ڈریم جاب


وہ ہوسٹل ایک ایک کر کے اپنے باسیوں سے خالی ہو گیا۔ صرف ہم چند دوست رہ گئے جو کچھ روز میں ایک نئی جگہ پر منتقل ہونے والے تھے۔ وہ ہوسٹل چار سالوں سے ان طلبا کا مسکن تھا جو ملک کے دور دراز علاقوں سے تعلیم کے ذریعے اپنی تقدیر سنوارنے کا خواب لے کر آئے تھے۔ وہاں چار سال قیام کیا، انجینئرنگ پڑھی اور اب ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں میں کام کرنے کے لیے پر تول رہے تھے۔

ہوسٹل تو بہرحال سب نے چھوڑنا تھا۔ زیادہ تر لوگ اس بڑے شہر کے مختلف علاقوں میں بس گئے۔ کچھ دوسرے شہروں میں منتقل ہو گئے۔ چند ایک ملک سے باہر چلے گئے۔ ہم چار پانچ دوستوں کی اگلی قیام گاہ کا فیصلہ نہ ہو سکا تو ہم نے وارڈن سے کچھ دن مزید ٹھہرنے کی مہلت مانگ لی۔ کچھ طلبا کو جاب فیئر سے ہی جاب مل گئی۔ زیادہ تر لوگوں نے جاب کے لیے اپلائی کیا ہوا تھا اور اب جاب آفر کا انتظار کر رہے تھے۔ میری طرح چند ایک ہنوز تذبذب کا شکار تھے۔

چار سال کی تعلیم کے بعد میں قابلیتی اعتماد اور مقصد کی یک سوئی کی بجائے منتخبات کے چوراہے پر کھڑا تھا۔ ہر رستے پر ایک مختلف زندگی میری منتظر تھی۔ ایک مختلف رتبہ، ایک مختلف پہچان، اور یہاں تک کہ ایک مختلف میرا آپ۔ کس رستے جاؤں؟ اپنا کون سا روپ چنوں؟ وہ بے وقعت ماضی اور غیر یقینی مستقبل کے سنگم پر حال کی ایک فیصلہ کن گھڑی تھی!

چار سال جو انجینئرنگ پڑھی اس کی مارکیٹ میں کوئی جاب نہیں تھی۔ کچھ کورسز کی بدولت سافٹ ویئر انڈسٹری میں جاب مل سکتی تھی۔ فائن آرٹس میرا شوق تھا۔ گرافک ڈیزائننگ بھی سیکھ لی تھی۔ سو تھوڑی سی کوشش سے اس شعبے میں بھی اڑ سکتا تھا۔ لکھنے پڑھنے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے یار دوست سی ایس ایس کا مشورہ دے رہے تھے۔

اس ذہنی کیفیت میں ایک روز میں چیز پیٹیز اور مرنڈا پیتے ہوئے ”کنگ کانگ“ مووی دیکھ رہا تھا۔ ایک سین میں عظیم الجثہ کنگ کانگ ہیروئن کو اپنے ہاتھ میں اٹھائے ہوئے تھا۔ حالات کے آگے میں خود کو بھی ایسا ہی حقیر محسوس کر رہا تھا۔ شام کا وقت تھا۔ کمروں میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ الماریاں خالی ہو چکی تھیں۔ کمپیوٹر ٹیبل اور کرسیاں تباہ حال جہاز سے گرے سامان کی طرح بکھری ہوئی تھیں۔ بیڈ کے گدے ایک دوسرے کے اوپر لاد دیے گئے تھے۔ ایسے میں ہوسٹل کی نا قابل برداشت وحشت سے مغلوب ہو کر میں نے وہ ای میل ایک پتے پر ارسال کر دی جو میں نے کئی دنوں سے ڈرافٹ میں رکھی ہوئی تھی۔

کچھ روز بعد ہم دوست نئے ہوسٹل میں منتقل ہو گئے۔ ہوسٹل دوسری منزل پر تھا۔ گراؤنڈ فلور پر ایک مارکیٹ تھی۔ چھوٹے سے کمرے میں ہم کئی لوگ رہ رہے تھے۔ مشترکہ ٹوائلٹ تھا۔ کھانا باہر سے آرڈر ہوتا۔ رات کے وقت ہم تمام دوست ایک دائرے میں بیٹھ کر گپ شپ کرتے۔ فرش پر بستر بچھا کر سو جاتے۔ میں نے گزر اوقات کے لیے ایک ٹیوشن بھی دے دی تھی۔

کچھ روز بعد مجھے ایک کمپنی سے کال آ گئی۔ ایک خاتون بول رہی تھیں : ”ہیلو آپ۔ بول رہے ہیں؟“ ”جی۔“ ”آپ نے سافٹ ویئر انجنیئر کی پوسٹ کے لیے اپلائی کیا تھا۔ ہم نے آپ کو انٹرویو کے لیے شارٹ لسٹ کیا ہے۔ آپ فلاں دن فلاں وقت پر ہمارے دفتر آجائیں۔“ مجھے لگا کہ میری تمام کاہلی اور بے سمتگی کی جگہ مقصد اور یک سوئی نے لے لی۔ کال ختم کرنے سے پہلے وہ خاتون بولیں : ”آپ نے اپنی سی وی میں لکھا ہے کہ آپ پینٹنگ بھی کرتے ہیں۔ سو آپ اپنا آرٹ ورک بھی ساتھ لیتے آئیں۔“

میں انٹرویو کی تیاری میں لگ گیا۔ مجھے اب اپنے تمام ٹیلنٹ ثابت کرنے تھے! انجینئرنگ، کمپیوٹر پروگرامنگ، ویب ڈویلپمنٹ، ڈیٹابیس، فوٹوشاپ اور آرٹ ورک۔ مجھے ان خاتون کی بات یاد آ گئی۔ انہوں نے میرے آرٹ ورک کا کیا کرنا تھا؟ میں نے اپنی سی وی میں مشاغل کے خانے میں پینٹنگ اور ریڈنگ لکھا ہوا تھا۔ سو مجھ سے کتابوں کے بارے میں بھی سوال ہو سکتا تھا۔ میں مقررہ دن مقررہ وقت پر اس دفتر میں انٹرویو دینے پہنچ گیا۔

میں انٹرویور کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے آبجیکٹ اورینٹڈ پروگرامنگ اور پولی مارفزم کے بارے میں پوچھا۔ پھر فوٹوشاپ کے بارے میں سرسری سے سوال کیے۔ پھر ایچ آر کی خاتون مجھے سی ای او کے آفس میں لے گئیں۔ سی ای او بھی ایک خاتون تھیں۔ اور ان کے کمرے میں ایک سینئر مینیجر بھی موجود تھے۔ ہم انگلش میں گفتگو کر رہے تھے۔ میرے آرٹ ورک کی فائل سی ای او کی ٹیبل پر پڑی ہوئی تھی۔

”آپ کے پسندیدہ مصنفین کون سے ہیں؟“ مینیجر نے پوچھا۔ ”ترکی کا اورحان پاموک، فرانس کا البرٹ کامیو اور چیکوسلواکیہ کا فرانز کافکا۔“ میرے ذہن میں یہی نام آئے کیونکہ میں ان دنوں انہی ادیبوں کی کتابیں پڑھ رہا تھا۔ سی ای او اور مینیجر نے ایک دوسرے کو ایسی نظروں سے دیکھا گویا ٹھیک بندہ ان کے ہاتھ لگا تھا۔ وہاں سے میں ایک انتظار گاہ میں آ گیا۔ کچھ دیر بعد ایچ آر کی خاتون کمرے میں داخل ہوئیں اور آفر لیٹر میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ وہ مجھے ”گیم ڈیویلپر“ کے طور پر بھرتی کرنا چاہتے تھے۔ میں نے آفر قبول کر لی۔

میری زندگی کا معمول یکسر تبدیل ہو گیا۔ صبح سویرے اٹھتا، تیار ہوتا، ناشتہ کرتا اور دفتر چلا جاتا۔ مینیجر نے مجھے میری پہلی اسائنمنٹ کے بارے میں بتایا۔ ایک نئے فریم ورک پر میں نے گیم ڈیویلپ کرنی تھی۔ اس گیم کی ڈیزائننگ اور پروگرامنگ میں نے خود کرنی تھی۔ میں کام کے لیے بہت پرجوش تھا۔ اور صبح سے لے کر شام تک فریم ورک پر مشقی ٹاسک کرتا رہتا۔ میں نے ایک چھوٹی سی گیم بھی بنا لی۔

میرے ڈیسک کی بائیں طرف موٹے چشمے اور لمبے بالوں والا ایک لڑکا بیٹھتا تھا جو بہت زیادہ بولتا تھا۔ اسے ایک مارکیٹنگ کی ویڈیو بنانے کا ٹاسک ملا ہوا تھا۔ دائیں جانب ایک لڑکی تھی جو غالباً انٹرن تھی۔ وہ کم گو تھی اور دوسروں کی بات سن کر بس مسکرا دیتی تھی۔ بقیہ ہال میں بھی ماحول کافی ہائی ٹیک اور تخلیقی تھا۔ وہاں بہت سے آرٹسٹ، ڈیزائنر، پروگرامر اور ٹیسٹ انجنیئر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں ہر وقت نئے آئیڈیاز، کریئٹویٹی اور ٹیکنالوجی کی باتیں ہوتی تھیں۔ لوگ علم دوست تھے اور کتابیں پڑھتے تھے۔

مجھے لگتا کہ میں معجزاتی طور پر ایک مثالی ماحول میں آ گیا تھا۔ پہلے میں تذبذب کا شکار تھا کہ اپنے لیے کون سی فیلڈ کا انتخاب کروں۔ مگر اس ”ڈریم جاب“ میں سب شعبے اکٹھے ہو گئے تھے : انجینئرنگ، سافٹ ویئر، آرٹ، ڈیزائن اور کتابیں۔ مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے تھا۔ ایک روز میں نے فرط مسرت میں اورحان پاموک کی کتاب ”The Naïve and the Sentimental Novelist“ کا مطالعہ شروع کر دیا۔

مصنف جو کہ خود ایک نوبل انعام یافتہ ناول نگار ہے لکھتا ہے :

”Novels are second lives. Task of writing a novel is to imagine a world that first exist as a picture before it takes the from of words. A novelist constructs a novel as an enigma, a puzzle.“

مجھے لگا کہ میں بھی ایک دوسری زندگی جی رہا تھا جس کا میں خود ایک افسانوی کردار تھا، جو تخیل سے وجود میں آئی تھی اور جو دوسروں کے لیے ایک معمہ اور پہیلی بنی ہوئی تھی!

پھر یہ جملے میری نظروں سے گزرے :
”In closed societies, where individual choice is restricted, the art of novel remains undeveloped.“
میں کتاب کے اس جملے پر آ کر چونکا:
”Readers complete the story.“

ایک رات مجھے اپنے ایک انکل کی کال موصول ہوئی: ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم ایک چھوٹی سی کمپنی میں گیم ڈیویلپر کی جاب کر رہے ہو۔ تم نے جو اس بڑی کمپنی کا ٹیسٹ دیا تھا اس کا کیا بنا؟ اچھا میں اس کے بارے میں پتہ کراتا ہوں۔“ مجھے ایسے لگا کہ مجھے کوئی برے کام پر سرزنش کر رہا تھا۔ میں نے ”ڈریم جاب“ کے بارے میں لاکھ صفائیاں پیش کیں۔ ”تمہیں پتہ ہے کہ اس چھوٹی کمپنی کا مالک ایک ہندو ہے!“ گویا یہ مجھے ”ڈریم جاب“ سے جگانے کا ان کا آخری حربہ تھا۔

کچھ دن بعد مجھے بڑی کمپنی سے انٹرویو کی کال آ گئی۔ انٹرویو کے بعد جاب آفر مل گئی۔ میں پھر ایک دوراہے پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ میرا دل ”ڈریم جاب“ کے ساتھ تھا۔ لیکن انکل روز مجھے کال کر کے پریکٹیکل ہونے کی نصیحت کرتے۔ انہوں نے مجھے احساس دلایا کہ میں ایک ”Naïve and Sentimental Dreamer“ تھا اور مجھے حقیقی دنیا میں قدم رکھنے کی ضرورت تھی۔ اور بڑی کمپنی میں جاب اس چیز کا شاندار آغاز ہو گا۔ میں نے ہتھیار ڈال دیے۔

پچیس روز کے بعد میں نے چھوٹی کمپنی کی ”ڈریم جاب“ سے استعفیٰ دے دیا اور بڑی کمپنی کی ”پریکٹیکل جاب“ شروع کر دی۔ جس کی میں اس وقت ”الف ب“ سے بھی واقف نہیں تھا۔

Facebook Comments HS

فرحان خالد

فرحان خالد تعلیمی اعتبار سے انجنیئر ہیں. ایک دہائی سے سافٹ ویئر انڈسٹری سے منسلک ہیں. بچپن سے انہیں مصوری، رائٹنگ اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. ادب اور آرٹ کے شیدائی ہیں.

farhan-khalid has 66 posts and counting.See all posts by farhan-khalid

One thought on “ڈریم جاب

  • 21/06/2024 at 3:22 شام
    Permalink

    So did the boy regretted on his decision of leaving dream job after years ?Question by someone who feels the same uncertainty in the initial years of his career and yet has not found his dream job?

Comments are closed.