نفسیاتی مریض


سارے مجمع پہ سناٹا چھا گیا جیسے کسی سانپ نے ایک ہی لمحے میں سب کو ڈس لیا ہو۔ پھر چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔

” کہیں سعید پاگل تو نہیں ہو گیا!“
” لگتا ہے اس کو خودکشی کا شوق ہے۔“
” مجھے تو پہلے ہی اس کی دماغی حالت پہ شک تھا۔“

” یہ بیٹھیے بیٹھیے کہیں کھو جاتا ہے اس کو ضرور مدد کی ضرورت ہے میں اس سے ضرور بات کروں گی۔ مجھے خطرہ ہے کہ کہیں اس پہ دیوانگی کے دورے نہ پڑنے شروع ہو جائیں۔“

” اتنے لوگوں میں سے کسی نے بھی اس کام کو کرنے کی ہاں نہیں بھری اور اس نے بغیر سوچے سمجھے ہاں کر دی۔“

” اس کام میں تو زندہ بچ جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔“
” کیا اس کی سمجھ بھی آیا ہے کہ کیا کام کرنا ہے۔“

” پہلے اس کا نفسیاتی تجزیہ ہو نا چاہیے۔ شا ید اس کو اس کام کے کرنے میں جو خطرات لاحق ہیں اس کا اندازہ ہی نہیں ہے۔“

مجمع میں شور مچ گیا۔ ”اس کو ہسپتال لے کر جاؤ اور اس کے دماغ کا معائنہ کرواؤ۔“
ایک ہفتے بعد تین ماہرِ نفسیات کی کمیٹی کے رو برو:

یہ کمرہ بڑی بڑی کھڑکیوں کے باوجود گھٹا گھٹا سا لگ رہا تھا۔ پینتیسں سالہ دبلا پتلا سعید گہرے رنگوں کی چیک دار قمیض پہنے ہوئے ماحول سے بے پرواہ باہر ہلکے ہلکے بادلوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔

چند رسمی سوالات کے بعد ایک ماہر نفسیات جو کوئی چالیس سال کا ہو گا، گویا ہوا۔

” ہم نے جو تمہارا ٹسٹ لیا ہے تم نے اس میں تقریباً سارے سوالات کے جواب صحیح دیے ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے تمہارا دماغ حاضر اور چوکنّا ہے، اور پیچیدہ حالات کو سمجھ سکتا ہے۔ “

” جی۔“ سعید نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
” کیا تم اس مہم کو اچھی طرح سمجھتے ہو؟“
” جی میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک پر خطر مہم ہے، اس میں جان بھی جا سکتی ہے۔ “
” پھر تم نے کیسے بغیر تفصیل میں گئے اس کی حامی بھر لی۔“
” میں ان خطرات سے نہیں ڈرتا۔“

ادھیڑ عمر کا ماہرِ نفسیات بے چینی سے بولا۔ ”تم نے خطرات کے بارے میں پوری طرح جانے بغیر کیسے ہاں کر دی؟ کیا تم کو اپنی جان پیاری نہیں ہے؟ کیا تم مرنے کا با عزت بہانہ ڈھونڈ رہے ہو؟“

” یہ بات نہیں ہے۔ “ اس نے بہت آہستہ سے کہا۔
” پھر کیا وجہ ہے؟“ پہلے ماہرِ نفسیات نے تحکمانہ انداز سے کہا۔
سعید چپ رہا۔ اس کو ان تینوں انسانوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
” پھر کیا بات ہے؟“ ادھیڑ عمر کے آدمی کے چہرے پہ غصے کے آثار نمایاں ہو رہے تھے۔
” اس کی صرف ایک سادہ سی وجہ ہے۔ “ سعید کی آواز اور دھیمی ہو گئی۔
تینوں اس کی طرف سوالیہ انداز سے دیکھ رہے تھے۔ کمرے کی فضا کثیف ہو گئی تھی۔

” میں نے دوبارہ جینا سیکھ کیا ہے۔ اب میں سب سے بڑی فکر سے آزاد ہو گیا ہوں۔ اب میں ایک بڑے بچے کی طرح جی رہا ہوں جو ہر وقت جستجو کرنا چاہتا ہے۔ کلاس کے اسباق کے بجائے تجربات اور مشاہدات سے علم و حکمت کی باتیں سیکھنا چاہتا ہے۔ اونچی چٹانوں پہ چڑھ کر آسمان کو چھونا چاہتا ہے۔ وادیؤں کی ڈھلانوں میں گم ہو کر راستہ ڈھونڈنا چاہتا ہے، گھنے جنگلات میں چھپ کر اپنی پہچان کرنا چاہتا ہے۔ غرض یہ کہ ماضی کی یادوں اور مستقبل کے فکر سے آزاد ہو کر لمحہ حاضر سے منسلک رہتا ہوں۔ “ پھر سعید کچھ سوچ کر بولا۔

” اب میں دنیا کے ہر چیلنج کے لئے تیار ہوں۔ بڑے سے بڑا خطرہ مول لے سکتا ہوں، خطرناک مہم پہ جا سکتا ہوں۔ اب نہ مجھے ڈر ہے آفات سے اور نہ ہی اہل اقتدار سے، نہ ہی آندھیؤں اور طوفانوں سے اور نہ ہی جیل خانوں سے۔ “

تینوں ماہر نفسیات ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔ پھر پہلے ماہرِ نفسیات نے نرم لہجے میں سوال کیا۔ ”آخر تم نے خوف کو کیسے شکست دی؟“

” میں نے زندگی کی سب سے بڑی حقیقت کو قبول کر لیا ہے۔ “ سعید بھرپور طریقے سے مسکرا رہا تھا۔ ”میں موت کی آمد کو قبول کر کے ہر ڈر سے آزاد ہو گیا ہوں۔ “

Facebook Comments HS