ہماری نیک اور صالح کرکٹ ٹیم بمقابلہ پروفیشنل ازم


ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی ناقص ترین کارکردگی کو دیکھتے ہوئے شاہد آفریدی نے اعلان کیا ہے
” ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے بعد ٹیم کی اندرونی کہانی سامنے لاؤں گا“

سرکار! آپ کو اتنی زیادہ سردردی لینے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے، جو حقیقت ہے وہ تو نوشتہ دیوار ہے پھر انکشاف کیسا؟ کوئی بھی حادثہ اچانک سے نہیں ہوتا، تباہیوں اور ناکامیوں کے پیچھے ایک پوری داستان رقم ہوتی ہے۔

گزرتے لمحے نشاندہی کرتے رہتے ہیں لیکن ان اشاروں کی رمز شناس تو وہی قومیں ہوتی ہیں نا جنہیں وقت یا حالات سے ہم آہنگ ہو کر کے خود کی اصلاح یا صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنا ہوتا ہے اور آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ چوکس اور با بصیرت قومیں وقت کی آہٹ یا سرسراہٹ کو بہت پہلے محسوس کر لیتی ہیں۔ سنگین اور ہنگامی حالات کا مقابلہ کیسے کیا جاتا ہے اس حقیقت کا گیان وہ وقت سے پہلے پا لیتے ہیں۔

فتح کو سیلیبریٹ کرنا اور شکست کو تسلیم کرنے میں ان کا ایک لیول ہوتا ہے اور وہ ان دونوں عناصر یا منازل کو ایک عارضی سا پڑاؤ سمجھتے ہیں اور دونوں صورتوں میں وہ اپنی کجیوں اور کوتاہیوں کا بغور جائزہ لیتے ہیں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

دوسری طرف ہم ایسوں کی دنیا ہے جو انہونیوں اور معجزات پر ٹکی ہوئی ہے۔

ہمیں لگتا ہے کہ ہم قدرت کا ایک خاص انتخاب ہیں بھلے ہم کوشش یا محنت کریں یا نہ کریں کامیابیوں نے بالآخر ہمارے قدموں کو چھو کر ہی آگے بڑھنا ہے اور حالات جیسے بھی ہوں ایک پر اسرار قسم کا غیبی نظام ہمارا منتظر رہتا ہے جو ہمیں بچ بچا کے بالآخر کامیابی کی دہلیز تک لے ہی جاتا ہے۔

چوزن ون یا خود پسندی کا روگ یا خمار جو شروع دن سے ہمارے بڑوں نے ہمارے ذہنوں میں انڈیل رکھا ہے اس کے اثرات بہت ظالم ہیں جو کبھی بھی حقائق سے نظریں ملانے ہی نہیں دیتے اور ایک کھوکھلی سی عظمت، اہمیت اور شان و شوکت کے مخمصے کا اسیر بنانے رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے غلطیوں اور کوتاہیوں کی وقعت بالکل ختم ہو جاتی ہے اور پھر ہم ایسے ”اتفاقات“ کو بھی غیبی مدد سمجھنے لگتے ہیں۔

دنیا بھر میں اتفاقات ہوتے ہیں لیکن وہ انہونیوں کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتے اور اپنی ذہنی و جسمانی ریاضت جاری رکھتے ہیں۔

ہم قدرت کے انوکھے لاڈلے ہیں جو اتفاقات کو اپنے ساتھ مخصوص کر لیتے ہیں اور محنت اور ریاضت کو ایک طرف کر کے موج مستیوں میں لگ جاتے ہیں۔

ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ ذہنی طور پر ہمارے کھلاڑی واقعی 21 ویں صدی کے ہیں؟

کیا یہ واقعی آج کے تقاضوں کے حساب سے کرکٹ کھیل رہے ہیں؟

دھیرے دھیرے ہم آج اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ ہمارے کھلاڑی ظاہری ٹپ ٹاپ، لش پش اور گراؤنڈ میں نمازیں پڑھنے کے علاوہ پروفیشنل گیم کے تمام اصول بھول چکے ہیں۔

انرجی لیول کو آخر تک برقرار رکھنا، گیم پریشر کو کم کرنا، ڈریسنگ روم پلان، گیم پر حاوی ہونے کی حکمت عملی بنانا اور پریشر کی وجہ سے ڈبل مائنڈ ہو جانے والی کیفیت یا صورت حال ایسے بندوبست، لوازمات اور حکمت عملیوں کے حوالے سے تو کچھ یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ سب کچھ بھول چکے ہیں یا فراموش کر بیٹھے ہیں۔

قومی ٹیم کی سرگرمیاں اور ترجیحات ان کے مجموعی مائنڈ سیٹ کے خوب پول کھول رہی ہیں۔

واضح دکھائی دے رہا ہے کہ گیمز کی دنیا میں اور خاص طور پر کرکٹ کے میدان میں ہم کس سطح تک پہنچ چکے ہیں؟ آج کی دنیا بیک اپ پلان اور متبادل کی ہے، وہ ہر فیلڈ میں ٹیلنٹ کی ٹوہ میں رہتے ہیں اور ہیروں کو تراشتے رہتے ہیں تاکہ انہیں کسی ایک پر اکتفا نہ کرنا پڑے۔

ممکن ہے ان کی کامیابیوں کی کئی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہو کہ وہ کسی مسیحا کی تلاش میں نہیں بھٹکتے بلکہ ٹیلنٹ کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں اور صلاحیتوں سے بھرپور افراد کو نکھارتے رہتے ہیں۔

ایک طرف ہم ہیں جو میرٹ پر تعلق، صلاحیت پر سفارش، مستحق پر اقربا پروری اور من مانیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارے کھلاڑیوں کے کیمپس میں کبھی پروفیشنلز کا گزر ہی نہیں ہوتا ہاں البتہ تبلیغی مبلغین اور بزرگوں کا ضرور آ نا جانا لگا رہتا ہے۔ اب ان سرگرمیوں کا گیمز کے ساتھ کیا سمبندھ ہو سکتا ہے یہ تو پی سی بی ہی بتا سکتی ہے؟ اور خیر سے اس ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ نے تو سب کچھ عیاں بھی کر دیا ہے۔

کرکٹ کے برائے نام گیانیوں نے ذاتی تعلق اور رشتہ داریوں کو نبھانے کے نام پر کرکٹ کے ساتھ جو کھلواڑ کیا ہے اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ معذرت کے ساتھ لمحہ موجود میں ہمارے کھلاڑی بھلے اچھے دیندار یا مذہبی تو ضرور بن گئے ہوں گے لیکن خود کو ایک اچھے پروفیشنل کھلاڑی کے طور پر نہیں منوا پائے۔

ممکن ہے آخرت منور ہو گئی ہو لیکن اس فیلڈ کا کیا جس کی وہ تنخواہیں لاکھوں میں وصولتے ہیں؟
سوچنا ہو گا کہ کہیں ہم توازن تو نہیں کھو رہے؟
آخرت سنوارنے کے چکروں میں پروفیشنل ”ڈس اونسٹی“ کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟

کیونکہ دنیا بھر میں تو پروفیشنل بددیانتی کو اخلاقی زوال کی علامت سمجھا جاتا ہے اور مہذب قومیں کام میں بددیانتی کو ایک گھٹیا فعل تصور کرتی ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہاں صرف کرکٹ ہی زوال پذیر ہے یا ہر فیلڈ ہی روبہ زوال ہے؟
ملک کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیں تو ایسے لگتا ہے کہ
آ وے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، ہر طرف زوال کا راج ہے۔
جہاں ہر فیلڈ سسک سسک کر چل رہی ہو وہاں کرکٹ کے عروج کے خواب دیکھنا دیوانگی نہیں ہوگی تو کیا ہو گا؟

Facebook Comments HS