نظر آئی اک شکل مہتاب میں: میر کا خلل دماغ (3)


ایک اور بے حد نازک معاملہ جس کا ڈائریکٹ تعلق تو اب ذہنی صحت سے نہیں رہا کیونکہ اسی کی دہائی کے بعد اسے بیماریوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا وہ ہے جنسی میلان کا۔ چالیس کی دہائی میں اس کو زیر بحث لانے پر عصمت چغتائی کے قلم کو تو لوگ داد دیتے ہیں مگر سینکڑوں سال پہلے اردو شاعری اور دیگر فنون لطیفہ میں اس کے اظہار کو بھول جاتے ہیں۔ مغرب والوں نے تو اسی کی دہائی میں اس کو نارملائز کیا مگر ہماری لوک داستانوں، مصوری، مجسمہ سازی اور کسی حد تک شاعری میں اس کا نارملائز حالت میں ذکر سینکڑوں برس سے چل رہا ہے۔ جنسی میلان کا نفسیاتی بیماریوں اور تخلیقی اضطراب سے تعلق دلچسپ موضوع ہے۔ یہ بات تو مسلم ہے کہ ہم جنس پرستی خود ایک بیماری نہ رہی ہو مگر بہت سی جسمانی، جنسی اور نفسیاتی بیماریوں کا رسک ضرور بڑھاتی ہے۔ میر کے جنسی میلان کو زیر بحث لانا یہاں مقصود نہیں مگر اس وقت کے معاشرے میں اس رویے کی عکاسی کو شاعری میں ڈھالنے کی میر کی کوشش کو سراہنے کا ضرور دل کرتا ہے۔ ذکر میر یہاں بھی خاموش ہے۔

دلی کے کج کلاہ لڑکوں نے
کام عشاق کا تمام کیا
میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

آپ بیتی ہو یا جگ بیتی، یہاں بیان کا مقصد ہے کہ عام روش سے ہٹ کے جنسی میلان کا کوئی تعلق نفسیاتی بیماریوں یا تخلیقی جوہر سے ہے یا نہیں۔ گوگل سے ایک طویل فہرست مل جائے گی مشہور اور تخلیق کار لوگوں کی جن کا تعلق ایل جی بی ٹی سے ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ کئی خانے بنتے گئے ہیں، جن میں لوگوں کو ان کے برتاؤ اور میلان کے تحت رکھنا ضروری ہو گیا ہے۔ لیبل لگانا افراد اور معاشرے کے لیے کتنا سودمند اور کتنا نقصان دہ ہے یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔

آخر میں بات آتی ہے جنوں کی۔ جب عمارت غموں نے ڈھا دی یا دماغ کے کیمیائی اجزا بالکل ہی بے قابو ہو گئے تو کیا کیفیت ہوئی۔ آج کے دور میں سائیکوسس سے مراد ہے حقیقت سے رابطہ کرنا ہے، وہ غیبی آوازیں آنا جو باقیوں کو نہیں آتیں، وہ اشکال نظر آنا جو باقیوں کے لیے موجود نہیں ہیں۔ جسم میں خاص طاقت کا آجانا، قدرت کی طرف سے کسی خاص طاقت یا مشین کا ودیعت ہونا۔ اپنے آپ کو لوگوں سے الگ تھلگ کر کے کے ایک کمرے، کو نے یا غار کا ہو جانا۔ ان کیفیات کا اتنا رہنا کہ آپ کی اور ارد گرد کے لوگوں کی زندگی شدید متاثر ہو یا اپنی اور دوسروں کی ذات کو خطرہ لاحق ہو جائے۔ اب اس ایک آخری جملے نے پچھلے جملوں کو کور دے دیا ہے ورنہ ہر مذہب کے اوتار یا ولی، ہر زمانے کے شاعر، ادیب، تخلیق کار اور سائنسدان کسی نہ کسی حد تک سائیکوسس کی اس تعریف پر پورا اتار کر کر زیر بار طبیب کر دیے جاتے۔

میر کے ہاں ایک پورا پروسیس ہے جو جنون کی سائنسی، تخلیقی اور وجدانی کیفیت کی وضاحت بھی کرتا ہے اور لنک بھی۔ اونٹ کو آخر میں کس کروٹ بٹھانا ہے، یہ کام معاشرے کے ٹھیکیداروں یا تنقید نگاروں کے ذمے ہے۔ کوئی بھی سوچ یا خیال بننے سے پہلے، ایک عمل سے گزرتا ہے۔ خیال جنم لیتا ہے سمبل سے۔ سمبل کا ماخذ پری۔سمبل ہو سکتا ہے۔ ہمارے انفرادی یا اجتماعی لاشعور کے خزانے میں بے شمار پری۔سمبل پڑے ہوتے ہیں۔ اندرونی تحریک یا بیرونی محرکات اس عمل کا موجب بنتے ہیں جس میں پری سمبل سے سمبل اور پھر سوچ یا خیال بنتا ہے۔ ہر وقت سوچتے جاگتے ہمارے ذہن اور دماغ باہمی ربط سے اس عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لاکھوں کروڑوں سوچوں میں سے کچھ کو شعور تک رسائی ملتی ہے۔ ان میں سے بھی بہت کم فلٹر ہو کر ہمارے رویے اور روز مرہ کی زندگی کا حصہ بنتی ہیں۔ دماغ کا اگلا حصہ (پری فرنٹل کارٹیکس) ہماری سوچوں کو آوارہ ہونے اور ان کے آوارہ اظہار دونوں سے بچاتا ہے یعنی تیل اور پانی کو علیحدہ کرتا ہے۔ کیا ہوتا ہے پھر؟ فرنٹل لوب کا یہ فلٹر کمزور ہوتا ہے اور دماغ میں برپا قیامت رویے میں آ کر وحشت اور جنوں کا سبب بنتی ہے۔ یا اس حصے کی کمزوری کی وجہ سے اپنے ہی خیال جو معاشرے کی اکائی سے ماورا ہونے کی وجہ سے فلٹر ہو رہے تھے خود پر عیاں ہو جاتے ہیں اور ولایت، شاعری، مصوری، سائنسی ایجادات اور وجدان کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہاں وجہ اور اثرات کی سمجھ اور خیالات اور ان کے نتائج کی معنویت اور فرد اور معاشرے پر اثرات ہی راستے کا تعین کرتے ہیں۔ مگر کتنے ہی لوگوں میں تعین گزرتے وقت نے کیا اور اس دور کی نہ سمجھ میں آنے والی گتھیاں اور لوگ آنے والے ادوار میں لیجنڈ قرار پائے۔

طبعی سمت میں واپس آئیں تو خیالوں کا غیر یقینی تانا بانا جب بننا شروع ہوتا ہے تو اضطراب اور بے چینی انسان کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ سب کچھ غلط یا غیر حقیقی نہیں ہوتا مگر سب کچھ ویسا بھی نہیں رہتا جیسا اوروں کے لئے ہوتا ہے۔

ابتدائے خبط میں ہوتا تدارک کچھ تو تھا
اب کوئی سنبھلے ہے مجھ سے وحشت بسیار دل
نہ ہو گو جنوں میر جی کو
طبیعت ہے آشفتہ وحشت سے اب تک

ابتدائے خبط اور رفتہ رفتہ وحشت بسیار دل بحیثیت سکائٹرسٹ میرے لیے بے حد اہم ہیں۔ یہاں وقت پر اور صحیح علاج شاید فرنٹل لوب کی چھلنی کو تیل اور پانی کے فرق میں مدد دے گی۔ شاید بیماری کو صلاحیت میں بدل دے گی۔ اسی لیے پروڈروم میں ہلکی دوائی یا سوچ اور برتاؤ کی تھراپی کا رول نمایاں ہے۔ جب یہ غیر مربوط حقیقت سے دور خیالات مربوط ہونے لگیں اور ذہن کا اگلا حصہ فلٹر بننے سے انکاری ہو جائے تو

کہتا تھا کسو سے کچھ تکتا تھا کسو کا منہ
کل میر کھڑا تھا یاں، سچ ہے کہ دوانہ تھا

نثار احمد فاروقی نے ذکر میر سے پہلے لکھے مضمون میں مینیا والے جنوں اور جذباتی تلاطم والے جنوں کی تفریق کی کوشش کی ہے۔ میر نے خود ایک صفحے میں ایک طویل دورانیے کا ذکر کیا ہے جس میں بے خوابی تھی، کڑھا ہوا دل تھا، چاند میں صورت تھی، آسیبی اثر تھا، یاداشت کی کمزوری تھی، زندان تھا، زنجیر تھی اور ”میں پاگل ہو گیا“

کیا کہوں اب کے جنوں میں گھر کا رہنا بھی گیا
کام جو مجھ سے ہوا عقل کے باہر ہوا

گو یہ شعر جنوں اور عقل سے باہر کے منفی اور مثبت دونوں پہلو لئے ہوئے ہے مگر میر کی اپنی زبانی اس جنون کی کیفیت ہرگز مثبت نہ تھی اور ان کی زندگی اور شاعری رک سے گئے تھے۔ یہاں تک کہ ان کو یاد بھی نہیں کہ اس دور میں ان پر کیا کیا گزرا تھا۔ قید اور بندش بھی جنوں کے علاج کا حصہ ٹھہری تھی۔

جنوں میں اب کے کام آئی نہ تدبیر بھی آخر
گئی کل ٹوٹ میرے پاؤں کی زنجیر بھی آخر
مجھے دیوانے کی مت ہلا زنجیر
کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر گل ہو

چنانچہ مصائب خیز جنوں کے اس عالم میں جب میر کی زندگی اور شاعری، رک گئے تو نوبت آئی علاج کی۔ نفسیاتی معالج، ادویات، برقی علاج، سب اس وقت دیوانے کا خواب تھے۔ لہذا بے تحاشا پیسا خرچ ہوا، طبیبوں کی تدبیر پر، سیانوں کی جھاڑ پھونک پر اور دماغ کو مرطوب کرنے پر۔

ناصح میرے جنوں سے آگاہ نہ تھا کہ ناحق
گودڑ کیا گریباں سارا سلا سلا کر

میر نے یہ بات گو لکھ ڈالی کہ وہ ایک عرصہ رئیل سائیکوسس والا تو ہر لحاظ سے بنجر تھا۔ مگر اس ایک عرصے کے علاوہ اس طرح کے کسی اور دورانیے کا کوئی حال بیان نہیں ہے۔ عموماً اس قسم کی بیماری میں یا بار بار اٹیک آتے ہیں یا بیماری کی کچھ کیفیات چلتی رہتی ہیں۔ وہ حد جس میں رہ کر تخلیق کا بیج شاعری میں ڈھل کر لازوال شعر تخلیق کرتا ہے اور اس کے فوراً بعد بیماری اور تخلیقی بانجھ پن آ جاتا ہے، کا تعین بہت مشکل ہے۔

ذہنی صحت کے دو سرے پکڑنے کی کوشش اس لیے کی ہے کہ ہم ٹو ڈائمنشن میں ہی بات کو سمیٹ سکتے ہیں۔ ان دو سروں کے درمیان جو تسلسل ہے وہ بہت ہے انسانی ذہن کو سمجھنے کے لئے۔ اس سمجھ بوجھ کا ادیب، شاعر، استاد، والدین، نوجوان، معالج، نفسیات دان وغیرہ ہر سطح پر کافی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اپنی اور اپنے سے وابستہ لوگوں کی زندگی کا رخ بہتر کر سکتے ہیں۔ یہاں ہمارا مینڈیٹ محدود ہے۔ ہم نے ان دوسروں اور ان کے درمیان زندگی کے چلن اور تخلیقی سرگرمی کو زیادہ میر کی زندگی اور کسی حد تک شاعری کے تناظر میں دیکھا ہے۔ دونوں سروں پر کسی بھی وقت چلے جانے کا پوٹینشل سب نہیں تو بیشتر انسانوں میں ہوتا ہے۔ کیمیائی اجزا کا ہیر پھیر، سوچ جذبات اور شخصیت کے عوامل اور ماحولیاتی اثرات، سب مل کر اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کون کس سرے پر جائے گا۔ کس کی سوچ میر کے شعر کی صورت میں امر ہوگی اور کس پر بیماری کا ٹھپا لگا کر دوائیں دی جائیں گی اور کس میں یہ کشمکش تمام عمر چلتی رہے گی۔ کیسے ہو سکتا تھا کہ ہر انسان کے اندر اس پوٹنشیل کو میر صاحب نہ بھانپتے اور یہ نہ کہتے

ہے یہ بازارِ جنوں منڈی ہے دیوانوں کی
یاں دکانیں ہیں کئی چاک گریبانوں کی

(ختم شد)

Facebook Comments HS