گورنر و اسپیکر پنجاب ملک محمد احمد خان: بہتر سیاستدان یا قانون دان
ملک محمد احمد خان کا آبائی گاؤں کھائی ہٹھاڑ تحصیل چونیاں ضلع قصور میں واقع ہے۔ یہ گاؤں ضلع قصور کے باقی ماندہ آبادیوں کی طرح آج 2024 میں بھی انتہائی پسماندہ، لاقانونیت میں گھرا اور بد حال ہے۔ آج بھی کھائی ہٹھاڑ سے کھڈیاں خاص کی طرف آنے والی سڑک شاموں شام سنسان ہو جاتی ہے کہ کہیں بھی کوئی لوٹ مار کے چلا جائے پتہ نہیں چلتا۔ اس علاقے میں لوٹ مار عام سی بات ہے۔ کوئی بھی گھر سے نکلنے لگے تو اسے نصیحت کی جاتی ہے کہ شام ڈھلنے سے پہلے گھر واپس آ جاؤ۔
سفید دوپہر میں بھی ڈکیتی کا کلچر یہاں کی بودوباش کا حصہ بن چکا ہے۔ ضلع قصور ویسے تو لاہور سے محض پچاس کلومیٹر کی دوری پہ ہے اور اب تو یہ دوری شاید تیس کلومیٹر کی رہ گئی ہے کیونکہ لاہور چل کر قصور آ رہا ہے۔ قصور میں پیشے کے اعتبار سے زراعت سب سے عام پیشہ ہے اور زیادہ تر لوگوں کی زندگیوں کا انحصار زرعی زمین پر ہے۔ کہنے کو قصور پنجاب کے ان سر فہرست اضلاع میں آتا ہے جہاں لٹریسی ریٹ سب سے زیادہ ہے لیکن باوجود اس کے پس ماندگی ہر سو جھانک رہی ہے۔
ضلع قصور میں زیادہ تر آبادی متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ لوگوں کی بودوباش دیہی پنجابی ثقافت پہ مشتمل ہے اور سیاسی اعتبار سے پسماندہ ذہنیت رکھتے ہیں۔ اس سب کے باوجود بھی ضلع قصور پاکستان پنجاب کے انتہائی پسماندہ، پست سیاسی شعور، غیر معیاری تعلیم، غیر معیاری صحت کی سہولیات، لاقانونیت، ڈکیتی کلچر میں سر فہرست، پسماندہ انفراسٹرکچر اور پست معیار زندگی کے حامل اضلاع میں سر فہرست شمار کیا جاتا ہے۔ لاقانونیت کے یہ عالم ہے کہ موجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی کے آبائی گاؤں جانے والی سڑک سر شام اس خوف سے ویران ہو جاتی ہے کہ کوئی لوٹ مار کے پھینک جائے گا۔ ایسا نہیں کہ ملک احمد خان صاحب کی اپنے گاؤں کی طرف توجہ نہیں یا ان کا آنا جانا کم ہے، بلکہ موصوف نے وہاں ایک عالی شان ڈیرہ بنا رکھا ہے جہاں سائلین کا تانتا بندھا رہتا ہے۔
ملک احمد خان صاحب اپنے گھر میں پہلے سیاست دان نہیں ہیں بلکہ جناب نے ایک بنے بنائے سیاسی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ موصوف کے والد محترم ملک محمد علی خان 1986 میں پاکستان سینٹ میں ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر براجمان رہے۔ اس کے علاوہ بھی ملک محمد علی خان کی ایک لمبی سیاسی تاریخ ہے جو بتاتی ہے کہ ملک احمد خان کو سیاسی طور پر تیار شدہ پلیٹ فارم دیا گیا اور جناب مسلسل چوتھی مرتبہ پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب کیے گئے ہیں۔
ملک احمد خان ظاہر ہے اپنے سیاسی آبائی حلقے سے الیکشن لڑتے آ رہے ہیں اور ضلع قصور میں سیاسی طور پر کوئی بھی حریف جناب کے سامنے کوئی پیش نہیں لاتا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ملک احمد خان ضلع قصور کے چار حلقوں سے الیکشن لڑتے ہیں یعنی دو ایم پی اے کے حلقے اور ایک اہم این اے کا حلقہ اور حالیہ 2024 کے انتخابات میں شہباز شریف کو قصور سے بھاری اکثریت سے کامیاب کروانے والے بھی ملک صاحب ہی تھے۔
ملک احمد خان نے اپنی ابتدائی تعلیم برصغیر کے مشہور کالج ایچی سن سے مکمل کی اور اعلیٰ تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور سے مکمل کی۔ قانون کی تعلیم جناب نے بکھنگم یونیورسٹی یو کے سے حاصل کی اور پھر باقاعدہ طور پر وکالت شروع کر دی۔ جناب اپنے دور میں بہت پائے کے وکیل رہے ہیں اور کارپوریٹ قانون، سفید کالر جرائم کے قانون، نیب قانون اور سول کارپوریٹ کے قانون میں مہارت رکھتے ہیں۔ وکالت کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کرنے کے بعد جناب نے اپنے آبائی حلقے سے سیاسی سفر کا آغاز کیا اور پرویز الٰہی و مشرف دور سے ہوتے ہوئے باجوہ دور میں قومی سیاست کے افق پہ نمایاں بلکہ قابل عمل سیاست دان کے طور پر یوں ابھرے کے مسلم لیگ نواز شریف کے سخت ترین دور میں جنرل باجوہ کے ساتھ معاملات طے کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور نواز شریف کو لندن بھجوایا۔
شہباز شریف کے سولہ ماہ کے سیاہ دور حکومت میں موصوف معاون خصوصی رہے اور اہم سیاسی فیصلوں میں بھی فیصلہ کن شریک کے طور پر پائے جاتے رہے۔ یہ بھی ملک احمد خان کا ہی خاصا ہے کہ مسلم لیگ نواز جیسی خاندانی سیاسی جماعت میں اتنی تیزی کے ساتھ نمایاں مقام حاصل کر پائے اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر منتخب کیے گئے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ موصوف وزیراعلٰی پنجاب کے لیے بھی مضبوط ترین امیدوار تھے مگر نواز لیگ کی موروثیت کی وجہ سے نہیں بن پائے۔
آج کل جناب پھر سے شے سرخیوں میں ہیں کہ گورنر پنجاب کے ملک سے باہر جانے پہ موصوف قائم مقام گورنر بنائے گئے اور پھر جناب کے ہاتھوں ہتک عزت کا سیاہ قانون دستخط کروا دیا گیا جو منظور ہوتے ہی لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ اہل قانون اس کو کالا قانون اور آزادی اظہار رائے پہ قدغن قرار دے رہے ہیں۔
ایک طرف موصوف کا شاندار سیاسی سفر ہے، ایک طرف جناب کی اعلیٰ وکالت کی تاریخ اور ایک طرف موصوف کی اپنے قانونی حلقے میں سیاست کا دقیانوسی انداز، جناب کے آبائی حلقے میں عوام کا پست معیار زندگی اور لاقانونیت دیکھ لیں، جناب کا سیاست دان اور قانون دان کے درمیان موجود تضاد کھل کر سامنے آ جائے گا۔ جناب کی عمران خان کے دور میں مختلف کانفرنسوں میں قانون کی حکمرانی کے متعلق تجاویز اور اجتہاد سماعت فرمائیں تو معلوم ہوتا ہے جیسے انھی کے توسط سے پاکستان اوج کمال پائے گا۔
مگر دوسری طرف جناب کے آبائی حلقے میں لاقانونیت کا ننگا ناچ، پسماندہ طرزِ زندگی کے بے مثل واقعات کی لمبی فہرست اور پست معیار تعلیم کی سہولیات کچھ اور ہی داستان بیان کرتی ہیں جن کا ذکر کرنے میں مجھ ناچیز کے پر جلتے ہیں۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ جناب نے دہائیوں پہ محیط سیاسی سفر میں کوئی نمایاں قانون اسمبلی میں پیش کیا ہو یا اپنے آبائی علاقے میں قانون کی حکمرانی کے لئے کوئی نمایاں حکمت عملی ترتیب دی ہو۔
جناب کی صلاحیتوں پہ شک نہیں مگر سمجھ سے بالا تر ہے کہ ملک احمد خان کے قد کا سیاست دان اسپیکر پنجاب اسمبلی ہو اور پنجاب کی دھرتی کا سپوت یعنی کسان گندم بحران کی دہائیاں دیتا جیل چلا جائے۔ ملک صاحب عمران خان دور میں بنیادی انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ہوا کرتے تھے اور قانون کی روشنی میں فرمایا کرتے تھے کہ قانون کی بالادستی معاشرے کی بہبود کے لئے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ جناب کے قانونی فہم سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہا جاتا مگر کیا کیجئے جناب کے حلقے میں پست معیار زندگی کی سیاہ تصویر جس میں لاقانونیت سے رنگ بھرے گئے ہیں جناب کے قانون دان ہونے پہ کچھ اور ہی افسانہ تخلیق کرتی ہے۔ بلا شبہ جناب موجودہ پست سیاسی کلچر میں ایک بلند پایہ سیاست دان ہیں مگر قانون دان کیسے ہیں یہ کھائی ہٹھاڑ ضلع قصور کے درو دیوار خوب جانتے ہیں اگر مزید جاننا چاہتے ہیں تو پنجاب کے ہتک عزت کے سیاہ قانون پہ ملک احمد خان کے دستخط ملاحظہ فرمائیں۔


