کائنات: 8 سیسیلیا پائن اور ستاروں کی دنیا
ہم نے ستاروں کو آسمان سے کھینچ کر زمین پر اتار دیا ہے۔ لیکن کس قیمت پر؟ جب ہم نے اپنے ان تمام ایجاد کردہ قمقموں کو جلایا، تو ہم نے بہت کچھ قیمتی کھو دیا۔
ستارے۔
بہت پہلے، جب دنیا صرف آگ سے روشن ہوا کرتی تھی، ستاروں کے ساتھ ہمارے تعلقات کہیں زیادہ ذاتی نوعیت کے ہوا کرتے تھے۔ ہزاروں نسلوں سے ہم ستاروں کو ایسے دیکھتے رہے جیسے ہماری زندگی کا انحصار ان ہی پر ہو۔ کیونکہ، وہ واقعی ہوتا بھی تھا۔ ہم انسان ان تمام جانوروں میں سب سے بڑے، مضبوط ترین اور نہ ہی تیز ترین تھے جن سے ہمارا مقابلہ تھا۔ لیکن ہمارے پاس ہماری ذہانت ہی ایک ایسی چیز تھی جو کام میں آ سکتی تھی۔ اس کا ایک پہلو نمونے (پیٹرن) کی شناخت کا جینئس تھا۔
کئی راتوں ہم نے ستاروں کو دیکھا۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ، ہمارے آبا و اجداد نے دیکھا کہ سال کی راتوں میں ستاروں کی حرکات زمین پر ہونے والی تبدیلیوں کی پیشین گوئی کرتیں، جس سے ہمارے زندہ رہنے کے امکانات خطرے میں پڑ جاتے یا بڑھ جاتے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہمارے تخیلات ہی وہ واحد جگہ تھے جہاں کہانیاں زندہ رہ پاتیں، فلموں یا ٹی وی یا کسی بھی قسم کے الیکٹرانک آلات سے بہت پہلے، ہر انسانی ثقافت نے نقطوں کو جوڑ جوڑ کر اپنی تصاویر بنائیں۔ یہ تصاویر ایک ایسی کہانی کی کتاب بن جاتی جو کہ گہری سطح پر بقا کا دستور العمل بھی ہوتی۔ دیوتاؤں، ہیروز، پالتو جانوروں یا مانوس اشیاء کے نام اور شخصیتیں ثقافت در ثقافت مختلف ہوتی تھیں۔
ستاروں کا ایک خاص طور پر خوبصورت گروہ تھا جسے قدیم یونانیوں اور آج ہمارے لیے بھی پلیڈیز کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ ستاروں کا جھرمٹ تقریباً ایک سو ملین سال پہلے تشکیل پایا تھا۔ ان میں سے ہر ایک ہمارے سورج سے چالیس گنا زیادہ روشن ہے۔ اور ایلسی اونی، سب سے زیادہ چمکدار، ہمارے سورج سے ایک ہزار گنا زیادہ روشن ہے۔ صدیوں سے، پلیڈیز کو پوری دنیا کے لوگوں کے لیے آنکھوں کے ٹیسٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اگر آپ ان میں سے کم از کم چھ کو دیکھ سکتے ہیں، تو آپ کو نارمل سمجھا جاتا تھا۔ اگر آپ نے سات سے زیادہ دیکھ سکتے تھے تو آپ جنگجو یا محافظ کے لیے مثالی امیدوار تھے۔
برطانوی جزائر کے قدیم کیلٹس اور ڈروڈز کے نزدیک پلیڈیز کی ایک عجیب سی اہمیت تھی۔ سال کی ایک رات جب پلیڈیز آدھی رات کو آسمان کے بلند ترین مقام پر پہنچتے تھے تو مردوں کی روحیں زمین پر بھٹکتی تھیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اس چھٹی کی شروعات ہے جسے کبھی سامہین کے نام سے جانا جاتا تھا اور جسے اب ہالووین کہا جاتا ہے۔
پوری زمین پر، ہمارے آبا و اجداد نے یہ بتانے کے لیے حیرتناک کہانیاں سنائیں کہ پلیڈیز آسمان پر کیسے آئے۔ شمالی امریکہ کے کاؤا لوگوں کے لئے، یہ کچھ ایسا ہوا۔ بہت پہلے، کچھ نوجوان خواتین ستاروں کے نیچے آزادانہ طور پر رقص کرنے کے لیے اپنے کیمپ کے علاقے سے دور نکل گئیں۔ وہ بہت خوش تھیں اور اپنے رقص میں مگن تھیں کہ چاروں اطراف سے ان پر بھورے ریچھوں نے حملہ کر دیا۔ وہ جان بچانے کے لیے بھاگیں۔ بھاگتے بھاگتے وہ سب ایک چٹان پر چڑھ گئیں۔
ریچھووں نے چٹان کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور چٹان پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگے۔ ان میں سے ایک خاتون چلائی: چٹان ہمیں بچاؤ، چٹان ہم پر رحم کرو۔ چٹان نے ان کی آہ و زاری سن لی اور وہ اونچی ہونے لگی۔ یہاں تک کہ وہ آج ڈیولز ٹاور (شیطان کا مینار) کہلاتا ہے۔ وہ خواتین پلیڈیز کے ستاروں میں بدل گئیں، جنہیں سردیوں کے وسط میں مینار کے بالکل اوپر دیکھا جا سکتا ہے۔
قدیم یونانیوں نے بھی ان سات نگینوں کو سات کنواریوں کے طور پر دیکھا، اٹلس کی سات بیٹیاں، ریچھوں نے نہیں، بلکہ ایک شکاری اورین نے، جس نے ایک دن باہر چہل قدمی کرتے ہوئے ان کو دیکھ لیا تھا۔ اورین خواہش اور ہوس سے پاگل ہو گیا۔ سات سالوں تک وہ ان کا بے صبری سے مسلسل پیچھا کرتا رہا۔ کنواریوں نے تھک کر زیوس سے مدد مانگی۔ انہوں نے زیوس سے نجات کی دعا کی۔ دیوتاؤں کے بادشاہ زیوس کو ان پر رحم آیا، اور ان سات کنواریوں کو پلیڈیز میں تبدیل کر دیا۔ لیکن یہ دیوتا موجی اور ترنگی ہوتے ہیں۔ جب اورین ایک بچھو کے ڈنک سے مارا گیا تو زیوس نے اسے آسمان پر رکھ دیا جہاں وہ سات خوبصورت بہنوں کا تعاقب دوبارہ شروع کر سکتا تھا۔
ہمارے آبا و اجداد نے شاندار تخیلاتی کہانیاں بنیں۔ لیکن وہ ہمیں ہمارے خوابوں سے زیادہ ستاروں کے قریب نہیں لا سکے۔ اس میں مزید چند ہزار سال لگے جب تین شاندار سائنسدانوں نے ستاروں کی حقیقی زندگی کے رازوں کو کھول دیا۔ 1901 میں ہارورڈ ایک مردوں کی دنیا تھی۔ لیکن ایڈورڈ چارلس پکرنگ نامی ماہر فلکیات نے اس اصول کو توڑ دیا۔
”اوہ، پکرنگ کا دفتر دالان کے بالکل بعد میں آتا ہے۔ اور وہ دروازہ وہاں اس کمرے کی طرف جاتا ہے جہاں وہ اپنے کمپیوٹر رکھتا ہے۔ ہمیں ان خواتین کو“ کمپیوٹر ”کہنا چاہیے، لیکن، میں نے ایک سے زیادہ ساتھیوں کو ان خواتین کو ’پکرنگ کا حرم‘ کہتے سنا ہے۔“
پکرنگ نے ستاروں کی اقسام کا نقشہ بنانے اور ان کی درجہ بندی کرنے کے لیے خواتین کی ایک ٹیم کو جمع کر رکھی تھی۔ ان میں سے ایک نے ستاروں کے مادے کے بارے میں ہماری سمجھ کو کلید فراہم کی۔ اور ایک اور نے ہمارے لیے کائنات کے حجم کا حساب لگانے کا ایک طریقہ وضع کیا۔ کچھ وجوہات کی بنا پر، آپ نے شاید ان میں سے کسی کے بارے میں کبھی نہیں سنا ہو گا۔ آخر کیوں؟ یہ اینی جمپ کینن ہے، ٹیم کی رہنما اور اس نے ایک چوتھائی ملین ستاروں کی فہرست بنائی تھی۔ کینن جب نوجوان تھی، سرخ بخار کے دوران اپنی سماعت کھو بیٹھی تھی۔
یہ ہینریٹا سوان لیویٹ ہے۔ یہ بھی سماعت سے محروم ہیں۔ وہ کمرے کی دوسری بڑی سائنسدان ہے۔ لیویٹ نے اس قانون کو دریافت کیا جسے ماہرین فلکیات اب بھی، ایک صدی سے زائد عرصے بعد ستاروں کے فاصلے اور خود کائنات کے حجم کی پیمائش کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اینی جمپ کینن نے ستاروں کو منظم کیا، لیکن اس کے کام میں چھپے ہوئے معنی کو سمجھنے کے لیے کسی اور سائنسدان کی ضرورت پڑے گی۔
1923 کے انگلینڈ میں خواتین کے لیے سائنس میں اعلیٰ درجے کی ڈگریاں حاصل کرنے پر پابندی تھی۔ لیکن سیسیلیا پائن نے لندن میں ماہر فلکیات سر آرتھر ایڈنگٹن کے ایک لیکچر میں شرکت کی تھی، جو اس بات کا ثبوت فراہم کرنے والے پہلے سائنسدان تھے کہ آئن سٹائن کا انقلابی جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی درست تھی۔ اس لمحے سے، وہ جانتی تھی کہ کوئی بھی چیز اسے اپنے خوابوں کا تعاقب کرنے سے نہیں روک پائے گی۔ اس نے امریکہ ہجرت کرنے کا عزم کیا، جہاں خواتین کو پہلے ہی ستاروں کا مطالعہ کرنے کی آزادی مل چکی تھی۔
اس کی درخواست ہارورڈ میں قبول کر لی گئی۔ وہ وہاں جو کچھ دریافت کرنے والی تھی وہ فلکیات کے مرکزی عقائد میں سے ایک کو چیلنج کردے گا۔ اس کے نتیجے میں جدید فلکی طبیعیات کا آغاز ہو گا۔ جیسے جیسے دہائیاں گزرتی گئیں، اینی جمپ کینن اور اس کی ٹیم ستاروں کو چھانتی رہی، اب اس خواتین کی جماعت میں ایک اور خاتون کا اضافہ ہوا۔ ”آپ کو مس پائن ہونا چاہیے۔ ہم آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔“ سیسیلیا نے اس سے پہلے کبھی سائنسی ماحول میں ایسی مہربانی کا تجربہ نہیں کیا تھا۔
اس بہن چارے نے فراخدلی کے ساتھ اپنی محنت کے ثمرات پائن کے ساتھ بانٹے، اور پائن نے ان کے مشاہدات کو ستاروں کی ایک نئی انقلابی تفہیم میں بدل دیا۔ وہ دونوں خواتین بہت اچھی دوست بن گئیں۔ کینن نے پائن کو وہ سب کچھ سکھایا جو اس نے فلکیاتی دنیا کے بارے میں سیکھا تھا۔ اور پائن نے کینن کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنا شروع کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ ستاروں کی اصل کیمیائی ساخت اور جسمانی حالت کا تعین کر سکتی ہے۔
وہ نظریاتی اور جوہری طبیعیات کے کام میں اپنی مہارت لے کر آئی۔ ستاروں کی دنیا کی سب سے نمایاں خصوصیات نے کیلشیم اور آئرن جیسے بھاری عناصر کی موجودگی کو ظاہر کیا، جو زمین میں سب سے زیادہ پائے جانے والے عناصر میں سے ہیں۔ لہذا ماہرین فلکیات نے قدرتی طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ستارے زمین جیسے عناصر سے ہی بنے ہیں اور تقریباً تناسب میں بھی ہم پلہ ہیں۔
1924 میں، ہنری نورس رسل امریکی ماہرین فلکیات کے ڈین تھے، جنہوں نے ستاروں کے بارے میں ہماری سمجھ میں اضافہ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
”ہمارے یہاں زمین پر موجود چالیس سے پینتالیس کیمیائی عناصر سورج کے طیف (سپیکٹرم) میں بھی موجود ہیں۔ لہذا ہم فرض کر سکتے ہیں کہ سورج کی ساخت زمین سے ملتی جلتی ہے۔ اگر کوئی زمین کی پرت کو گرم کرے تو اس کا طیف (سپیکٹرم) سورج سے مشابہ ہو گا۔“
پائن : اینی، مجھے لگتا ہے کہ میں اب سمجھ گئی ہوں کہ اس سب کا کیا مطلب ہے۔ تمہارے تمام سالوں کا کام۔
اینی: مجھے بتاؤ۔
پائن: میں نے حساب لگایا ہے کہ درجہ حرارت کے وسیع دائرے میں منظر نامہ کیسا ہونا چاہیے، اور وہ تمہاری درجہ بندی کے نظام سے بالکل میل کھاتا ہے۔ کسی بھی ستارے کا طیف آپ کو بتاتا ہے کہ یہ کتنا گرم ہے۔ تمہارے کام کی بدولت، میں نے دریافت کیا ہے کہ ستارے تقریباً مکمل طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم سے بنے ہیں۔ ستاروں میں موجود دھاتوں سے دس لاکھ گنا زیادہ ہائیڈروجن اور ہیلیم ہے۔ میں جانتی ہوں، کہ یہ بیوقوفانہ لگتا ہے۔
اینی: کیا تمہیں یقین ہے؟ کیا کسی اور نے تمہارے حساب کی جانچ کی ہے؟
پائن : ابھی نہیں، لیکن یہ سب میرے مقالے میں ہے، جو پہلے ہی پروفیسر رسل کو بھیجا جا چکا ہے۔
بیچاری عورت۔ رسل کو سیسیلیا پائن پر افسوس ہوا۔ پائن کا مقالہ رسل کو بنیادی طور پر ناقص معلوم ہوا۔ رسل نے مقالہ پڑھنے کے بعد ایک جملہ پائن کو لکھ بھیجا : ”یہ واضح طور پر ناممکن ہے کہ ہائیڈروجن دھاتوں سے دس لاکھ گنا زیادہ ہو۔“ اس کے احتیاط سے جمع کیے گئے شواہد روایتی سائنسی حکمت کے سامنے ہوا میں اڑ گئے۔ ”میں کیسے صحیح ہو سکتی ہوں،“ پائن نے اپنے آپ سے پوچھا، ”اگر اس کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ ایسا ممتاز سائنسدان غلط تھا؟“ ا پنی تحقیق کے معیار پر اعتماد کے باوجود، اس نے اپنے مقالے میں ایک جملہ شامل کیا جس نے اس کی اپنی بصیرت کو مجروح کر دیا۔ رسل کو یہ احساس ہونے میں چار سال لگے کہ پائن صحیح تھی۔ لیکن یہ رسل کی اچھائی تھی کہ جیسے ہی اس نے تسلیم کیا، اس نے یہ بات عام کی کہ یہ پائن ہی کی دریافت تھی۔ پائن کے ”سٹیلر ایٹموسفیرز“ کو وسیع پیمانے پر فلکیات میں لکھا گیا سب سے شاندار پی ایچ ڈی مقالہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ مقالہ اپنے میدان میں معیار مانا گیا۔
”میں اپنی بات پر دباؤ نہ ڈالنے کی ذمہ دار تھی۔ جب مجھے یقین تھا کہ میں صحیح ہوں تو میں نے اختیار کے سامنے سر کیوں جھکا دیا تھا۔ اگر آپ کو اپنے حقائق پر یقین ہے تو، آپ کو اپنے موقف کا دفاع کرنا چاہیے۔ “
طاقت اور رسوخ کے الفاظ انسانی تجربے کے دوسرے شعبوں میں شاید غالب ہو سکتے ہیں، لیکن سائنس میں، صرف ایک چیز ہے جو اہمیت رکھتی ہے، وہ ہے ثبوت اور دلیل کی منطق۔
اینی جمپ کینن اور سیسیلیا پائن کی تشریحات نے ہمارے لیے ستاروں کی زندگی کی کہانیاں پڑھنا اور زندگی کی کہانی کو ان کی آتش گیر موت سے آغاز تک واپس لانا ممکن بنایا۔ ستاروں کی کئی قسمیں ہیں۔ کچھ سورج کی طرح روشن ہیں۔ کچھ مدھم ہیں۔ بڑے ستارے چھوٹے ستاروں سے دس ملین گنا بڑے ہیں۔ کچھ ستارے تصور سے زیادہ بوڑھے ہیں، جن کی عمر دس ارب سال سے زیادہ ہے۔ دوسرے ابھی پیدا ہو رہے ہیں۔ جب ایٹم ستاروں کے دلوں میں بکھر کر مل جاتے ہیں تو وہ ستارے کی روشنی بناتے ہیں۔
ستارے کائناتی ( انٹرسٹیلر) بادلوں کی گیس اور دھول کے کوڑے سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس کوڑے دان میں انفرادی ستاروں کا حجم ایک بونے سے لے کر سب سے بڑے سیاروں تک ہو سکتا ہے، ایک ایسا عظیم الجثہ ستارہ جس کے سامنے ہمارا سورج بھی بونا ہو۔ اورین کی پٹی کے نیچے نیبولا میں جو ستارے نظر آرہے ہیں وہ ستارے نوزائیدہ ہیں، جن کی عمر تقریباً پچاس لاکھ سال ہے، اور وہ اب بھی اس گیس اور دھول میں لپٹے ہوئے ہیں جس نے انہیں جنم دیا تھا۔
پلیڈیز کے ستارے ابھی چھوٹے بچے ہیں، جن کی عمر تقریباً ایک سو ملین سال ہے۔ انہوں نے اپنے گیس اور دھول کے کمبل اتار دیے ہیں، لیکن وہ اب بھی اپنی باہمی کشش ثقل سے جڑے ہوئے ہیں۔ مزید چند سو ملین سال لگ جائیں گے اور اپنے الگ الگ راستوں پر چلے جائیں گے، دوبارہ کبھی نا ملنے کے لیے۔ بڑے ِڈپر کے زیادہ تر ستارے نوعمر ہیں، جن کی عمر تقریباً نصف بلین سال ہے۔ وہ پہلے ہی اپنے پیدائشی جھرمٹ سے الگ ہو چکے ہیں، حالانکہ ہم اب بھی ان کے مشترکہ نسب کا پتہ لگا سکتے ہیں۔
آخر کار، وہ ملکی وے کہکشاں کے ارد گرد پھیل جائیں گے۔ لیکن زیادہ تر مانوس برج (کانسٹی لیشن) مکمل طور پر غیر متعلقہ ستاروں کا مرکب ہیں، کچھ مدہم لیکن آس پاس، کچھ روشن لیکن دور ہیں۔ ہمارا اپنا سورج؟ چند نوری سالوں کے فاصلے سے بھی، دوسرے ستاروں کے درمیان تلاش کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ہمارا سورج درمیانی عمر کا ہے اور جہاں پیدا ہوا تھا وہاں سے اب بہت دور ہے۔ اس کے بہن ستارے، جو ایک ہی کائناتی ( انٹرسٹیلر) بادل سے نکلے تھے، پوری کہکشاں میں منتشر ہیں۔ ان میں سے بہت سے اپنے سیاریاتی نظام بھی رکھتے ہیں۔ شاید ان میں سے کچھ زندگی اور ذہانت کے ارتقاء کو بھی پروان چڑھاتے ہوں۔
ہمارے رات کے آسمان میں زیادہ تر ستارے دراصل ایک یا ایک سے زیادہ کائناتی ساتھیوں کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ ننگی آنکھ سے، ہم عام طور پر اس طرح کے دگنے اور ایک سے زیادہ ستاروں کے نظام میں مدہم ارکان کو نہیں دیکھ سکتے۔ تین سورجوں والی دنیا میں، راتیں نایاب ہوں گی اور دن سرخ اور نیلے کے درمیان بدل سکتے ہیں۔ ستاروں کا ختم ہونا ان کا مقدر ہے۔
جب آپ رات کے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں، ہزاروں ستارے جو آپ کو نظر آتے ہیں، ان میں سے ہر ایک دو تباہیوں کے درمیانی وقفے میں رہ رہا ہے۔ ایک تاریک، کائناتی گیس کے بادل ستارہ بنانے کے لیے اور اس کی آخری تباہی: ایک چمکتا اور روشن ستارہ اپنی حتمی تقدیر کی طرف جاتے ہوئے۔ کشش ثقل ستاروں کو سکیڑتی ہے، جب تک کہ کوئی دوسری قوت مداخلت نہ کرے۔
سورج جلتی ہوئی گیس کی ایک عظیم، بڑی گیند ہے۔ اس کے مرکز (کور) میں موجود انتہائی گرم گیس سورج کو باہر کی طرف پھیلنے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی وقت، سورج کی اپنی کشش ثقل اسے سکیڑنے کے لیے اندر کی طرف کھینچتی ہے۔ اور ہمارا سورج ان دونوں قوتوں کے درمیان کشش ثقل اور جوہری آگ کے درمیان ایک مستحکم توازن میں کھڑا ہے، یہ توازن مزید چار ارب سال تک برقرار رہے گا۔ لیکن جیسے جیسے سورج ہائیڈروجن خرچ کرتا ہے، اس کا مرکز بہت آہستہ آہستہ سکڑتا ہے، اور سورج کی سطح آہستہ آہستہ اس کے جواب میں پھیلتی چلی جاتی ہے۔
یہ لاکھوں سالوں کے دوران بہت آہستہ، ناقابل دید طور پر ہوتا ہے۔ لیکن تقریباً ایک ارب سالوں میں سورج آج کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ روشن ہو جائے گا۔ دس فیصد زیادہ نہیں لگتے، لیکن اس اضافی گرمی کا زمین پر بہت بڑا اثر پڑے گا۔ جب سورج اب سے چار یا پانچ ارب سال بعد اپنا جوہری ایندھن ختم کر دے گا تو اس کی گیس ٹھنڈی ہو جائے گی اور دباؤ گر جائے گا۔ سورج کا اندرونی حصہ بیرونی تہوں کے وزن کو مزید سہار نہیں سکے گا، اور ابتدائی تباہی شروع ہو جائے گی۔
کچھ بھی ہمیشہ کے لئے نہیں رہتا۔ یہاں تک کہ ستارے بھی مر جاتے ہیں۔ ہائیڈروجن گلاوت (فیوژن) کی دس بلین سال کی راکھ: ہیلیم، کور میں بنی ہے۔ اپنے وزن کو برقرار رکھنے کے لیے جوہری آگ کے بغیر، کور اس حد تک گر جاتا ہے جب تک کہ یہ اتنا گرم نہ ہو جائے کہ ہیلیم کو کاربن اور آکسیجن میں بکھیرنا ( فیوز) کرنا شروع کر دے۔ سورج کا مرکز اب پہلے سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ اس کا ماحول تیزی سے پھیلتا ہے۔ اگلے ارب سالوں میں، یہ اپنے اصل حجم سے ایک سو گنا زیادہ پھول جائے گا: ایک سرخ دیو ہیکل ستارہ۔
یہ عطارد اور زہرہ اور ممکنہ طور پر زمین کے سیاروں کو لپیٹ کر کھا جائے گا۔ میں یہ سوچنا پسند کرتا ہوں کہ اس دور دراز مستقبل سے دسیوں ملین سال پہلے، اگر زمین سے زندگی پیدا ہو رہی ہوگی تو اسے ستاروں کے درمیان نئے گھر مل جائیں گے۔ ایک بار جب سورج اپنے ہیلیم کے ذریعے جل جائے گا، تو یہ انتہائی غیر مستحکم ہو جائے گا، اپنی بیرونی تہوں کو خلا میں پھینک دے گا۔ بے نقاب، انتہائی گرم کور اپنے اردگرد کے ماحول کو زیادہ قوت ( ہائی انرجی) الٹرا وایلیٹ روشنی سے بھر دے گا۔
ایٹم جنونی روشن رقص کریں گے۔ سورج تباہ ہونا شروع ہو گا اور زمین کے حجم کے برابر سو گنا سکڑ جائے گا۔ اور اس وقت، سورج اتنا ٹھوس ہو گا کہ زیادہ بھیڑ والے الیکٹران پیچھے ہٹا دیے جائیں گے، اور مزید سکڑاؤ کو روک دیں گے۔ مرکز میں روشنی کا دانا سورج کا واحد حصہ ہو گا جو برقرار رہے گا، ایک سفید بونا ستارہ جو مزید ایک سو بلین سال تک مدھم چمکتا رہے گا۔ کیا مستقبل بعید کے مخلوقات، ستارے کے اس ملبے کے پاس سے گزرتے ہوئے، ان زندگیوں اور دنیاؤں کے بارے میں کوئی اندازہ لگا پائیں گے جن کو وہ کبھی گرم رکھا کرتا تھا۔
عام ستاروں کی عجیب و غریب موت کے کفن عارضی ہوتے ہیں، جو کائنات کے اندرون میں گیس اور دھول میں منتشر ہونے سے پہلے صرف دسیوں ہزار سال تک جاری رہتے ہیں جہاں سے نئے ستارے پیدا ہوتے ہیں۔ دوہرے ستاروں کے نظام (بائنری اسٹار سسٹم) میں ستاروں کی قسمت مختلف ہو سکتی ہے۔ سیریس، رات کے آسمان کا سب سے روشن ستارہ، جس کا ایک بہت ہی دھندلا کائناتی ساتھی ہے۔ ایک سفید بونا۔ یہ کبھی سورج جیسا ستارہ تھا۔ کسی دن، جب سیریس کا ایندھن ختم ہو جائے گا اور وہ ایک سرخ دیو بن جائے گا، تو وہ اپنا مادہ سفید بونے پر بہا دے گا۔
ساتھی کی شدید کشش ثقل اس گیس کو اپنی طرف متوجہ کرے گی، اور اسے چکر کھاتی ڈسک میں کھینچ لے گی۔ جب بڑے ستارے سے گیس سفید بونے کی سطح پر گرے گی تو یہ جوہری دھماکوں کو متحرک کرے گی۔ سب سے عظیم دھماکہ سورج سے ایک لاکھ گنا زیادہ توانائی خارج کرے گا۔ ان دھماکوں میں سے ہر ایک کو نووا کہا جاتا ہے۔ لاطینی زبان سے ”نئے“ کے لیے ”نووا“ کہا جاتا ہے۔
سورج سے تقریباً پندرہ گنا بڑا ستارہ، ایک رائجل کی طرح، نیلا عظیم دیو جو اورین کا دایاں حصہ بناتا ہے، اپنے لیے ایک مختلف قسمت رکھتا ہے۔ الیکٹرانوں کے دباؤ سے اس کی تباہی کو نہیں روکا جا سکے گا۔ ستارہ اپنے ہی اندر اپنے آپ میں گرتا رہے گا، جب تک کہ اس کے مرکزہ میں اتنی زیادہ بھیڑ نہ ہو جائے کہ وہ الیکٹرانوں کو پیچھے دھکیل دے۔ رائجل تقریباً ایک لاکھ گنا سکڑ جائے گا، جب تک کہ مرکزے کے درمیان کوئی جگہ باقی نہ رہے اور یہ مزید سکڑ نہ سکے۔
اس وقت، یہ ایک زیادہ طاقتور جوہری رد عمل، ایک سپرنووا کو بھڑکائے گا۔ زیادہ تر کائناتی ارتقاء میں لاکھوں یا اربوں سال لگتے ہیں۔ لیکن اندرونی گراوٹ میں جو سپرنووا کے دھماکے کو متحرک کرتی ہے، صرف سیکنڈ لگتے ہیں۔ جو باقی رہ جائے گا وہ ایک چھوٹے سے شہر کے سائز کا جوہری مرکز ہو گا۔ ایک تیزی سے گھومنے والا نیوٹران ستارہ جسے پلسار کہتے ہیں۔
لیکن سورج سے تیس گنا زیادہ بڑے ستارے کے لیے۔ اورین بیلٹ میں النیلام جیسے ستارے کے لیے۔ اسے تباہ ہونے سے کوئی باز نہیں رکھ سکتا۔ چند ملین سالوں میں، جب النیلام کا ایندھن ختم ہو جائے گا، تو یہ بھی سپرنووا بن جائے گا۔ النیلام کا پھٹنے والا مرکزہ اتنا بڑا ہو گا کہ جوہری قوتیں بھی اتنی مضبوط نہیں ہوں گی کہ اس کے خاتمے کو روک سکیں۔ ایسی کشش ثقل کے سامنے کوئی چیز کھڑی نہیں ہو سکتی۔ ایسے ستارے کی ایک حیران کن تقدیر ہے۔
یہ تباہ ہوتا رہے گا، مکانی زمانے کی حد کو عبور کرے گا جسے واقعاتی افق ”ایونٹ ہورائزن“ کہا جاتا ہے، جس سے آگے ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جب وہ اس سرحد کو پار کرے گا تو ستارہ مکمل طور پر نظروں سے اوجھل ہو جائے گا۔ وہ ایک بلیک ہول کے اندر ہو گا، ایک ایسی جگہ جہاں کشش ثقل اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ کچھ بھی نہیں، یہاں تک کہ روشنی بھی فرار نہیں ہو سکتی۔
لیکن اس سے بھی زیادہ ڈرامائی قسمت ہے جو ایک نایاب قسم کے ستارے کا انتظار کر رہی ہے۔ ان میں سے ایک ہماری کہکشاں میں ہے۔ یہ اتنا غیر مستحکم ہے کہ جب یہ ختم ہو گا تو یہ نووا یا سپرنووا بھی نہیں بن پائے گا۔ یہ ایک ہائپرنووا سے کہیں زیادہ تباہ کن چیز بن جائے گا۔ یہ ہماری زندگی میں ہو سکتا ہے۔
آسٹریلوی غیر آباد علاقے کے مقابلے میں رات کے آسمان کا بہتر نظارہ حاصل کرنے کے لیے زمین پر کچھ ہی جگہیں ہیں۔ کوئی عمارت نہیں، کوئی گاڑی نہیں، سڑکوں کی روشنیاں، یہاں کچھ نہیں ہے۔ صرف بہت سارے ستاروں کی روشنیاں اور کبھی کبھار کوئی کینگرو۔ آپ یہاں سے ملکی وے کا خاص طور پر اچھا نظارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ہماری کہکشاں کا مرکز آسمان میں بہت بلندی پر ہے، اور یہ آسمانوں پر رات کی ریڑھ کی ہڈی کی طرح محراب بناتا ہے۔
ہم ایک گھومتی ہوئی ( سپائرل) کہکشاں میں رہتے ہیں۔ اور جب ہم ملکی وے کو دیکھتے ہیں تو ہم اس کی سپائرل ڈسک میں اربوں ستاروں کی روشنی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اور اس خوبصورت تاریک آسمان کے نیچے، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ملکی وے میں روشنی یکساں نہیں ہے۔ ستارے کی روشنی میں سیاہ دھبے، وقفے ہوتے ہیں۔ وہ سیاہ دھبے کائناتی دھول کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ دھول ستاروں کی روشنی کو روکتی ہے، اور یہ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ زیادہ تر ثقافتیں ستاروں کو دیکھتی تھیں اور نقطوں کو جوڑ کر آسمان میں مانوس تصویریں بناتی تھیں : برج۔ لیکن آسٹریلیا کے مقامی لوگوں نے اندھیرے میں ملکی وے سے گزرتے ہوئے ایک نمونہ دیکھا۔ انہوں نے ایک ایمو دیکھا، ایک بڑا پرندہ جو اسی براعظم کا ہے۔ ستاروں میں نہیں بلکہ ستاروں کے درمیان سیاہ دھبوں میں۔
رات کے آسمان کو دیکھنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ ایک ملین سال یا اس سے زیادہ عرصے سے، ہم نے آسمان کو دیکھا۔ اور اس وقت بہت کچھ ہوا ہے۔ سپرنووا ہماری کہکشاں میں صدی میں تقریباً ایک بار پھٹتا ہے۔ تقریباً ساڑھے سات ہزار نوری سال کے فاصلے پر، ہماری کہکشاں کے ایک اور حصے میں، ایک ناقابل فہم پیمانے پر ہلچل کی جگہ ہے۔ یہ کیرینا نیبولا ہے۔ ایک ستارہ بنانے والی مشین۔ اس میں سے روشنی کی کرن کو گزرنے میں پچاس سال لگتے ہیں۔
یہاں پیدا ہونے والے دیو قامت ستارے اپنی شدید الٹرا وایلیٹ تابکاری سے ارد گرد کی گیس اور دھول کو جلا ڈالتے ہیں۔ جب ایک بہت بڑا ستارہ مر تا ہے، تو وہ خود کو چھوٹے چھوٹے پرخچوں میں اڑا دیتا ہے۔ یہ سارا مادہ ستاروں کی روشنی کی مدد سے اور کشش ثقل کے ذریعے جمع ہونے کے لیے دوردراز وسعتوں میں پار چلا جاتا ہے۔ ستاروں سے دھول اور دھول سے ستارے۔ کائنات میں کچھ بھی ضائع نہیں ہوتا۔ لیکن اس کی ایک بالائی حد ہے کہ ستارہ کتنا بڑا ہو سکتا ہے۔
سترہویں صدی میں، جب ایڈمنڈ ہیلی نے جنوبی برجوں کا نقشہ بنانے کے لیے خط استوا کو عبور کیا، ایٹا کیرینا صرف ایک اور کمزور اور مدہم ستارے کی طرح لگ رہا تھا۔ لیکن 1843 میں، ایٹا کیرینا اچانک آسمان کا دوسرا روشن ترین ستارہ بن گیا، جسے صرف سیریس نے پیچھے چھوڑا۔ اور تب سے یہ مستقل پلٹ رہا ہے۔ وہ ورزش میں استعمال ہونے والے ڈمبل کی شکل کا بادل اس واقعہ کی پھیلتی ہوئی باقیات ہے۔ اس کے مرکز میں صرف ایک ستارہ ہے۔
غیر مستحکم ہونے کے بارے میں بات کریں۔ ایٹا کیرینا ہمارے سورج سے کم از کم ایک سو گنا گنا زیادہ بڑا ہے، اور پچاس لاکھ گنا زیادہ روشنی خارج کرتا ہے۔ یہ اس بالائی حد کو اور آگے بڑھا رہا ہے کہ ستارہ کتنا بڑا ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ایٹا کیرینا کو کشش ثقل کے لحاظ سے ایک شیطانی جڑواں کے ذریعے اذیت دی جا رہی ہے۔ اس کے گرد مدار میں ایک اور بڑے ستارے کی طرح جو ایٹا کیرینا سے اتنا ہی قریب ہے جتنا زحل سورج سے۔ ایک انتہائی بڑے ستارے کا مرکزہ (کور) اتنی روشنی ڈالتا ہے کہ ظاہری دباؤ ستارے کی کشش ثقل کو مغلوب کر سکتا ہے۔
اگر کوئی ستارہ بہت بڑا ہے تو اس کی تابکاری کا دباؤ اس کی کشش ثقل پر قابو پا لیتا ہے اور ستارے کو اڑا دیتا ہے۔ ایٹا کیرینا کی قسمت پر مہر لگ گئی تھی جب لاکھوں سال پہلے یہ پیدا ہوا تھا۔ جب یہ آخرکار پھٹ جائے گا۔ اور کون جانتا ہے، شاید وہ پھٹ ہی چکا ہو۔ ہم تو اسے اسی روشنی سے دیکھ رہے ہیں جو ستارے سے ساڑھے سات ہزار نوری سالوں پہلے نکلی تھی۔ یہ ایک ایسی تباہی ہوگی جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ ایک ہائپرنووا۔
ایک دھماکہ اتنا طاقتور۔ کتنا طاقتور؟ اگر موازنہ کیا جائے تو ایک سپرنووا کی پٹاخے سے زیادہ اہمیت نہیں۔ اگر قریب میں ایسے نظام شمسی ہیں جن میں سیارے زندگی کو پنپنے دیتے ہیں، تو ان کے دن گنے جاتے ہیں۔ ایک ہائپرنووا خلا میں اتنی تابکاری پھیلاتا ہے۔ نہ صرف روشنی، بلکہ ایکس رے اور گاما شعاعیں۔ وہ سیارے جو درجنوں یا شاید سینکڑوں نوری سال کے فاصلے پر ہیں ان کے ماحول چھین لیے جائیں گے اور ان کو مہلک تابکاری میں نہلایا جاسکتا ہے۔ یہ ہزاروں قریبی ستاروں کے نظاموں میں تباہی مچا دے گا۔
ابھی کے وقت کے لیے، آپ شاید اپنے آپ سے پوچھ رہے ہیں، ”کیا ہم محفوظ ہیں؟“ اگر ایٹا کرینا اڑ جاتا ہے، تو زمین کا کیا ہوتا ہے؟ یقین رکھیں، زمین ٹھیک ٹھیک رہے گی۔ یاد رکھیں، ہم ایٹا کیرینا سے ساڑھے سات ہزار نوری سال کے فاصلے پر ہیں۔ ستارے سے تابکاری کی شدت، یہاں تک کہ ایک پھٹنے والا ستارے کی، فاصلے کے ساتھ تیزی سے کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ لیکن پھر بھی، ایٹا کیرینا اپنی موت کے گھاٹ میں ایک قابل نظارہ شو پیش کرے گا۔ یہ جنوبی نصف کرہ کی رات کو دوسرے چاند کی چمک کی طرح روشن کردے گا۔ سب سے زیادہ ڈرامائی آخری پیشکش، آخری الودعائی گیت ایک ستارہ ہی پیش کر سکتا ہے۔
ہمارے آبا و اجداد سورج کی پوجا کرتے تھے۔ وہ بے وقوف نہیں تھے۔ سورج اور ستاروں کی تعظیم کرنا اچھی طرح سمجھ میں آتا ہے، کیونکہ ہم ان ہی کے بچے ہیں۔ چٹانوں میں سلیکان، ہوا میں آکسیجن، ہمارے ڈی این اے میں کاربن، ہماری فلک بوس عمارتوں میں لوہا، ہمارے زیورات میں چاندی اربوں سالوں پہلے ستاروں میں ہی بنی تھی۔ ہمارا سیارہ، ہمارا معاشرہ اور ہم خود ستاروں کی گرد ہیں۔ ٹھیک ہے، یہ کیا ہے جو ایٹموں کو رقص کرنے پر مجبور کرتا ہے؟
ستارے کی توانائی دنیا میں ہونے والی ہر چیز میں کیسے بدل جاتی ہے؟ توانائی کیا ہے؟ ہم اس میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ جب ہائیڈروجن ایٹم سورج کے اندر بکھرتے (فیوز ہوتے ) ہیں تو وہ ہیلیم ایٹم بناتے ہیں۔ اور یہ پگھلاؤ ( فیوژن) توانائی کا ایک دھماکہ خارج کرتا ہے جو سورج کی سطح پر جانے سے پہلے دس ملین سال تک سورج کے اندر گھوم سکتا ہے۔ اور ایک بار سطح پر پہنچنے کے بعد ، سورج سے براہ راست زمین پر نظر آنے والی روشنی کے طور پر اڑنے کے لیے آزاد ہوجاتا ہے ۔ اگر اسے کسی پتے کی سطح سے ٹکرانا ہے تو اسے پودے میں کیمیائی توانائی کے طور پر ذخیرہ کیا جائے گا۔ سورج کی روشنی چاند کی روشنی میں بدل جائے گی۔ دھوپ سے چاندنی کا سفر۔
میں محسوس کر سکتا ہوں کہ میرا دماغ شراب کی کیمیائی توانائی کو اپنے خیالات کی برقی توانائی میں تبدیل کر رہا ہے اور میرے ووکل کاڑدز کو ہدایت دے رہا ہے کہ میں صوتی توانائی سے آواز پیدا کروں۔ توانائی کی ایسی تبدیلیاں ہر وقت ہر جگہ ہوتی رہتی ہیں۔ ہمارے ستارے سے حاصل ہونے والی توانائی ہوا اور لہروں اور ہمارے ارد گرد کی زندگی کو چلاتی ہے۔ ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ صاف توانائی کا یہ وسیع ذریعہ ہم سب پر آسمان سے رزق کی طرح گرتا ہے۔ چلیے شراب کا جام اٹھاتے ہیں : اینی جمپ کینن، ہنریٹا سوان لیویٹ اور سیسیلیا پائن کو جدید فلکی طبیعیات کے راستوں کو روشن کرنے کے نام۔ اور سورج کی تمام بہنوں کے نام۔
کائنات میں تبدیلی سے کوئی پناہ نہیں ہے۔ اب سے تقریباً دس یا بیس ملین سال بعد ، یہ ایک کائناتی لمحے کے لیے ایسا لگتا ہے جیسے اورین آخر کار سات بہنوں کو پکڑنے والا ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ انہیں اپنے چنگل میں پھانسے، اورین کے سب سے بڑے ستارے سپرنووا میں چلے جائیں گے۔ اورین کا پلیڈیز کا تعاقب آخر کار ختم ہو جائے گا، اور سات بہنیں ملکی وے کے انتظار کرنے والی بانہوں میں سکون سے سرک جائیں گی۔ ہم زمین پر اپنے تنہا سورج کی واپسی پر حیرت زدہ ہیں۔ اور بجا طور پر ہیں۔ لیکن ایک دور دراز کے چکردار جھرمٹ میں ستارے کے گرد چکر لگانے والے سیارے سے ہمیں، ایک اور شاندار صبح کا انتظار بھی ہے۔
طلوع آفتاب نہیں بلکہ طلوع کہکشاں۔
دو سو بلین سورجوں سے بھری ہوئی صبح۔
ملکی وے کا عروج۔ گرتے ہوئے گیس کے بادلوں کی گھومتی ہوئی شکل، گاڑھا کردینے والے سیاراتی نظام، چمکدار دیو قامت، مستحکم درمیانی عمر کے سورج، سرخ دیو، سفید بونے، سیاروں کے نیبولا، سپرنووا، نیوٹران ستارے، پلسار، بلیک ہولز اور ہمارے پاس سوچنے کی ہر وجہ ہے، دیگر وہ تمام حیرتناک اشیاء جنہیں ہم نے ابھی دریافت کرنا ہے۔
ایسی دنیا سے، جو ملکی وے سے اونچی ہے، یہ واضح ہو جائے گا، جیسا کہ ہماری دنیا پر واضح ہونا شروع ہو گیا ہے، کہ ہم ایٹموں اور ستاروں سے بنائے گئے ہیں، کہ ہمارا مادہ اور ہماری شکلیں اور ساختیں عظیم اور قدیم کائنات نے اپنے ہاتھوں سے ڈھالی ہیں، جس کا ہم ایک حصہ ہیں۔
(نیل ڈی گراس ٹائسن، ایسٹرو فیزیسیسٹ، مصنف اور سائنسی رابطہ کار، کی مشہور دستاویزی فلم کوسموس کی آٹھویں قسط کا ترجمہ جاوید صدیق نے کیا ہے۔ )


