کاش بسکٹ، اونٹ اور بادشاہ کے بچے نہ ہوتے


ایک بنگلہ دیشی بچی ڈھاکہ کی ایک بسکٹ فیکٹری میں کام کرتی تھی۔ اس کی عمر 13 برس تھی۔ اس کا ہر روز کا کام بارہ گھنٹے ہوتا تھا۔ ایک سوشل ورکر نے اس بچی سے اس کی جاب کے متعلق اس کے تاثرات پوچھے تو بچی نے نہایت معصومیت سے جواب دیا ”کاش بسکٹ نہ ہوتے“ ۔ بچی نے یہ بھی کہا کہ بسکٹ کھانا تو بہت دور کی بات ہے، وہ تو بسکٹ کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی۔ بسکٹ کا نام بھی سننا نہیں چاہتی۔ بسکٹ کی بو سے نفرت ہے۔

ہمارے جنوبی پنجاب کے کسی گاؤں کا ایک گیارہ سالہ بچہ عدنان (نام اصلی نہیں ہے ) پاکستان سے سمگل کر کے یو اے ای کے صحرا میں دور کہیں کسی اونٹوں کے باڑے میں پہنچا دیا گیا۔ وہاں اس جیسے درجنوں بچے کام کرتے تھے۔ اونٹوں کے باڑے میں ان بچوں کی کہانیاں بہت ہی درد ناک تھیں۔ انہیں بھوکا رکھا جاتا تاکہ ان کا وزن نہ بڑھے۔ ان سے بہت زیادہ کام کرایا جاتا۔ ان پر جسمانی اور جنسی تشدد کیا جاتا۔ انہیں اونٹوں کی پیٹھ پر بٹھا اونٹوں کو دوڑایا جاتا۔

ان بچوں کی زندگیاں ایک شدید خوف اور عذاب سے گزر رہی تھیں۔ یونیسیف اور کچھ دوسری این جی اوز کی مدد سے اس مسئلے کو انٹرنیشنل لیول پر اٹھایا گیا اور یو اے ای کی حکومت کے ساتھ مل کر بہت کامیابی سے ایڈریس کیا گیا۔ اسی مہم کے دوران عدنان کو بھی اونٹوں کے باڑے سے چھڑا کر پاکستان لایا گیا۔ کسی نے عدنان سے اس کے تاثرات پوچھے تو عدنان نے جواب دیا ”کاش اونٹ نہ ہوتے“ ۔

ہمارے جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک عورت زینت (نام اصلی نہیں ہے ) رہتی تھی۔ زینب کے آدھا درجن سے زیادہ بچے تھے اور گھر کی آمدنی بہت کم تھی۔ خاندان ایک لمبے اور شدید معاشی مسئلے کی زد میں تھا۔ بچوں کو ملک سے باہر سمگل کرنے والا ایک شخص زینب کے پاس آیا اور زینب کو بتایا کہ اس کے خاندان کی قسمت بدل سکتی ہے۔ اس نے زینب کو ”آفر“ کی وہ اس کے پانچ سالہ بچے کو دوبئی بھیج سکتا ہے۔ دوبئی کے بادشاہ کو اپنے بچے کے ساتھ کھیلنے کے لیے کچھ بچوں کی ضرورت ہے۔

اس نے زینب کو کہا کہ ظاہر ہے اس کا بچہ بادشاہ کے بچوں کے ساتھ کھیلے گا اور بادشاہ کے محل میں رہے گا۔ اور اسے ماہانہ پیسے بھی ملیں گے۔ زینب اس کے دھوکے میں آ گئی اور اپنا پانچ سالہ بچہ اس کے حوالے کر دیا۔ کوئی تین چار ماہ تک تو زینب کو چند ہزار روپے ملتے رہے اور اس کے بعد پیسے آنا بند ہو گئے۔ اس ایجنٹ کا بھی کچھ پتہ نہ تھا۔ کئی سال گزر گئے۔ زینب کے بچے کی کوئی خبر نہ آئی۔ زینب کا انتظار ختم نہ ہوا۔ شاید وہیں کہیں صحرا میں اونٹوں کے باڑے میں اللہ کو پیارا ہو گیا۔ زینب ہر وقت اپنے بچے کو یاد کرتی اور کہتی ”کاش بادشاہ کے بچے نہ ہوتے“ ۔

بدقسمتی سے بچوں کے متعلق یہ دکھ بھری کہانیاں کوئی اکا دکا نہیں بلکہ بہت ہی عام ہیں۔ پاکستان میں یہ کہانی کروڑوں بچوں اور لاکھوں ماؤں کی ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق پاکستان میں سکول جانے کی عمر کے دو کروڑ ساٹھ لاکھ بچے سکول نہیں جاتے۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے بہت سارے مشقت کرتے ہوں گے۔ ان سب کی کہانیاں بھی کچھ ایسی ہی ہوں گی۔

ہمارے ملک میں بچوں کا ایک سنجیدہ مسئلہ فیملی سائز کا بہت بڑا ہونا ہے۔ چائلڈ لیبر فیملی پلاننگ کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جو لوگ اپنے بچوں سے مزدوری کراتے ہیں ان کا اپنے گھر کا معاشی تجزیہ ہی الگ ہوتا ہے۔ ایک مڈل کلاس فیملی تو سوچتی ہے کہ ان کے جتنے زیادہ بچے ہوں گے اتنے زیادہ اخراجات ہوں گے۔ لیکن اپنے بچوں کو مزدوری پر لگانے والے لوگ سوچتے ہیں کہ ان کے جتنے زیادہ بچے ہوں گے اتنی ہی زیادہ آمدنی ہو گی۔ یہ بہت ہی خطرناک صورت حال ہے اور ہمارے کروڑوں بچوں کے معصوم بچپن کو چھین رہی ہے۔

عالمی طور پر ہر سال بارہ جون بچوں کی مشقت کے خاتمے کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہمارا یہ خواب مستقبل قریب میں پورا ہوتا نہیں لگتا، کیونکہ یہاں ارباب اختیار کے ایجنڈے پر ایسی کوئی منصوبہ بندی دور دور تک نظر نہیں آ رہی۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik