میرے بچپن کے دن (2)


ہم اتنے شرارتی تھے کہ امی جس سے بھی شکایت کرتیں، وہ کہتے کہ تمھارے بچے تو بڑے جینیئس ہیں۔

ہم نے اپنی ہی زبان ایجاد کر لی تھی جس میں اردو انگریزی، سرائیکی، پشتو، سندھی وغیرہ کے الفاظ بھی شامل ہوتے تھے۔

جب ہم کوئی کام خود سے کرنا چاہتے تو کہتے

کہ ”آپے آپے“ مطلب کہ ہم خود یہ کام کریں گے۔ ہم ایک سال کے تھے کہ ایک دن نانی اماں مصالحہ پیس رہی تھیں تو ہم نے کہا آپے آپے۔ اور نانی اماں کے ہاتھ سے ڈنڈا لے کر خود مصالحہ کوٹنے کی کوشش کرنے لگے لیکن ڈنڈا ہمارے قد سے بھی زیادہ بڑا تھا اس لیے ہمارے ہاتھ سے چھوٹ کر نانی کے گھٹنے پر جا لگا۔ تو نانی اماں نے کراہ کر کہا ”ہائے تم نے تو میرا گوڈا کا ستیاناس کر دیا۔“ اس پر ہم نے چہک کر کہا کہ ”نانی اماں گوڈا ٹھا“ یعنی نانی اماں کے گوڈے کو ٹھا کر دیا ہے۔ پھر کئی دنوں تک اس واقعے کو دوہراتے رہے۔

اس زمانے میں مٹی کے تیل سے چلنے والے چولہے زیادہ استعمال ہوتے تھے لیکن چونکہ ان کے پھٹ جانے کے واقعات بھی بہت ہوتے تھے تو امی اِن کے استعمال سے کتراتی تھی اور ہم لکڑیاں اور اُپلے خریدتے تھے۔ اپلوں کو سرائیکی میں گوہے کہتے ہیں۔ ایک دن اپلے بیچنے والا آیا تو اُپلے کی دو بوریاں خریدی گئی۔ اپلے والے نے کہا کہ یہ بوریاں کہاں ڈالوں تو والد نے اُسے صحن میں بنے ایک چھپر کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہاں ڈالو۔

ہم نے یہ سنا تو کہنے لگے ”چاچا“ گوہے کھا ”یعنی یہ چاچا اپلے کھائیں۔“ ابا گوہے کھا ”یعنی والد اپلے کھائیں۔ پھر کہا“ ادا ماما گوہے کھا ”یعنی بڑے ماموں اپلے کھائیں۔ پھر کہا“ تھوتا ماما گوہے کھا ”یعنی چھوٹے ماموں اپلے کھائیں۔ اسی طرح نانی اماں کو بھی گوہے کھانے کو کہا۔ لیکن جب کوئی کہتا کہ“ تم اپنی امی کو بھی گوہے کھلاؤ ”تو ہم کہتے کہ“ امی گوہے اَکھا ”یعنی امی اپلے بالکل بھی مت کھائیں۔ سب ہنس کر کہتے کہ باقی سب کو اپلے کھانے کا کہہ رہے ہو لیکن اپنی امی کو یہ کھانے سے منع کر رہے ہو۔ یعنی تمھیں سب سے زیادہ امی سے پیار ہے۔ اسی طرح چھوٹے بھائی کو بھی اپلے نہ کھانے کا کہتے

مہینے کے مہینے گھر کا سودا سلف آتا تو مرچ مصالحے کے لفافے دیکھ کر ہم مچل جاتے کہ آپے آپے۔ یعنی ہم مصالحے ڈبوں میں ڈالیں گے۔ لیکن بیشتر مصالحے آدھے نیچے گرا دیتے۔

ہمارا پسندیدہ مشغلہ مختلف چیزوں کو ”گاں گوشت“ (مطلب گائے کا گوشت) کرنے کا ہوتا تھا یعنی توڑنے پھوڑنے کا۔ ایک دن ہم نے ضد کر دی کہ گھر کے پانی رکھنے والے پرانے کولر کو ”گاں گوشت“ کریں گے۔ اخر مجبور ہو کر نانی اماں خود ہمارے ساتھ مل کر اُسے توڑنے لگیں۔ جب اوپر کا ربڑ توڑا گیا تو دیکھا کہ کولر کے گرد لگی فوم پر ہزاروں چیونٹیوں نے گھر بنا رکھا تھا۔ دراصل اکثر اس کولر کے پانی میں بھی چیونٹیاں آ جاتی تھیں تو گھر والے حیران ہوتے تھے کہ ہم تو سختی سے ڈھکن بند کرتے ہیں، پھر یہ چیونٹیاں کہاں سے آ گئیں۔ اب جب کولر توڑنے پر وجہ کا علم ہوا تو سب نے ہمارے ”وژن“ کی داد دی۔ کہ اچھا ہوا یہ کولر ضائع کر دیا گیا، ورنہ کسی دن کسی کو زہر خورانی ہو سکتی تھی

جب کیلے کھاتے کھاتے جی بھر جاتا تو کیلا لے کر اُس سے دونوں ہاتھوں سے تالیاں بجاتے اور یوں یہ تجربہ کرتے کہ دونوں ہاتھوں میں کیلا لگا کر کیسے تالی بجائی جاتی ہے۔ آلو بخارے اور کچھ دیگر پھلوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوتا ہے۔

اب یہ واقعات یاد کرتے ہوئے اکثر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں کیونکہ بچپن کے واقعات کے ساتھی بیشتر بزرگوں کا انتقال ہو چکا ہے۔ صرف امی جان اس وقت بقید حیات ہیں۔ آج وہ سنہری دور لگتا ہے۔

Facebook Comments HS