بیسویں صدی کی اہم ترین دریافت: کائنات محض ایک وہم ہے؟


پچھلے ایک مضمون بعنوان ”کائنات حقیقت ہے یا محض ایک سراب؟“ میں، میں نے بتایا تھا کہ موجودہ سائنس کی اہم ترین دریافتوں میں سے ایک یہ ہے کہ حقیقت (reality) اور مقامیت (locality) ، یہ دونوں تصورات جن کو ہم چیلنج کرنے کا تصور نہیں کر سکتے، ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ ان میں سے صرف ایک درست ہو سکتا ہے، دونوں نہیں۔ حقیقت اور مقامیت کے تصورات ہمارے اندر اس حد تک راسخ ہیں کہ انہیں چیلنج کرنا گویا عقلی صلاحیت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

لیکن یہ تصورات ہیں کیا؟

کسی چیز کو اس وقت حقیقی سمجھا جا تا ہے جب وہ اس بات سے آزاد ہو کہ ہم اسے دیکھتے ہیں یا نہیں۔ مثال کے طور پر، ہم سب مانتے ہیں کہ چاند اس وقت بھی موجود ہے جب ہم میں سے کوئی بھی اسے نہیں دیکھتا۔ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ چاند جیسی کسی چیز کی حقیقت کا انحصار براہ راست مشاہدہ کرنے پر ہے۔ ہم ایسی دنیا کا تصور بھی نہیں کر سکتے جہاں اشیا صرف اس وقت موجود ہوتی ہیں جب ہم انہیں دیکھتے ہیں اور جب ہم ان سے منہ موڑ لیتے ہیں تو ان کا وجود ختم ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر، رات کے وقت، ہم اس یقین کے ساتھ سوتے ہیں کہ سورج موجود ہے اس کے باوجود کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کی طرف دیکھنے کے قابل نہیں ہوتا۔

ہمارے اپنے دور میں البرٹ آئن سٹائن نے حقیقت کا تصور ان الفاظ میں پیش کیا:

 ”اگر کسی طور اثر انداز ہوئے بغیر اگر ہم یقین کے ساتھ کسی شے کی موجودگی کی پیش گوئی کر سکتے ہیں، تو اس شے کو ہم حقیقی تصور کریں گے“ ۔

اس تعریف کی روشنی میں چاند حقیقی ہے اگر وہ اس وقت بھی موجود ہو جب ہم اس کو نہیں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

مقامیت (locality) کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ کسی مقام پر اس وقت ہو رہا ہے، اس کا اثر باقی کائنات پر بالکل نہیں پڑتا۔ اور اسی طرح، دور دراز کے ستاروں میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اس بات پر اثر انداز نہیں ہوتا کہ زمین پرکیا ہو رہا ہے۔ مثلاً مریخ یا عطارد پر ہونے والا کوئی واقعہ اس بات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا کہ زمین پر ہوا میں پھینکی گئی گیند کہاں گرے گی۔ اس بات کا تصور بھی نا ممکن ہے کہ اربوں، کھربوں میل دور ستاروں اور سیاروں پر جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے، وہ ہماری موجودہ زندگی پر کسی طور اثر انداز ہو سکے۔ یہ ستارے تو ہم سے اتنی دور ہیں کہ وہاں سے روشنی کو ہم تک پہنچنے میں ہزاروں، بلکہ لاکھوں سال لگ سکتے ہیں۔

20 ویں صدی کی سب سے حیران کن دریافت یہ ہے کہ قدرت کے قوانین حقیقت اور مقامیت، میں سے کم از کم کسی ایک سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مطلب یہ کہ اگر کائنات کی ہر چیز حقیقی ہے اور وہ اس وقت بھی موجود ہوتی ہے جب وہ ہماری نگاہوں کے سامنے نہیں ہوتی، تو مقامیت کا تصور ماند پڑ جاتا ہے یعنی کائنات میں ہونے والی ہر حرکت ہماری موجودہ زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ اور اگر ہم مقامیت کے تصور کو مان لیں تو کائنات کی کوئی چیز حقیقی نہیں ہو گی۔

اگر ایک لمحے کے لئے رک کر اس نتیجے پر غور کریں تو اندازہ ہو گا کہ یہ کائنات کس قدر ناقابل فہم ہے۔ حقیقت اور مقامیت میں سے کسی ایک کی غیر موجودگی کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات کو پاش پاش کر دیتی ہے۔ یہ اس سوال کو اٹھاتی ہے کہ کیا ہمارے ارد گرد کی دنیا کی کوئی حقیقت ہے یا یہ محض ایک سراب ہے؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سائنسدان اس نتیجے تک کیسے پہنچے؟ یہ اس مضمون کا موضوع ہے۔

John Stewart Bell

جس شخص نے اس موضوع پر اہم ترین پیش رفت کی، ان کا نام جان بیل (John Bell) تھا۔ 1964 میں، جان بیل نے ایک عدم مساوات (inequality) پیش کی جو کسی بھی ایسے نظریے سے مطمئن ہو گی جس کے بنیادی اجزاء صرف اور صرف مقامیت اور حقیقت ہیں۔ اس عدم مساوات میں تجرباتی طور پر قابل پیمائش مقداریں شامل تھیں اور اس طرح اس عدم مساوات کو تجرباتی طور پر جانچنا ممکن تھا۔

بیسویں صدی میں وقوع پذیر سائنسی انقلاب کا ایک انتہائی حیران کن نتیجہ یہ ہے کہ کوانٹم مکینکس کی پیشن گوئی کے مطابق بیل کی عدم مساوات کی خلاف ورزی ممکن ہے۔ اس طور اگر کوانٹم مکینکس ایک درست تھیوری ہے تو حقیقت اور مقامیت ایک ساتھ درست نہیں ہو سکتے۔

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ 1970 کی دہائی سے لے کر آج تک کے کیے گئے تجربات کے نتائج کوانٹم مکینکس کی پیشن گوئی کے عین مطابق ہیں اور جان بیل کی عدم مساوات کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

یہ تجربات پہلی بار 1970 کی دہائی میں کیے گئے تھے اور نتائج بیل کی عدم مساوات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوانٹم میکانکس کی پیش گوئیوں کے ساتھ مکمل طور پر متفق تھے۔ اس طور سائنسی طور پر یہ ثابت کرنا ممکن ہوا کہ حقیقت اور مقامیت کے تصورات ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں۔ یہ ایک انتہائی حیرت انگیز نتیجہ ہے۔

ہم اس ناقابل یقین نتیجے کے ساتھ کیسے سمجھوتا کریں؟

کیا ہماری عقل حقیقت اور مقامیت کے بارے میں سچائی سے مطابقت نہیں رکھتی؟

ہو سکتا ہے کہ حقیقت نام کی کوئی چیز نہ ہو۔ مثلاً جب ہم چاند کو نہیں دیکھتے تو یہ واقعی موجود نہیں ہوتا۔ حقیقت وہی ہے جو ہم دیکھ سکتے ہیں اور جب یہ نظر سے غائب ہوتی ہیں تو اپنا وجود کھو دیتی ہیں۔

یا مقامیت کا تصور موجود نہیں، یعنی جو کچھ ہم یہاں زمین پر کر رہے ہیں، اس سے کئی کھربوں کلومیٹر دور ستارے اور کہکشائیں فوری طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔

حیرت انگیز نتیجہ جس نے فطرت کے بارے میں ہمارے تصورات کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور حقیقت کے بارے میں ہمارے تصور پر گہرا اثر ڈالا ہے، اس کو سمجھنا بہت آسان ہے اور جان بیل کی عدم مساوات کو انتہائی معمولی انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔

میں یہاں پہلے موسمی صورت حال سے وابستہ ایک سادہ مثال کے ذریعے یہ عدم مساوات پیش کرتا ہوں۔ اس طور یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ حقیقت اور مقامیت کے نظریات کس طرح اس عدم مساوات کی بنیاد ہیں۔ پھر میں فوٹون کی پولرائیزیشن سے وابستہ بیل کی عدم مساوات پیش کروں گا جس کی تجرباتی تصدیق پر 2022 میں تین سائنسدانوں کو نوبل انعام دیا گیا تھا۔

Stuart J. Freedman

آئیے فرض کریں کہ زید اور عمر ایک دوسرے سے بہت دور ایک بہت ہی مختلف قسم کی آب و ہوا میں رہتے ہیں۔ وہ اتنی دور رہتے ہیں کہ ایک جگہ کا موسم دوسری جگہ کے موسم کو متاثر نہیں کر سکتا۔ ہم ایک مخصوص دن دونوں جگہوں پر موسم کی تین خصوصیات پر غور کرتے ہیں۔

دھوپ ہو سکتی ہے یا دھوپ نہیں ہے (میں یہاں ابر آلود کے لفظ سے گریز کرتا ہوں) ،

سردی ہے یا سردی نہیں ہے (میں لفظ گرمی استعمال کرنے سے گریز کرتا ہوں) ، اور

ہوا چل رہی ہے یا ہوا نہیں چل رہی۔

مثال کے طور پر، زید کی جگہ ایک دن دھوپ ہے، سردی ہے، اور ہوا نہیں چل رہی ہے اور دوسرے دن دھوپ نہیں ہے، سردی ہے اور ہوا نہیں چل رہی ہے۔

ہم تصور کرتے ہیں کہ دونوں جگہوں پر موسم ایک بہت ہی عجیب و غریب خصوصیت رکھتا ہے:

  • اگر زید کے ہاں دھوپ والا موسم ہے تو عمر کے ہاں دھوپ نہیں ہے
  • اور اگر عمر کے ہاں دھوپ نکلی ہوئی ہے تو زید کے ہاں دھوپ نہیں ہو گی۔
  • اسی طرح اگر عمر کے ہاں سردی ہے تو زید کے ہاں سردی نہیں ہے۔
  • اور اگر زید کے ہاں ہوا نہیں چل رہی ہے تو عمر کے ہاں ہوا چل رہی ہو گی۔
John F. Clauser

فرض کریں کہ زید اور عمر دنوں کی ایک بڑی تعداد میں موسم کا مشاہدہ کرتے ہیں اور نتیجہ مرتب کرتے ہیں۔ زید کے لیے سولہ دنوں کے لیے ممکنہ موسمی جدول درج ذیل ہے :

دن 1۔ دھوپ ہے، سردی ہے، ہوا نہیں ہے۔

دن 2۔ دھوپ ہے، سردی نہیں ہے، ہوا ہے۔

دن 3۔ دھوپ نہیں ہے، سردی ہے، ہوا نہیں ہے۔

دن 4۔ دھوپ ہے، سردی ہے، ہوا ہے۔

دن 5۔ دھوپ نہیں ہے، سردی نہیں ہے، ہوا ہے۔

دن 6۔ دھوپ ہے، سردی نہیں ہے، ہوا نہیں ہے۔

دن 7۔ دھوپ نہیں ہے، سردی ہے، ہوا ہے۔

دن 8۔ دھوپ ہے، سردی نہیں ہے، ہوا نہیں ہے۔

دن 9۔ دھوپ نہیں ہے، سردی ہے، ہوا نہیں ہے۔

دن 10۔ دھوپ ہے، سردی ہے، ہوا ہے۔

دن 11۔ دھوپ ہے، سردی نہیں ہے، ہوا ہے۔

دن 12۔ دھوپ نہیں ہے، سردی ہے، ہوا ہے۔

دن 13۔ دھوپ ہے، سردی نہیں ہے، ہوا ہے۔

دن 14۔ دھوپ ہے، سردی ہے، ہوا نہیں ہے۔

دن 15۔ دھوپ نہیں ہے، سردی ہے، ہوا ہے۔

دن 16۔ دھوپ ہے، سردی ہے، ہوا ہے۔

یہ تو زید کے ہاں موسم کی کیفیت ہے۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا، عمر کے ہاں موسم کی کیفیت زید کے موسم کے بالکل برعکس ہے۔ مثال کے طور پر، پہلے دن، جب زید کے ہاں دھوپ نکلی ہوئی تھی، موسم سرد تھا، اور ہوا نہیں تھی، اس دن عمر کا موسم ابر آلود تھا اور دھوپ نہیں تھی، موسم سرد نہیں تھا، لیکن ہوا چل رہی تھی۔ یہی حال دوسرے دنوں کا تھا۔

Robert A. Holt

اس طرح، اگر ہم ان دنوں کی گنتی کرنا چاہیں جب زید کے ہاں دھوپ اور عمر کے ہاں سردی ہو، تو یہ ان دنوں کے مساوی ہو گا جب زید کے ہاں دھوپ ہو لیکن سردی نہ ہو۔ اس گنتی میں ہمیں اس بات کی فکر نہیں ہے کہ زید کے ہاں موسم ہوادار ہو یا کوئی ہوا نہ چل رہی ہو۔ اس طرح، ہم وہ دن شمار کرتے ہیں جب زید کے لیے دھوپ ہو اور عمر کے ہاں سردی۔ مذکورہ فہرست میں وہ تمام دن شامل ہیں جب زید کے ہاں دھوپ ہو، سردی نہ ہو، اور ہوا ہو یا پھر وہ دن جب زید کے ہاں دھوپ ہو، سردی نہ ہو، اور ہوا بھی نہ ہو۔ مندرجہ بالا لسٹ میں یہ دن 2، 6، 8، 11 اور 13 ہیں۔

اس طور ان دنوں کی تعداد جب زید کے ہاں دھوپ ہو اور عمر کے ہاں سردی، پانچ ہے، یہ دن 2، 6، 8، 11 اور 13 ہیں۔

اسی طرح، ان دنوں کی تعداد جب زید کے ہاں دھوپ ہو اور عمر کے ہاں ہوا چلتی ہو، چار ہیں، یہ دن 1، 6، 8 اور 14 ہیں۔

اور وہ دن جب زید کے ہاں سردی ہو اور عمر کے ہاں ہوا چلتی ہے وہ بھی چار ہیں، یہ دن 1، 3، 9، 14 ہیں۔

یہ واضح ہے کہ ان دنوں کا مجموعہ جب زید کے لیے دھوپ ہو اور عمر کے ہاں سردی ہو اور جب زید کے ہاں سردی ہو اور عمر کے ہاں ہوا چلتی ہو ان دنوں کی تعداد سے زیادہ ہے جب زید کے ہاں دھوپ ہو اور عمر کے ہاں ہوا چلتی ہو۔

آئیے ہم مختلف موسمی صورت حال سے وابستہ دنوں کی تعداد کا لیبل لگاتے ہیں۔

وہ دن جن میں زید کے ہاں دھوپ ہے اور عمر کے لیے سردی، ان کو (زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں سردی ہے) سے وابستہ کرتے ہیں۔

اسی طرح (زید کے ہاں سردی ہے، عمر کے ہاں ہوا ہے) ان دنوں کی تعداد کو متعین کرتے ہیں جو زید کے لیے سرد اور عمر کے لیے ہوادار ہیں،

اور (زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں ہوا ہے) ان دنوں کی تعداد کو متعین کرتے ہیں جو زید کے لیے دھوپ اور عمر کے لیے ہوا دار ہیں۔

اوپر دی گئی مثال میں (زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں سردی ہے) پانچ کے برابر ہے، (زید کے ہاں سردی ہے، عمر کے ہاں ہوا ہے) چار کے برابر ہے اور (زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں ہوا ہے) بھی چار کے برابر ہے۔

Edward Fry

ان لیبل کی موجودگی میں جو عدم مساوات ہمیشہ درست ہو گی وہ یہ ہے :

(زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں سردی ہے) اور (زید کے ہاں سردی ہے، عمر کے ہاں ہوا ہے) کا مجموعہ (زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں ہوا ہے) سے زیادہ یا برابر ہو گا۔

اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی پسند کا کوئی بھی ٹیبل بنا سکتے ہیں۔ یہ نتیجہ ہمیشہ سچ رہے گا۔

جیسا کہ ہم درج ذیل میں دیکھیں گے، یہ بیل کی عدم مساوات کی ایک قسم ہے۔

اس عدم مساوات کو ثابت کرنے کا ایک طریقہ کچھ اس طرح ہے۔

ہم نوٹ کرتے ہیں کہ وہ دن جب زید کے ہاں دھوپ ہو اور عمر کے ہاں سردی ہو، یعنی (زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں سردی ہے) ، یہ ان دنوں کا مجموعہ ہیں جب زید کے ہاں دھوپ ہے، سردی نہیں ہے، اور ہوا چل رہی ہے اور دہ دن جب زید کے ہاں دھوپ ہے، سردی نہیں ہے، اور ہوا نہیں چل رہی ہے۔ اس کو ہم مساوات کی شکل میں یوں لکھ سکتے ہیں :

(زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں سردی ہے) = (زید کے ہاں دھوپ ہے، زید کے ہاں سردی نہیں ہے، زید کے ہاں ہوا چل رہی ہے) + (زید کے ہاں دھوپ ہے، زید کے ہاں سردی نہیں ہے، زید کے ہاں ہوا نہیں چل رہی ہے۔)

اسی طرح

(زید کے ہاں سردی ہے، عمر کے ہاں ہوا ہے) = (زید کے ہاں دھوپ ہے، زید کے ہاں سردی ہے، زید کے ہاں ہوا نہیں چل رہی ہے) + (زید کے ہاں دھوپ نہیں ہے، زید کے ہاں سردی ہے، زید کے ہاں ہوا نہیں چل رہی ہے۔)

(زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں ہوا ہے) = (زید کے ہاں دھوپ ہے، زید کے ہاں سردی ہے، زید کے ہاں ہوا نہیں چل رہی ہے) + (زید کے ہاں دھوپ ہے، زید کے ہاں سردی نہیں ہے، زید کے ہاں ہوا نہیں چل رہی ہے۔)

اب ان تین مساواتوں سے یہ دیکھنا ممکن ہے کہ:

(زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں سردی ہے) + (زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں ہوا ہے) = (زید کے ہاں دھوپ ہے، زید کے ہاں سردی نہیں ہے، زید کے ہاں ہوا چل رہی ہے) + (زید کے ہاں دھوپ ہے، زید کے ہاں سردی نہیں ہے، زید کے ہاں ہوا نہیں چل رہی ہے) + (زید کے ہاں دھوپ ہے، زید کے ہاں سردی ہے، زید کے ہاں ہوا نہیں چل رہی ہے) + (زید کے ہاں دھوپ نہیں ہے، زید کے ہاں سردی ہے، زید کے ہاں ہوا نہیں چل رہی ہے۔)

اس مساوات میں جن موسمی صورت حال کے نیچے لائنیں ہیں، ان کا مجموعہ تو اوپر دی گئی تین مساواتوں میں سے آخری مساوات کے نتیجے میں ان دنوں کے برابر ہے جب (زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں ہوا ہے)۔ چونکہ باقی ان دنوں کا مجموعہ جبکہ (زید کے ہاں دھوپ ہے، زید کے ہاں سردی نہیں ہے، زید کے ہاں ہوا چل رہی ہے) اور (زید کے ہاں دھوپ نہیں ہے، زید کے ہاں سردی ہے، زید کے ہاں ہوا نہیں چل رہی ہے) صفر یا کوئی مثبت نمبر ہو سکتا ہے، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ

(زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں سردی ہے) اور (زید کے ہاں سردی ہے، عمر کے ہاں ہوا ہے) کا مجموعہ (زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں ہوا ہے) سے زیادہ یا برابر ہو گا۔

یہ اوپر دی گئی عدم مساوات ہے جو ہم نے بہت آسان دلائل سے ہر صورت حال کے لئے ثابت کر دی ہے۔

اس مقام پر، آپ سوچ رہے ہوں گے کہ زید اور عمر کے مقامات پر موسمی حالات کے بارے میں اس ساری بحث کا حقیقت اور مقامیت کے سوالات سے کیا تعلق ہے۔

اس سوال کا جواب دینے کے لیے، ہم دیکھتے ہیں کہ حاصل کردہ عدم مساوات، یعنی ان دنوں کا مجموعہ جب (زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں سردی ہے) اور (زید کے ہاں سردی ہے، عمر کے ہاں ہوا ہے)، ان دنوں سے زیادہ یا برابر ہو گا جب (زید کے ہاں دھوپ ہے، عمر کے ہاں ہوا ہے)، کو اخذ کرنے میں صرف دو تصورات داخل ہوئے ہیں۔ یہ تصورات حقیقت اور مقامیت ہیں۔

لیکن کس طرح؟

حقیقت ہمارے تجزیے میں ایک واضح مفروضے کے ذریعے داخل ہوتی ہے کہ تین موسمی حالات دھوپ، سردی، اور ہوا اور ان کے مخالف موسمی حالات، جو زید اور عمر کے مقامات پر موجود ہیں، حقیقی ہیں، چاہے ہم ان کا مشاہدہ کریں یا نہ کریں۔

مقامیت کا مطلب یہ ہے کہ زید جن موسمی حالات کو دیکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں وہ ان موسمی حالات سے مکمل طور پر آزاد ہیں جن کی پیمائش کرنے کا فیصلہ عمر کرتے ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ اس عدم مساوات کی خلاف ورزی یہ کہنے کے مترادف ہو گی کہ حقیقت اور مقامیت ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔

اب ہم کوانٹم میکانکس کے فریم ورک کے اندر اس سوال کا تجزیہ کرتے ہیں کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ فوٹون کی سطح پر ایک ایسی ہی عدم مساوات لکھی جا سکے جو صرف حقیقت اور مقامیت کے تصورات پر قائم ہو اور جس کو تجرباتی طور پر پرکھنا ممکن ہو۔ اس مقصد کے لیے، ہم ایک تجربے پر غور کرتے ہیں۔

طبیعات کی تجربہ گاہوں میں ایسا ممکن ہے کہ ایٹم یا کسی اور ذریعے سے دو فوٹون تیا ر کیے جائیں، ایک دائیں طرف زید کی طرف حرکت کرتا ہے اور دوسرا بائیں طرف عمر کی طرف۔ دونوں فوٹون اس طرح ایک دوسرے سے entangled ہیں کہ ان کی پولرائزیشن ہمیشہ ایک دوسرے کے برعکس ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر زید کا فوٹون افقی طور پر پولرائزڈ ہے تو عمر کا فوٹون عمودی طور پر پولرائزڈ ہو گا۔ اسی طرح، اگر زید کا فوٹون 45 ڈگری کے ساتھ پولرائز ہوتا ہے، تو عمر کا فوٹون 135 ڈگری کے ساتھ پولرائز ہوتا ہے وغیرہ۔

ہم زید اور عمر دونوں کے لیے 0 ڈگری، 22.5 ڈگری، اور 45 ڈگری کے ساتھ، بیم اسپلٹر کی تین سمتوں کے ساتھ پولرائزیشن کی پیمائش پر غور کرتے ہیں۔ اس طور، اگر زید کا فوٹون افقی طور (0 ڈگری) پر پولرائزڈ ہے تو عمر کا فوٹون عمودی طور (90 ڈگری) پر پولرائزڈ ہو گا۔ اسی طرح، اگر زید کا فوٹون 22.5 ڈگری کے ساتھ پولرائز ہوتا ہے، تو عمر کا فوٹون 112.5 ڈگری کے ساتھ پولرائز ہوتا ہے، اور اگر زید کا فوٹون 45 ڈگری کے ساتھ پولرائز ہوتا ہے، تو عمر کا فوٹون 135 ڈگری کے ساتھ پولرائز ہوتا ہے وغیرہ۔

اب ہم تصور کرتے ہیں کہ زید اور عمر اپنے اپنے فوٹون کی پولرائزیشن کی پیمائش ایک دوسرے سے رابطے کے بغیر، بیم اسپلٹر کے ذریعے، اس طرح کرتے ہیں کہ ان کا، بیم اسپلٹر 0 ڈگری، 22.5 ڈگری، اور 45 ڈگری میں سے کسی ایک سمت کا انتخاب کرتا ہے۔

اب ہم فرض کرتے ہیں کہ زید اور عمر کے مابین اتنا طویل فاصلہ ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے ایک دوسرے پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مقامیت کا تصور ہمارے تجربے میں سلامت ہے۔ اس طور زید اور عمر دونوں کے فیصلے ایک دوسرے پر اثر انداز نہیں ہوتے ہیں۔

ہم یہ بھی فرض کرتے ہیں کہ ہر فوٹون میں پولرائزیشن کی تینوں سمتوں میں حقیقی پولرائزیشن موجود ہے۔ مطلب یہ کہ، اگرچہ ہم بیک وقت پولرائزیشن کی دو یا تینوں مختلف سمتوں میں پیمائش نہیں کر سکتے ہیں، لیکن فوٹون میں پولرائزنگ بیم سپلٹر کی ان سمتوں سے وابستہ ایک حقیقی پولرائزیشن موجود ہے۔ اس طرح، مختلف سمتوں میں پولرائزیشن کی حقیقت کا تصور ہمارے تجربے کے تجزیے میں شامل ہو جاتا ہے۔

ہم زید اور عمر دونوں کے لیے 0 ڈگری، 22.5 ڈگری، اور 45 ڈگری کے ساتھ، بیم اسپلٹر کی تین سمتوں کے ساتھ پولرائزیشن کی پیمائش پر غور کرتے ہیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے رابطہ کیے بغیر بیم اسپلٹر کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ یہ صورت حال اوپر دی گئی مثال میں تین موسمی حالات سے ملتی جلتی ہے، یعنی دھوپ، سردی اور ہوا۔ یہاں 0 ڈگری، 22.5 ڈگری، اور 45 ڈگری کے ساتھ پولرائزیشن کی پیمائش دھوپ، سرد، اور ہوا والے موسمی حالات سے ملتی جلتی ہے۔ پہلے کی طرح، ہم تین قسم کے واقعات کی تعداد گنتے ہیں :

جب زید کے فوٹون کی پولرائیزیشن 0 ڈگری (افقی) ہے اور عمر کے فوٹون کی پولرائیزیشن 22.5 ڈگری ہے۔

جب زید کے فوٹون کی پولرائیزیشن 22.5 ڈگری ہے اور عمر کے فوٹون کی پولرائیزیشن 45 ڈگری ہے، اور

جب زید کے فوٹون کی پولرائیزیشن 0 ڈگری (افقی) ہے اور عمر کے فوٹون کی پولرائیزیشن 45 ڈگری ہے۔

پہلے کی طرح، ہم توقع کرتے ہیں کہ ان واقعات کی تعداد (جب زید کے فوٹون کی پولرائیزیشن 0 ڈگری (افقی) ہے اور عمر کے فوٹون کی پولرائیزیشن 22.5 ڈگری ہے) اور (جب زید کے فوٹون کی پولرائیزیشن 22.5 ڈگری ہے اور عمر کے فوٹون کی پولرائیزیشن 45 ڈگری ہے)، ان واقعات کے برابر اور زیادہ ہو گا (جب زید کے فوٹون کی پولرائیزیشن 0 ڈگری (افقی) ہے اور عمر کے فوٹون کی پولرائیزیشن 45 ڈگری ہے)۔

یہ بیل کی عدم مساوات ہے جو صرف دو مفروضوں پر مبنی ہے: مقامیت اور حقیقت۔ اس عدم مساوات کی خلاف ورزی کا مطلب یہ ہو گا کہ مقامیت اور حقیقت ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔

بیل کی عدم مساوات کو جانچنے کے لیے تجرباتی سرگرمی کی ایک دلچسپ اور بھرپور تاریخ ہے۔ پہلا تجربہ Stuart J. Freedman اور John F. Clauser نے 1972 میں برکلے کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں کیا تھا۔ نتیجہ بیل کی عدم مساوات کے خلاف اور کوانٹم میکانکس کی پیش گوئیوں سے متفق تھا۔ 1974 میں Robert A. Holt  اور F. M. Pipkin نے ہارورڈ یونیورسٹی میں ایسا ہی تجربہ کیا۔ یہ تجربہ بیل کی عدم مساوات کے ساتھ متفق تھا لیکن کوانٹم میکانکس کی پیش گوئی کے برعکس تھا۔ یہ ریسرچ پیپر کبھی باضابطہ طور پر شائع نہیں ہوا۔ چنانچہ 1974 میں امریکہ کے دو ساحلوں پر دو تجربات ہوئے، دونوں ایک دوسرے سے متفق نہیں تھے۔ پھر دو سال بعد 1976 میں ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی میں Edward Fry نے ایک فیصلہ کن تجربہ کیا۔ اس تجربے نے Freedman۔ Clauser کو درست ثابت کیا اور بیل کی عدم مساوات کی خلاف ورزی کو ظاہر کیا۔ ایک اور تاریخی تجربہ جس نے مقامیت کے مسئلے کو واضح طور پر حل کیا وہ ایک فرانسیسی سائنسدان Alan Aspect نے 1982 میں کیا تھا۔

John Clauser، Aspect Alan اور Anton Zeilinger کو 2022 کا نوبل انعام برائے طبیعیات ملا۔ یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ جان بیل نوبل انعام سے محروم رہے کیونکہ وہ 1990 میں انتقال کر چکے تھے اور نوبل کمیٹی کے قوانین کے مطابق ایسے فرد کو نوبل انعام نہیں دیا جاسکتا جو زندہ نہ ہوں۔

ان ابتدائی دنوں کے بعد آج تک، بیل کی عدم مساوات کو جانچنے کے لیے مختلف سسٹمز پر بڑی تعداد میں تجربات کیے گئے ہیں اور ان سب نے کوانٹم میکانکس کی پیش گوئیوں کے مطابق اس عدم مساوات کی خلاف ورزی ظاہر کی ہے۔ اس طرح ہمارا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقامیت اور حقیقت ایک ساتھ نہیں رہتے۔ یہ حقیقت کے بارے میں ہمارے نظریات کو چیلنج کرتا ہے۔

ہم یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ کیا کائنات حقیقی ہے یا یہ محض ایک وہم ہے؟

(یہ مضمون میری کتاب A Mysterious Universe (Oxford University Press 2023) سے ماخوذ ہے۔)

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy