امین راجپوت : زرگر گھرانے کا کندن کیسے خاک میں ملا؟


(رضی الدین رضی کی یاد نگاری)

یہ 1987ء یا 88ء کا زمانہ تھا جب ہم نے امین خان کو بابا ہوٹل میں مقبول بخاری مرحوم کے ساتھ دیکھا تھا۔ مقبول بخاری اس زمانے میں بزنس ریکارڈر سے منسلک تھے اور بابا ہوٹل کے قریب صمد پلازہ میں ان کا دفتر تھا۔ مقبول بخاری امین خان کو اپنا شاگرد کہتے تھے لیکن امین خان ہمیشہ مجھ سے ان کی شکایت ہی کرتا تھا۔ یہ اس کے لڑکپن کا زمانہ تھا۔ بابا ہوٹل میں وہ شاعری کی ٹھرک میں آتا تھا۔ شعر کہنے کا یہی شوق اسے اطہر ناسک کے قریب لے گیا اور اطہر ناسک نے 1990 کے زمانے میں اسے بیدل حیدری کے سپرد کر دیا۔ لیکن وہ بیدل حیدری اور شاعری کے ساتھ بھی زیادہ عرصہ نباہ نہ کر سکا۔ اصل میں تو اسے روزگار کی تلاش تھی جو بعد ازاں اسے لاہور اور پھر کراچی لے گئی۔

امین خان اندرون شہر ملتان کے اسماعیلی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ خاندان زرگری سے منسلک تھا۔ اور امین خان زرگر گھرانے کا ایسا کندن سونا تھا جسے کوئی جوہری پرکھ ہی نہ سکا۔ 1992 میں اس نے کچھ وقت میرے ساتھ اعلان حق میں بھی گزارا۔ اس زمانے میں نذر بلوچ بھی اسی اخبار میں ہوتے تھے۔ شاید اسی اخبار میں کارکنوں کے گروپ کے ساتھ ہم تفریحی دورے پر فورٹ منرو بھی گئے تھے۔ امین خان بھی اس تفریحی دورے میں ہمارے ساتھ تھا۔

پھر روزگار کی تلاش میں وہ پہلے تو لاہور اور بعد ازاں مستقل طور پر کراچی چلا گیا۔ روزگار کا سلسلہ ناہموار ہو تو ازدواجی زندگی بھی ہچکولے کھانے لگتی ہے۔ امین خان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ چند برس قبل وہ ملتان آیا تو دوستوں کو بہت سے دکھ سنا کر گیا۔ اس نے دوستوں کو بتایا تھا کہ اس کی بیوی غربت سے تنگ آ کر اسے چھوڑ گئی اور گھر کا سامان بھی ساتھ لے گئی۔ پھر پریس کلب کراچی اس کا مسکن بن گیا۔

کچھ عرصہ قبل اس نے بے روزگاری سے تنگ آ کر امت اخبار کے دفتر کے سامنے خود کشی کی دھمکی دی تھی۔ اس اخبار نے اس کی کئی ماہ کی تنخواہ ادا نہیں کی تھی۔

کرونا کے زمانے میں امین خان کے ساتھ آخری بار رابطہ ہوا تھا اس نے ہفت روزہ تکبیر کی بندر بانٹ اور اس کے مدیر کی چیرہ دستیوں کی کہانیاں سنائی تھیں۔ مجھ سے یہ بھی کہا تھا کہ میں ملتان واپس آنا چاہتا ہوں۔ لیکن اس کی نوبت ہی نہ آئی۔ ملتان کا یہ سپوت آج تمام دکھوں سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو گیا۔ زرگر گھرانے کا کندن کراچی نے خاک میں ملا دیا۔

Facebook Comments HS