اماں اور بغیر احرام کا حج


چائے کی پتی کا رنگ نکال (بلیک ٹی) کے آج ہی رکھ دینا۔
آج ہی؟ کیوں؟ ابھی تو دن پڑے ہیں۔
ہاں، آج رات ہی۔ کل صبح مہندی گھولوں گی اور پھر کل ہی مہندی لگاؤں گی (وہ ہاتھوں کی ہتھیلیوں، ناخنوں، پیروں کے تلووں اور سر کے بالوں پر دیسی مہندی لگاتی تھیں)۔ پیچھے تو اب کوئی دن نہیں بچے۔
ابھی پورے چار دن پڑے ہیں۔
تو پھر؟ میرے پاس تو اگلے دنوں میں مصروفیت رہنی ہے۔ اس لئے مجھے تو کل ہی اس سے فارغ ہونا ہے۔
اس لئے چھ ذوالحجہ کی رات مہندی لگنے کی تیاری شروع ہو جاتی۔ قہوہ بن کے فریج میں ٹھنڈا ہوتا۔ پھر کھلی حنا میں اسے ڈال کے گھولا جاتا۔ ساری رات وہ اپنا اثر چھوڑتی۔ اور سات ذوالحج کی صبح ناشتہ بنا کر دوپہر کے کھانے تک ہاتھ، بال رنگنا شروع ہو جاتے۔ ساتھ ساتھ پورے گھر میں یہ ہدایات بھی سنائی دیتی رہتیں۔
پردوں، چادروں، کپڑوں کی دھلائی کا کام آج مکمل کر لو، اگر کچھ رہتا ہے۔ کھڑکیاں، دروازے، جالیاں، روشن دان سب کو آج ہی چمکنا چاہیے۔ پورے گھر، دالان، صحن، چھتوں کی تفصیلی صفائی پر نظر دوڑا لو۔ تھوڑا بہت کچھ ہے تو آج ہی پورا کرو۔ کہیں جالے نہ لٹک رہے ہوں۔ نحوست ہوتی ہے۔ شام کا کھانا کچھ اضافی بنا لوں گی تاکہ کل دوپہر کچھ سلسلہ چل جائے۔
اور جواباً ایسی آوازیں بھی درو دیوار کی سماعتوں سے گزرتیں۔ کل کیا ہونا ہے جو آج اتنی ایمرجنسی لگی ہوئی ہے۔ آدھا کام کل بھی تو ہو سکتا ہے، ابھی عید آنے میں پورے چار دن ہیں۔ کل کیا خاص ہے جو یوں کرفیو لگ رہا ہے۔ کچھ چیزیں اگلے دنوں میں بھی ہو سکتی ہیں۔ کھانا اور وہ بھی فریج میں اسٹور کرنا، ہمارے ہاں، یہ کب سے ہونے لگا؟ آنکھوں کی حیرت اور ہونٹوں سے پھوٹتی شرارت بنا الفاظ کے ایک دوسرے سے سوال کرتی۔ اور انھی دوڑوں، خلاف معمول احکامات اور تھکن میں شام اتر آتی اور آٹھ ذوالحج کی صبح نمودار ہو جاتی۔
اور وہ سخر خیز اس دن پہلے سے بھی جلد اٹھتیں۔ پورے گھر کے لئے وہ گھڑی تھیں۔ قبلہ و مدار تھیں۔ جونہی چارپائی چھوڑتی۔ بچیاں بھی بستر سمیٹنا شروع کر دیتیں۔ نماز، قرآن، تلاوت ہوتا۔ صحن سے چارپائیاں، فرشی پنکھے اپنی اپنی جگہوں پر رکھے جاتے۔ تازہ آٹا گوندھا جاتا۔ مٹی کے چولہے میں لکڑیوں کی آگ دہکتی۔ اور آنگن کے اس کونے سے پراٹھوں کی خوشبو بلا روک ٹوک گھر کی دہلیز پار کر کے گلی، محلے میں گردش کرنے لگتی۔ اور اندر دہی، لسی، رات کے بچے سالن سے سبھی افراد ناشتہ کرتے۔ اس دن پراٹھے زیادہ بنتے۔ زائد روٹی دان میں اٹھا کر رکھے جاتے۔ برتن دھلتے۔ موٹا موٹا گھر سونتا جاتا۔ اس دوران بار بار یہ سوال ہوتا، کتنے بجے ٹی۔ وی پر آئے گا؟ وقت صحیح سے یاد ہے ناں؟ دوسرے بچوں سے تصدیق کی جاتی۔ اپنی ماں کو آج تنگ نہ کرنا۔ خیال رکھنا۔ دفتر کے لئے نکلتے وقت ابا کی تاکید ہوتی۔
اماں نو، دس بجے تک نہا کر صاف ستھرا، بے شکن لباس پہنتیں۔ وضو کرتیں۔ اور لو جی تیار۔ بچوں کو بھی نہلا کر کپڑے بدلواتیں۔ کہیں جانا ہے کیا؟ کوئی آ رہا ہے؟ نہاتے تو روز ہیں لیکن آج اتنی جلدی؟ یہ بھی ذہنوں میں چلتا رہتا۔ اماں بار بار ٹیلی ویژن چلا کر دیکھنے کا کہتیں کہ کہیں غفلت نہ ہو جائے۔ ان وقتوں میں صرف پاکستان ٹیلی ویژن (پی۔ ٹی۔ وی) ہی ہوتا تھا۔ خاص ٹرانسمیشن تقریباً نو دس بجے سے شام تک چلتی۔ جس کی ابتدا میں نعتیں، خانہ کعبہ اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآل و سلم کے بارے معلوماتی پروگرام اور ڈاکومنٹریز آتی رہتیں۔ اور اس کے بعد میدان عرفات، حاجیوں کے قافلے اور حج کے مناظر۔ ’بلیک اینڈ وائٹ‘ اور پھر بعد میں رنگین سولہ سے اٹھارہ انچ والی اسکرین پر اماں سارا دن نظر ٹکائے بیٹھی رہتیں۔
سردی کے دن ہوتے تو جلدی ڈھلتے۔ گرما میں تو دوپہریں تپتیں۔ لیکن اماں کو اس پورے دن کسی کی پرواہ نہ ہوتی۔ نہ ٹھٹھرتے، مختصر لمحے نہ طویل، لو زدہ، تمازت زدہ اوقات۔ یوں جیسے ایلفی سے چپکی ہوں۔ بس یا ظہر کی نماز کے لئے اٹھتیں یا حاجت کے لئے۔ دوپہر کا کھانا بچے مل کر لگاتے۔ صبح کے محفوظ پراٹھے، اچار، پیاز، لیموں اور ٹماٹر کے سلاد اور گزشتہ روز بنے ایک سالن کے ہمراہ۔ اماں نہ کسی کو اصرار کرتیں کہ حج دیکھو۔ نہ زبردستی پکڑ پکڑ کر ساتھ بٹھاتیں۔ نہ طعن و تشنیع سے احساس دلاتیں کہ کوئی گناہ ہو رہا ہے۔ بس انھیں دیکھنے کا شوق تھا، وہ دیکھتیں۔ اس چھوٹی سی اسکرین پر جب ’کلوزاپ‘ آتا تو جو کوئی جاننے والا اس مبارک سفر پر گیا ہوتا، اسے ان چہروں میں معصومیت کے ساتھ ڈھونڈتیں۔ دور، نزدیک کے سبھی جاننے والوں کا تذکرہ کرتیں۔ جذبات کی رو میں بہتی روتیں۔ میدان عرفات میں حجاج کرام کی آمد، خطبہ، ظہرین کی ادائیگی، اور پھر وہاں سے اگلے پڑاؤ کی جانب روانگی۔ شام تک یہ سب چلتا اور اماں بصد شوق ایک ایک منظر اپنی یاد میں محفوظ کرتیں۔ بچے کبھی ساتھ بیٹھتے، کبھی اٹھ جاتے۔ سو جاتے لیکن اماں کو اس دن نہ تھکن ہوتی، نہ اونگھ آتی۔ اور ایسا ہر سال مستقل مزاجی سے ہوتا۔ سرمو فرق نہ آتا۔
حاجیوں کی وطن واپسی پر ملنے جاتیں۔ تب ایک مخصوص چوڑی ’بریسلیٹ‘ وہاں سے تحفتا لایا جاتا تھا۔ اماں کو وہ، آب زم زم، سرمے کی ڈلی بقیہ لوازمات کے ساتھ اکثر گھر پہنچتا۔ ہمیشہ ان کی کلائی میں وہ چوڑی رہتی۔ خستہ ہو جاتی تو دوسری اس کی جگہ آ جاتی لیکن کبھی اترتی نہیں۔
اماں عیال دار تھیں اور ابا اکیلے معاشی انجن۔ انھیں حج سے کیسا لگاؤ تھا۔ کتنی عقیدت تھی۔ ہر برس یہ محبت ذوالحجہ کے دنوں میں ان کے ہر عمل سے منہ بولتی لیکن ان کے بچوں نے کبھی ایسی کسی فرمائش یا خواہش کو ابا کے لئے بار بنتے نہیں دیکھا۔ اظہار کر کے ابا کے وسائل پر حسرت کا ٹھپا لگتے نہیں دیکھا۔ تب بچے کسی قابل نہ تھے۔ اسی لئے سالہا سال اماں کے ٹی۔ وی والے حج چلتے رہے۔ اور جب تک اتنی کشادگی آئی کہ ایسے حج واجب ہو جائے تب اماں فالج زدہ ہو گئیں۔ اور یونہی مزید دس سال جی کر عدم سدھاریں۔ اللہ کے گھر کا سفر، کعبہ دیکھنے کی چاہ، در نبی صل اللہ علیہ وآل و سلم حاضر ہونے کی چاہت بظاہر پوری نہ ہو سکیں۔
اماں ابا کی نسبت نماز کی کم پابندی کرتیں۔ تہجد بے قاعدہ تھی۔ لیکن حج، قربانی، روزے، عیدیں ان کے لئے کیا تھیں؟ اس کے نقش بڑے واضح ہیں۔ اس حوالے سے ان کی باقاعدگی نے حج سے انسیت ان کے بچوں کے لاشعور میں ڈال دی۔ وہ چلی گئیں، لیکن اب جب بھی ذوالحج کا چاند نظر آتا ہے۔ تکبیرات ہونٹوں سے خود بخود ادا ہونے لگتی ہیں۔ زندگی کے بکھیڑے چھ تاریخ تک محدود ہونے لگتے ہیں۔ سات کو آٹھ کے لئے تیاری ہونے لگتی ہے۔ اور پھر اس دن غسل کر کے وضو ہوتا ہے۔ اور ٹی۔ وی کی اسکرین پر ’لبیک الھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمدہ، والنعمتہ، لک والملک‘ کی صدائیں گونجنے لگتی ہیں۔ ہاں! اب اٹھارہ انچ کی اسکریں ساٹھ انچ والی سے بدل گئی ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے علاوہ اب چینلز کی بھرمار ہے، جہاں حج نشریات چلتی ہے۔ اور وقت کی بھی تخصیص نہیں۔ چوبیس گھنٹے براہ راست سب دیکھیں۔

نوٹ: عقیدتیں نیتوں کی محتاج ہیں۔ مولا! ہم سب کو ان میں خالص ہونے کی توفیق دیں۔ اور ہمیں بہر صورت اس فرض کی ادائیگی کا راستہ دیں۔

Facebook Comments HS