفوظ نہیں ہے۔

جمعہ کو جب میں قبرستان پہنچا تو مجھے سمجھ میں آیا کہ مجھے کیوں اور کیا ہدایات دی جاری تھیں۔ قبرستان میں گھستے ہی ایک ویرانی کا احساس ہوا۔ ہر طرف گندگی، مٹی اور جھاڑیوں کے ڈھیر۔ مانگنے والوں کی کثرت۔ بائیں ہاتھ پر قبرستان کی نام نہاد انتظامیہ کا دفتر۔ جو دفتر سے زیادہ ”ڈیرہ“ لگ رہا تھا جہاں اجنبی چہرے اجنبی زبان میں محو گفتگو تھے۔ فوراً ہی اندازہ ہو گیا کہ جس طرح کراچی میں ہر طرف طاقتور مافیا کا راج ہے، یہاں بھی گورکن مافیا کا راج ہے۔ قبر کھودنے سے لے کر قبر کے کتبے اور قبر کی رکھوالی تک، اس کے درمیان بھی کئی منزلیں ہیں۔ قبرستان میں داخل ہوتے ہی کئی پانی ڈالنے والے کارکن میرے پیچھے لگ گئے اور اپنی اپنی خدمات پیش کرنے لگے۔

ہمارے بہت سے دوست پاپوش نگر کے تاریخ و جغرافیہ سے واقف ہی ہوں گے ۔ کافی پرانی بات ہے جب ناظم آباد میں رہائشی مکانات بننے شروع ہوئے تھے۔ پاپوش نگر میں قبرستان کی جگہ مختص ہوئی تھی۔ اسی زمانے میں ہمارے دادا نے اس قبرستان میں پلاٹ الاٹ کرایا جس میں بارہ قبروں کی گنجائش تھی اور اس کے ارد گرد چاردیواری کھنچوا کر دروازہ لگوا دیا کہ غیر ضروری مداخلت سے محفوظ رہے۔ میں اپنے دادا میاں کو اپنا رول ماڈل مانتا ہوں کہ ان کے چند فیملی، کمیونیٹی کے فلاحی کاموں میں سے یہ بھی ایک کام ہے، قبر کا بندوبست۔ وہ بہت پہلے سے سوچتے تھے اور دور تک سوچتے تھے۔ آج اس قبرستان میں دادا میاں خود، میری دادی، میرے والد، والدہ۔ چچا، چچی، پھوپھی اور پھوپھا دفن ہیں۔ فاتحہ پڑھنے والوں کو بہت آسانی ہے۔ قبرستان میں جگہ جگہ قبریں ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک ہی جگہ جا کر فاتحہ پڑھ لیں۔

پانی ڈالنے والوں سے جان چھڑا کر میں بڑی مشکل سے قبروں پر سے کودتا پھاندتا اپنے بزرگوں کے قبروں کے احاطہ میں پہنچ سکا۔ کئی جگہ جھاڑیوں اور پتھروں سے الجھ کر گرا بھی۔ ایک زمانہ تھا کہ اس احاطہ کے اس پاس چوڑی چوڑی راہداریاں موجود تھیں۔ چلنے پھرنے میں کوئی قباحت نہیں تھی۔ وقت کے ساتھ ان راہداریوں کا نام و نشان مٹ گیا ہے اور ان میں قبریں بنا دی گئی ہیں۔ پچھلی دفعہ بھی اتنا برا حال نہیں تھا، جتنا اس بار تھا۔

ہمیں یہ بھی ہوشیار کیا جا چکا ہے کہ قبرستان کی ”انتظامیہ“ سے اچھے تعلقات رکھیں ورنہ احاطہ میں جو چند قبروں کی گنجائش ہے، اس میں بھی لوگ باہمی تعاون سے اپنے مردے دفن کر جائیں گے اور آپ کچھ نہیں کر سکیں گے۔ یوں تو قبرستان میں اب مزید قبروں کی گنجائش نہیں ہے لیکن ضرورت مندوں کے لئے گنجائش پیدا کر لی جاتی ہے۔ کس طرح؟ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ امید ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے ۔

شاپنگ، شاپنگ

ہمارے پاس کینیڈا میں نہ تو اتنا وقت ہوتا ہے اور نہ ہی شوق ہے کہ فرصت سے شاپنگ کریں۔ اب تو آن لائیں سہولت کی وجہ سے یہ کام بھی آسان ہو گیا ہے کہ چیز پسند کریں آن لائن آرڈر دے دیں، سامان گھر پہنچ جائے گا۔ اللہ اللہ خیر صلا

کراچی میں لوگوں کو شاپنگ کا بڑا شوق ہے، خاص کر ونڈو شاپنگ کا اور وہ بھی بڑے شاپنگ مال میں کہ وہاں اچھی خاصی چہل قدمی ہو جاتی ہے، جتنی چاہیں کر لیں بس مال بند ہونے سے پہلے باہر نکل آئیں۔ سارے مال ائر کنڈیشنڈ ہیں، فوڈ کورٹ بھی ہے، مسجد بھی ہے، پارکنگ فری ہے اور فقیروں سے بھی بچت ہے گویا فقیر فری زون ہے۔ بندے کو اور کیا چاہیے کہ ابھی کچھ دن پہلے ہم فقیروں کی لڑائی میں پھنستے پھنستے بچے۔ ہوا یہ کہ ایک فقیر جب اپنی پوری مارکیٹنگ کر چکا تو ہم نے جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ پیسے دینے چاہے تو ایک دوسرا فقیر جو اپنی پوری پلٹن کے ساتھ نزدیک کھڑا تھا، کود کر آ گیا اور پہلے فقیر سے لڑائی شروع کر دی۔ پتہ نہیں مسئلہ کیا تھا لیکن ہم نے صورتِ حال کو گمبھیر ہوتا دیکھ کر کھسک جانے میں ہی خیریت سمجھی اور توبہ کی کہ آئندہ یہاں بازار میں کسی کو بھیک دینے کی کوشش نہیں کریں گے۔

خیر بات ہو رہی تھی شاپنگ کی۔ ایک دن ہم بھی اپنے میزبان کے ساتھ شاپنگ مال چلے گئے۔ اب ہمارے پاس کراچی سے شاپنگ کی کوئی لسٹ تو تھی نہیں، بس یہ تھا کہ واپسی پر بچوں کے لئے کچھ گفٹ وغیرہ مل جائیں، کچھ اپنے لئے پسند آ گیا تو لے لیں گے ورنہ فوڈ کورٹ میں بیٹھ کر کچھ کھا پی لیں گے۔ فوڈ کورٹ کا بھی بڑا چارم تھا کہ یہ کینیڈا تو ہے نہیں یہاں تو میکڈانلڈ اور کے ایف سی وغیرہ سب حلال ہے، جو چاہے آرڈر دیں، بسم اللہ پڑھیں اور کھا جائیں۔ ویسے بھی شاپنگ کا بہانہ اصل نیت تو کھانے پینے ہی کی تھی۔ ایک دو دکانوں پر جیکٹ اور شرٹس وغیرہ کی قیمتیں چیک کیں۔ ٹھیک ہے ورائٹی بہت تھی لیکن قیمتیں کچھ کم نہیں بلکہ کینیڈا سے کچھ زیادہ ہی تھیں۔ خریدا کچھ نہیں لیکن رسماً پورے شاپنگ مال کا ایک چکر لگایا اور فوڈ کورٹ میں آ کر بیٹھ گئے۔

سب سے پہلے کافی شاپ پر گئے، پتہ کیا۔ کافی کا ایک کپ پانچ سو روپے کا ۔ ایک زمانہ میں سولہ روپے کا ملتا تھا۔ خیر ہم اتنی مہنگی کافی پینے کے لئے ذہنی طور پر تیار تھے۔ ہم نے پوچھا کہ بغیر چینی کی کافی مل جائے گی۔ کافی کا ؤنٹر والے نے ہمیں گھور کر دیکھا اور کہا یہ سٹینڈرڈ کافی ہے۔ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ غالباً دل میں بھی سوچا ہو گا کہ کہاں سے یہ جاہل آ گئے، شاید پہلے دفعہ کافی پی رہے ہیں۔ بندہ منہ لٹکا کر واپس آ گیا کچھ زیادہ افسوس نہیں ہوا کہ دل میکڈانلڈ کے برگر اور وہ بھی بگ میک  میں لگا ہوا تھا۔

کینیڈا کا بگ میک بہت بڑا ہوتا ہے (کبھی کھایا نہیں صرف دیکھا ہے ) لیکن بد نیتی کا تقاضا، ہم نے بگ میک کا آرڈر دے دیا، قیمت پوچھنے کی ہمت نہیں پڑی۔ تھوڑی دیر جب ہمارا آرڈر نمبر پکارا گیا تو اس نے ہمیں ایک ننھا سا برگر پکڑا دیا۔ یہ کیا؟ بگ میک میں تو کئی تہیں ہوتی ہیں۔ اس نے ہمارے ہاتھ سے برگر چھینا، اس کو کھولا اور مہین دکھا دیں اور گنوا بھی دیں۔

ہمارا دوسرا شاپنگ ٹرپ حیدری مارکیٹ کا تھا۔ یہاں شرٹس، ٹریک سوٹ وغیرہ باہر ڈسپلے پر بھی لگے تھے، قیمتیں بھی کچھ مناسب لگ رہی تھیں، لیکن خواتین کا ایک بڑا ہجوم تھا۔ میرے کان میں آواز پڑی۔ اس کی کیا قیمت ہے۔ دکاندار نے جواب دیا۔ ایک ہزار روپے۔ ان خاتون نے کہا تین سو میں دو گے۔ میں تو سکتے میں آ گیا۔ میرا خیال تھا کہ دکاندار غصے میں آ جائے گا اور کوئی نامناسب سا جواب دے گا۔ لیکن میں یہ سن کر حیران رہ گیا جب دکاندار نے کہا چلیں باجی آپ 6 سو دے دیں، کتنے پیس دے دوں۔ اسے کہتے ہیں بارگیننگ۔ ہماری حکومت کو پتہ نہیں ورنہ آئی ایم ایف سے ادھار بہت سستا مل جاتا۔

Facebook Comments HS